کالم

روزگار کےلئے بھارتی مسلمان شناخت بدلنے پر مجبور

riaz-chuadary

نریندر مودی کے بھارت میں بے روزگاری کے خوف سے مسلمان ملازمین اپنی شناخت تبدیل کررہے ہیں کیونکہ مسلمان ہونے کی وجہ سے انہیں کوئی کام نہیں دیتا۔صرف روزگار ہی نہیں بلکہ ملک کی کسی بھی سرگرمی مسلمانوں کو شامل نہیں کیا جا رہا ، چاہے وہ بیوروکریسی ہو، چاہے عدلیہ ہو چاہے سیاست ہو۔ نام تبدیل کرکے گھریلو ملازمہ کے طور پر 40 سال سے زیادہ کام کرنے والی منی بیگم نے کہا کہ انہیں بہت سے ہندو اور جین گھرانوں میں امتیازی سلوک اور توہین کا سامنا کرنا پڑا۔ ہندو ہمیں ملازمت نہیں دیتے وہ ہم مسلمانوں سے نفرت کرتے ہیں۔ ان میں سے بعض نے ہمارے منہ پر کہا کہ ہم برے لوگ ہیں۔نئی دہلی کے ایک رہائشی پریجیت پانڈے کا کہنا تھا کہ وہ مسلمان ملازمین کو ملازمت دینے سے گریز کرتے ہیں کیونکہ وہ انہیں خاندانی پوجا گھر کے آس پاس نہیں چاہتے۔بھارت میں مسلمانوں کی غربت کا اشاریہ حکومت کی جانب کردہ اعدادوشمار سے بھی ہوتا کہ ملک کے بھکاریوں میں ایک چوتھائی مسلم بھکاری ہیں۔ مسلمانوں کی ہر نسل صفر سے اپنا سفر شروع کرتی ہے۔ اور ہر نسل ایک ہی طرح کی جدوجہد کرتی نظر آتی ہے۔مسلمان میں صلاحیت کی کمی نہیں، وہ اپنی صلاحیت، اپنا ہنر، اپنی تعلیم، اپنی وطن پرستی ہتھیلی پر لیے کھڑا ہے اور کہتا ہے کہ مجھ سے کام لو لیکن کوئی دست گیری کرنے والا نہیں، کوئی پرسان حال نہیں۔ نہ ہی حکومت اور نہ ہی کوئی اور۔گو کہ مسلمانوں کے لیے منزل ابھی دور ہے اور راستہ دشوار گزار ہے لیکن ان نوجوانوں نے ابھی ہمت نہیں ہاری ہے تاہم انتظار کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری ہے۔بھارت کے سابق وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کا کہنا ہے کہ نریندر مودی حکومت کی متعصب پالیسیوں اور نااہلی کی وجہ سے ملک معاشی بحران میں پھنس گیا ہے اور اس کا مستقبل تاریک نظر آتا ہے۔بھارت کی معاشی صورتحال نے مودی سرکار کے دعوو¿ں کی قلعی کھول کے رکھ دی ہے۔ ہندوستانی معیشت کوسمت دکھانے والے ممبئی شہر اور ریاست مہاراشٹر بھی بحران کی زد میں ہیں اوران دونوں ریاستوں میں گزشتہ پانچ سال میں سب سے زیادہ کارخانے اور فیکٹریاں بند ہوگئی ہیں۔بھارت میں سرمایہ کاری نہیں ہورہی ہے جس کی وجہ سے روزگار کا مسئلہ بڑھتا جارہا ہے اور نوجوان کم پیسوں میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔ دیہی علاقوں میں مایوسی کا ماحول ہے اور بے روزگاری عوام کو بھٹکنے پر مجبور کر رہی ہے۔ موجودہ حکومت کی ناقص اقتصادی پالیسیوں کی وجہ سے معاشی مندی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اوراس کا اثرعام لوگوں، کسانوں اور مزدوروں پر پڑا ہے۔ کسانوں کی خودکشی میں مہاراشٹر اوّل نمبر پر ہے۔ پونا شہر کو ملک کی آٹو انڈسٹری کا حب کہا جاتا تھا لیکن اب یہ صنعت بھی بری طرح زوال کا شکار ہو چکی ہے جبکہ مودی سرکار آٹو انڈسٹری کی بحالی کےلئے کوئی موئثر کردار ادا نہیں کر رہی، حکومتی پالیسیوں سے عدم دلچسپی نمایاں ہے۔بھارت کی سوا ارب کی آبادی میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً 14 فیصد ہے، لیکن ایک تازہ سرکاری رپورٹ کے مطابق ملک میں بھیک مانگنے والا ہر چوتھا شخص مسلمان ہے۔یہ انکشاف بھارت میں2011 میں کی جانے والی مردم شماری کی رپورٹ کی بنیاد پر تیارکردہ اعداد و شمار میں ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں مجموعی طور پ72.89 کروڑ افراد ایسے ہیں جو بے روزگار ہیں یا کام نہیں کرتے، ان میں سے3.7 لاکھ بھیک مانگ کر اپنا گزر بسر کرتے ہیں۔ ان بھکاریوں میں سے مسلمانوں کی تعداد 92760 ہے، جو بھیک مانگنے والوں کی مجموعی تعداد کا تقریباً پچیس فیصد بنتا ہے۔ہندو، بھارت کی آبادی کا 79.8 فیصد ہیں لیکن ان میں بھیک مانگنے والوں کی تعداد 2.68 لاکھ ہے۔ واضح رہے کہ ہندوو¿ں کی مردم شماری میں قبائلیوں اورانتہائی پسماندہ ذات کے دلتوں نیز دیگر کئی ایسے فرقوں کو بھی شامل کرلیا جاتا ہے جو خود کو ہندو قرار نہیں دیتے۔ عیسائی جن کا تناسب مجموعی آبادی میں2.3 فیصد ہے ان میں بھیک مانگنے والوں کی شرح 0.88 فیصد، بدھ مت کے ماننے والوں میں0.52 فیصد، سکھوں میں 0.45 فیصد، جین دھرم کے ماننے والوں میں 0.06 فیصد اور دیگر فرقے کے بھیک مانگنے والوں کی شرح 0.30 فیصد ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلمانوں میں مردوں کے مقابلے میں بھیک مانگنے والی خواتین کی تعداد زیادہ ہے، جو بقیہ تمام فرقوں میں پائے جانے والے رجحان سے یکسر مختلف ہے۔ رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر بھیک مانگنے والے مردوں کا قومی اوسط 53.13فیصد اور خواتین کا46.87 فیصد ہے جبکہ مسلمانوں میں یہ تناسب مردوں میں 43.61 فیصد اور خواتین میں56.38 فیصد ہے۔یوں تو بھارت میں بھیک مانگنا غیر قانونی ہے اور اس جرم کے لیے تین سے دس سال تک کی سزا ہے، تاہم حقوقِ انسانی کے کارکنان کا کہنا ہے کہ یہ قانون کافی مبہم ہے اور اس میں بھیک مانگنے والوں اور بے گھر اور بے زمین مزدوروں میں کوئی فرق نہیں کیا گیا ہے اور اپنی روزی روٹی کے لیے گھر بار چھوڑ کر دوسرے شہروں میں نقل مکانی کرنے والوں کو بھی بھیک مانگنے والوں کے زمرے میں ہی رکھ دیا گیا ہے۔ مذکورہ قانون کے مطابق کنگال دکھائی دینے اورعوامی مقامات پر آوارہ پھرنے والے کسی شخص کو پولیس بھکاری قرار دے کر گرفتار کرسکتی ہے۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو گا بجاکر، رقص کر کے، قسمت کا حال بتا کر یا کرتب دکھاکرلوگوں سے بخشش مانگتے ہیں۔ حقوق انسانی کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ قانون بھیک مانگنے والوں کی آباد کاری کے بجائے انہیں مجرم بنانے میں زیادہ مدد گار ہے۔بھارت میں بےروزگاری ایک بڑا مسئلہ ہے لیکن مسلمانوں کی حالت سب سے زیادہ خراب ہے۔ اپنی زبوں حالی کے لیے بہت سے لوگ حکومت اور مذہبی تعصبات کو ذمہ دار مانتے ہیں تو بعض مسلمانوں میں تعلیم کی کمی کو۔جدید تعلیم کے بغیر مدرسے سے پڑھ کر آنے والے طلبہ و طالبات ماڈرن کانونٹ سکول کے جدید تعلیم حاصل کیے ہوئے طلبہ سے سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں کیسے مقابلہ کر سکتے ہیں اور پھر وہ اس دوڑ میں کہیں پیچھے رہ جاتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔