کالم

کام ختم ،بات ختم

a r tariq

سابق وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان عمران خان گورنمنٹ عدم اعتماد کے نتیجے میں چلی گئی،کوئی اچھنبے والی بات نہیں،جانے والے کو آخر جانا ہی ہوتا ہے۔ آخر کب تک کوئی دوسرا اس کا بوجھ اٹھائے گا،ایسے میں جبکہ اس سے کام، مطلب بھی ختم ہو چکا ہو اور مزید کام اور استعمال کی ضرورت بھی باقی نہ رہے۔عمران باجوہ ڈاکٹرائن زندہ باد،عمران باجوہ کامیابیاں سنہری حروف میں لکھے جانے کے قابل،عمران باجوہ آگئے چھا گئے۔انٹر نیشنل سطح پر عمران باجوہ شخصیت کی دھوم اور گونج،پوری دنیا میں سب کی نظریں عمران، باجوہ پر،عمران،باجوہ یہ کردیں گے وہ کردیں گے کی بازگشت کا بھی خاتمہ ہوگیا ، خاتمہ کیا ہوا،دم ہی نکل گیا۔ لوگوں کے دل کیا دہل نہیں تھے، تاریخ ہی دہل گئی۔ساتھ موجود سارے مناظر ہی چکرا گئے۔پاکستان کی شاندار تاریخ لکھنے والے یا لکھنے کے خواہشمند سارے برج دم بخود ہوئے ایک دم سے ڈھرم ہوگئے ۔ پاک چائنہ دوستی،روس ساتھ ساتھ جیسی خوشخبریاں خوشخبریاں ہی رہ گئی۔کارگل،لداخ، آزاد کشمیر،مقبوضہ کشمیر اور نہ جانے کہاں کہاں تک فتوحات کی باتیں اپنی موت آپ مر گئی، مقبوضہ کشمیر فتح کے قریب،وقت آ گیا کہ کشمیر آزاد کروایا جائے جیسی باتیں بھی مذاق لگنے لگی ۔ ہماری کامیابیاں بہت زیادہ،تاریخ میں عمران باجوہ نام ہمیشہ امر رہیں گے پر بھی اوس کی دھند پڑ گئی۔ کرتار پور سے جو امیدیں جاگی یا جگائی گئی بھی جاگنے نہ پائی۔فتح ہمارا مقدر جیسی باتوں ، وعدوں اور دعوﺅں کی ساری قلعی ہی کھل گئی۔دنیا ہمارے ساتھ،ہم بڑے مہان سب خواب چکنا چور سے نظر آئے۔ساری تدبیریں، حکمتیں کیا ہوئیں کہ یہود و نصاریٰ کی اٹھائی الٹی تدبیروں ، حکمتوں جیسی ثابت ہوئیں۔ساری خوش فہمیاں سراب بن گئیں۔یہ کیسی حکمتیں تدبیریں ہیں کہ سامنے آنے سے الٹ ہو جاتی ہیں۔اپنا راستہ بدل لیتی ہیں۔اپنا ہی سارا ستیاناس کر جاتی ہیں ۔کیا بات ہے کہ ہماری ظاہری ونانظر آنے والی تدبیروں اور حکومتوں کا کوئی اچھا رزلٹ نہیں نکل رہا۔ایک خوشخبری دوسرے لمحے سراب بن جاتی ۔ ایک وقت کی خوشی دوسرے پل کا عذاب ثابت ہوتی،یہ کیسی کامیاب تدبیریں اور حکمتیں ہیں کہ ان سے اچھائی اور بہتری کی کونپلیں نکلتی ہی نہیں ہیں۔ہر آن کچھ اچھا بن کر سامنے آئیں، ایک ڈرونا اور بھیانک خواب ہی بن کرہی سامنے آتی ہیں ۔ دل کچھ اچھے سے ابھی خوشی محسوس کررہا ہوتا ، اس کے جھولے میں جھولنا ہی چاہتا ہے کہ خوشی فوراً کافور ہوجاتی ہے اور کچھ اچھا دیکھنے کی تمنا اچانک دھڑم سے گر کر ندامت و شرمندگی سے زمین بوس ہو جاتی ہے۔ایسی ظاہری وخفیہ تدبیروں سے کچھ نہ ملا،وقتی کامیابی ضرور ملی ، دائمی کے انتظار میں ہی اکھیاں ترس رہی ہیں ۔ ظاہری وخفیہ تدبیروں، حکمتوں میں لوٹ پوٹ ہم کہیں کے نہیں رہے،نہ ادھر کے نہ ادھر کے،ایسا جینا کیا جینا،کبھی کوئی ناراض تو کبھی کوئی خفائ، کبھی دشمنوں سے ناطہ توڑ کر اپنوں سے مل جاتے ہیں اور بلے بلے کروا لیتے ہیں اور کبھی اپنوں سے ناراض ہوئے،دشمن کی ہر بات مانے، اپنا سب کچھ گنوائے،سب کچھ سے چلے جاتے ہیں ۔ کیاصحیح کیا غلط بتاتے بتاتے ایک مائنڈ سیٹ اور ٹرینڈ سیٹ کرتے برین واشنگ ٹائپ ماحول بنا کر جن کو بتاتے تھے، ان کا ہر کسی کو دشمن بنائے،خود سے سب پچھلا بھلائے،پھر یہ غلط وہ صحیح کا فرق بتاتے انہی اور انہی کی جمعیت سے شیروشکر ہوجاتے ہیں اور ہم اور ہمارے جیسے لوگ تنہا اور اکیلے رہ جاتے ہیںنہ ادھر کے نہ ادھر کے،جگ ہنسائی کی تصویر بنے نظر آتے ہیں۔ مقتدر حلقوں کی چاہت میں ان سے تعلق بگاڑ لیتے ہیں جن سے یہ تعلق مضبوط اورگہرا کر لیتے ہیں اور بعد ازاں اس کی وجہ ریزن بھی بتانا پسند نہیں کرتے، محض صرف اپنے مقصد اورمفاد کےلئے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کئے بے مقصد سا کر دیتے ہیں۔کام ختم،بات ختم۔سب ملک دشمن افراد،دہشت گردوں ، ڈاکو¶ں ، لٹیروں ، مفاد پرستوں،اس دھرتی پر زخم لگانے والوں کے خلاف لکھ لکھ کر،ایک قلمی جہاد سمجھتے اس حد تک آگے چلے جاتے ہیں کہ پھر واپسی ممکن ہی نہیں ہوتی ہے اور اگر ایسا کیا جائے تو یقینا عزت و وقار والی بات ذرا سا بھی نہیں ہے۔ہمارے لیے یہ ممکن نہیں رہتا اور اِن کےلئے ایسا بائیں ہاتھ کا کھیل ہوتا،یہ آسمان پر ٹاکی لگا بھی آ تے اور اتار بھی لاتے، مہان ٹھہرتے اورہمارے جیسے افرادان کے ساتھ ،ان کی محبت میںمسلسل چل کر ، ذلیل و رسوا رہتے، عتاب کاشکار بھی بنتے ۔ ہمارے جیسے افراد ملک وقوم کی محبت میں جن کےلئے دشمن بہتیرہا بناتے،وقت آنے پر اپنے لئے وہی دشمن جیسے دوست ہزار بناتے۔وطن عزیز پاکستان کے محب وطن افرادایسی صورتحال سے سخت پریشان ہیں۔اس میں بہتری چاہتے ہیں۔ چاہتے ہیں کہ ہمارے قول و فعل میں کسی طرح کا کوئی تضاد نہ ہو،پاکستان کےلئے جو بھی ہو،حقیقی معنوں میں ٹھیک ہوں اور درست طریقے سے ہو۔اسی میں ہماری بہتری اور یہی بھلائی کا رستہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔