کالم

کتاب۔ قائد اعظم۔۷۱مارچ ۱۱۹۱تا ۶۲ نومبر ۱۳۹۱ئ(۲)

afsar_aman

اس سے قبل کالم میں ہم لکھ چکے ہیں کہ قائد اعظمؒ کی ساری تقاریر اور بیانات آزادی ہند،دوقومی نظریہ اور اسلام نظام حکومت سے عبارت ہیں۔ قائد اعظمؒلی کمیشن کی سفاشات میں ۲۱ ستمبر ۴۲۹۱ءکو فرماتے ہیں ”کیااس کا مطلب یہ ہے کہ ہم سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ ہم آنکھیں بند کر کے ان مراعات کے بارے اپنی رائے دے دیں“یہاں پبلک سروسز میں قائد مسلمانوں کا حق مانگھتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ ضابطہ فوجداری ہند(ترمیمی) مسودہ قانون ۶۱ستمبر ۳۱۹۱ءمیں فرماتے ہیں”میں یہ کہتا ہوں کہ اگر اس ایوان نے اس قانون کی تنسیخ کے حق میں فیصلہ دینے کے علاوہ اور کچھ کیا تو یہ اپنی نیک نامی سے ہاتھ دھو لے گا“ اس جگہ قائد اعظمؒ مرکزی مجلس قانون میں بہادری سے بات کر رہے ہیں۔کل جماعتی کانفرنس کی ذیلی کمیٹی میں ۴۲جنوری ۵۲۹۱ءمیں کہا کہ” ان کا مطالبہ یہ ہے کہ بنگال اور پنجاب کے مسلمانوں کو ایک اقلیت میں تبدیل نہ کیا جائے“ یہاںیہ مسلمانوں کی حمایت کی بات کر رہے ہیں ۔ ضابطہ فوجداری بنگال(ترمیمی) ہنگامی قانون میں ۸۲جنوری ۵۲۹۱ءمیں ”یہ کہنے کی جسارت کرتا ہوں کہ یہ دہشت گردی جس کی میں آپ سے کچھ کم مذمت نہیں کرتا نیست نابود ہو جائے گی“ یہاں بنیادی حقوق کی بات کر رہے ہیں ۔ ہند میں سپریم کورٹ کی قیام کی تجویز میں ۷۱فروری ۵۲۹۱ءکہتے ہیں”لہٰذا میں سر ہری سنگ گور کی قرارداد کی پر زرور حمایت کرتا ہوں اور میں امید کرتا ہوں کہ یہ منظور ہو جائے گی“ اس جگہ انصاف حاصل کرنے کی بات کی۔فوجی کالج کا قیام، قرارداد کی حمایت میں ۸۱ فروری ۵۲۹۱ءمیں کہتے ہیں ”پرزرو انداز میں اور بے خوفی کے ساتھ کہوں گا کہ آپ نیک نیتی کے فقدان کے الزام سے بری کیئے جاتے ہیں“ اس جگہ ہندیوں کی فوجی تربیت کی حمایت کی۔ ریلوے کو ہندیانے کے بارے میں ۵۲فروری ۵۲۹۱ءمیں فرماتے ہیں کہ”ان نکات پرجنہیں میں سمجھ سکا ہوں ۔ ریلوے ممبر کو بے رحمی کے ساتھ مہمیز لگانے میں شریک ہو جاﺅں“جہاں ملک کے عوام کا فاہدہ ہو اس کی حمایت کی ۔ ایگزیکٹو کونسل اور اصلاحات کےلئے ضابطہ زر میں ۴۱مارچ ۵۲۹۱ءمیں کہتے ہیں ”ہند کے لوگوں کو اتنا بیزار نہیں کر دیں گے کہ وہ ایسا قدم اٹھانے پر مجبور ہوجائیں۔ جو آ پ اور ملک کے عوام دونوں کےلئے تباہ کن ثابت ہو“اس جگہ ایگزیکٹو کونسل کو متنبہ کرتے ہیں۔ہند کے میزانیہ کا مسودہ قانون ۸۱مارچ۵۲۹۱ءمیں فرماتے ہیںکہ”آج اس حکومت کو ناممکن بنانے کی پوزیشن میں فی الوقت یہ قابل عمل تجویز نہیں“ یہاں پنڈت موتی لال نہرو کی میزانیہ کو مسترد کرنے کی مخالفت کہ یہ ملک کےلئے نقصان دہ ہے۔ضابطہ فوجدار بنگال میں ترمیم کا ضمنی مسودہ قانون ۳۲ مارچ۵۲۹۱ءمیں کہا”میں اس ایوان میں ایک مرتبہ پھر کہتا ہوںکہ آپ اس پر کف افسوس ملیں گے اور اپنے اندازے سے کہیں زیادہ فتنہ فساد برپا کر دیں گے“۔ اس جگہ مسلم بنگال کی حمایت اور حکومت کو وارنگ دے رہے ہیں۔تحقیقاتی کمیٹی برائے اصلاحات کی سفارش میں ۸ ستمبر ۵۲۹۱ءحکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں”میں آپ کو بتا دوں کہ ہند حصول آزادی کا عزم مصمم کر چکا ہے“ایگزیکٹو کونسل اور اصلاحات کا مطالبہ ۱۱ مارچ ۶۲۹۱ءمیں فرماتے ہیں کہ ” حکومت کو یہ سیکھ لینے دیجیے کہ ان حربوں سے انہیں کوئی فاہدہ نہیں ہو گا اور وہ ان حربوں کی مدد سے کامیاب نہ ہو سکیں گے” جہاں قائد کی بات کی پرزور حمایت اور تحسین و آفرین کے نعرے لگے۔شمال مغربی سرحدی صوبہ تک اصلاحات کی توسیع کا مطالبہ ۸۱مارچ ۶۲۹۱ءمیں کہتے ہیں ،میں آپ سے بے حد مخلصانہ اپیل کرتا ہوں کہ آپ بغیر کسی تاخیر کے اپنا اعلان کر دیجئے“ یہاں مسلمانوں کے صوبہ میں اصلاحات کا معاملہ تھا اس لیے حمایت کی۔اصلاحات اور معروضات آل انڈیا مسلم لیگ کے ۸۱ھویں سالانہ اجلاس میں قرارداد میں۰۳دسمبر ۶۲۹۱ میں امید ظاہر کی کہ مسلمانوں اور ہنددوں کے بہتر اذہان یہ محسوس کریں گے کہ ہند کےلئے واحد راستہ دوستی، یگانگت اور تعاون کے ساتھ کام کرنا ہے“ یہاں اتحاد و اتفاق سے آزادی حاصل کرنے کا فارمولہ بتایا ۔ دہلی تجاویز کے بارے میں بیان۔ مخلوط انتخابات کی پیشکش کو نہ ہندوں نے سراہا نہ ہی مسلمانوں ۹۲ مارچ ۷۲۹۱ءمیں کہا کہ ”میں یہ کہہ سکتا ہوںکہ اس نازک مرحلے پر جلد سمجھوتہ کرنے میں کوئی وقت ضائع نہیں کرنا چاہےے“ فوجی افسروں کے عہدوں کی نصف تعداد پر ہندیوں کی تعیناتی،مجلس قانون ساز مین ترمیم کی حمایت، ۵۲اگست ۷۳۹۱ ءمیں کہا کہ اس یقین دہانی سے انحراف نہ کریں جو انہوں نے اس ایوان میں کرائی اور ہند کے عوام ساتھ نہ کھلیں“ اس موقع پر ہندی فوجیوں کی حمایت کی ۔ دستوری کمیشن کا تقررحکومت کے ساتھ اختلافات کی نوعیت بنیادی ہے ، ۶۱ فروری ۸۲۹۱ءمیں کہا کہ ہمیں فریب نہ دیجئے۔ غیرمحفوظ لوگوں کو گمراہ نہ کیجئے اور ہماری غلط ترجمانی نہ کیجئے ۔اس پر تحسین و آفرین کے پر زرو نعرے لگے ۔اسکین کمیٹی کی سفارشات کو مسترد کرنے کے بارے میں ۰۱مارچ ۸۲۹۱ءمیں ”یا یہ کہ انڈین سول سرو س کوواپس بلا لینا چاہےے یا یہ کہ بحریئے کا تحفظ واپس لے لینا چاہےے۔اس پر تحسین و آفرین کہا گیا۔سائمن کمیشن کےلئے مطالبہ زر تخفیف کی تحریک کی حمایت ۳۱ مارچ ۸۲۹۱ میں کہا کہ ان کے خیالات کے مطابق بھی یہ کمیشن اطمینان بخش نہیں ہے اور انہیں اس صرفے کے حق میں اپنی رائے نہیں دینی چاہےے‘ ‘اس کے حق میں بیان دیا۔صوبہ سرحد میں دستوری اصلاحات ایک فریق کو دوسرے فریق کے مقابلے میں لانے کی حکمت عملی ترک کر دیجئے،۳۱مارچ ۸۲۹۱ءمیں فرماتے ہیں کہ اس تقریر پر جو انہوں نے ارشاد فرمائی اور جو جواب اب انہوں نے دیا اس پر انہیں ہدیہ تبرک پیش کرتا ہوں“یہ قائد کی طرف سے تنقید تھی۔کل جماعتی قومی موتمر میں نہرو رپورٹ پر مسلم لیگ کی ترجمانی کرتے ہوئے ۲۲ دسمبر ۸۲۹۱ءکو فرماتے ہیں ”مسلمانوں اور ہندووں کے اتحاد سے زیادہ کوئی چیز مجھے عزیز اور راحت بخش نہیں“ اسی اتحاد سے آزادی ملنی ہے۔عام میزانیہ اور دستوری اصلاحات جس میں نہرو رپورٹ کی تجاویز مسلم تجاویز کے بالکل بر عکس ہیں، ۲۱مارچ ۹۲۹۱ءکہتے ہیں کہ”ہند میں بہتر زندگی کےلئے ہندو مسلم مسئلہ کا تصفیہ ضروری ہے۔ اس سے ہی اپنے مقاصد مل سکتے ہیں ۔چودہ نکات پر مشتمل قرارداد کا مسودہ مسلم لیگ کے اراکین میں تقسیم کرنے کے بعد ۸۲ مارچ ۹۲۹۱ءمیں فرماتے ہیں”جن صوبوں میں مسلمانوں اقلیت میں ہیں وہاں مسلمانوں کی زیادہ نشستوں پر نمائندگی کے مسئلہ پر بعد میں غور و غوض کیا جائے گا“ہند کے اہم رہنماﺅں کی نمائندہ گول میز کانفرنس طلب کرنے کی ضروت ۹۱ فروری ۹۲۹۱ءمیں قائد نے کہا کہ” ہند کو درپیش سیاسی صورت حال پر تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی اور اسے حل کرنے کے ضمن میں طریقے تجویز کیے ۔ پہلی گول میز کانفرنس کا اجلاس عام ۸۲نومبر ۰۳۹۱ ءمیں ہند کےلئے آیندہ دستوری طرز وفاقی ہو یا وحدانی کی بات کی گئی“وفاق کے اہم عناصر برطانوی ہند اور ہندی ریاستوں کے وفاق کی راہ میں دشواریاں یکم دسمبر ۰۳۹۱ءمیں کہا کہ” آیندہ دستور میں جو کچھ کیا جا سکے گا وہ آپ اور ہم مل جل کر کر سکیں گے“وفاق کے اہم عناصر ترکیبی ۵ دسمبر ۰۳۹۱ئکو منعقد ہوا۔”وفاق کی مقننہ کی ہیت ترکیبی کسی بھی ایوان میں نامزدگی اور ایوان زیرین میں باواسطہ انتخابت کی مخافت کی“ ”بلواسطہ انتخابات اور وفاقی مقننہ ایوان زریں کےلئے بالواسطہ طریقہ کار کی مخافت کی منعقدہ ۲ جنوری ۱۳۹۱ئ“”وفاقی انتظامیہ ۱۲۹۱ءسے دستور ی ارتقاءپر تبصرہ ۷جنوری ۱۳۹۱ءکو ہوا“قفاقی دستور اور مسلان اقلیتی مسئلہ کوحل کئے بنا کوئی دستور مرتب نہیں کیا جا سکتا یہ بات قائد نے ۶۲نومبر ۱۳۹۱کو کہی“ صاحبو! ہم نے پوری کتاب میں جو بھی قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے ہند کی آزادی دو قومی نظریہ اور اسلامی نظام حکومت کےلئے جو بھی ممکن ہوسکا اس کے اندر رہتے ہوئے انگریز اور ہنددوں کو جوابات دیے جس کی وجہ بلا آخر مثل مدینہ ریاست پاکستان وجود میں آئی ۔ اللہ قائد محترم کے پاکستان کی حفاظت فرمائے ۔آمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔