اداریہ کالم

پروگرام سچی بات میں ڈپٹی کمشنراسلا م آبا د کی اہم گفتگو

وزیر اعظم کی عمران خان پر کڑی تنقید

ایس کے نیازی کی ساری صحافت عوامی خدمت سے عبارت ہے انہوں نے اپنے قلم کوعوام کی خدمت کے لئے وقف کررکھاہے عوام کاکوئی مسئلہ ہو یامفادعامہ کی بات ہو ہمیشہ وہ کھل کرسامنے آئے ہیں اور انہوں نے اس حوالے سے پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں میں باضابطہ طورپررٹ کرکے عوام کو ان کے مفادات کاتحفظ کیا۔اپنے کالموں او رٹی وی پروگرامزکوانہوں نے ہمیشہ خدمت خلق کے لئے استعمال کیا، ان کاپروگرام سچی بات پورے پاکستان کے سیاسی ،سماجی وعوامی حلقوں میں نہایت دلچسپی سے دیکھا اورسناجاتاہے ۔اس پروگرام میں وہ نہ صرف سیاسی وملکی معاملات پرکھل کراظہارخیال کرتے ہیں بعض اوقات وہ کسی ایسے عوامی موضوع کو چھیڑدیتے ہیں جوکہ دکھتی رگ ثابت ہوتاہے۔ ان دنوں وفاقی دارالحکومت میں جعلی اورغیرمنظورشدہ ہاﺅسنگ سوسائٹیز کی بھرمارہے ،یہ ہاﺅسنگ سوسائٹیاںوفاقی دارالحکومت کے ترقیاتی ادارے سے این او سی لئے بغیر اپنی میڈیا پبلسٹی میں مصروف ہیںا ن کی روک ٹوک کرنے کے لئے کوئی ادارہ عملی قدم نہیں اٹھارہااورنہ ہی ان پرہاتھ ڈالنے کے لئے تیارہے۔یہی وجہ ہے کہ بعض ہاﺅسنگ سوسائٹیز ضلع اٹک کی حدود میں واقع ہونے کے باوجوداشتہارات میں اپنی لوکیشن اسلام آباد میں ظاہر کرتے ہوئے غریب عوام کو لوٹنے میں مصروف ہیں۔چنانچہ گزشتہ روزاپنے مقبول عام پروگرام سچی بات میں انہوں نے ضلع اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنرعرفان نوازمہمندکومدعوکیا اوراس اہم ترین موضوع پر ان سے کھل کرباتیں کیں۔یہ ساری گفتگومفاد عامہ پرمبنی ہے ۔ ایس کے نیازی کیساتھ میںڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن نے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں 14غیر قانونی ہاو¿سنگ سوسائٹیز پر پابندی عائد کی گئی،جن ہاﺅسنگ سوسائٹیز پر پابندی عائد ہوئی انہیں نے پابندی کو چیلنج کیا ہو اہے،پابندی کاشکار سوسائیز کی کوئی بنیاد نہیں ،انھوں نے اسٹے آرڈر لیا ہوا ہے۔تمام کوآپریٹو سوسائٹیز کی سنیارٹی لسٹ مانگ لی گئی ہے ،ہاوسنگ سوسائٹیز کے پلاٹوں کو قرعہ اندازی ضروری ہے،ایل او پی کے بغیر والی ہاﺅسنگ سوسائیٹیز کی ٹرانزنگ رو ک دی جائے گی،پرائیویٹ زمین اگر سی ڈی اے کے پاس ہے تو یہ غلط ہے،اسلام آباد میں دو جگہوں سے پولیو کے سیمپل لیے جاتے ہیں،اسلام آباد میں پولیو سیمپل منفی آئے ہیں،سبزی منڈی میں ایک کیسز مثبت آیا،سبزی منڈی میں سے سی ڈی اے کچرا اٹھاتی ہے،روڈ پر موجود تجاوزات کو ختم کرنے کیلئے کام کررہے ہیں،سبزی منڈی میں ریڑھیاں روڈ کی بجائے فٹ پاتھ پر ہونگی،منڈی میں پرائس کے کنٹرول کیلئے مجسٹریٹ باقاعدہ ڈیوٹی دیں گے۔ جو دوکاندار سرکاری ریٹس کے بغیر اشیافروخت کرتے ہیں ان کیخلاف کارروائی ہوگی ، اسلام آباد میں ٹوٹل 20مجسٹریٹ کام کررہے ہیں،کوشش کررہے ہیں کہ انتظامی مامور کو بہتر بنایا جائے،ڈینگی کے حوالے سے پوچھے سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اسلام آباد میں ڈینگی کے ٹوٹل ساڑھے چھ سو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں،ڈینگی متاثرہ علاقوں میں باقاعدہ سپرے کیا جاتا ہے،ڈینگی وائرس سے بچاﺅ کے حوالے سے ڈبلیو ایچ او کی ایس او پیز پر عمل پیرا ہیں،ڈینگی وائرس پانی کھڑا ہونے سے پیدا ہوتا ہے،اسلام آباد کے ماسٹر پلان پر عملدرآمد کی ضرورت ہے ، ڈی سی اسلام آباد کا مزید کہنا تھا کہ اسلام آباد میں کئی کرکٹ گراﺅنڈز ایسے ہیں جن کیساتھ واکنگ ٹریک موجود ہیں،کئی سالوں سے گرانڈز پر غیر قانونی قبضے چل رہے ہیں جن کو واگزار کرا لیا گیا ،اوورسیز پاکستانیوں کی زمینوں پر قبضے کے کیسز کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے،اسلام آباد میں موجود کچھ گراونڈز میں اوپن جمز بھی ہیں، گراونڈز کو کہیں بھی بیچنے کی بات نہیں ہورہی،اسلام آباد کی زمین کا ریکارڈ سروے آف پاکستان کمپیوٹرائزڈ کررہا ہے ،اسلام آباد میں اس وقت 16پٹواری ہیں جبکہ سیٹیں زیادہ ہیں ،اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کو ترجیح دیتے ہیں،سیوریج سسٹم کو بہتر کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔اسلا م آباد کی حدو د میں کھمبیوں کی طرح اگنے والی ان غیرقانونی ہاﺅسنگ سوسائٹیاں کاقلع قمع غیرضروری ہے جس کے لئے سی ڈی اے اور ضلعی انتظامیہ کو اپناکردارایمانداری سے ادا کرناہوگا۔
ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ،قلت کااعتراف
کبھی کبھاریوں محسوس ہوتاہے کہ ارض پاکستان ڈاکٹروں اورادویات ساز اداروں کےلئے ایک چراہ گاہ کی حیثیت رکھتاہے کہ ہرتین مہینے بعد یہ ادویات ساز ادارے اپنی مرضی سے من مانے نرخو ں کااطلا ق کردیتے ہیں جس کاسارابوجھ غریب عوام کواٹھاناپڑتاہے ۔ادویات کی قیمتوں میں راتوں رات ہونے والے اضافے میں حکومت کے بعض ادارے ملوث ہوتے ہیں اور ان ادویات ساز کمپنیوں کوا ن کی مکمل آشیرباد اورسرپرستی حاصل ہواکرتی ہے کیونکہ ان کی حوصلہ افزائی کے بغیریہ ادویات سازادارے کبھی بھی اپنی مرضی کی قیمتوں کاتعین نہیں کرسکتے اور پھرمختلف سرکاری ہسپتالوں میں ملازمت کرنے والے سرکاری ڈاکٹران ادویات سازاداروں کے کمیشن ایجنٹ کابھی کام کرتے ہیں،سابقہ حکومت کے ایک وزیرصحت نے مبینہ طورپر ادویات سازکمپنیوں سے اربوں روپے لیکرانہیں ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی اجازت دیدی چنانچہ راتوں رات ادویات اوربالخصوص جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں سوگنااضافہ دیکھنے میں آیا،انسانی صحت سے کھیلنے والے ان اداروں کی روک تھام بہت ضروری ہے کیونکہ اس وقت ملک بھرمیں علاج معالجہ سب سے مہنگاہوچکاہے ،لوگ اپنے گھراورجائیدادیں بیچ کراپنے پیاروں کا علاج کرانے پرمجبورہیں، ہوناتو یہ چاہیے تھا کہ اس شعبے میں سخت ترین چیک اینڈبیلنس رکھا جانا چاہیے تھا مگربدعنوان طبقہ پورے معاشرے کواپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے،اس وقت ادویات سازی اورصحت عامہ سے متعلقہ شعبہ جات کی پانچوں انگلیاں گھی میں سرکڑاہی میں ہے اوریہ جب چاہتے ہیں اپنی قیمتوں میں اضافہ کردیتے ہیں ۔اس بات کااعتراف گزشتہ روز وزیرصحت عبدالقادرپٹیل نے اسلام آباد میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں آن دی ریکارڈ اورآف دی ریکارڈ کیا۔ ان کاکہناتھا کہ خدارا! عوام کی خدمت نہیں کر سکتے تو پینک نہ پھیلاو¿، کم بولو، سوچ کے بولو اور تقاریر کم کرو تاکہ سردرد کم ہو تو ادویات کی بھی قلت کبھی نہ ہو کیونکہ جس دوا کے شارٹ ہونے کا کہا جا رہا ہے وہ سر درد کی وجہ سے بھی شارٹ ہو جاتی ہے۔وزیر صحت نے کہا کہ کہا جارہا ہے کہ مارکیٹ میں ادویات کی قلت ہوگئی ہے جبکہ غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے ذخیرہ اندوزوں کو فائدہ ہوتا ہے، لوگ بھی خوفزدہ ہو کر زیادہ ادویات خریدنے لگتے ہیں، دباﺅ میں آنے والی ادویات کی کمپنیوں میں نگران بٹھا دیے ہیں، ڈرگ انسپکٹر بھی روزآنہ کی بنیاد پر کارکردگی رپورٹ دینے کا پابند ہوگا۔ پیرا سٹامول کوئی کہے کہ کم ہے تو بالکل غلط ہے، پیراسٹامول کی 50اقسام ہیں اور تمام میسر ہیں، ہم ہر بڑی کمپنی کو ایمرجنسی میں پیرا سٹامول رجسٹرڈ کر کے دینے کے لیے بھی تیار ہیں۔ جعلی ادویات کے مسئلے پرکریک ڈاﺅن شروع کرنے جا رہے ہیں، جس کے نتائج 15 روز بعد آپ سے شیئر کئے جائیں گی، میڈیا اس مسئلے پہ ہمارا ساتھ دے تاکہ عوام تک آواز پہنچ سکے۔ میڈیا دباﺅ نہ ڈالے،جس دوا کے شارٹ ہونے کی بات کی جا رہی ہے تو وہ کسی خاص برینڈ کی مارکیٹنگ ہے، چار سال کی اپنی حکومت میں انہوں نے 179ادویات مہنگی کیں، پی ٹی آئی کے دور حکومت میں ادویات غریب کی پہنچ سے باہر ہوگئی تھیں، 31دسمبر 2018کو 404 ادویات کی قیمتوں میں اضافہ خان صاحب نے کیا تھا لیکن اب خام مال سپلائی کرنے والوں کی بھی مانیٹرنگ ہو گی۔ سیلاب کی وجہ سے پاکستان مشکل ترین حالات سے گزر رہا ہے، سب عوام کا ساتھ دیں لیکن اس صورتحال میں بھی کچھ ہمارے سیاسی دوست قومی خدمت کا حصہ نہیں بن رہے ہیں کیونکہ ان کو عوام کا دکھ نہیں ہے۔یورپی ممالک میں علاج معالجہ کے لئے سوشل سیکیورٹی کاشعبہ استعمال کیاجاتاہے مگربدقسمتی سے ہمارے یہاں سوشل سیکیورٹی کانظام رائج نہ ہونے کے باعث مریض مکمل طورپر ان ڈاکٹروں کے رحم وکرم پرہوتے ہیں ۔اس وقت ملک بھرمیں بڑے بڑے نجی ہسپتال بن چکے ہیں جہاں پرمعمولی سی بیماری کاعلاج ہزاروں روپے کیاجاتاہے ، ان ہسپتالوں کے پرتعیش کمروں کاایک رات کاکرایہ 70ہزارروپے تک وصول کیاجارہاہے ان پرنہ تو ٹیکسز کانفاذ ہے اورنہ ہی ان کے معاوضوں پربندباندھنے کے لئے کوئی عملی اقدام اٹھایاگیاہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔