کالم

علامہ اقبالؒؒ کا نظریہ فکر و فن اور قرآن

riaz-chuadary

علامہ اقبالؒ عملی شاعر تھے۔ ان کی دنیا عملی دنیا ہے جس میں خوشی و غم اور امید و یاس کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ان کا فلسفہ صرف فلسفہ نہیں بلکہ حیات انسانی کا ایک نظام فکر ہے جس میں انسان دوستی کا خیال بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔اقبالؒ کے فکر و فن میں اتنی گہرائی اور وسعت ہے کہ اس کا سمجھنا کسی غیر متوازن اور جذباتی انسان کے بس کی بات نہیں۔ عالمی مجلس بیداری فکراقبالؒ کی ادبی نشست منعقدہ 14ستمبر2022ءمیںڈاکٹرضمیراخترخان نے اپنے مقالے بعنوان ”ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزرگاہوں کا“ میں بتایا کہ زیر مطالعہ مصرع سے انہوں نے ”اقبالؒ کانظریہ علم و فن“ اخذ کیا ہے۔ اقبالؒ کے ہاں بے مقصدتعلیم کاکوئی جوازنہیں۔ اقبالؒ کے ہاں شعروشاعری اورادب پر نسوانی راج انتہائی ناپسندیدہ ہے اوراس طرح کی شاعری اورادب انسانی معاشروں میں کسی تبدیلی کاپیش خیمہ بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اقبالؒ کا مطلوب نوجوان شاہین صفت اوربے داغ جوانی اورضرب کاری کامالک ہوتاہے۔ مقالے میںسیدابولاعلی مودودیؒ کے اقتباسات پیش کیے جن کاخلاصہ تھاکہ بے خداتعلیم فراہم کرکے خداشناس افرادکے حصول کی خواہش عبث ہوگی۔ ادبی نشست میںشرکاءنے کہا کہ شعورکی بلندی سے کائنات کے ساتھ انسان کاتعلق استوارہوتاہے اور معرفت رب کاآغازہوجاتاہے۔جدید عصری تعلیم اخلاقی انحطاط کا سبب بن رہی ہے۔ فی زمانہ معرفت تعلیم کادائرہ مادی وسائل کے حصول تک محدودہوکررہ گیاہے۔ غلامی زدہ نصاب تعلیم،نوآبادیاتی رسوم کی گندگی سے بھراہواطبقہ اشرافیہ اورسیکولرتہذیب سے آلودہ قیادت ہماری ملت کے اہم مسائل ہیں۔علامہ اقبالؒ نے اپنی تحریروں، خطابات اور شاعری کے ذریعے مسلمانوں میں علم کے حصول کی تحریک بیدار کی۔ ان میں علم حاصل کرنے کا جذبہ پیدا کیا۔ علامہ اقبالؒ نے علم حاصل کرنے کے مختلف زاویوں اور اندازِ تعلیم کو بھی پیش کیا۔ علم حاصل کرنا بلاشبہ ہر ایک کے لیے ضروری ہے۔ علم حاصل کرنے کی کوئی آخری عمر نہیں ہے۔ انسان آخری دم تک طفل مکتب ہوتا ہے اگرچہ وہ دنیا کے کسی بھی عہدے پر فائز رہ چکاہو۔ بڑی بڑی ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد بھی علم کا راستہ مسدود نہیں ہوتا۔ علم ایک بحرِ بیکراں ہے۔ اس کی کوئی انتہا نہیں ہے۔اقبالؒ کی تعلیمات کا منبع اسلام ہے۔ وہ آفاقی نظریہ اسلام کے علمبردار ہیں وہ اسلام جو زندگی کے ہر شعبے کے بارے میں انسان کی رہنمائی کرتا ہے۔ اقبالؒ کے تمام تصورات ونظریات اسلام کی روشنی میں تشکیل پاتے ہیں۔ وہ اسلام کے نظریے کو بنی نوع انسان کی تمام مشکلات کا واحد حل قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک زندگی کے تمام مسائل کی شاہِ کلید قرآن مجید ہے۔ اقبالؒ برصغیر ہندوپاک میں آباد ملت اسلامیہ کے ان چند عظیم افراد میں سے ہیں، جن کے افکار نے اس ملت کے روز و شب پر گہرے اثرات ڈالے ہیں۔ انہوں نے زوال پذیر اور مضمحل ہندوستانی مسلمانوںکو زندگی آمیز جدوجہد کا سبق دیا جو خودی کو برے مفہوم اور بے خودی کو اچھے مفہوم کے ساتھ قبول کرچکی تھی۔ انھوں نے بے ضمیری کی زندگی پر موت کو ترجیح دی۔ اور اسے زندگی کے میدان میں باضمیر اور خود دار قوم کی حیثیت سے رہنے کی تلقین کی۔ انھوں نے مسلمانوں کے قوانین کی دورِ جدید کی روشنی میںتدوین جدید کی طرح ڈالی۔انھوں نے ایک مضمحل ملت کو ولولہ تازہ عطا کیا۔ وہ جس اسلامی مملکت کا خواب دیکھ رہے تھے اس کےلئے اسلامی قوانین کی تشکیل کے ساتھ ساتھ اس کے نظام تعلیم کے بنیادی اصول بھی وضع کررہے تھے۔ چنانچہ ان کے تصورِ تعلیم کے بنیادی اصول بہت واضح ہیں۔علم کی بدولت قوموں نے عروج پایا۔ علم نے آدمیت کو انسانیت کے رنگ میں ڈھالاورنہ آدمی کھانے پینے اور اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل کو اپنا عروج سمجھتا تھا۔ زندگی گزارنے کا مقصد نفسانی خواہشات کی تکمیل کے سوا کچھ نہ تھا۔ انسان تہذیب وثقافت سے عاری تھا۔ نیکی اور بدی کی تمیز سے نابلد تھا۔ علم نے تہذیب سکھائی۔ اچھائی اور برائی کی تمیز سکھائی۔علم کا مقصد سمجھ بوجھ اور فہم و فراست میں پاکی حاصل کرنا ہے۔ علامہ اقبالؒ کہتے ہیں:
علم کا مقصود ہے پاکی عقل و خرد
بیشک دنیا کی ترقی کا دارو مدار علم پر ہے ۔ علم ہی دنیا اور آخرت میں عزت کا باعث بنتا ہے۔ اسی لیے مسلمان جب تک علم سے وابستہ رہے۔ دنیا میں نمایاں رہے۔ ایجادات میں پیش پیش رہے۔ تسخیرِ کائنات میں آگے رہے۔ نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔لیکن جب مسلمانوں نے علم کے دامن سے اپنے آپ کو آزاد کیا اور میدانِ علم سے بھاگے تو ہر میدان میں پسپا ہوئے۔ اسی بات پر حیرت اور افسوس کرتے ہوئے علامہ اقبالؒ نے اپنی شاعری میں اظہار کیا:
حیرت ہے کہ تعلیم و ترقی میں ہے پیچھے
جس قوم کا آغاز ہی اقراءسے ہوا تھا
علامہ اقبالؒ نے اس بات کی جانب توجہ مبذول کرائی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی پیارے حبیب پر وحی کا نزول اقراءسے کیا تھا یعنی پڑھیے۔ لہٰذا پڑھنا لکھنا تو مسلمان کی گھٹی میں پڑاہوا ہونا چاہیے۔ علامہ اقبا ل نے بچوں کے لیے جو نظمیں لکھیں، ان میں آداب و اخلاق کے ساتھ علم کی طرف بھی راغب کیا ہے۔ علامہ اقبالؒ نے بچوں میں ابتداءہی سے علم کے حصول کا جذبہ بیدار کرنے کی کوشش کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔