دلچسپ اور عجیب

سیاسی مفاہمت کے لئے صدرمملکت کی کاوشیں

ملک میں سیاسی بحران کاحل تلاش کرنے کے لئے صدرمملکت کی طرف سے کی جانے والی کوششوں کے اثرات آناشروع ہوگئے ہیں ،تحریک انصاف، پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ نون کے درمیان ہونیوالی بیک ڈورملاقاتوں میں کچھ معاملات طے ہوچکے ہیں اورکچھ ہوناباقی ہیں، ہماری معلومات کے مطابق تمام سیاسی جماعتوں، چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاویدباجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے بھی متفق نظرآرہی ہیں مگر آخری فیصلہ تو آرمی چیف نے خو د کرناہے کہ وہ توسیع کو قبول کرتے ہیں یانہیں مگر اس سے ہٹ کرآرمی چیف کی یہ خواہش ہے کہ سیاسی معاملات کوذاتی دشمنیوں میں نہ بدلاجائے بلکہ آئین اورقانون کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے سیاسی فیصلے سیاسی میدان میں کئے جائیں۔گزشتہ روزصدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ ملک میں بریک تھرو دور نہیں، جلد اچھی خبر آنے والی ہے، سیاسی مفاہمت ہو ، تمام فریقین ایک چھت تلے جمع ہوں یہ اب ناممکن نہیں، کوشش ہے مسائل کا حل مذاکرات سے ہی نکل آئے۔ انتخابات ملکی بحرانوں سے نکلنے کا بہترین حل ہے۔ الیکشن میں اب چند ماہ کا فرق رہ گیا ہے، سیاستدانوں کے درمیان الیکشن کے حوالے سے بات چیت ہونی چاہیے۔ آرمی چیف کی نئے الیکشن تک تعیناتی موخرکرنے پر رائے نہیں دوں گا، فیصلہ ساز ٹیبل پر سپہ سالار کا معاملہ طے کریں تو اچھا ہے، اچھے مینڈیٹ کے ساتھ سارے فیصلے ہوں تو اچھا ہے۔ صدر مملکت کا مزید کہنا تھا کہ سیلاب کے بحران میں غریب پس رہا ہے، 3 بحران سیلاب، معاشی اور سیاسی بحران ہیں، سیاسی بحران سب سے بڑا بحران ہے۔ ہربحران کے اعتبارسے میری کوششیں اپنی جگہ پر ہیں، روپے کی قدر کم اور ایکسپورٹ کم ہوتی جا رہی ہے، ورلڈبینک کہہ رہا ہے پاکستان کے ڈیفالٹ کا امکان ہے،معاشی بحران کو قابو کرنا بہت ضروری ہے،آئی ایم ایف قسط کے بعد وقتی طور پر بینڈج لگا ہے۔سیاست کا بحران ہے جس کو حل کرنا آسان ہے،بہت سارے لوگ وقتی مفاد کی وجہ سے اس بحران سے نکلنے کو تیار نہیں۔ تمام سیاسی لیڈر جلد الیکشن کی بات کرتے رہے ہیں،سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی بحران پر چیف الیکشن کمشنر سے الیکشن کرانے بارے پوچھا تھا،الیکشن کمیشن نے کہا تھا 7 ماہ لگیں گے،انتخابات شائد ان بحرانوں سے نکلنے کا بہترحل ہے۔ سیاستدانوں کے درمیان الیکشن کے حوالے سے بات چیت ہونی چاہیے، قوم کو کلیئر لیڈر شپ چاہیے، عوام مشکل میں پھنسے ہوئے ہیں، بجلی بل، مہنگائی کے اعتبارسے عوام مشکل میں ہیں، حکومت اپنی طرف سے محنت کررہی ہے۔ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ آئین کے اعتبارسے اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت کر سکتا ہوں، سب ملکر کسی چیز پر اتفاق کریں گے، مجھے ڈر ہے کہیں معاشی بحران اس نہج پر نہ چلا جائے، عوام سڑکوں پر آ جائیں، الیکشن میں اب چند ماہ کا فرق رہ گیا ہے، آپس میں گفتگو کے لیے میرے دروازے کھلے ہیں، کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر معاملے کو نمٹانا چاہیے، الیکشن کے بعد جو بھی پارٹی جیتے اسے مینڈیٹ لیکر آنا چاہیے۔ ہٹ دھرمی سے ملک کا نقصان ہو گا، انا پر قابو پا لیں تو ہم سو فیصد یہ کام کر سکتے ہیں، سیلاب کو ٹھیک کرنے کے لیے تو پیسے کی ضرورت ہے، سیاسی جماعتوں کو آپس میں بٹھانا صرف سوچ کی بات ہے، اگرہم اکٹھے نہ ہوئے تو تاریخ ہمیں ذمہ دار ٹھہرائے گی۔ موجودہ حکومت میں شامل سیاسی قیادت بھی نئے الیکشن پر متفق تھی، حکومت سے باہر موجود سیاسی قیادت بھی جلد انتخابات چاہتی ہے، شاید انتخابات ان بحرانوں سے نکلنے کا ایک بہتر حل ہے، کچھ لے اور دے کر انتخابات کا معاملہ نمٹانا چاہیے، بہتر ہے عوام کی نمائندہ حکومت ہو چاہے موجودہ اتحادی کامیاب ہوں۔صدر مملکت کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف سے رابطہ رہتا ہے، اصل کام حکومت اور اپوزیشن بیٹھ کر چیزیں طے کریں، عدم اعتماد کے بعد جب دوسری حکومت آئی تب سے یہ بات کر رہا ہوں، پہلے دن سے کہہ رہا ہوں الیکشن کی تاریخ اور میز پر بیٹھ کر بات چیت کر لیں، عمران خان نے پیشکش کی ہے، سیاسی میچورٹی کا تقاضا ہے تمام سیاسی جماعتیں ایک جگہ پر بیٹھ جائیں۔ خاندانی جھگڑوں میں بھی بزرگ ہی سمجھاتے ہیں، حالات ایسے ہیں لوگ آپس میں بات کرنے کے قابل ہو جائیں، رابطے بے انتہا ضروری ہے، کہا سنا معاف کر کے آگے چلنا چاہیے۔ وزیراعظم سے ملکی معاملات پر مثبت انداز میں گفتگو ہوتی ہے، بہت پراعتماد ہوں سارے سٹیک ہولڈرز کہیں نہ کہیں کوششیں کر رہے ہیں، پوری قوم منتظرہے کم سے کم کوئی آپس میں کوئی معاہدہ ہو جائے، بڑا پر امید ہوں ٹیبل پر بات چیت کی آفرہے، اس وقت بحران بہت بڑا ہے مثبت حل بے حد ضروری ہے، اگر ہم نے اس کرائسز کو حل نہ کیا توتاریخ سب کوملزم ٹھہرائے گی۔بات چیت کے لیے میرے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں، سیاسی استحکام کے لیے بہترین طریقہ ہے کچھ ادھر کچھ ادھرکرلیا جائے، میرے کہنے کا مطلب ہے ایک دو مہینے اِدھر ادھر کر لینے چاہئیں، ایسا ماحول بنانا چاہیے سیاستدانوں کو بیٹھ کر بات کرنے کے لیے راضی کرنا چاہیے۔عارف علوی کا کہنا تھا کہ سیلاب کا بحران اپنی جگہ پریشان کن ہے، ریلیف ہمارے بس میں ہے، سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے معیشت بہتر ہونا ضروری ہے، مسائل سارے ہیں یہ کہنا پہلے یہ کر لو وہ کر لودرست نہیں ہے، ہمیں سارے مسائل حل کرنے ہیں لیکن کہیں سے تو ابتدا کرنا ہو گی، بطور صدر اسٹیک ہولڈرز کے سامنے اپنی رائے رکھ سکتا ہوں، خاکہ اس صورت میں بنے گا جب سب مل کراتفاق کریں گے، پاکستان اب مزید بحرانوں کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اگر معیشت کمزور ہوتی ہے تو دفاع کے اعتبارسے بھی فرق پڑتا ہے، سیلاب ہو یا زلزلہ افواج پاکستان نے بہترین کردار ادا کیا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افواج پاکستان نے بہت قربانیاں دیں، معاشی حالات کے افواج پر بھی اثر پڑتا ہے، افواج پاکستان کے ساتھ بھی بڑی اچھی کمیونیکشن رہتی ہے، پچھلے ڈیڑھ ماہ کے دوران افواج کے ساتھ کمیونیکشن میں اضافہ ہوا ہے، مِس کمیونیکشن، دوریوں کو ہر خاندان جانتا ہے، جب بھی معاملات کو جوڑا جاتا ہے تو رفع دفع کر کے کیا جاتا ہے، دوریاں مِس کمیونیکیشن، سوشل میڈیا کی وجہ سے پھیلیں۔اگرصدرمملکت اور اداروں کے سربراہان سیاسی ماحول میں پائی جانیوالی تلخی کو کم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہوگی ،ہماری یہ خواہشات عدلیہ، قومی اداروں اور مستحکم جمہوریت کے ساتھ ہیں۔
اعجازالحق کا ایس کے نیازی کوخراج تحسین
ملک کے معروف صحافی ،تجزیہ کار اور پاکستان گروپ آف نیوزپیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں وہ بیک وقت صحافی، مدبر، کالم نگار اوردانش ورکامقام رکھتے ہیں، ان کی صحافت کامحورہمیشہ پاکستان رہاہے اس سچے اورپکے محب وطن صحافی کوخراج تحسین پیش کرتے ہوئے گزشتہ روزسابق آرمی چیف و صدر مملکت ضیاءالحق کے بیٹے اور مسلم لیگ (ض)کے سربراہ اعجاز الحق نے کہا کہ میرے والد ضیاءالحق سے لیکر تمام آرمی چیفس کے ساتھ آپ کے بہت اچھے تعلقات ہیں اور سب آپ کی عزت کرتے ہیں،نیازی صاحب آپ نے ہمیشہ اپنے پروگرام میں پاک فوج اوراداروں کے وقارکوبلندکیا۔سربراہ مسلم لیگ (ض)اعجاز الحق نے کہاکہ میں پاک فوج اوراپنے سلامتی کے اداروں کیساتھ کھڑاہوں،ہمیں اپنے اداروں کی مضبوطی کیلئے اکٹھا ہونا چاہئیے ، حکومت میں شامل تمام سیاسی جماعتیں نظریاتی طور پر ایک دوسرے سے مختلف ہیں،ہر شخص فیصلوں میں آزاد ہے،میں نے معاملات کو سلجھانے کی بہت کوشش کی،بہت سوچ سمجھ کرحالات کودیکھنے کی ضرورت ہے،میں نے عمران خان سے ملاقات کرکے حالات سے آگاہ کیا۔اعجاز الحق نے مزید کہا کہ نواز شریف کو جب ہٹایا گیا تو انھوں نے آرمی کے متعلق بہت بری باتیں کہیں اس وقت مجھے کسی نے نہیں کہا کہ میں آرمی کی حمایت میں نکلوں لیکن میں نے اپنے دل کی آواز سنتے ہوئے کہا کہ میں پاک فوج اوراپنے سلامتی کے اداروں کیساتھ کھڑاہوں،انھوں نے پروگرام میں مزید کہا کہ ہمیں اپنے اداروں کی مضبوطی کیلئے اکٹھاہوناچاہئیے،حکومت میں شامل تمام سیاسی جماعتیں نظریاتی طور پر ایک دوسرے سے مختلف ہیں،ہر شخص فیصلوں میں آزاد ہے ، میں نے معاملات کو سلجھانے کی بہت کوشش کی،بہت سوچ سمجھ کرحالات کودیکھنے کی ضرورت ہے ۔ اعجازالحق کی طرف سے ان کو خراج تحسین پیش کرناایک کھلی حقیقت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔