پاکستان خاص خبریں

وہ دن دور نہیں کہ آزاد کشمیر اور جی بی کے لوگ مل کر کشمیر کو آزاد نہ کرا سکیں وزیر اعلی گلگت بلتستان خالد خورشید

خالد خورشید خان

وزیر اعلی گلگت بلتستان خالد خورشید نے کہا ہے کہ ملک کے آنے والے دن بہت اچھے ہوں گے۔ وزیر اعلی خالد خورشید نے مرکزی ایوان صحافت مظفرآباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ شعبہ صحافت کا ہمارے معاشرے میں اہم کردار ہے، پاکستان گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے لوگوں کو ملنے سے آپس میں محبتیں بڑھیں گی۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر ہمارا مشترکہ مسئلہ ہے، دونوں حکومتوں کو کرنے کا اہم کام یہی ہے کہ لوگوں کو آپ میں ملنے کی مواقعہ دیئے جائیں۔ وزیر اعلی نے کہا کہ شونٹھر ٹنل سے لوگ آپس میں ملیں گے اور مسئلہ کشمیر کے لئے بھی یہ روٹ اہم ہوگا، جب تک جی بی اور کشمیر کے لوگ مل کر جد و جہد نہیں کریںگے کامیاب نہیں ہو سکتے، اس وقت جی بی اور مظفرآباد میں جس لیڈر کی پارٹی کی حکومت ہے جس نے بکھری ہوئی قوم کو اکٹھا۔ خالد خورشید نے مزید کہا کہ ملک کے آنے والے دن بہت اچھے ہوں گے، اگر دل میں جذبہ وہ اور ہم عملی میدان میں نکل پڑیں تو وہ دن دور نہیں کہ آزاد کشمیر اور جی بی کے لوگ مل کشمیر کو آزاد نہ کرا سکیں۔ ایک ماہ قبل صدر آزادجموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری سے ممبر برطانوی پارلیمنٹ مرزا خالد محمود کی ایوان صدر کشمیر ہاس اسلام آباد میں ملاقات ہوئی تھی جس میں سلطان محمود چوہدری اور ممبر برطانوی پارلیمنٹ مرزا خالد محمود کے درمیان باہمی دلچسپی سمیت دیگر امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ اس موقع پر صدر آزاد جموں وکشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا تھاکہ اب وقت کی اہم ضرورت ہے کہ مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر جارحانہ انداز میں اٹھانے کے لئے بھرپور کوششیں کی جائیں۔ سلطان محمود چوہدری نے مزید کہا کہ برطانیہ کو مسئلہ کشمیر حل کروانے کے لئے آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کر نا چاہیے کیونکہ یہ مسئلہ برطانیہ کے برصغیر سے دو سو سالہ اقتدار کے خاتمے پر پیدا ہوا تھا لہذا برطانیہ کی دوہری ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اپنا رول ادا کرے۔نیزوزیر اعلیٰ گلگت بلتستان بیرسٹر خالد خورشید کا پی آئی ڈی کمپلیکس مظفر آبادکا دورہ،پی آئی ڈی کمپلیکس آمد پر وزیراعظم آزادکشمیر کے معاون خصوصی برائے اطلاعات سمال انڈسٹریز و ماحولیات چوہدری محمد رفیق نیئر، سیکرٹری اطلاعات و انفارمیشن ٹیکنالوجی محترمہ مدحت شہزاد، ڈائریکٹر جنرل اطلاعات راجہ اظہر اقبال اور محکمہ کے افسران نے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کا استقبال کیا۔ وزیر تعلیم آزادکشمیر دیوان علی خان چغتائی ، وزیراعظم آزادکشمیر کے معاون خصوصی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی چوہدری محمد اقبال ودیگر بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے نظامت اعلیٰ تعلقات عامہ کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کیا ۔ سیکرٹری اطلاعات اور ڈائریکٹر جنرل اطلاعات نے انہیں ڈیجیٹل و سوشل میڈیا، شعبہ اشتہارات ، الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا ،ڈیکلریشن و مانیٹرنگ سیکشنز اور آزادجموں وکشمیر پریس فائونڈیشن کے حوالہ سے بریفنگ دی۔ بریفنگ کے بعد محکمہ کے افسران سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان بیرسٹر خالد خورشید نے کہاکہ جنگوں کے میدان اب تبدیل ہو چکے ہیں اور سوشل میڈیا اس وقت جنگ کا سب سے بڑا میدان ہے۔ میڈیا کے محاذ پر اس وقت آزادکشمیر کامحکمہ اطلاعات کلیدی کردار ادا کررہا ہے جو ہمار ے لیے باعث تقلید ہے ۔ ہندوستان سوشل میڈیا کے ذریعے اپنا مخصوص بیانیہ پروموٹ کرنے کی کوشش کرتا ہے،سوشل میڈیا کے ذریعے ہم نے دنیا کو دکھانا ہے کہ ایک طرف آزاد خطہ میں میڈیا مکمل آزاد اور بیرون ملک سے سیاحوں کو یہاں آنے اور اس خطہ کی خوبصورت دیکھنے کی مکمل آزادی ہے جبکہ دوسری جانب مقبوضہ جموں وکشمیر میں ہندوستان نے بدترین پابندیاں لگائی ہوئی ہیں اور کشمیریوں پر ظلم ڈھا رہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ آزادکشمیر میں اطلاعات کے شعبہ نے بہت تیزی سے ترقی کی ہے ۔ محکمہ اطلاعات گلگت بلتستان اور محکمہ اطلاعات آزادکشمیر مستقبل میں مل کر کام کریں گے۔اس حوالہ سے جوائنٹ ورکنگ ٹیم بنائیں گے تاکہ مستقل ورکنگ ریلیشن شپ قائم رہے ۔ آزادجموں وکشمیر پریس فائونڈیشن کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہوںنے کہاکہ گلگت بلتستان کے صحافیوں کو بھی اسطرح کی سہولیات دینے کیلئے آزادکشمیر پریس فائونڈیشن کی معاونت لیں گے اور جلد ہی جی بی کی ٹیم اس سلسلہ میں آزادکشمیر کاد ورہ کریگی۔ وزیراعظم آزادکشمیر کے معاون خصوصی برائے اطلاعات چوہدری محمد رفیق نیئر نے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کا پی آئی ڈی کمپلیکس آمد پر شکریہ ادا کیا۔اس موقع پر ڈائریکٹرزاطلاعات راجہ امجد حسین منہاس اور محمد بشیر مرزا، آفیسران اطلاعات مقصود احمد، راجہ محمد سہیل خان،قراة العین شبیر، سید آصف حسین نقوی ،راجہ عبدالباسط خان، سردار شمیم انجم، محمد خورشید چوہدری ودیگر بھی موجود تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔