پاکستان

وزیراعظم موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے کو شنگھائی تعاون تنظیم کی طرف سے اٹھائے جانے کی تجویز

وزیراعظم موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے کو شنگھائی تعاون تنظیم کی طرف سے اٹھائے جانے کی تجویز

وزیراعظم شہباز شریف کی موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے کو شنگھائی تعاون تنظیم کی طرف سے اٹھائے جانے کی تجویز کی تاجکستان، ازبکستان، ایران اور منگولیا کے صدور کی طرف سے تائید و حمایت کا اعلان کر دیا گیا۔

تاجکستان، ازبکستان، ایران اور منگولیا کے صدور نے وزیراعظم شہباز شریف کی موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے کو شنگھائی تعاون تنظیم کی طرف سے اٹھانے کی تجویز کی بھرپور تائید و حمایت کا اعلان کیا ہے۔
صدر مرزایوف ‘ایس-سی-او’ ریاستی سربراہان کی کونسل کے رواں اجلاس کی میزبانی کر رہے ہیں۔ صدر مرزایوف نے زور دیا کہ وزیراعظم پاکستان کی پیش کردہ تجویز ‘ایس-سی-او’ تنظیم کی سطح پر اٹھانی چاہئے۔

‘ایس-سی-او’ کے سربراہان مملکت کی کونسل کے اجلاس میں تاجکستان کے صدر نے وزیراعظم شہباز شریف کی تجویز کی سب سے پہلے حمایت کا اعلان کیا ہے۔
ایس-سی-او’ سربراہان مملکت کی کونسل کے حالیہ اجلاس کے سربراہ تاجکستان کے صدر کے بعد تنظیم کے سیکریٹری جنرل ازبکستان، منگولیا اور ایران کے صدور نے بھی پاکستان کے ساتھ یک جہتی کی اور حمایت کا اعلان کیا۔

صدر مرزایوف نے ‘ایس-سی-او’ کے رکن ممالک پر زور دیا کہ حالیہ تاریخی سیلاب سے ہونے والی شدید تباہی سے نمٹنے میں پاکستان کو بھرپور مدد اور حمایت فراہم کی جائے۔

قبل ازیں وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے شنگھائی تعاون نتنطیم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سیلاب کے باعث بہت تباہی ہوئی، آج سے پہلے پاکستان میں ایسی تباہی کبھی نہیں دیکھی ۔ پاکستان کے اس مشکل وقت میں دنیا کو مدد کیلئے آگے آنا پڑے گا۔

شہباز شریف نے افغانستان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں سیکیورٹی کے معاملات میں تعاون کرنا ہو گا اور عالمی برادری افغانستان میں معاشی اور اقتصادی استحکام کیلئے کام کرے ، پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں امن کی خواہش کی ہے۔

وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ ماحولیاتی تبدیلی نے پاکستان کو بری طرح متاثر کیا ہے ، سیلاب میں 400 بچوں سمیت 1400 افراد جاں بحق ، ہوئے ہیں ۔عالمی اداروں سے اپیل کرتا ہو ں کہ ایسا پلان بنائیں جو ہماری آنے والی نسلوں کو بچاسکے ، پاکستان نے ماحولیاتی تبدیلی کے لئے بہت اقدامات کئے ہیں اور نقصان بھی سب سے زیادہ پاکستان نے اٹھایا ہے، اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ سب ممالک ہمارے ساتھ مل کر کام کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔