کالم

بدلتے تیور اور پولیس کی دہائی

rohail-akbar

کاش وہ بھی محسوس کرجائیں جن کی بد اعمالیوں کی سزا عوام بھگت رہی ہے ایک مصیبت ختم نہیں ہوتی کہ دوسری سر اٹھائے تیار کھڑی ہوتی ہے اور ان مصیبتوں کا انجام کیا ہوگا وہ شائد کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہوسکتا ایک طر ف حکومت اپنے اللے تللوں میں مصروف ہے تو دوسری طرف سندھ میں منہ زور منچھر جھیل نے 500دیہات صفحہ ہستی سے مٹا دیے ہیں 20 بچوں سمیت مزید 44افراد جاں بحق ہو گئے سیہون میں سیلاب سے جان بچا کر خیموں میں پناہ لینے والوں کو تیز آندھی نے مسل دیا اندرون سندھ کے مختلف علاقوں میں کھلے آسمان تلے بیٹھے ہزاروں سیلاب متاثرین بدحالی کی تصویر بن گئے ہیں جن کے پاس پیٹ بھرنے کو خوراک ہے نہ علاج کےلئے دوائیں اب سیلاب کا خوفناک نتیجہ قحط کی صورت میں سامنے آنے کا خدشہ سر اٹھانے لگا ہے کھیتی باڑی اور مویشی پالنے کا کام تباہ ہو گیا تو دوسری طرف مرکزی حکومت نے 70وزرا بھرتی کرکے 240کا ڈالر کردیا اور رہی سہی کسرچار ہزار من آٹا کرکے غریب کی مزید بربادی کردی شائد یہی تبدیلی کا باعث بنے کیونکہ حادثات ایک دم نہیں ہوتے حالات برسوں انکی پرورش کرتے ہیں ہم نے بدلتی دنیا کے ساتھ سفر نہیں کیا بلکہ ہمارے حکمرانوں سمیت چند خاندانوں نے دنیا کے ہر مقام پر اپنی جائیدادیں ضرور بنا لی ہیں اور اب شاید آسمان سے حتمی فیصلے سنائے جانے کا آغاز ہو چکا ہے بدلتے موسمی تیور قدرتی آفات کی صورت میں اپنے غصہ کا اظہار کر رہے ہیں اللہ اب بھی ہمارے حکمرانوں کو چشمِ بینا دے تو وہ دیکھ سکیں کہ پاکستان میں بڑے بڑوں کی پگھ اترتی اور اچھلتی نظر آ رہی ہے پسماندہ طبقوں کے ہاتھوں اُمراءکا استحصال صاف دکھائی دے رہا ہے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے پر انپڑھ اور بے شعور طبقہ تمام حدوں سے گزر تا نظر آرہا ہے نارکی اور افراتفری سر اٹھا رہی ہے محروم و مجبور طبقہ بچوں کو بلکتا دیکھ کر وہ کچھ کر گزرے گا جس کے تصور سے ہی روح کانپ جاتی ہے لیکن ہمارا سیاسی، مذہبی اور مقتدر طبقہ اپنے اپنے مفادات اور خرمستیوں کے سوا کچھ دیکھنے سوچنے کیلئے آمادہ نہیں کرونا وائرس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھامعیشت بری طرح متاثر ہوئی مہنگائی کا سارے عالم میں ایسا طوفان آیا کہ معاشرت کے خدوخال ہی بدل گئے ترقی یافتہ امیر ممالک نے تو پھر بھی اپنی عوام کو ریلیف فراہم کیا لیکن ہمارا استحصالی نظام چاروں شانے چت ہو گیا غریب اور محنت کش طبقہ بھیک کے انداز میں ادھار مانگتے زمین میں گڑتا جا رہا ہے مڈل کلاس کا حال تو سب سے برا ہے لیکن اس عظیم مصیبت میں اثر و رسوخ رکھنے والے سیاسی و غیر سیاسی طاقتور طبقے نے اپنا بے انتہا فائدہ اٹھا لیا ہے بلیک مارکیٹنگ اور بنیادی ضروری اشیائے خرد و نوش کی اسمگلنگ اور غریب اپنے لیے آنےوالی بیرونی امداد سے بھی محروم رہے ملک کے کرتا دھرتا¶ں نے ہر طرح کے ناجائز ہتھکنڈوں سے اپنی تجوریاں بھر لی ہیں مگر اب بس ہونا چاہیے کہیں ایسا نہ ہو کہ بلکتا سسکتا طبقہ درندوں کی صورت نہ اختیار کر لے اگر ایک بار ہجوم اور ٹولیوں کی صورت میں پوش علاقوں پر حملے شروع ہوئے تو بے شعور ہجوم کے ہاتھوں امراءکی عزتوں کے علاوہ نہ جانے کیا کچھ برباد ہو جائے گا روس کے یوکرین پر حملے نے بھی حالات کی سنگینی کی گھنٹی بجا دی ہے کہیں سے بھی اٹھنے والا شور پوری دنیا کو لپیٹ میں لے سکتا ہے دنیا واقعی ہمارے اپنے ہاتھوں بنائے گئے ظلم و جبر اور استحصالی نظام سے تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم توبہ و استغفار کے ساتھ ساتھ شعور بھی بیدار کریں اور موجودہ دور کے فرقہ پرست علمائ، ڈھونگی پیروں اور ظالم حکمرانوں سے نہ صرف اپنی جان چھڑائیں بلکہ خود اپنے ضمیر میں جھانک کر اصلاح کی طرف متوجہ ہو جائیں اب ایک پولیس والے محمد عرفان کی فریاد بھی پڑھ لیں جو کہتے ہیں کہ پچھلے دنوں آئی جی پولیس پنجاب نے کہا تھاکہ پولیس ملازمین ن کو ان کے متعلقہ تھانہ جات میں لگایا جائے گا تاکہ وہ اچھے طریقے سے اپنی ڈیوٹی ادا کر سکیں لیکن ابھی تک تو آئی جی صاحب کی یہ بات صرف بیانات تک ہی محسوس ہورہی ہے بلکہ سب کچھ اس کے الٹ ہورہا ہے اس وقت لاہور پولیس کے لاتعداد ملازمان کے تبادلہ جات ان کے گھروں سے کم از کم 30 سے 60 کلومیٹر دور کر دیے گئے ہیں پہلے ہمارا 2 دن ایک لیٹر پٹرول لگتا تھا اب وہاں 5 سے6 لیٹر پٹرول لگنا شروع ہوگیا ہے اور اگر تھانہ میں پٹرولنگ کرنی ہے تو اپنی موٹر سائیکل پر کرنی ہے اورپٹرول اپنی جیب سے ڈلواناپڑتا ہے ہر روز تین وقت کی روٹی خود کھانی ہے اور اپنے گھر والوں کو بھی کھلانی ہے ڈیوٹی بھی کم از کم 12 گھنٹے کرنی ہے اور افسران کہتے ہیں کہ ہم آپکی ویلفیئر کےلئے دن رات کوشاںہیں کیا یہ ہی ہماری ویلفیئرہو رہی ہے کہ دن رات کی ڈیوٹی کے بعد ہم ملازمین بیچارے ذہنی مریض بن رہے ہیں اور ساتھ ساتھ ہم اپنے بچوں کی پڑھائی،روٹی اور خواہشات کو دفن کر کے افسران کی SOP کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں میں نے آج اپنی موٹر سائیکل میں 700روپے کا پٹرول ڈلوایااور سارا دن ڈیوٹی کرتا رہا جبکہ گھر پہنچا تو ٹینکی خالی تھی میری اس تحریر کا مقصد سیاست کرنا نہیں ہے اور نہ ہی اپنے افسران کو برا کہنا مقصود ہے بلکہ چاہتا ہوں کہ خداراہمارے بارے میں بھی سوچیں ہم بھی اس معاشرے کا حصہ ہیںہم پولیس والے اپنے اپنے گھر کے قریب رہ کر زیادہ اچھی ڈیوٹی کر سکتے ہیںمیرے بیٹے کی سالگرہ تھی میں نے اسکے ساتھ وعدہ کر رکھا تھا کہ بیٹا میں آپکو گفٹ دوں گا اورہم سب باہر کھانا کھانے جائیں گے لیکن میں اپنے بیٹے کے آگے آج ہار گیا کیونکہ مجھے اتنی دور تبادلہ ہونے کی وجہ سے مالی اور زہنی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ایک شرمندگی ہے جو ہمیشہ ساتھ رہے گی اور آپ کو لکھنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ شائد ارباب اختیار پڑھ کر ہمارے بارے میں بھی کچھ سوچیں بچے تو بچے ہوتے ہیں اور انکی خواہشات کو پورا کرنا ہر والدین کی دلی خواہش ہوتی ہے وہ آئی جی صاحب کے ہو یا چیف سیکرٹری کے دعا گو ایک سپاہی۔امید ہے کہ اس وقت صوبے کے وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی جتنا پیار اپنے بچوں سے کرتے ہیں اتنا ہی وہ ایک ملازم کے بچے سے بھی کرتے ہیں اور انکا تو کہنا بھی یہی ہے کہ وہ ہر روز گھر سے سوچ کرآتے ہیں کہ آج انہیں کونسا اچھا کام کرنا ہے تو پولیس والوں کے ساتھ ساتھ میری بھی ان سے درخواست ہے کہ وہ آئی جی پولیس کو حکم دیں کہ ہر پولیس ملازم کو اسکے گھر کے قریبی تھانہ میں تعینات کریں تاکہ وہ زہنی سکون سے اپنا کام سرانجام دے سکیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔