کالم

پراپرٹی ٹیکس میں کمی خوش آئنداقدام

riaz-chuadary

وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویزالٰہی نے عوام کی سہولت اور فلاح و بہبود کیلئے بہت سے احسن اقدام کئے ہیں۔ حال ہی میں صوبے میں پراپرٹی کی ٹرانسفر فیس میں بڑی کمی کر دی گئی ہے۔بلاشبہ پنجاب حکومت نے یہ فیصلہ بھی صوبے کے عوام کے وسیع تر مفاد میں کیا ہے۔ اس فیصلے سے صوبے بھر میں رجسٹریوں میں اضافہ ہو گا اور پنجاب حکومت کا ریونیو بہت بڑھ جائے گا۔پنجاب حکومت کے احسن اقدام کا مقصد عوام کو ریلیف دینا ہے ۔ اس اقدام سے تعمیراتی صنعت کو بھی فروغ ملے گا اور روزگار کےلئے بے پناہ مواقع پیدا ہوں گے۔ یہ حقیقت ہے کہ چودھری پرویزالٰہی دعووں کی بجائے عمل پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کے سابقہ دور کے فلاحی کام آج بھی عوام کو یاد ہیں ۔ ذاتی نمود و نمائش کے بجائے نئے ادارے بنائے جو آج تناور درخت بن چکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کی زیرصدارت جیل اصلاحات سے متعلق اجلاس میں قیدیوں کی فلاح و بہبود کیلئے متعدد تجاویز اور سفارشات پیش کی گئیں جس میں دوران تعلیم بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے قیدیوں کی سزا میں رعایت اور جیل ہسپتال میں ڈیوٹی کرنےوالے ڈاکٹرز کو ڈیڑھ لاکھ روپے خصوصی الاﺅنس دینے کا فیصلہ کیا گیا۔جہاں تک قیدیوں کی فلاح و بہبود اور ان کی بہترین تربیت اور اپنے خاندان سے ملاقات کا سوال ہے تو ہر قیدی کو اہل خانہ سے گفتگو کیلئے تین سو منٹ ماہانہ دینے کی سفارش کی گئی۔اہلخانہ سے ملاقات کیلئے بہتر انتظامات اور کمروں کا اہتمام کیا جائے گا اور جیلوں میں کولنگ سسٹم کی تنصیب کا کام مرحلہ وار مکمل کیا جائے گا۔قیدیوں کیلئے ناشتے میں انڈے اور معیاری خوراک فراہم کرنے اور غیرملکی قیدیوں کی متعلق قونصل جنرل تک رسائی کیلئے ضروری کارروائی عمل میں لانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ جیل کنٹین کے انتظامات یوٹیلٹی سٹور یا دیگر بڑے سٹورز کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے کمال مہربانی کرتے ہوئے لاوارث قیدیوں کو مفت لیگ لیگل ایڈ فراہم کرنے کیلئے فوری اقدامات کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ہر تین ماہ کے بعد قیدیوں کا میڈیکل چیک اپ یقینی بنایا جائے اور خواتین قیدیوں کیلئے میمو گرام میڈیکل ٹیسٹ کی سہولت مہیا کی جائے۔ قیدیوں کی صحت اور صفائی پروگرام کے تحت 43 جیلوں کے ہسپتالوں کے انتظامات محکمہ صحت کے سپرد مزید اپ گریڈیشن کی جائے گی ۔ جیلوں کو قیدیوں کیلئے رہنے کے قابل ہونا چاہئے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ فرسودہ جیل نظام کے تحت قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھا جاتا ہے اور جیل ملازمین کا بھی کوئی پرسان حال نہیں۔کسی بھی الزام میں زیر حراست یا کسی جرم میں قید کی سزا کاٹنے والے مرد وزن بھی بحیثیت انسان تمام بنیادی حقوق کے مستحق ہوتے ہیں۔ کسی معاشرے میں قیدیوں کا ان حقوق سے محروم رہنا پہلے قدم پر نظام انصاف کو غیرمعتبر بنادیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ملکوں میں جیلوں کو عقوبت خانوں کے بجائے اصلاح گھر کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ تاہم ہمارے ملک میں اس حوالے سے صورتحال انتہائی ناگفتہ بہ ہے اور جیلوں کا پورا نظام جڑ بنیاد سے اصلاح و بہتری کا متقاضی ہے۔ اس تناظر میں وزیراعلیٰ پنجاب نے صوبے کے جیل خانوں کی بہتری کےلئے سفارشات منظور کرکے یقیناً ایک ایسا قدم اٹھایا ہے جو حکمرانوں پر جیلوں میں قید ہزاروں پاکستانی شہریوں کا قرض تھا۔امید ہے کہ حکومت پنجاب کا اقدام اس ضمن میں مثبت تبدیلیوں کا ذریعہ بنے گا تاہم جیل اصلاحات محض ایک صوبے کی نہیں پورے ملک کی ضرورت ہیں لہٰذا دوسرے صوبوں کو بھی اس سمت میں پیشرفت کرنی چاہئے ۔ چودھری پرویز الٰہی نے عالمی یوم جمہوریت پر اپنے پیغام میں کہا کہ ہم قائد اعظم کے اس قول کو یاد کرکے یوم جمہوریت مناتے ہیں کہ دنیا میں مسلمانوں سے زیادہ اپنے دین میں جمہوریت پسند کوئی نہیں ہے۔ آج کے دن ہم اس امرکا اعادہ کرتے ہیں کہ جمہوریت عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے اور عوام کےلئے ہے۔ امن، خوشحالی اور سلامتی کو آگے بڑھانے کیلئے سب سے زیادہ پائیدار ذریعہ جمہوریت ہے ۔ عالمی یوم جمہوریت بین الپارلیمانی یونین کے تحت ہر سال دنیا بھر میں 15 ستمبر کو منایا جاتا ہے۔ دن کو منانے کی ابتدا 2008ءمیں ہوئی ۔ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی نے 2007ءمیں اپنے 62 ویں سیشن کے ایجنڈا آئٹم نمبر 12 کی قرارداد نمبر 62/7 کے ذریعے ہر سال یہ دن منانے کی قرارداد منظور کی۔ اس دن کو منانے کا مقصد بین الاقوامی سطح پر نئی جمہوریتوں کی حمایت کرنا اور ملکوں میں حکومتی سطح پر جمہوریت کے فروغ کے اقدامات کرنا ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔