اداریہ

روس سے سستی گیس کے حصول پربات چیت

وزیراعظم پاکستان ان دنوں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے سلسلے میں ازبکستان کے دورے پرہیں اپنے اس دورے کے دوران وزیراعظم نے چین ،روس ،ایران سمیت وسطی ایشیا کے تمام اہم ممالک کے سربراہان سے ملاقاتیں کیں اوران سے باہمی تعاون کے امورپرمفصل گفت وشنید کی۔وزیراعظم کایہ دورہ یقینی طورپرایک اہم دورہ ہے کیونکہ اس دورے کے دوران ہم خطے کے ان تمام ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کی تجدید کے عمل کومزید بہتر بنائیں گے کیونکہ علاقائی تعاون کے لئے ان ملاقاتوں کاکیاجانابہت ضروری تھا مگر اس کے لئے فرداً فرداً دورے کرناپڑتے مگر شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم سے یہ تمام ملاقاتیں ایک ہی چھت تلے میسرآگئیں۔ ان ملاقاتوں میں اہم ترین ملاقاتیں ترکیہ اورعوامی جمہوریہ چین کے صدور کے ساتھ تھیں۔ایک خبرکے مطابق روسی صدرسے ہونے والی ملاقات خود روس کے صدر کی خواہش پر کی گئی ہے جو یقینا مملکت پاکستان کی اہمیت کو اجاگرکرتی ہے ۔ پاکستان خطے کا اہم ترین ملک ہے جو کہ ایٹمی صلاحیتوں سے مالامال ہے جسے اللہ رب العزت نے جغرافیائی پوزیشن پررکھاہواہے ، اپنے دورے کے دوران روسی صدر سے ملاقات کے دوران سستی گیس فراہمی کے حوالے سے روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ پاکستان کو پائپ لائن سے گیس سپلائی ممکن ہے ۔ روسی صدر نے یہ بیان وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے دوران دیا۔روسی صدر نے کہا کہ پاکستان کو گیس سپلائی روس، قازقستان اور ازبکستان کے پہلے سے بنے انفرااسٹرکچر سے ممکن ہے، پاکستان میں ایل این جی فراہمی کے لیے انفرااسٹرکچرکی تعمیر بھی قابل توجہ ہے، پاکستان کو جنوبی ایشیا میں روس کے اہم شراکت دار کے طور پر دیکھتے ہیں اور وقت کے ساتھ پاک روس تعلقات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ روس پاکستان کے تعلقات میں معاشی اور تجارتی شعبوں میں تعاون اہم ہے۔اس موقع پر روسی صدر نے پاکستان میں تباہ کن سیلاب سے ہونےوالے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مزید امداد بھیجنے کا عندیہ بھی دیا۔وزیراعظم نے روس کی جانب سے پاکستان میں بڑے پیمانے پر سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے اظہار یکجہتی اور حمایت پر صدر پیوٹن کا شکریہ ادا کیا۔ وزیر اعظم نے روسی صدر کے ساتھ پاکستان میں سیلاب کی آفت کے تباہ کن اثرات کی تفصیلات بھی شیئر کیں۔وزیراعظم نے پاکستان روس تعلقات کی بہتری پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط باہمی اعتماد اور افہام و تفہیم پر مبنی ہیں۔ وزیراعظم نے پاکستان کے روس کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔دونوں ممالک کے فوڈ سکیورٹی، تجارت اور سرمایہ کاری،توانائی، دفاع اور سکیورٹی سمیت باہمی فائدے کے تمام شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق بھی دیا گیا۔پیوٹن شہباز ملاقات کا وزیراعظم ہاو¿س سے جاری اعلامیے کے مطابق دونوں رہنماو¿ں نے دو طرفہ تعلقات خطے، بین الاقوامی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، وزیراعظم نے روسی صدر کو سیلاب کی تباہ کاریوں سے آگاہ کیا جبکہ ماسکو کیساتھ خوراک، سلامتی، تجارت و سرمایہ کاری، توانائی کے شعبہ میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔اعلامیہ کے مطابق شہباز شریف نے روس کے افغانستان میں تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پرامن اور مستحکم افغانستان روس اور پاکستان کے مفاد میں ہے۔ مستحکم افغانستان کیلئے، خطے اور بین الاقوامی سطح پر ہر ممکن حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہیں۔ملاقات کے دوران شہباز شریف اور ولادیمیر پیوٹن نے بین الحکومتی کمیشن کا آئندہ اجلاس اسلام آباد میں منعقد کرنے پر اتفاق کیا۔وزیر اعظم شہبازشریف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی سمیت تاجکستان اور ازبکستان کے صدور سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔ دونوں رہنماﺅں کے درمیان ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔دوسری طرف وزیراعظم نے ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف سے ملاقات کی ہے۔ دونوں رہنماﺅں کے درمیان ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔یہ ملاقات شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان مملکت کے سالانہ اجلاس کے موقع پرثمرقند میں ہوئی۔ مزید برآں شہباز شریف نے ایران کے صدر ابراہیم رئیسی سے ملاقات کی، جس میں خطے کی صورتحال اور باہمی دلچسپی کی صورتحال پر بات چیت کی گئی ۔ سیلاب کی تباہ کاریوں پر ایرانی صدرنے اظہارافسوس کیا جبکہ وزیراعظم نے سیلاب متاثرین کےلئے امداد بھیجنے پر ایرانی صدرکا شکریہ ادا کیا۔ادھر وزیراعظم نے ثمر قند میں خضر کمپلیکس کا دورہ کیا اور ازبکستان کے بانی رہنما اسلام کریموف کے مزار پر حاضری دی۔وزیراعظم کایہ دورہ ہرلحاظ سے کامیاب قرار دیاجاسکتا ہے کیونکہ انہوں نے نہایت کم مدت میں اپنے دورے کے اہداف حاصل کرلئے ہیں اوربالخصوص روس سے مجوزہ سستی گیس کے معاملات پربھی کھل کربات ہوئی اور اس گیس پائپ لائن کی اہمیت، افادیت کے حوالے سے جمہوریہ ترکیہ کے صدرنے بھی حمایت کی اگر مستقبل قریب میں یہ منصوبہ پایہ تکمیل کوپہنچتاہے تو پھریقینا پاکستان کے مستقبل پراس کے روشن اثرات مرتب ہوںگے۔
سپہ سالارکادورہ ہنگری
پاک فوج کے سپہ سالار ملک کی سرحدوں کی نگرانی کے ساتھ ساتھ ملک کی معاشی حالت کو بہتر بنانے کے لئے بھی سرگرم عمل ہیں اوروہ مختلف دوست ممالک کے ساتھ رابطے میںہیں اوراس ضمن میں ان کی خواہش ہے کہ پاکستان کو نہ صرف دفاعی بلکہ معاشی عرو ج بھی حاصل ہو۔ابھی حال ہی میں انہوں نے جمہوریہ ہنگری کادورہ کیا اوراس دوران انہوں نے کہا کہ ہنگری کے تعاون سے ماحولیاتی اثرات پر قابو پانے میں مدد مل سکے گی۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ہنگری کے وزیر خارجہ سے دارالحکومت بڈاپاسٹ میں ملاقات کی، اس دوران انہوں نے پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں اور نقصانات پر افسوس کا اظہار کیا۔ہنگرین وزیر خارجہ نے پاکستانی طلبا کیلئے سکالرشپ 200 سے بڑھا کر 400 کر دیئے جبکہ سپہ سالار نے دوست ممالک کے نیک جذبات اور تعاون پر تشکر کا اظہار کیا۔ملاقات کے دوران ہنگری نے تجارت، زراعت اور آبی وسائل کی مینجمنٹ ٹیکنالوجی میں تعاون کی پیشکش کی۔اس موقع پر آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ہنگری کے تعاون سے ماحولیاتی اثرات پر قابو پانے میں مدد مل سکے گی۔بعد ازاں جنرل قمر جاوید باجوہ نے ہنگرین کمانڈر ڈیفنس فورسز سے بھی ملاقات کی، اس دوران باہمی اور پیشہ وارانہ دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
چودھری شجاعت حسین کاصاحب الرائے مشورہ
پاکستان مسلم لیگ (ق)کے سربراہ چودھری شجاعت حسین نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سیاستدانوں کو فوج کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہیے، نہ ہی سیاستدان فوج کو سیاسی الجھنوں میں ڈالیں۔فوج کے معاملات میں دخل اندازی کرنے سے ہمارے ملکی مفاد کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہوتا ہے، جس کا فائدہ پاکستان کے دشمن عناصر اٹھا سکتے ہیں، اب تو ٹی وی ڈراموں میں فوج کے کمانڈوز کے نام لے کر ڈرامے کیے جا رہے ہیں، شادیوں میں بھانڈ بھی بیٹھے ہوئے افراد کے سامنے آ کر پتہ کرتے ہیں کہ ان میں فوجی کون ہے، وہ جنرل ہو یا نہ ہو تالیاں بجا کر اشارہ کر کے ایک دوسرے کو کہتے بھاگ لگے رہن سانوں وی کجھ دیو۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹی وی اور اخبارات میں فوجی افسروں کے متعلق برادری ازم کو موضوع بنا کر گفتگو کی جاتی ہے، فوج سمیت کسی بھی طبقے کو تنقید کا نشانہ نہیں بنانا چاہئے، ہم سب سیاستدانوں کو اس روش کو ختم کرنے کا عہد کرنا چاہیے۔چودھری شجاعت حسین ملک کے ایک سنجیدہ اورحددرجہ زیرک سیاستدان ہیں ان کی ساری سیاست ملکی استحکام اورجمہوری استحکام سے عبارت ہے انہیں اس چیز کا بخوبی علم ہے کہ آپس کی محاذ آرائی اور فوجی معاملات کو سیاست کو گھسیٹنے سے ملک وقوم کو اس قدر نقصان ہوسکتا ہے کیونکہ ہمارا ازلی دشمن بھارت اس ساری گیم سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے اس لئے انہوں نے سیاستدانوں کونہایت اہم مشورہ دیاہے کہ آپس کے سیاسی معاملات کو سیاسی میدان میں حل کریں اورافواج پاکستان کو اس میں نہ گھسیٹیں کیونکہ یہ ادارہ ہمیشہ سے غیرجانبدارچلاآرہاہے اوراسے غیرجانبدارہی رکھاجائے تو اس میں سب کی بہتری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔