کالم

عاشقی صبر طلب اور تمنا بے تاب

سب سے پہلے پاکستان، پھر افغانستان

عمران خان کو رویائے صادقہ بھی آتے ہیں ، کہ نہیں ؟ یا پھر کسی طرح کا سلسلہ الہامات بھی رواں دواں ہے ؟ یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن ان کے چہرے کے بدلتے خد و خال اور آنکھوں کا انجانی سمت دیکھنے کا سلسلہ فزوں تر ہے۔ رفتہ رفتہ ان کی گفتگو میں مستقبل میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات و امکانات کا تذکرہ بڑھنے لگا ہے۔ ان کا تازہ وجدان یہ ہے ؛ کہ ملک انتشار کی طرف جا رہا ہے، جبکہ مجھے دیوار کے ساتھ لگایا جا رہا ہے ، لہٰذا ملک میں فوری طورپرالیکشنزکروائے جائیں ۔یہ اہم ترین بات انہوں نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہی ہے ۔اگرچہ انہوں نے اس دیوار کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں بتائی اور نہ ہی اس کے محل وقوع کے بارے میں کوئی اشارہ دیا ہے ، جس کے ساتھ بقول ان کے ، ان کو لگایا جا رہا ہے ۔ ستم ظریف کے خیال میں انکے کمرے کی یہ دیوار وہ والی دیوار نہیں ہے ،جس کے ساتھ ، بقول عمران خان کے ،ان کو لگانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔وہ کہتا ہے کہ اس والی دیوار کے ساتھ تو وہ آئے روز خود ہی لگ کر بیٹھ جاتے ہیں اور خطاب شروع کر دیتے ہیں ۔اس کے مطابق ایسا اس روز ہوتا ہے کہ جس روز وہ کسی جلسہ عام سے خطاب نہ کر رہے ہوں ۔ میں نے اسے بتایا کہ اے از خود قسم کے دانشور دیوار سے لگانے کا مطلب کچھ اور ہوتا ہے ۔مجھے صحیح طرح سے تو علم نہیں کہ دیوار سے لگانے کی کوشش کون اور کیوں کرتا ہے اور نہ ہی میں اس بات کا ادراک رکھتا ہوں کہ عمران خان کو کون شخص یا اشخاص دیوار کے ساتھ لگانا چاہتے ہیں۔ایسے میں ان کا دیوار کوبار بار یاد کرنا سیاسی اور روحانی دونوں اعتبار سے خاصا معنی خیر ہو گیا ہے۔ستم ظریف چونکہ تھوڑا کند ذہن بھی ہے تو میں نے اسے مزید سمجھایا کہ دیکھو تم نے اکثر پڑھا ہو گا کہ دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں ، یا دیواروں کی بھی آنکھیں ہوتی ہیں ، یا فلاں شخص میں دیوار کے پار دیکھنے صلاحیت ہے۔تو جب تک معاملہ یہیں تک رہے تو کوئی صاحب حال دیوار کو الزام یا اشارے کا عنوان نہیں بناتا۔ایسا صرف اس وقت ہوتا ہے جب دیوار کے ہاتھ اگ آئیں اور ایسا نظر آنے لگے کہ کچھ اچھا ہونے والا نہیں ہے۔اگرچہ انہوں نے اپنے تازہ خطاب میں اس کا ذکر نہیں کیا ،لیکن انہوں نے تواتر سے کہنا شروع کر رکھا ہے کہ انہیں جیل بھیجنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ کچھ دنوں سے خبر نما قیاس آرائیوں کا طوفان آیا ہوا ہے کہ انہوں نے روایتی شاعری کے بے وفا محبوب سے بھی کہیں ملاقات کی ہے ۔ اگرچہ مشرق کے ناکام معاشقوں کی ایک بڑی وجہ چھپ چھپ کر ملنے کہ واردات بھی ہوا کرتی ہے ۔اسلام آباد ایک ایسا شہر جس میں سب سے بڑا مسلہ ہی جگہ کی عدم دستیابی ہے،اس میں اگرچھپ کر ملنے کی جگہ تلاش کر لی تھی تو اس سے مراد یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ان دونوں کے بیچ کوئی تیسرا بھی ہو گا ۔اب چونکہ کسی طرف سے تفصیل سامنے نہیں آ رہی ، اس لیے صرف علم اندازہ و قیاس کی مدد سے ہی کچھ احوال و اشغال کا تصور قائم کیا جا سکتا ہے۔اس ضمن میں فیض احمد فیض کے کلیات سے فال نکالی تو نظم تین منظر سامنے تھی۔ اس نظم کا پہلا منظر پڑھ کر میں سوچ میں پڑ گیا ہوں ،پہلے منظر کا عنوان "تصور” ہے
شوخیاں مضطر نگاہ دید سرشار میں
عشرتیں خوابیدہ رنگ غاز رخسار میں
سرخ ہونٹوں پر تبسم کی ضیائیں جس طرح
یاسمن کے پھول ڈوبے ہوں مئے گلنار میں
نظم کے دوسرے منظر میں صورت حال سنجیدہ اور حد درجہ رومانی ہے۔اس منظر کا عنوان فیض احمد فیض نے "سامنا” رکھا ہے ۔
چھنتی ہوئی نظروں سے جذبات کی دنیائیں
بے خوابیاں افسانے مہتاب تمنائیں
کچھ الجھی ہوئی باتیں کچھ بہکے ہوئے نغمے
کچھ اشک جو آنکھوں سے بے وجہ چھلک جائیں
چلیں یہاں تک تو کم وبیش صورت احوال کی کچھ سمجھ آ ہی جاتی ہے ۔نظم کا تیسرا حصہ "رخصت” ہے۔
فسردہ رخ لبوں پر اک نیاز آمیز خاموشی
تبسم مضمحل تھا مرمریں ہاتھوں میں لرزش تھی
وہ کیسی بے کسی تھی تیری پر تمکیں نگاہوں میں
وہ کیا دکھ تھا تری سہمی ہوئی خاموش آہوں میں
اب فیض احمد فیض کی اس نظم نے تو کچھ اچھا اشارہ نہیں دیا۔ سیانے اسی لیے کہتے ہیں کہ تعلق میں اتنی شدت ، حدت اور گہرائی پیدا نہیں کرنی چاہیئے کہ جسے تادیر برقرار نہ رکھا جا سکے ، اور جس کے ٹوٹنے سے آواز بھی آئے ۔ستم ظریف نے اس نظم سے فال نکالنے پر اعتراض اٹھایا ہے ۔وہ کہتا ہے ریاست و سیاست اور دربار کے مسائل و معاملات کی نزاکتوں کو سمجھنے کے لیے کوئی دوسرا اور معروضی طریقہ اختیار کرنا چاہیئے ۔ وہ کہتا ہے کہ یہ معروضی تجزیہ عمران خان کے تازہ خطاب کے موضوع ، مواد اور آہنگ سے کیا جا سکتا ہے۔اپنے اس خطاب میں عمران خان نے رنجیدہ لہجے میں صاف اور واضح طور پر بتایا ہے کہ ان کا صبر جواب دیتا جا رہا ہے ،وہ زیادہ دیر تک صبر نہیں کر سکتے ۔دوسری بات انہوں نے یہ کی ہے کہ مجھے تنگ آ کر عوام کو باہر نکلنے کی کال دینی پڑے گی۔اس کو سادہ زبان میں دھمکی کہتے ہیں ۔عمران خان نے اسی دھمکی کے ساتھ یہ خبر بھی نشر کر دی ہے کہ پاکستان انتشار کی طرف جا رہا ہے ۔لہٰذا انہوں نے سارے حجابات بالائے طاق رکھتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ بس جلدی جلدی انتخابات کرا دیئے جائیں۔انہوں نے دوٹوک انداز میں دو اعلانات بھی کر دئیے ، ایک یہ کہ اس وقت صرف تحریک انصاف ہی ملک کو متحد رکھ سکتی ہے۔ دوسرے یہ کہ اس وقت پاکستان میں کوئی جماعت بھی تحریک انصاف کی مقبولیت کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ان کا سب سے اہم اشارہ اس خطاب میں اپنی عمر کے بارے میں تھا۔عمران خان کے بیشتر کلاس فیلو 1950 میں پیدا ہوئے تھے ، اس اعتبار سے وہ بہتر یا تہتر سے کم کے تو نہیں ہو سکتے ۔لیکن ان تمام پہلوو¿ں کو نظر انداز کرتے ہوئے اس خطاب میں اعلان کردیا ہے کہ میں عنقریب ستر سال کا ہونے والا ہوں ۔یعنی اے ستم گرو ! کچھ خیال کرو میری عمر نکلی جا رہی ہے ،پلیز دوستی کر لو۔ستم ظریف عمران خان کی کیفیت کو مرزا غالب کی مدد سے سمجھنے کو زیادہ نتیجہ خیز خیال کر رہا ہے، یعنی
عاشقی صبر طلب اور تمنا بے تاب
دل کا کیا رنگ کروں، خونِ جگر ہونے تک
ہم نے مانا کہ، تغافل نہ کرو گے، لیکن
خاک ہو جائیں گے ہم، تم کو خبر ہونے تک

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔