اداریہ

شنگھائی کانفرنس میں وزیراعظم کامدبرانہ خطاب

وزیراعظم نے شنگھائی تعاون تنظیم سے نہایت مدبرانہ انداز میں خطاب کیا اور اس دوران نہ صرف پاکستان بلکہ علاقائی صورتحال کابھی خوبصورت انداز میں نقشہ کھینچا۔وزیراعظم نے اپنے خطاب کے دوران عالمی ماحولیاتی تبدیلی کاتذکرہ کیا اوراس کے ساتھ ساتھ انہوں نے افغانستان کامقدمہ بھی لڑا اوردنیاپرواضح کیاکہ ان حالات میں جبکہ افغانستان میں امن کی ضرورت ہے اسے نظراندازکرنابہت بڑی غلطی ہوگی عالمی برادری افغانستان کی معاشی حالت کو بہتر بنانے کے لئے آگے بڑھے اورکام کر ے اس کے ساتھ ساتھ وزیراعظم نے ماحولیاتی تبدیلیوں کاذکرکرتے ہوئے کہاکہ اس کے منفی اثرات سے بچنے کے لئے ہنگامی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہاکہ کسی بھی سیلاب سے اتنی تباہی نہیں آئی تھی، جتنی پاکستان میں حالیہ سیلاب کے نتیجے میں آئی ہے۔ پاکستان عالمی حدت اورموسمیاتی تبدیلی کے زیر اثر ہے۔سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا، وہاں حالات ٹھیک نہیں ہیں۔ سیلاب اور بارش کا پانی جگہ جگہ موجود ہے جس کے باعث ملیریا،ڈینگی اور دیگر بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔ سیلاب سے ایک ہزار 5سوسے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں اور ہزار وں زخمی و متعدد لاپتہ ہیں۔ مویشی ،فصلیں ،گھر،بستیاں اور شہر متاثر ہوئے۔ سیلاب متاثرین کو شدید مشکلات کا سامناہے ،دنیا کو ہماری مدد کے لیے آگے آناہوگا۔ ہمارے درمیان موجود کچھ ممالک نے سیلاب متاثرین کی بہت مددکی ان کامشکورہوں۔ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا خمیازہ پاکستان بھگت رہا ہے۔ہمیں موسمیاتی تبدیلی ے اثرات سے نمٹنے کے لیے موثر اقدامات کرنے ہوں گے۔شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس علاقائی مسائل کے حل کےلئے بہترین فورم ہے۔وزیراعظم کایہ بھی کہناتھا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایس ایس او کے تمام ممالک کومل کر کام کرنا ہوگا۔ پاکستان کا امن افغانستان میں امن سے جڑا ہے ۔ خطے میں امن و امان کے لیے تمام رکن ممالک کو کام کرنے کی مزید ضرورت ہے ۔ خوشحال ،ترقی یافتہ اور تعلیم یافتہ افغانستان خطے کے تمام ممالک کے لیے اہم ہے ۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر افغانستان کو عاشی طور پر مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ افغانستان پاکستان کا ہمسایہ ملک اور امن کی ضمانت ہے ۔ افغانستان کو نظر انداز کرنا بہت بڑی غلطی ہوگی۔ افغان حکومت عوام او راقلیتوں کے بنیادی حقوق کا احترام کرے۔ افغانستان میں خواتین کے حقوق کا خیال رکھا جائے۔دوسری جانب ازبکستان کے تاریخی شہر ثمرقند میں ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔ شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہی کانفرنس میں تجارت اورسرمایہ کاری محدود کرنے کیلئے موسمیاتی ایجنڈے کا استعمال ناقابل قبول قراردیتے ہوئے کہاگیاہے کہ ماحولیاتی تبدیلی کے منفی نتائج کیلئے ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے، گرین ہاﺅس گیس اخراج میں کمی کیلئے ایک دوسرے کی مدد اور توانائی کے شعبے کا انفرااسٹرکچر بہتر بنانے پر بھی اتفاق کرلیاگیا ، رکن ممالک نے باہمی معاملات میں مقامی کرنسیوں کا حصہ بڑھانے کے روڈمیپ کی بھی منظوری دی۔ اعلامیے کے مطابق پیرس ماحولیاتی معاہدہ مشترکہ لیکن مختلف ذمہ داریوں کے ساتھ نافذالعمل ہوناچاہیے۔اجلاس میں رکن ممالک نے باہمی معاملات میں مقامی کرنسیوں کا حصہ بڑھانے کے روڈمیپ کی منظوری دی جبکہ گرین ہاﺅس گیس اخراج میں کمی کیلئے ایک دوسرے کی مدد پر اتفاق کیا۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کا توانائی کے شعبے کا انفرااسٹرکچر بہتر بنانے پر اتفاق کیا اور گلوبل انرجی کی نگرانی کا شفاف نظام بنانے کامطالبہ کیا۔اعلامیے میں تجارت اورسرمایہ کاری محدود کرنے کیلئے موسمیاتی ایجنڈے کا استعمال ناقابل قبول قرار دیا اور کہا کہ نقصان دہ گیسوں کے اخراج میں کمی کیلئے زبردستی کے اقدامات تعاون کونقصان پہنچاتے ہیں، زبردستی کے اقدامات موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت کو کمزورکرتے ہیں۔ ماحولیاتی تبدیلی کے منفی نتائج کیلئے ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے، رکن ممالک گرین ہاﺅس گیس اخراج میں کمی اور ترقی میں توازن کی وکالت کرتے ہیں، پیرس معاہدےکے مکمل اورموثرعملدرآمدکیلئے کام کرنے پر تیارہیں۔
ہائے مہنگائی……..ہم تواس جینے کے ہاتھوں مرچلے
ملک میں مہنگائی نے عام آدمی کاجینادوبھرکردیاہے ،گریڈ سترہ کے نیچے کے سرکاری ملازم، دیہاڑی دار طبقہ جزوقتی مزدوری کرنے والے شہری اس مہنگائی کی چکی میں پس چکے ہیں۔ ان کی جان بجلی ،گیس کے بلوں اور آمدورفت کے لئے استعمال ہونے والے پٹرول وٹرانسپورٹ کے کرایوں میں پھسی ہوئی اوریہ تمام امور اس کے لئے ایک بدترین شکنجہ ثابت ہورہے ہیں جس سے نہ ہی وہ جان چھڑاسکتاہے اورنہ ہی اپنے حالات میں بہتری لاسکتاہے۔عقلمندکہتے ہیں کہ کسی گھرمیں آٹا، ماچس کی ڈبیااورجلانے کے لئے ایندھن ہوتو اس کی گزراوقات ہوسکتی ہے مگر اب صورتحال اس سے کہیں آگے نکل چکی ہے اب تو صرف خودسوزی کرنے کے لئے ماچس ہی بچی ہے اور عوام اس مہنگائی سے تنگ آکرخودکشی کرنے پرتلے نظرآتے ہیں۔ یقینا ان مرنے والے بے گناہ شہریوں کے خون حکمرانوں کے سر ہوں گے۔ذوالفقارعلی بھٹو کے دورحکومت میں نعرہ دیاگیاتھا کہ روٹی،کپڑا اور مکان ،جس کے جواب میں جماعت اسلامی نے نعرہ دیا روٹی کے نام پرگولی،کپڑے کے نام پرکفن اورمکان کے نا م پرقبر عوام کو دی جارہی ہے۔عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد خیال تھا کہ کچھ بہتری آئے گی مگرحالات اس حکومت سے بدترہوگئے ہیں ۔ قیمت کنٹرول کرنے کے حکومتی اقدامات بے نتیجہ ثابت ہوئے اور ملک بھرمیں آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا۔ 15کلو آٹے کا تھیلا 1550 سے لےکر 2600 روپے تک میں فروخت ہونے لگا۔ سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں فلور ملز کو سرکاری گندم کا اجراشروع نہ ہونے سے صورتحال بگڑنے لگی جس کی وجہ سے منافع خور مافیا سرگرم ہو گیا اور آٹے کا بحران پیدا کر کے قیمتوں کو غریب کی پہنچ سے دور کرنے لگا۔ قیمتوں میں مسلسل اضافے سے عوام پریشان ہوگئے۔سیلاب زدہ علاقوں میں تقسیم کے لیے بھی آٹےکی طلب میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا ہے۔ اوپن مارکیٹ میں فی من قیمت 3600 سے 3700 روپے کیے جانے سے آٹا بھی مہنگا ہوگیا۔ادھر پشاور میں بھی آٹا مہنگا ہونے پر نانبائیوں نے روٹی کی قیمت بڑھادی۔ کسی نے قیمت 15 سے بڑھا کر 20 کردی تو کوئی پیڑے کا وزن کم کرکے کام چلانے لگا۔بلوچستان میں گندم نہ ہونے سے فلورملز بند ہوگئیں اور پنجاب سے آنے والے آٹے کی قیمت2600 روپے سے زائد ہوگئی۔وفاقی حکومت نے گندم کی قیمتوں کو کم کرنے کیلئے نجی شعبے کو امپورٹ کی اجازت دینے پر دوبارہ غور شروع کردیا۔ گزشتہ ہفتے اقتصادی رابطہ کمیٹی نے بھی نجی شعبہ کو 8 لاکھ ٹن گندم امپورٹ کی سفارش کی تھی جسے وفاقی کابینہ نے مسترد کردیا تھا ۔پنجاب میں آئندہ ہفتے سرکاری گندم آٹا کی قیمت میں ممکنہ اضافے پر دوکانداروں اور ڈیلرز نے ذخیرہ اندوزی بھی شروع کردی۔ملک کے باقی شہروں کی طرح کراچی میں بھی آٹے کا بحران پیدا ہوگیا اور فی کلو آٹے کی قیمت 125 روپے تک پہنچ گئی۔دوسری جانب ملک بھر میں مہنگائی کی شرح کم ہو کر 40.58 فیصد تک پہنچ گئی۔وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری میں ہفتہ وار مہنگائی کی رپورٹ کے مطابق حالیہ ہفتے مہنگائی کی مجموعی شرح میں 0.19 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور شرح 40.58 فیصد رہی، حالیہ ہفتے 30 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور 10 اشیا کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی جبکہ 11 اشیا کی قیمتیں مستحکم رہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چائے کی پتی کی قیمتوں میں 6.30 فیصد اضافہ ہوا، دال مونگ کی قیمتوں میں 3.46 فیصد، انڈوں کی قیمتوں میں 2.54 فیصد، دال چنا کی قیمتوں میں 2.53 فیصد، آٹا کی قیمتوں میں 1.96 فیصد، چاول کی قیمتوں میں 1.73 فیصد، دال ماش کی قیمتوں میں 1.68 فیصد اور بریڈ کی قیمتوں میں 1.45 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اعشاریہ کے لحاظ سے سالانہ بنیادوں پر 17 ہزار 732 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح میں 33.03 فیصد، 17 ہزار 733 روپے سے 22 ہزار 888 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح میں 38.29 فیصد اضافہ ہوا۔حکومت عوام کوجینے کاحق دے اورمہنگائی میں کمی واقع کرے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔