کالم

کتنا بدل گیا انسان

talat abbas

ایک بڑھیا نے دربار خلافت میں شکایت کی کہ میرے گھر میں کیڑے مکوڑے نہیں ہیں ۔یہ سن کر دربار میں بیٹھے لوگ حیران رہ گئے کہ یہ کیسی شکایت ہے ۔ مگرخلیفہ رسول حضرت عمر فاروق ؓ نے اس کے گھر کا پتہ پوچھا، کہا آج ہی آپ کی شکایت رفع کر دی جائے گی ۔یہ سن کربڑھیاگھر روانہ ہو گئی ۔آپ نے حکم دیا اس عورت کے گھر پہنچنے سے پہلے اس کا گھر کھجوروں ،شہید جو اور زیتون سے بھر دو ۔ حیرت سے دیکھنے والی آنکھوں سے فرمایا سنو جس گھر میں کھانے کو کچھ نہ ہو وہاں کیڑے موکوڑوں کا کیا کام ۔ جہاں اس عورت کی بلاغت کی داد دینے کو جی چائتا ہے تو وہاں خلیفہ الملمین کی فراست کو بھی سلام کرنے کو دل بے تاب ہو جاتا ہے ۔اس دور میں کوئی تعلیمی ادارے نہ تھے مگر بات کرنے کا سلیقہ وہ لوگ رکھتے تھے ۔ آج کے دور میں بڑی بڑی یونیورسٹیاں ہیں مگر یہ انہیں کچھ سکھا نہیں سکے ۔ ہمارے درمیان ایک پی ایچ ڈی ڈاکٹر ہے جس نے امریکہ کی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رکھی ہے وہاں پروفیسر کی جاب چھوڑ کر پاکستان آیا ۔اس کی کارکردگی کو دیکھ کر د اس جماعت کے لیڈر نے اسے اپنا چیف آف سٹاف بنا دیا ۔ اس کا کام اپنے سیاسی مخافلفین پر طنز کر نا پنجابی میں پولیس افسران ،سول بیوروکریسی ملک کے لیڈران کو روانی سے گالیاں دینا تھا ۔لوگ پوچھتے کہ یہ کون شخص ہے ۔ بتایا جاتا کہ یہ امریکہ کی یونیورسٹی کا ڈاکٹر پروفیسر ہے ۔ لوگ کانوں کو ہاتھ لگاتے کہ تعلیم کا معیار اتنا گر چکا ہے ۔اس نے ابھی حال ہی میں پانچ ہفتوں کا ایک شار ٹ کورس ، اڈیالہ جیل سے کیا ہے ۔ابھی تک میڈیا کے سامنے نہیں آیا ۔کہا جاتا ہے کہ اس کی اس دوران سم بدل چکی ہے اب یہ پہلے جیسا نہیں بولے گا ۔ اگر بولا بھی تو پہلے سوچے گا پھر تولے گا پھر بولے گا ۔ اس نے اپنے کردار سے اور اس ملک کا کیا نقصان کرنا تھا ۔اصل نقصان تو اس نے امریکہ کا کر دیا کہ وہاں کے پی ایچ ڈی ڈاکٹروں اورپروفیسروں کا یہ حال ہے ۔ پاکستانی والدین کا اپنے بچوں کو اعلی علیم کےلئے امریکہ جانے کا شوق اسے دیکھ کر پورا ہو چکا ہے ۔ اس جیسا حال اس کے لیڈر کا بھی ہے ۔ وہ بھی کہا جاتا ہے فارن میں ایکسفورڈ کا پڑھا ہوا ہے ۔ یہ خامی ان کے لیڈر میں بھی ہے ۔بغیر سوچے سمجھے بات کر دیتا ہے ۔سمجھ نہیں آ رہی کہ فارن میں پاکستانیوں کےلئے الگ قسم کے تعلیمی ادارے ہیں ۔جن سے ان جیسے ڈگریاں حاصل کرتے ہیں ۔ پھرپروفیسر بنتے۔ اس کا گراف چند دلوں میں آسمان کے ساتھ ساتھ کئی اہم اداروں کی شخصیات کو بھی چھونے لگاا۔جس سے اس کی سم بدلنے کی ضرورت پیش آئی لہٰذا کچھ ہفتے جیل میں رہا ۔ اب آزاد ہے ۔آزادی کے بارے میں کہا جاتا ہے فارن سے اہم شخصیات کی وجہ سے اسے رہائی ملی ۔اب کہا جاتا ہے کہ اس کی رہائی کا اثر اس کی جماعت کے لیڈر پر دیکھنے میں آئے گا ۔وہ مکھن سے بال کی طرح اس کیس سے نکل جائیں گے ۔ بابا کرمو سے کہا میری سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ اس ملک کے عام آدمی کے حالات کیسے بدلیں گے۔ کہا بابا جی خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو جس کو نہ ہو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا ۔ دودھ فروش پہلے دودھ میں پانی ڈالتا تھا پھر اس نے پانی میں دودھ ڈالنا شروع کیا ۔ اب وہ کیمکل سے دودھ بنا رہا ہے۔ پلا رہا ہے ۔ سر کاری سکولوں سرکاری اسپتالوں اور قبرستانوں کا بھی برا حال ہے ۔اب تو انصاف کےلئے عدالتوں تھانوں میں جانا کوئی پسند نہیں کرتا۔ اب عوام اپنے فیصلے طاقت کی بنیاد پر خود کرتے دکھائی دیتے ہیں یا پھر کمزوراپنا فیصلہ اﷲ پر چھوڑ دیتا ہے ۔ پڑھے لکھے ڈبل لا گریجویٹ وکلا بھی کسی سے پیچھے نہیں ۔جج اگر فیصلہ ان کے حق میں نہیں لکھتا تو عدالت میں ہی مار دھاڑ شروع کر دیتے ہیں ۔ اب تو جنگل کا قانون نافذ لگتا ہے ۔ہمارے مذہب کو غیر مسلم پڑھ کر اسلام سے متاثر ہوتے ہیں اور ہمارے کردار کو دیکھ کر ہم سے نفرت کر تے ہیں کوئی بزنس کرنا پسند نہیں کرتا ۔ پڑوسی ملک جو غیر اسلامی ہے وہاں فلاحی کام ہو رہے ہیں ۔ وہاں خوف خدا کئی کئی نظر آتا ہے ۔ دہلی میں تین سو یونٹ کے گھر وں سے بجلی کا بل نہیں لیا جاتا ۔ پانی کا بل کسی سے نہیں لیتے ۔ تما م خواتین بچیوں کی پبلک ٹرانسپورٹ فری ہے ۔ کوئی کرایہ نہیں لیا جاتا ۔ سرکاری سکولوں اسپتالوں کا معیار تعلیم پرائیویٹ اداروں سے کئی بہتر ہے اب پرائیویٹ اسکولوں میں نہیں جاتے۔ اسی طرح علاج کےلئے سرکاری اسپتالوں میں جانا پسند کرتے ہیں ۔ موجودہ دہلی کے وزیراعلیٰ نے یہ سب کچھ کر دکھا یا ہے ۔ اس نے بتایا کہ ہمارے ہی ایک سیاسی لیڈر نے میرے عہدے پر رہ کر اپنا پرائیویٹ جہاز خرید لیا تھا جبکہ میں نے اسی پیسے سے دہلی کے اسکولوں کالجوں اور اسپتالوں کی حالت زار بدل دی ہے ۔ اسکے لئے مجھے کوئی نئے فنڈ لینے کی ضرورت بھی پیش نہیں آئی ۔ کالجوں میں ہر اسٹوڈنٹ کو ہر ماہ دو ہزار روپے دئے جاتے ہیں کہ اس سے طالب علم خود بزنس کر ے ۔ پھروہ اکیلا یا چار پانچ دوست مل کر کوئی بزنس شروع کرتے ہیں ۔ بزنس کے ذریعے وہ نئے نئے طریقہ ایجاد کر رہے ہیں ۔ خود پڑھ بھی رہے ہیں اور گھر والوں کی مالیی مدد بھی کر رہے ہیں جب یہ اسٹوڈنٹ ڈگری لیکر نکلیں گا تو وہ نوکری کی تلاش میں نہیں ہوگا ۔ وہ اپنا بزنس کرے گا ۔بتایا کہ ایک اچھی ٹیم کی بدولت یہ سب کچھ کرنے میں کامیاب ہوا ہوں ۔جہنم میں سب دیگوں پر ڈھکن تھے ایک دیگ پر نہیں تھا ۔ بتایا گیا کہ یہ دیگ ہمارے گنہگار لوگوں کی ہے ۔جو اس دیگ سے باہر نکلنے کی کوشش کرتا دوسرا س کی ٹانگ کھنچ لیتا ہے لہٰذااس دیگ کو ڈھکنے کی ضرورت نہیں ۔لگتا ہے ہم ہے ہی وخری ٹاپ کے ۔ ہمارے ہاں جتنا جھوٹ حکمران بولتے ہیں ، عوام ان سے بھی کئی زیادہ جھوٹ بولتے ہیں ۔جس سے برکت ختم ہو چکی ہے۔ حکمران جانے کا رونا روتے ہیں آنے کا نہیں بتاتے کہ انہیں کون کیسے اقتدار میں لایا تھا ۔عرض ہے قوم کو کبھی سچ بھی بتا دیا کریں ۔الیکشن الیکشن کی رٹ لگا رکھی ہے۔ پنجاب اور کے پی کے کی حکومتیں آپ کی ہیں ۔یہ انہیں ختم کردیں الیکشن کی راہ ہموار ہو جائے گی ۔ مگر ایسا نہیں کرتے ۔کیا ان کاکام ملک میں افراتفری پھیلانا ہی رہ گیا ہے ۔سیاست دان کبھی کبھی ایجنڈے سے ہٹ کر بھی کام کر لیا کریں۔ اﷲ انہیں اور ہم سب کو ہدایت دے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔