پاکستان سا ئنس و ٹیکنالوجی

نیپراکی جانب سے ٹیلی کام کمپنیوں کی ایک سال سے دی گئی درخواست کو رد کیئے جانے پر تشویش ہے وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی

نیپراکی جانب سے ٹیلی کام کمپنیوں کی ایک سال سے دی گئی درخواست کو رد کیئے جانے پر تشویش ہے وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی

وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن سید امین الحق نے کہا ہے کہ پاکستان میں ٹیلی کام سیکٹر کو انڈسٹری کا درجہ حاصل ہے، جس کے بعد وہ ایسی تمام مراعات و سہولیات کے حقدار ہیں جو صنعتوں کو حاصل ہے ایسے میں نیشنل الیکٹرک پاورریگولیٹری اتھارٹی ( نیپرا) کی جانب سے ٹیلی کام کمپنیوں کی ایک سال سے دی گئی درخواست کو رد کیئے جانے پر حیرت اور تشویش ہے۔ انھوں نے یہ بات اپنے بیان میں نیپرا کے فیصلے پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئےکہی۔سید امین الحق کا کہنا تھا کہ جب ملک میں بیرونی سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے حکومتی کوششیں عروج پر ہوں تو ایسے میں تمام اداروں کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ملک میں پہلے سے کام کرنے والی کمپنیوں کو جائز و اصولی مراعات دینے میں کسی تامل کا مظاہرہ نہ کریں،اس سے مستقبل کے بیرونی سرمایہ کاروں کو بھی ترغیب ملتی ہے۔ امید ہے اس ضمن میں وزارت پانی و بجلی، وزارت خزانہ اورنیپرا مثبت ردعمل کا اظہار کریں گے۔ وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کام کا مزید کہنا تھا کہ وہ معاملے کی اہمیت کے پیش نظر وزیراعظم میاں شہباز شریف سے جلد ہی اس سلسلے میں ملاقات کریں گے۔سید امین الحق کا کہنا تھا کہ ٹیلی کام کمپنیوں کو اگر بجلی کے ریٹس صنعتی بنیادوں پر دیئے جاتے ہیں تو اس سے موبائل ٹاورزکو فراہم کی جانے والی بجلی کے اخراجات میں نمایاں کمی ہوگی اور یہی رقم کمپنیاں صارفین کو مزید سہولیات کی فراہمی اور نیٹ ورک کی توسیع میں لگا سکتی ہیں۔ انھوں نے کہ وزیر آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کی حیثیت سے انھوں نے ہمیشہ کوشش کی کہ ایک طرف عوام و سارفین کے حقوق کا تحفظ کیا جائے تو دوسری جانب آئی ٹی و ٹیلی کام سیکٹر کے جائز مطالبات پر بھی انھیں مکمل تعاون و مدد فراہم کی جائے اس طریقے سے سہولیات کی فراہمی کا عمل تیز و خوش واسلوبی سے جاری رہتا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔