اداریہ کالم

انتخابات کا مقررہ وقت پر انعقاد ، حکومت کا اعادہ

وزیر اعظم کی عمران خان پر کڑی تنقید

وزیر اعظم پاکستان نے ایک بار پھر حزب اختلاف کی جماعتوں پر واضح کردیا ہے کہ حکومت اپنی آئینی مدت ہر حال میں پورا کرے گی اور حکومت کا قبل از وقت انتخاب کرانے کا کوئی ارادہ نہیں کیونکہ اس وقت حزب اختلاف کی جماعت تحریک انصاف باربار قبل ازوقت انتخابات کے انعقاد پر زور دے رہی ہے حالانکہ جب تحریک انصاف خود برسراقتدار تھی اس وقت پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری اور پاکستان مسلم لیگ ن و جمعیت علماءاسلام کے قائد مولانا فضل الرحمن نے تحریک انصاف سے انتخابات کا مطالبہ کیا تو سابق وزیر اعظم عمران خان سمیت پوری تحریک انصاف کا موقف یہ تھا کہ انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہی منعقد ہوں گے اور اس سے قبل انتخابات کا مطالبہ غیر آئینی ہے مگر تحریک انصاف کو اقتدار میں واپس آنے کی اس قدر جلدی ہے کہ اب اس کا مسلسل مطالبہ یہ ہے کہ وقت سے پہلے انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا جائے ، حالانکہ اس وقت ملک معاشی مسائل میں گھیرا ہوا ہے اور سیلاب نے رہی سہی کسر بھی نکال دی ہے مگر اس کے باوجود حزب اختلاف ہر قیمت پر نئے انتخابات کے انعقاد پر اپنا زور دے رہی ہے جبکہ موجودہ حکومت ایک آئینی طریقہ کار کے مطابق برسراقتدار آئی ہے اور اس حوالے سے قومی اسمبلی میں باقاعدہ عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہوئی جس کے نتیجے میں عمران خان کو اقتدار سے رخصت ہونا پڑا ، ان حالات میں نئے انتخابات کا مطالبہ ہمیں تو بلاجواز نظر آتا ہے ، وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی لندن میں اہم ملاقات ہوئی جس میں اتفاق کیا گیا کہ کسی کا دباو¿قبول نہیں، عام انتخابات مقررہ وقت پر ہوں گے۔وزیر اعظم نے آصف علی زرداری، بلاول بھٹو اور مولانا فضل الرحمن سے مشاورت کے بارے میں نواز شریف کو آگاہ کیا ۔ شہباز شریف نے نواز شریف سے گفتگو میں کہا کہ اس وقت تمام توجہ سیلاب متاثرین کی بحالی اور معیشت کو بہتر کرنے پر مرکوز ہیں۔ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ تمام اتحادی عام انتخابات مقررہ وقت پر کروانے کے حامی ہیں، اتحادیوں کے ساتھ ملکر پاکستان کو مشکلات سے نکالیں گے، کسی سے بلیک میل نہیں ہوں گے، حکومت اپنی مدت پوری کرے گی۔نواز شریف نے ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی پر وزیراعظم شہباز شریف سے اقدامات لینے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات کئے جائیں جبکہ سیلاب متاثرین کی مکمل بحالی کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ شہباز شریف سیلاب متاثرین کیلئے انتھک کوششیں کر رہے ہیں، حکومت بحالی کیلئے کوششوں میں تیزی لائے۔میڈیا سے گفتگو میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے عوام بھی سیلاب متاثرین کےلئے عطیات فراہم کر رہے ہیں، افواج پاکستان بھی سیلاب متاثرین میں پیش پیش ہیں، سیلاب کی صورتحال میں دوست مملاک مدد فراہم کر رہے ہیں، حکومت پاکستان اور صوبائی حکومتیں فرض کی ادائیگی کر رہی ہیں۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرین کےلئے صوبائی حکومتیں اور این ڈی ایم اے کام کر رہی ہیں، سیلاب متاثرین کےلئے 30 ارب روپے مختص کیے ہیں، ہر متاثرہ خاندان کو 25 ہزار روپے دے رہے ہیں، کوشش ہے سیلاب متاثرین کی بحالی کا عمل جلد مکمل کیا جائے۔ان سطور میں اور اپنے کالموں اور روز ٹی وی کے شوز میں ہم کئی بار یہ بات کہہ چکے ہیں یہ وقت سیاست کا نہیں بلکہ پاکستانی شہریوں کی فلاح و بہبود کا ہے اور حزب اختلاف میں شامل تمام جماعتوں سمیت سیاستدانوں کو متاثرین سیلاب کی دل کھول کر مدد کرنی چاہیے تاکہ جلد از جلد ان کی بحالی اور آبادکاری کاکام مکمل کیا جاسکے کیونکہ کچھ دنوں بعد سردیاں شروع ہونے والی ہیں اور سردیوں میں سیلاب سے متاثر ہونے والے اور مکانات کے گرنے سے بے گھر ہونے والے افراد کی بحالی اور آباد کاری ایک بہت بڑا چیلنج ہے جیسے قومی سطح پر مل بیٹھ کر ہی حل کیا جاسکتا ہے مگر جانے کیوں تحریک انصاف ان سیلاب متاثرین کو فراموش کرکے اپنا سارا زور انتخابات کے مطالبے پر لگارہی ہے ۔
3ارب ڈالر قرض ادائیگی میں توسیع خوش آئند
سعودی عرب پاکستان کا عظیم برادر دوست ملک ہے جس نے ہر آڑے وقت میں پاکستان کی امداد کیلئے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی اور ہر لحاظ سے پاکستان کی مدد کی ، ماضی میں آئی ایم ایف کا قرض چکانے کیلئے کئی بار سعودی عرب نے ان قسطوں کی ادائیگی کیلئے ہماری مدد کی ، اس کے ساتھ ساتھ اس وقت لاکھوں پاکستانی سعودی عرب کے اندر روزگار کے سلسلہ میں موجود ہے جو قیمتی زرمبادلہ کماکر وطن عزیز کو بھجوارہے ہیں اور سعودی حکومت کا ان ورکروں کے ساتھ رویہ نہایت دوستانہ اور برادرانہ ہے کیونکہ سعودی عرب بھی یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ اس پر کڑا وقت آیا تو پاکستانی بھی اپنی جان ، مال کی قربانی دینے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھیں گے اور سعودی عرب یہ بات بھی اچھی طرح جانتا ہے کہ پاکستان کا بچہ بچہ حرمین شریفین کی حفاظت اور عرض مقدس کی حفاظت کیلئے اپنے خون کا آخری قطرہ تک پیش کردیں گے ، شاید یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو دیئے گئے 3 ارب ڈالر قرض کی واپسی میں ایک سال کی توسیع کر دی گئی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق سعودی فنڈ فار ڈویلپمنٹ نے 3 ارب ڈالر ڈپازٹ کی معیاد مزید ایک سال بڑھائی گئی ہے، 3 ارب ڈالر ڈپازٹ کی معیاد 5 دسمبر 2022 کو پوری ہو رہی ہے۔مرکزی بینک کی جانب سے مزید کہا گیا کہ سعودی ڈالرڈپازٹس فنڈز پاکستان کےزرمبادلہ ذخائر کا حصہ ہیں۔گوکہ سعودی امداد ایک قرض کی صورت میں ہمیں دی گئی ہے جیسے ہم نے ہر حال میں واپس بھی لوٹانا ہے مگر یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ یہ قرض ہمیں اس وقت ملا جب ہمارے پاس زرمبادلہ کے ذخائر بالکل ہی ختم ہوچکے تھے اور ملک دیوالیہ پن کی حد تک پہنچ چکا تھا ان حالات میں سعودی عرب نے آگے بڑھ کر پاکستان کی گرتی ہوئی معیشت کو سہارا دیا اور یہ ڈالر قرض کی صورت میں دیئے تاکہ اسے ہم سٹیٹ بینک میں رکھ اپنے روپے کی قدر میں اضافہ کرسکے ۔ اس کاوش کو پاکستانی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
وبائی امراض پر عالمی ادارہ صحت کا انتباہ
سیلاب جب آتا ہے تو اپنے ساتھ بہت سارے دکھ ، پریشانیاں اور مصیبتیں بھی لیکر آتا ہے ،پاکستان میں بھی یہی کچھ ہوا کہ سیلاب کے بعد متاثرہ علاقوں میں بہت ساری بیماریوں نے سر اٹھالیا جن پر قابو پانا بذات خود ایک بہت بڑا چیلنج ہے ، حکومت ان بیماریوں سے نمٹنے کیلئے اپنے طور پر اقدامات کرنے میں مصروف ہیں اور امید ہے کہ وہ کامیاب بھی ہوجائے گی مگر عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ سیلاب کے بعد پاکستان میں دوسری آفت کا خطرہ منڈلا رہا ہے جو مختلف وبائی امراض سے بیماریوں اور اموات کی صورت میں ہوگی۔ ڈائریکٹر ڈبلیو ایچ او ڈاکٹر ٹیڈروس نے پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مختلف جان لیوا وباﺅں کے پھیلاو سے خبردار کیا ہے۔ایک بیان میں سربراہ عالمی صحت کا کہنا تھا کہ پاکستان میں سیلاب کے بعد ایک اور ناگہانی آفت وبائی امراض کے پھوٹنے اور ان سے ہونے والے جانی نقصان کی صورت میں سر اٹھا سکتی ہے۔سربراہ عالمی صحت نے پاکستان کے سیلاب زدگان کے لیے 10 ملین ڈالر کی امداد کی اپیل جاری کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سیلاب سے دو ہزار سے زائد صحت کے مراکز تباہ ہوگئے جس سے وبائی امراض سے نمٹنے کی صلاحیت کم ہوگئی ہے۔ خیال رہے کہ سیلابی پانی تاحال کئی علاقوں میں کئی کئی فٹ موجود ہے جس سے ڈینگی، ملیریا، ٹائیفائیڈ اور جلد کی بیماریوں کا بڑے پیمانے پھیلاو کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ شعبہ صحت سے وابستہ غیر سرکاری سماجی تنظیمیں اس میدان میں آگے آئیں ، اس حوالے سے ایس کے این ٹرسٹ کے رضاکار ٹیمیں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں اشیاءخوردنوش دینے کے علاوہ طبی امداد پہنچانے کیلئے اپنے میڈیکل کیمپس بھی لگائے ہوئے ہیں مگر یہ کسی ایک تنظیم کی بس کی بات نہیں اس کیلئے دیگر تنظیموں کو میدان عمل میں آنا پڑے گا اور اپنے حصے کا کام کرکے دکھانا ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔