پاکستان خاص خبریں

عمران خان بے شک مقدمے درج کر کے انتقامی کاروائی کرے لیکن اسلامی تعلیمات کا مذاق اڑانے نہیں دیں گے میاں جاوید لطیف

عمران خان بے شک مقدمے درج کر کے انتقامی کاروائی کرے لیکن اسلامی تعلیمات کا مذاق اڑانے نہیں دیں گے میاں جاوید لطیف

پاکستان مسلم لیگ کے مرکزی رہنما میاں جاوید لطیف نے کہا ہے کہ پاکستان کے اندر ان دنوں عجیب کھیل کھیلا جا رہا ہے پلاننگ سے فساد کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے،ہر ادارے پر حملے کی کوشش کی جا رہی ہے اور مذہب کو بھی نہیں بخشا جا رہا ہے عمران خان کہتے ہیں اداروں میں میر جعفر اور میر صادق ہیں وہ پاکستان کو سری لنکا بنانے کے لیے آئی ایم ایف کو خط لکھتے ہیں عمران خان تمام حدیں پھلانگ چکا ہے یہ بات انھوں نے یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی انھوں نے کہا کہ امریکی سفیر رات کے اندھیرے میں عمران سے ملتی ہیں اور عمران اداروں کے خلاف سخت موقف کے سامنے آ جاتے ہیں عمران کہتے ہیں ایکس وائی کا فون آئے تو اس کو واپس اسی طرح دھمکی دو_ پہلے نام تو بتاو میاں جاوید لطیف نے کہا کہ تم اینٹی کرپشن کا ڈی جی اس لیے تبدیل کرتے ہو کہ وہ آپکے ذاتی انتقام میں حصہ دار نہیں بنتا آپ علماء بورڈ کے علماء کو اس لیے ہٹا دیتے ہو کہ مخالفین کے خلاف فتوے دوعمران۔ خان بے شک مقدمے درج کر کے انتقامی کاروائی کرے لیکن اسلامی تعلیمات کا مذاق اڑانے نہیں دیں گے عمران خان قرآنی آیات کا من پسند ترجمہ بند کرے چیلنج کرتا ہوں میرے خلاف دہشت گری کے مقدمات پر جوڈیشل کمیشن بنا لیں اسلامی نظریاتی کونسل یا شریعت کورٹ مجھے اور عمران خان دونوں کو بلا لے ہر فورم پر اپنا کیس ثابت کروں گا میں نے عمران کا کوئی کلپ توڑ مروڑ کر پیش نہیں کیا عمران نے آج تک نہیں کہا کہ میں نے جو بار ہا کہا وہ میری غلطی تھی یا لاعلمی ہے انھوں نے کہا کہ کل عمران کے جلسے کے تمام انتظامات جس نے کیے وہ بھی ہمارے علم میں ہے اگر لاڈلے کو آج بھی کسی نہ کسی طرف سے سر پر ہاتھ رکھا جا رہا ہے عمران کے منہ میں جو آئے بولتا ہے اور یہ کسی کی آشیرباد کے بغیر نہیں ہے فتنہ خان کا ایجنڈا پاکستان میں فساد پھیلانا ہے میں اپنے کہے کو اسلامی نظریاتی کونسل، شریعت کورٹ، پارلیمانی کمیشن سمیت ہر فورم پر ثابت کرنے کے لیے تیار ہوں عمران پاکستان کے اسلامی تشخص پر وار کر رہا ہے اس معاملے کا نوٹس لیا جانا چاہیے،ایف آئی آر پر عدالت سے ضمانت نہیں کروانا چاہتا میری جماعت فیصلہ کرے گی کہ اس حوالے سے کیا لائحہ عمل اختیار کیا جائے انھوں نے کہا کہ مقدمات اور جیلوں کا ساری زندگی سامنا کیا ہم نے اب بھی ریاست کے لیے سیاست کی قربانی دی آج بھی جو سلوک ہمارے ساتھ روا ہے وہ مناسب نہیں ہے لاڈلے کو آج بھی ہیرو کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو آپ پندرہ اکتوبر سے پہلے ہماری زبانیں بھی کھلتی دیکھیں گے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔