کالم

ترقیاتی کام ترجیحی بنیادوں پر مکمل کئے جائیں

riaz-chuadary

وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویزالٰہی نے آل سیکرٹریز کانفرنس سے خطاب میں محکموں کے افسران پر واضح کیا ہے کہ ان کی کارکردگی کو ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل سے جانچا جائے گا۔ محکموں کے سیکرٹریز منصوبوں کیلئے فنڈز کا درست اور بروقت استعمال یقینی بنائیں۔ سمری یا فائل پر2 روز کے اندر فیصلہ کیا جائے اورترقیاتی کام ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیے جائیں۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ دفاترمیں سمری یا فائل کی تیزی سے نکاس کو یقینی بنانے کیلئے عملدرآمد کا نظام قائم کیا جائےگا۔ افسروں کی ٹنیور پوسٹنگ کو یقینی بنائیں گے تاکہ وہ دلجمعی سے سرکاری فرائض سرانجام دیں اور ڈلیورکریں۔اجلاس میں سابق وفاقی وزیر مونس الٰہی،چیف سیکرٹری عبداللہ سنبل ، پرنسپل سیکرٹری وزیراعلیٰ محمد خان بھٹی،سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو زاہد اختر زمان،ایڈیشنل چیف سیکرٹری اسد اللہ خان، سابق پرنسپل سیکرٹری وزیر اعلی جی ایم سکندر اور42محکموں کے سیکرٹریز نے شرکت کی۔وزیر اعلیٰ نے عوام کےلئے سیکریٹریز کے دفاتر صبح ساڑھے نو سے گیارہ بجے تک کھولنے کا جو حکم دیا ہے وہ انتہائی قابل تعریف ہے۔ اس کی وجہ سے عوام کو دفاتر میں افسران کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ کوئی ایسا نظام بھی ہونا چاہیئے کہ عام آدمی کے مسائل ان کے شہروں میں حل ہونے چاہئیں، لاہورآنے کی ضرورت نہ رہے۔بیوروکریسی اور حکومت کومل کر عوم کی فلاح وبہبودکا مشن پورا کرناہے۔ وزیر اعلیٰ چاہتے ہیں کہ ان کی ٹیم کے بیوروکریٹ سکون اوراطمینان کے ساتھ عوام کی خدمت کریں۔ افسر اورملازمین ان کے دست و بازو اور قوت و طاقت بنیں تاکہ عوام کی تکالیف دور کرنے میں دیر نہ ہو۔چودھری پرویز الہیٰ کی خواہش ہے کہ فلاح وبہبود کے منصوبوں کو اجتماعی سوچ سے کے نتیجے میں عملی شکل دی جائے گی۔ جو بھی پراجیکٹ شروع کیا جائے اسے دلجمعی سے پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے تمام تر کاوشیں کی جائیں۔ جنوبی پنجاب میں پہلے سے زیادہ کام کرناہے۔ کاشتکاروں کی سہولت کیلئے اراضی سینٹرز کا دائرہ کار قانگوئی سطح تک لیکر جائیں گے۔جیل ریفارمز میں بہت سے کام محض انتظامی حسن تدبیراور پختہ ارادے سے کیے جاسکتے ہیں۔ٹیچرز کی ٹریننگ کے پروگرام کو مزید بہتر اورموثر بنائیں گے۔ تعلیمی اداروں میں منشیات کے سدباب کیلئے موثر ایکٹ لے کر آرہے ہیں۔یہ بہت خوش آئند بات ہے کہ وزیر اعلیٰ ذاتی طورپرعوامی فلاح و بہبود کے منصوبہ جات کی نگرانی کر رہے ہیں ۔ تمام امور کو احسن طریقے سے مکمل کرنے کےلئے ہمہ وقت اپنی ٹیم کو ہدایات دیتے رہتے ہیں۔ اس موقع پر چیف سیکرٹری جناب عبداللہ خان سنبل نے کہا کہ تمام سیکرٹریز اورصوبائی اداروں کے سربراہان دل و جان سے عوام کی فلاح وبہبود کیلئے کوشش کرینگے۔پنجاب حکومت کا یہ نہایت مستحسن اقدام ہے کہ سیلاب زدگان کی امداد اور ریسکیو کرنے والے اداروں کے عملے اور ان کی کارکردگی کو سراہا جائے۔ ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ لہٰذا پنجاب کابینہ کے اجلاس میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں اور متاثرین کی بحالی کے کاموں میں ریسکیو 1122 کے عملے کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے عملے کیلئے ایک ماہ کی بنیادی تنخواہ بطور رسک الاﺅنس دینے کی منظوری دی گئی۔ اسی طرح پنجاب پولیس اور دیگر اداروں کے کارکنوں کی کارکردگی کو بھی سراہا جائے اور ان کی بہترین کارکردگی پر اسناد بھی دی جائیں۔ وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے احساس راشن رعایت پروگرام کے تحت فی خاندان ماہانہ سبسڈی میں اضافے کی منظوری دیتے ہوئے کہاکہ احساس راشن رعایت پروگرام کے تحت مستحق خاندان آٹا، گھی اور دالیں مارکیٹ سے 40فیصد سستی خرید سکیں گے۔ محکمہ سوشل ویلفیئر کے زیر انتظام چلنے والے فلاحی اداروں میں رہائش پذیر بچوں، بچیوں اور بزرگوں کیلئے کھانے کی فی کس رقم دوگنا کرنے کی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ مہنگائی اور کھانے کے معیار و مقدار کو بہتر بنانے کیلئے فلاحی اداروں میں رہائش پذیر افراد کیلئے کھانے کی فی کس رقم میں اضافہ کیا ہے اورکھانے کی فی کس رقم میں اضافے سے ایسے افراد کو معیاری اور وافر کھانا مل سکے گا۔معاشرے کے امیر طبقے کو صحت کی سہولیات تک بہتر رسائی حاصل ہے کیونکہ وہ نجی ہسپتالوں کے متحمل ہو سکتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف غریبوں کو بنیادی صحت کی سہولیات تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ پنجاب حکومت نے شعبہ صحت میں خدمات کی فراہمی میں معیار کو یقینی بنا نے کےلئے متعدد اقدامات شروع کئے ہیں۔ حکومت صحت سے متعلق پیشہ ور افراد کو بہتر مراعات فراہم کر رہی ہے ۔ تربیتی اداروں کے نظام کو بہتر کرنے کی طرف خصوصی توجہ دینی چاہیے تاکہ پاکستان میں صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔ کیونکہ ایک صحت مند قوم ، بہتر پیداواری اور صحت مند معیشت کو یقینی بنا سکتی ہے۔ اس ضمن میں صوبائی حکومت پر لازم ہے کہ وہ مل بیٹھ کر عوام کی صحت کے حوالے سے ایک واضح اور جامع پالیسی مرتب کریں۔ نئے ہسپتال بنائے جائیں۔نئے ڈاکٹرز اور لیڈی ڈاکٹرز کو ملازمتیں دی جائیں۔ پیشہ ور نرسز کو تعینات کیا جائے۔ غریب عوام کے لیئے مفت ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ تاکہ غریب عوام کو بہتر اور مفت صحت کی سہولیات میسر آ سکیں اور ا±نکا معیارِ زندگی بہتر ہو سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔