کالم

شاہد نواز اور متوازی تاریخ کی تلاش

سب سے پہلے پاکستان، پھر افغانستان

پاکستان جس خطہ ارضی پر قائم ہوا ،اسے تاریخ و تہذیب کی شاہراہ قرار دیا جا سکتا ہے ۔صدیوں سے سیر چشم اس خطے پر اجنبی قدموں کی بہتات بھی رہی ، اس خطے کے باسیوں نے اپنی زمین سے رشتے اور آسمان سے وابستہ توقعات کو قائم رکھتے ہوئے ،کہ جو ایک زرعی معاشرے کا خاص امتیاز بھی ہوتا ہے ، اجنبی قدموں کی آہٹ کو اپنے تحمل ،قناعت اور شجاعت کی راہ میں حائل نہیں ہونے دیا۔یہ وہی خطہ بھی ہے جس نے دنیا کو قدموں تلے روندنے کے خواہش مند اسکندر یونانی کے دانت کھٹے کئے تھے ۔ اس خطے کی سپر پاور ایران کو پائمال کرتا اسکندر یونانی جہلم کنارے مزاحمت اور شکست سے متعارف ہوا ،اور اس کی تھکی ہاری فوج نے واپسی کا راستہ اختیار کیا۔ جہلم کے مقام پر اسکندر یونانی کی فوجی شکست اور واپسی نے دنیا کو یہ پیغام ضرور دے دیا تھا کہ ؛ بظاہر مذہب اور ارفع تہذیب پر بنیاد کرنے والی ٹیکسلا کی ریاست ایک غیر ملکی حملہ آور سے اطاعت کے عوض تاریخ میں وہ عزت اور مقام نہ خرید سکی ،جو اطاعت سے انکار کر کے مزاحمت کرنے والے راجہ پورس کو حاصل ہوا۔ہمالہ سے لے کر کراچی اور گوادر تک بچھی اس سرسبز چادر پر ٹکسیلا، ہڑپہ ، موئنجودڑو اور کوٹ دیجی کی قدیم تہذیبوں کے آثار ایک خوش رنگ اور نظر نواز کشیدے کی طرح سے نظر آتے ہیں ۔یاد رکھنا چاہیئے کہ یہی کشیدہ کاری اس خطے کے رہنے والوں کا ذہنی اور نفسیاتی پس منظر بھی ہے۔
ادیب سے بڑا مورخ اور مورخ سے بڑا افسانہ نگار ابھی تک دریافت نہیں ہو سکا ۔معاصر تاریخ کے جو لوازمات اصناف ادب محفوظ کرتی ہیں۔وہ کسی حکومت یا حکمران کے ایما پر مرتب کی گئی تاریخ سے بالکل مختلف اور متنوع ہوتے ہیں ۔ڈاکٹر شاہد نواز اردو زبان و ادب کے استاد ، ایماندار محقق ،وسیع القلب دانشور اور مشفق و مہربان ستارا شناس ہیں ۔ان کی کہکشاں ان کے طالب علموں کا ہجوم یعنی ان کی کلاس ہوتی ہے ۔ایک اچھا استاد اپنے طالب علموں کو آزادانہ غور وفکر کے طریقے بتاتا اور زندگی کے پرچہ نویس یعنی ادب کو بہ اندازدگر دیکھنے ، سوچنے اور سمجھنے کے گر سکھاتا ہے ۔ انہوں نے قیام پاکستان کے بعد کی تاریخ کو معاصر ناولوں میں تلاش کرنے کی ایک کامیاب کوشش کی ہے۔ ان کی تصنیف’ پاکستانی اردو ناول میں عصری تاریخ’ اپنے موضوع اور مشمولات کے اعتبار سے ایک منفرد اور قابل توجہ تحقیق ہے۔ یہ دلچسپ اور اپنے مواد اور نتائج کے اعتبار سے وقیع کتاب 2018 سے میری محفل میں موجود اور موثر ہے ۔اس کتاب کی تاثیر سے میں نے بہت کچھ سیکھا ، بہت کچھ سمجھا ۔اسی کتاب کے مندرجات نے مجھے سمجھایا کہ خالص تاریخ کی تلاش ایک خواہش یا خواب نہیں ایک سائنٹیفک طریقہ کار ہے۔ زبان و ادب کے محقق اور اساتذہ عمومی طور پر بین العلومی تحقیق و تجزیے کی طرف کم توجہ دیتے ہیں لیکن ڈاکٹر شاہد نواز نے اس تحقیق کے ذریعے اردو ادب کی ایک مقبول اور معنیاتی اعتبار سے متمول صنف ناول کی وساطت سے پاکستان کی متوازی تاریخ کا کھوج لگانے کی کوشش کی ہے۔ ان کا یہ تاثر کہ ادب اور دیگر سماجی علوم کے باہمی مطالعے سے ادب کو نئی جہتوں سے روشناس کیا جا سکتا ہے،اس منفرد مطالعے کی بنیاد بنا ہے ۔انہوں نے قیام پاکستان سے لے کر 2007 تک شائع ہونے والے نمایاں اور نمائندہ اردو ناولوں میں پاکستان کی عصری تاریخ کے شواہد کا سراغ لگاتے ہوئے اس راز سے بھی پردہ اٹھا دیا ہے، کہ زندہ اور ہوش مند معاشروں میں ادب تخلیق کیا جاتا ہے ، تاریخ نہیںکیونکہ تاریخ تو امر واقعہ کا نام ہے ، اسے ہم ایک غزل ، ایک مثنوی ، ایک داستان یا ایک ناول کی طرح تخلیق نہیں کر سکتے ۔ ہم اس کو اس کے صحیح تناظر میں یاد رکھ کر اس سے کچھ سیکھ سکتے ہیں لیکن اس کو چھپا کر ،اس کو نظر انداز کر کے یا اس کو بالکل تبدیل کر کے اسے اپنی طاقت کی بجائے اپنی اجتماعی کمزوری بنا لیتے ہیں ،اور پاکستان میں تو ہوا بھی یہی کچھ ہے۔ قیام پاکستان کے حقیقی محرکات کو بھول جانے کے بعد ہماری اجتماعی یادداشت ایسی بکھری کہ اسے سمیٹنے کی کوشش میں بھی صرف پتھرکنکر ہی ہاتھ آتے ہیں اور کچھ نہیں ۔قیام پاکستان کے فورا بعد سے لے کر اب تک جس کھیل میں سب سے زیادہ دلچسپی لی گئی ہے ،اس کا نام بھی”تاریخ” ہے ۔ہم نے تاریخ کو ایک گیند سمجھ کر جس طرف جی چاہا لڑھکا دیا۔جو قوم تاریخ کے ساتھ کھیلتی ہے ،تاریخ اسے تماشے کا عنوان بنا لیتی ہے ۔ڈاکٹر شاہد نواز نےاپنے ڈاکٹریٹ کے مقالے کے لیے اس اہم قضیے کو توجہ کا مرکز بنانے اور ناول جیسی زندہ اور متحرک صنف میں معاصر تاریخ کو تلاش کرنے کا ذمہ لیا اور کامیاب رہے۔وہ اپنا بنیادی مقصد واضح کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ "مجھے اس بات کا ہمیشہ افسوس رہا، کہ ہماری آنے والی نسلیں تاریخ کے معاملے میں اندھی ، گونگی اور بہری رہیں گی۔تاریخ کہ ، جو قوموں کے مستقبل کا تعین کرتی ہے،ہمارے ہاں اس طرح مرتب ہوئی ہے کہ اس کو پڑھ کر کوئی نسل بھی درست حقائق تک نہیں پہنچ سکتی۔قیام پاکستان کے بعد لکھے جانے والے ناولوں کے توسط سے گم شدہ یا اغواہ شدہ یا مستور تاریخی حقائق کی تلاش مطالعات ادب کے ایک قابل تقلید اسلوب کی طرف اشارہ کرتی دکھائی دیتی ہے ۔پاکستانی اردو ناول میں عصری تاریخ’سات ابواب پر مشتمل ہے ۔اس کتاب کے اہم ابواب سوم ، چہارم ،اور پنجم اور ششم ہیں۔ پاکستان کی پہلی دہائی اور اردو ناول ، پاکستان میں تیرہ سالہ آمریت اور اردو ناول ہیں ،جبکہ اس تحقیق کا محور ،جو دوابواب میں منقسم ہے،پاکستان میں جمہوریت ، آمریت اور اردو ناول۔ اس عنوان کے تحت پاکستان میں تاریخ خراشی اور تاریخ تراشی کے نہایت اہم مقامات کا معاصر اردو ناول کے ذریعے سراغ لگانے کی کوشش کی گئی ہے ۔جمہوری راستے سے وجود میں آنے والی مملکت کو فلاحی کی بجائے ،نظریاتی ریاست قرار دینے اور جمہوری کی بجائے عسکری بندوبست سے چلانے پر اصرار نے پہلے ملک کو جغرافیائی طور پر دو لخت کیا۔اس کے بعد باقی ماندہ مملکت کو فرقہ وارانہ انتہا پسندی کی تجربہ گاہ بنا کر اسکے لیے جدا قسم کے تاریخی حوالے اور اجنبی متوالے یعنی ہیروز بنائے گئے۔ناول کی صنف یہاں کے لوگوں کے چلتے پھرتے ،روا روی والے مزاج سے ہم آہنگ نہیں۔ناول ان معاشروں میں بھی توجہ کا محور نہیں بنتا جہاں تعلیم اور عصری شعور کی سطح کم تر ہو۔ ہمارے یہاں کے ادبی مزاج اور ذوق کو بڑی منظم کوشش کر کے غزل جیسا بنایا گیا۔ تفصیل پسندی سے گریز ، ترتیب کے عوض انتشار اور سیاسی،معاشی اور معاشرتی آزادی کے عوض جفا جو محبوب سے پیار کا ذوق و شوق عام کیا گیا۔ناول کو پڑھنے ، اسکے ارتقا کو سمجھنے ، اسکے کرداروں کےساتھ زندگی کرنے اور سمجھنے کے لیے بڑے ٹھہرے ہوئے منظم مزاج کی ضرورت ہوتی ہے۔قیام پاکستان کے بعد اردو ناول نے بھی اپنی بقا اور اپنے جواز کی جنگ لڑی ہے۔ہمارے ناول نگاروں میں اکثریت ایسے ہنروروں کی ہے کہ جنہوں نے کتابی تاریخ کو اپنے ناولوں میں جگہ دینے کی بجائے عصری تاریخ کو اپنی کتاب کا حصہ بنایا اور اس طرح گویا تاریخ کے عصری اوراق بے حرمتی سے بچا کر محفوظ کر لیے ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔