کالم

شنگھائی تعاون تنظیم ۔۔۔!

بلاشبہ انسان بہت خوبصورت ہے، اگر آپ تعصب کی عینک اتاریں گے تو آپ پر یہ خوبصورتی عیاں ہوجائے گی ۔اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو آپ کو یہ سب کتابی باتیں نظر آئیں گی۔ یہ سب آپ کی نگاہ کا قصور ہوسکتاہے ،انسان کا نہیں۔شومئی قسمت تعصب کی عینک نہ اتارنے کے باعث انسان انسان کا دشمن بن چکا ہے اور انسان انسان کےلئے مشکلات اور تکلیفوں کا سماں پیدا کرتا ہے ۔ انسانوں کے درمیان لڑائیاں ، جھگڑے اور جنگیں ہوجاتی ہیں لیکن پھر بھی ان مسائل کا حل نہیں نکلتا، مسائل کا حل گولی سے نہیں بلکہ ٹیبل ٹاک سے حل ہوتا ہے۔ یہ کلیہ سب جانتے ہیں۔اس فارمولے کےلئے کئی لوگ کوشاں رہتے ہیں۔اگر آج انسان آپس میں دست وگربیاں ہونے کی بجائے غربت ،بے روزگاری اور بیماریوں کے خلاف جنگ شروع کریں تو دنیا کے مسائل حل ہوجائیں گے ۔ انسان کا انسان کے ساتھ بیٹھنا اور آپس میں تبادلہ خیال کرنے سے بھی مسائل کم ہوسکتے ہیں۔مسائل کو کم کرنے کےلئے شنگھائی تعاون تنظیم کے زیر اہتمام معروف شہر سمر قند میں بیٹھک سجائی گئی۔ شنگھائی تعاون تنظیم کا 22واں اجلاس ازبکستان کے شہر سمرقندمیں ہواجس میںروس کے صدرولادیمیر پوتن، چین کے صدرشی جن پنگ، قازقستان کے صدرقاسم جومرت تو کائیف،کرغزستان کے صدر جپار روف،تاجکستان کے صدر امام علی رحمن،وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ،مبصر ممالک کے صدر بیلاروس الیگزینڈر لو کاشینکو، منگولیا کے صدر اوخنا خور لسخ،ایران کے صدر ابراہیم رئیسی ، ترک صدررجب طیب ایردوان ، ترکمانستان کے صدر سردار بردی محمدوف اور آذربائیجان کے صدرالہام علی ایوف نے شرکت کی ۔ دراصل شنگھائی تعاون تنظیم 26 اپریل 1996میں چین کے شہرشنگھائی میں قائم ہوئی تھی اور یہ یوریشیائی سیاسی ،اقتصادی اور عسکری تعاون تنظیم ہے،اس کا نام شنگھائی فیو تھا جو بعد میں تبدیل کیا گیا،اس پلیٹ فارم کوچین ، روس ، قازقستان ، کرغیزستان ، تاجکستان اور ازبکستان کے رہنماﺅں نے قائم کیا تھا۔10 جولائی 2005ءپاکستان اور بھارت کوبھی اس تنظیم میں شامل کیا گیا۔اس سال ایران شنگھائی تعاون تنظیم کا رکن بن گیا۔اس موقع پرایران نے چند اچھی تجویزیں بھی پیش کی جس میں تنظیم کے رکن ممالک کےلئے ایک مشترکہ کرنسی بھی شامل ہے۔چین کے صدر شی جن پنگ نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ ہمیں غیر ملکی طاقتوں کو رنگین انقلاب شروع کرنے سے روکنا چاہیے،ہمیں کسی بھی بہانے دوسرے ممالک کے اندورنی مداخلت کی مخالفت کرنی چاہیے اور اپنی قسمت اپنے ہاتھ میں لینا چاہیے۔ روسی صدرپوتن نے اپنے خطاب میں یورپی یونین کمیشن سے ترقی پزیر ممالک کو روسی کھاد کی ترسیل پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ ان کے ملک میں تباہ کن سیلاب موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہیں اور موسمیاتی تبدیلی کیخلاف مشترکہ جدوجہد ضروری ہے ۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے خطاب میں ایک دوسرے کو ٹرانزٹ رسائی فراہم کرنے اور خطے کےلئے لچکدار سپلائی چین کو یقینی بنانے کےلئے کنسیکویٹی میں اضافے پر زور دیا ۔ اجلاس میں شریک تمام سربراہوں نے خطاب کیا اور شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کا مشترکہ اعلامیہ جاری کیا کہ اجلاس میں رکن ممالک نے باہمی معاملات میں مقامی کرنسیوں کا حصہ بڑھانے کے روڈ میپ کی منظوری دی،گرین گیس اخراج میں کمی کےلئے ایک دوسرے کی مدد ،توانائی کے شعبے کا انفرا اسٹر کچر بہتر بنانے پر اتفاق کیا ، گلوبل انرجی کی نگرانی کا شفاف نظام بنانے کا مطالبہ کیا، تجارت اور سرمایہ کاری محدود کرنے کےلئے موسمیاتی اےجنڈے کا استعمال ناقابل قبول قرار دیا، نقصان دہ گیسوں کے اخراج میں کمی کےلئے اقدامات اور موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیتوںکو بروئے کار لانے ، ماحولیاتی تبدیلی کے منفی نتائج کےلئے ہنگامی اقدامات کی ضروت،رکن ممالک گرین گیس اخراج میں کمی اور ترقی میں توازن کی وکالت کرتے ہیں اور پیرس معاہدے کے مکمل اور موثرعمل درآمد کےلئے کام کرنے پر تیار ہیں ۔ شنگھائی تعاون تنظیم کا اگلا اجلاس بھارت میں ہوگا ۔ حالیہ اجلاس میں وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ملاقات اور گفتگو نہ ہوسکی۔ مودی سرکار نے پانچ اگست2019ءکو مقبوضہ کشمیر کی خودمختار حیثیت کو ختم کرنے کے بعد پاکستان تحریک انصاف حکومت نے نئی دہلی کے ساتھ سفارتی تعلقات کم کردےے تھے۔مقبوضہ کشمیر میں رونما واقعات ، بھارت میں مسلمانوں کے خلاف ہندو کی منافرت اور ان کی بالادستی کے اقدامات ، بلوچستان میں مداخلت اور پاکستان میں دہشت گردوں کی پشت پناہی جیسے واقعات کی وجہ سے دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں سرد مہری ہے۔پاکستان چاہتا ہے کہ سفارتی تعلقات قائم ہوں لیکن بھارت اس کےلئے سازگار ماحول قائم کرے اور مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پانچ اگست2019 ءپر لائے لیکن ایسا کرنے کےلئے بھارت آمادہ نہیں ہے۔پاک بھارت کو استوار تعلقات قائم کرنے کےلئے کوشش کرنی چاہیے کیونکہ یہ دونوں ممالک کے مفادمیں ہے ۔دونوں ممالک کی عوام ایک دوسرے کے قریب آنا چاہتے ہیں ۔ دونوں ممالک کی عوام کی آپس میں رشتے داریاں ہیں، ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہونا چاہتے ہیں،دونوں ممالک کے لاکھوں افراد نے ہجرت کی ، لوگ اپنے اور والدین کے آبائی گھر اور علاقہ دیکھنا چاہتے ہیں ۔پاکستان اور بھارت نے آپس میں متعدد جنگیں بھی لڑی ہیں لیکن اس کے نتیجے میں دونوں ممالک میں بےروزگاری ، مہنگائی ، بیماری ، افلاس اور غربت کا راج ہے۔دونوں ممالک کے درمیان متنازعہ مسائل کو ٹیبل ٹاک کے ذریعہ حل کیوں نہیں کرتے ؟پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں برف پگھلنا ناگزیر ہے۔دونوں پڑوسی کسی اور کی ہدایات اور پریشر کے بغیرآپس میں سر جوڑ کر معاملات حل کریں،تجارت کریں، جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کریں، ہتھیاروں کو کم کریں،عسکری بجٹ کم کریں، عوام کی فلاح وبہبود کےلئے ٹھوس اقدامات اٹھائیںپاک بھارت اےک دوسرے پر اعتماد کریں، اپنی غلطیوں کو نہ دہرائیں، آپس میں کدراتیں ختم کریں اور آپس میں محبت بڑھائیں۔ایک دوسرے کےلئے کانٹوں کی بجائے پھول بچھائیں۔ پاکستان اور بھارت کی میڈیا بھی دونوں ممالک کے استوار تعلقات قائم کرنے کردارادا کریں ۔ پاکستان بھارت کے استوار تعلقات کےلئے شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کردار ادا کریں۔پاکستان بھارت کے درمیان تعلقات بہترین ہوجائیں تو یہ خطہ امیر ترین ، پرامن اور ترقی یافتہ بن سکتا ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔