اداریہ کالم

چینی وزیر دفاع کی سپہ سالار سے ملاقات

وزیر اعظم کی عمران خان پر کڑی تنقید

عوامی جمہوریہ چین پاکستان کا قابل فخر ہمسایہ دوست ہے جس نے ہر آڑے وقت میں پاکستان کی کھل کر امداد کی ہے ، یہ امداد دفاعی ، معاشی ، سائنس و ٹیکنالوجی اور تعلیمی میدان میں کی جاتی رہی ہے اور بلا امتیاز کسی سیاسی حکومت کے امداد کا یہ سلسلہ جاری رہا ، پاکستان میں حکومتیں آتی اور جاتی رہی مگر دونوں ممالک کے درمیان دوستی کا یہ سلسلہ کبھی رکا نہیں ، تھما نہیں، در اصل یہ دوستی کے رشتے دو ممالک اور عوام کے مابین اس قدر مضبوط ہوچکے ہیں کہ انہیں اب توڑنا یا ان میں دراڑ ڈالنا کسی طور پر ممکن نہیں ، یہی وجہ ہے کہ سابق وزیر اعظم ذوالفقار بھٹو مرحوم نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ پاکستان چین دوستی ہمالیہ سے بلند اور بحیرہ عرب سے گہری ہے ، گزشتہ روز آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے چینی وزیردفاع سے ملاقات کی، چینی وزیر دفاع نے کہا کہ چین پاکستان میں سیلاب متاثرین کیلئے امدادی کارروائیوں میں فنی مدد کو تیار ہے، چینی وزیر دفاع نے پاک فوج کے امدادی و بحالی کاموں کی بھی تعریف کی۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات (آئی ایس پی آر)کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ چین کے 2 روزہ سرکاری دورے پر ہیں، اس موقع پر آرمی چیف کی چینی وزیر دفاع سے ملاقات ہوئی۔دوران ملاقات چینی وزیر دفاع نے کہا کہ چین پاکستان اور فوج کے ساتھ اپنے تعلقات کو بڑی اہمیت دیتا ہے اور تعاون کو مزید فروغ دینا چاہتا ہے، سی پیک کی ترقی کا مقصد دونوں ممالک کے عوام کو فائدہ دینا ہے، منصوبہ دونوں ممالک کے عوام کی خوشحالی کا منصوبہ ہے، پاکستان اور پاک چین فوجی تعاون باہمی تعلقات کا ایک اہم ستون ہے۔چینی وزیر دفاع نے سی پیک منصوبے کیلئے سکیورٹی اقدامات پر آرمی چیف کا شکریہ ادا کیا اور خطے میں امن و استحکام کیلئے آرمی چیف کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ امید ہے کہ سی پیک منصوبے بر وقت مکمل ہوں گے۔ترجمان پاک فوج کے مطابق چینی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ چین پاکستان میں سیلاب متاثرین کیلئے امدادی کارروائیوں میں فنی مدد کو تیار ہے۔ چینی وزیر دفاع نے پاک فوج کے امدادی و بحالی کاموں کی تعریف کی، آرمی چیف نے سیلاب متاثرین کی مدد جاری رکھنے پر چینی وزیر دفاع کا شکریہ ادا کیا۔ حالیہ سیلاب کے دوران عوامی جمہوریہ چین کی جانب سے اپنے پاکستانی بھائیوں کی امداد کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا وہ ابھی تک جاری ہے اور سیلاب میں ترکیہ، متحدہ عرب امارات اور عوامی جمہوریہ چین نے جو مدد کی پاکستانی قوم اس کو ہمیشہ یاد رکھے گی ، دونوں ممالک کے مابین پائے جانے والی دوستی کی اس رشتے کی بنیاد سابق صدر فیلڈ مارشل ایوب خان نے رکھی تھی اور اس کو آگے بڑھانے کا سہرا سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے کہ جنہوں نے بطور وزیر خارجہ اس دوستی کے رشتے کو مزید مستحکم کرنے میں مضبوط کردار ادا کیا ، دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تنازعات ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم کئے گئے ، پاکستان کو چین کے ساتھ زمینی راستے سے ملانے کیلئے قراقرم ہائی وے کی بنیاد ڈالی گئی جو الحمد اللہ آج دنیا کا چھٹا عجوبہ قرار پائی ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی جمہوریہ نے پاکستان میں ہیوی میکینکل کمپلکس کی بنیاد رکھنے کی مدد کی جبکہ کامرہ میں فضائی فوج کیلئے تیار کئے جانے والے طیاروں کی فیکٹری میں بھی اہم کردار ادا کیا ۔سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دور حکومت میں پاکستان کی اقتصادی ترقی کیلئے سی پیک جیسے تاریخی منصوبے کی بنیاد رکھی گوکہ سابقہ دور حکومت میں اس منصوبے کو ناکام بنانے کیلئے بہت سارے رکاوٹیں ڈالی گئی مگر الحمد اللہ موجودہ حکومت اس منصوبے کی تکمیل کیلئے پرعزم نظر آتی ہے ۔ سی پیک کے ایک منصوبے کی تکمیل کے بعد پاکستان میں معاشی اور صنعتی انقلاب برپا ہوگاجس سے پاکستان کی معیشت انشاءاللہ محفوظ و مامون ہوجائے گی اور اس سے خطے کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی نمودار ہوگی ۔ پڑوسی ممالک ایران ، افغانستان بھی اس اہم منصوبے میں شراکت دار بننے کے خواہش مند ہیں اور ابھی چند روز پہلے سعودی عرب نے بھی اس منصوبے میں شراکت کا عندیہ ظاہر کیا ہے ، ا ن ممالک کے اس عظیم منصوبے میں شرکت سے یقینا خطے کے ممالک میں ایک بڑا انقلاب برپا ہونے کی توقع ہے ، بحیثیت پاکستانی ہمیں دین کی اس صدا بہار دوستی پر فخر ہے۔
ایس کے نیازی کی 20سال قبل ماحولیاتی تبدیلیوں بارے نشاندہی
معروف صحافی ، تجزیہ کار جناب ایس کے نیازی کا روز ٹی وی پر نشر ہونے والا پروگرام سچی بات بلاشبہ پاکستان کا مقبول ترین پروگرام ہے جسے ہر شعبہ زندگی میں مقبولیت حاصل ہے اور یہ پروگرام معلومات اور خبروں سے بھرا ہوتا ہے ، اس پروگرام کے اندر بہت ساری ایسی خبریں موجود ہوتی ہیں جو منظر عام پر نہیں آئی ہوتی اور ان سے میڈیا انڈسٹری کے دیگر اخبارات و ٹی وی چینلز استفادہ حاصل کرتے ہیں ، گزشتہ روز کا پروگرام اس لحاظ سے اہمیت کا حامل تھا کہ اس میں معروف تجزیہ کار سجاد اظہر نے شرکت کی ، سجاد اظہر کی تمام تر صحافتی تربیت جناب ایس کے نیازی کی قیادت میں ہوئی اور اس دوران انہوں نے بہت سارے امور پر لکھا ، اپنے پروگرام میں ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے انہوں نے یاد دلایا کہ اس کے نیازی ملک کے واحد صحافی ہیں جنہوں نے آج سے 20برس قبل ماحولیاتی تبدیلیوں کے آنے اور پاکستانی معاشرے پر پڑنے والے اس کے اثرات بارے متنبہ کیا تھا ، ایس کے نیازی نے 20سال قبل راول جھیل ، دریائے سوات، دریائے سواں، دریائے سندھ اور ملک کے دیگر دریاو¿ں کے کنارے آباد ہونے والی نئی ہاو¿سنگ سوسائیٹیوں کے قیام کی مخالفت کی تھی اور اس وقت کی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ ان ہاو¿سنگ سوسائٹیوں کو اس مقصد کیلئے این او سی نہ جاری کیا جائے ، اس کے علاوہ بننے والی دیگر غیر قانونی عمارات کو بھی مسمار کیا جائے ۔ اگر اس وقت کی حکومتوں نے ایس کے نیازی کی باتوں پر توجہ دی ہوتی تو آج پاکستان آنے والے سیلابوں سے ہر گز متاثر نہ ہوتا اور نہ ہی اتنی تباہی ہوتی ۔ ایس کے نیازی اب بھی نئے آبی ذخائر کے قائم کرنے کیلئے باضابطہ ایک مہم چلارہے ہیں ، اس حوالے سے انہوں نے ٹی وی پر اپنے کئی شوز میں اس کا تذکرہ کیا ہے اور اخبارات میں لکھے جانے والے کالموں میں حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ نئے منصوبوں پر عملدرآمد کرے تاکہ پانی کو ضائع ہونے سے بچانے کے ساتھ ساتھ اسے اپنی ضروریات کیلئے استعمال کیا جائے ، اس سے بجلی کی تیاری اور آبپاشی اور زرعی معیشت کی بحالی کیلئے استعمال کیا جائے ۔ گزشتہ روز سینئر تجزیہ کار سجاد اظہر نے کہا ہے کہ بیس سال پہلے چیف ایڈیٹر پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز ایس کے نیازی نے راول لیک کے احاطہ اور اس کے اطراف میں شاملات پر قبضے اور غیر قانونی تعمیرات کے حوالے سے آواز بلند کی لیکن ہر دور حکومت میں غیر قانونی تعمیرات اور شاملات پر قبضوں میں اضافہ ہوا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے روزنیوز کے پروگروام ” سچی بات “ ایس کے نیازی کے ساتھ میں کیا، سجاد اظہر نے مزید کہا ہے پاکستان نے پانی کو ذخیرہ کرنے کیلئے کوئی بند وبست نہیں کیا، جو بھی حکومت آتی رہی وہ شارٹ ٹرن منصوبوں کو ترجیح دیتی رہی تاکہ اگلے انتخابات میں عوام سے ووٹ مانگے جا سکیں ، حکومتوں کی عدم توجہ کی توجہ سے مون سون کا پیٹرن تبدیل ہو گیا، جس کی پیشگوئی 15سال سے کی جارہی تھی، منگلہ ڈیم کی آپریزنگ کے وقت ماہرین نے کہا تھا کہ آئندہ مون سون پیٹرن وسطی پنجاب ، بلوچستان اور سندھ کو ہیٹ کرے گا، ہمیں کوہ سلیمان اور بولان پر ڈیم بنانے چاہئے تھے، لیکن حسب روایت کسی حکومت نے ماہرین کی بات کو اہمیت دی اور نہ ہی انہیں آن بورڈ لیا، آج بھی حکومت کی سنجیدگی نظر نہیں آتی ، وزیر اعظم شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں بات تو کی اور پھر وہاں سے وہ یو این اسمبلی اجلاس میں بھی جار ہے ہیں، یو این میں موسمیاتی تبدیلی بارے مختلف کانفرنسز ہو رہی ہیں، لیکن وہاں ہمارا کوئی ایکسپرٹ نہیں گیا جو دنیا کو پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی بارے آگاہ کر سکے ، 12سال میں چار بڑے سیلاب آئے لیکن ایسا سیلاب 1882کے بعد آیا، پچھلی صدی میں گندھارا تہذیب سیلاب کی نظر ہوئی، ماہرین کا کہنا ہے کہ سندھ کی تہذیب موہنجو ڈارو ، ہڑپہ اور مہر گڑھ بھی موسمیاتی تبدیلی کے نظر ہوئے ، سجاد اظہر نے کہا کہ ماہرین کے مطابق چولستان میں پہلے ہاکڑہ دریا بہتا تھا، اور یہاں سر سبز کھیت تھے لیکن پھر یہ دریا اپنے ساتھ اتنی ریت لایا کہ مٹی ریت کے نیچے دب گئی اور سب ریگستان میں تبدیل ہو گیا، سجاد اظہر کا مزید کہنا تھا کہ دریائے سواں جس کے ارد گرد بڑی آبادیاں ہیں اگر اگلے سال پھٹوار میں بارشیں ہوئیں تو یہ دریا سب کچھ بہا لے جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔