علاقائی

ٹرانس جینڈر قانون کو قومی اسمبلی و سینیٹ سے پاس کروانا ملک کی دینی و نظر یاتی سر حدوں پر حملہ ہے نصر اللہ رند ھاوا

ہم جنس پرستی بل

امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصر اللہ رند ھاوا نے کہا ہے کہ پاکستان کے تمام بڑی سیاسی جماعتوں کی جانب سے ملکر ٹرانس جینڈر قانون کو قومی اسمبلی و سینیٹ سے پاس کرو انے کی شد ید الفاظ میں مذ مت کر تے ہو ئے اسے ملک کی دینی و نظر یاتی سر حدوں پر حملہ قرار دیا ہے، انھوں نے کہایہ قانون درحقیقت ہم جنس پرستی کے مکرو ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی شرمناک کوشش ہے،خواجہ سراؤں کے حقوق سے کوئی طبقہ انکاری نہیں ہے، لیکن یہ بل خواجہ سراؤں کے حقوق کے نام پر فحاشی کا دروازہ کھولنے کے مترادف ہے،انھوں نے کہااسلام خواجہ سراؤں کو مکمل سماجی تحفظ فراہم کرتا ہے،مو جو دہ قانون بننے سے پہلے ہی 28 ہزار سے زائد افراد جنس تبدیلی کی درخواست دے چکے ہیں،بل کے تحت کوئی مرد خود کو عورت سمجھے تو وہی اس کی جنس ہوگی اور اس نئے قانون کے تحت اس سلسلے میں کسی میڈیکل بورڈ کی ضرورت نہیں رہے گی،وفاقی شرعی عدالت نے ٹرانس جینڈر قانون کے حوالے سے اصولوں کی واضع نشاندہی کی، آئین کے مطابق ملک میں کوئی قانون قرآن وسنت کیخلاف نہیں بنایا جا سکتا۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے وفاقی شر عی عدالت میں کیس کی سماعت کے بعد پر یس کانفر نس کر تے ہو ئے کیا۔ نصر اللہ رند ھاوا نے کہاپاکستانی عوام ٹرانس جینڈر بل میں جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد کی طرف سے پیش کردہ ترمیمی بل کی بھرپور حمایت کا اعلان کرتی ہے،ماضی میں تینوں بڑی سیاسی پارٹیوں کی ملی بھگت سے خواجہ سراؤں کے حقوق کے تحفظ کے نام پر نہ صرف مغربی تہذیبی بے راہ روی (ہم جنس پرستی) کی راہ ہموار کرنے کی حوصلہ افزائی کی بلکہ قرآن و سنت اور ہماری مشرقی اقدار کو پامال کرنے کی بھی سازش کی، انہوں نے کہا کہ اس موقع پر خاموش رہنا گویا عمل قوم لوط کی حمایت کے مترادف ہے وکلاء برادری کے علاوہ علما اور مذہبی سکالرز سے بھی اپیل کی کہ وہ ٹرانس جینڈر سے متعلق ایکٹ میں ترمیمی بل کی حمایت کرکے اپنی دینی، تہذیبی اقدار کی حفاظت کے سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں، سینٹر مشتاق احمد کی مجوزہ ترامیم میں خواجہ سراؤں کو نہ صرف معاشرتی، سماجی تحفظ اور عزت و توقیر ملے گی بلکہ بے راہ روی کے شکار اباعیت پسندوں جو بلاوجہ اپنی آزاد مرضی سے جنس تبدیل کرکے مغربی تہذیبی جارحیت کے مرتکب ہوکر متعدد معاشرتی، سماجی اور وراثت سمیت دیگر فقہی مسائل کو جنم دینے کے لیے کوشاں ہیں، ان کو لگام دینے میں بھی مدد ملے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔