پاکستان

اسلام آباد ہایکورٹ نے وفاقی وزیر احسن اقبال کے خلاف بنائے جانے والے نارووال سپورٹس سٹی ریفرنس کا خارج کرتے ہوئے انھیں بری کر دیا

احسن اقبال کو عدالت سے ریلیف مل گیا

اسلام آباد ہایکورٹ نے وفاقی وزیر احسن اقبال کے خلاف بنائے جانے والے نارووال سپورٹس سٹی ریفرنس کا خارج کرتے ہوئے انھیں بری کر دیا کیس کی سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی اس سے قبل مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ نیب نے خود لکھا پہلا نقصان منصوبے کو التوا میں رکھنے سے ہوا آپ اُن کو پکڑتے نا جنہوں نے 2009تک منصوبے کو روکا تفتیسی صاحب آپ کو بہت زیادہ تربیت کی ضرور ت ہے آپ لوگوں کی ساکھ کے ساتھ اس طرح کھیلتے ہیں آپ سے کوئی 15 بار پوچھ چکے ہیں کرپشن کا بتائیں ایک خبر پر آپ نے پراجیکٹ ہی رکوا دیا کہا گیا کہ انڈیا کی بارڈر سے تھوڑا ہی دور منصوبہ بنا ہے کیا آپ کو بھیجتے کہ دیکھیں بارڈر سے کتنا دور ہے اگر بارڈر کے قریب بھی تھا تو اس میں کرپشن کیا تھی چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ‏حیرت ہے جس تفتیشی افسر نے احسن اقبال کو گرفتار کیا اسکو سی ڈی ڈبلیو پی کا پتہ ہی نہیں تھا ، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے تفتیشی افسر سے استفسارکرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ نے پنجاب حکومت سے انویسٹی گیٹ کیا ؟ کیا چیف سیکریٹری پنجاب سے آپ نے پوچھا ، اس پر نیب کے تفتیشی افسرنے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایک لیٹر تھا ہمارے پاس اس پر عدالت نے کہا کہ
خبر پر جب کیس شروع ہوا تو 2009والے صاحب کو کیوں نہ پکڑا؟ دوہزار نو میں جنہوں نے دوبارہ منصوبہ شروع کیا انہیں پکڑتے نا، دوہزار نو میں تو احسن اقبال پبلک آفس ہولڈر نہیں تھے عدالت نے احسن اقبال کی بریت کی درخواست منظور کر لی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔