کالم

”جرم بیگناہی کی پاداش میں 86 سال کی سزا“

afsar_aman

آپ کے علم میں لانا چاہتا ہوں۔ ڈاکٹر عافیہ جس امریکی جیل ©©”ایف ایم سی ، کارسویل“ (FMC CarBureau swell – Federal of Prisons) میں جرم بے گناہی کی پاداش میں 86 سال کی قید تنہائی کی سزاکاٹ رہی ہیں ، گذشتہ چند ماہ کے دوران اس جیل سے رہائی پانے والی متعدد خواتین نے مرد اہلکاروں کی جانب سے ”جبری جنسی زیادتی اور ہراسگی“ کے بارے میں انکشاف کئے ہیں۔ان واقعات کے بارے میں خبریں ، تصاویر اور ویڈیوز دیکھ کر میں پریشان ہو گئی ہوں اور یہ محسوس کرتی ہوں کہ میری ہمشیرہ سخت عدم تحفظ کی حالت میں قید تنہائی کی اذیت کا شکار ہے۔ ان قیدی خواتین نے اپنی بے حرمتی کے واقعات بیان کرنے کی وجہ یہ بتائی ہے کہ وہ چاہتی ہیں کہ جیل کے مرد اہلکاروں کی جانب سے دیگر قیدی خواتین کی بے حرمتی کے واقعات کو روکا جاسکے۔23 ستمبرکو قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکی عدالت نے ایک ایسے جرم کے الزام میں 86 سال کی سزا سنائی تھی جو کہ سرزد ہی نہیں ہوا تھا اور جسے عدالت میں ثابت بھی نہیں کیا جاسکا تھا۔ اس مقدمہ کا کچھ مختصراََ احوال درج ذیل میں یوں ہے کہ:- 23ستمبر، 2010 ءامریکی عدالتی تاریخ کا وہ بھیانک دن ہے جب انصاف کے تمام تقاضوں کو نظر انداز کرتے ہوئے متعصب جج رچرڈ برمن نے حکومت پاکستان کے مقرر کر دہ وکلاءکی سازش کے تحت ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو 86برس کی سزا سنائی تھی۔یہ دن اس لئے ”یوم قتل انصاف “ ہے کہ مقدمہ کی سماعت کے دوران ڈاکٹر عافیہ کی جانب سے وکلاءپر عدم اعتماد کو مسترد کردیا گیاتھا۔ ڈاکٹر عافیہ نے استدعا کی تھی کہ مجھے پانچ سال تک (بگرام ، افغانستان میں خفیہ امریکی عقوبت خانے میں) لاپتہ رکھا گیا اور انسانیت سوز تشدد کا نشانہ بنایا گیااسلئے اس اہم واقعہ کو مقدمہ کی کاروائی کا حصہ بنایا جائے مگرعدالت نے اس اہم معاملہ میں انہیں بیان دینے کی اجازت نہیں دی۔ اس جج نے اپنے فیصلے میں تسلیم کیا کہ ڈاکٹر عافیہ جو کہ پاکستانی شہری ہیں ،اس کا کسی دہشت گرد تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے اور عافیہ کو صرف اس جرم کی سزا دی جارہی ہے کہ اس پر یہ الزام ہے کہ اس نے 6امریکی فوجیوں کو قتل کرنے کا ارادہ کیا اور بندوق اٹھائی، ان پر گولیاں چلائیں لیکن اس کے نتیجے میں کسی امریکی فوجی کو نقصان نہیں پہنچا جبکہ ڈاکٹر عافیہ امریکی فوجیوں کی جوابی فائرنگ سے زخمی ہو گئیں۔ جج نے اپنے فیصلے میں یہ بات بھی لکھی کہ باوجود اس کے کہ عافیہ کے خلاف کسی قسم کے ثبوت موجود نہیں ہیں لیکن حکومت پاکستان کے مقرر کردہ وکلاءنے جو دلائل دیے ہیں اس کی روشنی میں عافیہ کو 86برس کی سزا دی جا رہی ہے۔ مشہور امریکی ریسرچ اسکالر اسٹیفن لینڈ مین نے عافیہ کی سزا پر یہ بیان دیا تھا کہ ”عافیہ کو صرف مسلمان ہونے کی سزا دی گئی ہے“۔ امریکی وکیل اور تجزیہ نگار اسٹیون ڈاو¿نز جس نے ہمیشہ عافیہ کی مخالفت میں تحریر لکھی امریکی عدالت کی ناانصافی اور عافیہ کی جرم بے گناہی کی سزا دیکھ کر چیخ اٹھا۔
"I went to witness the sentencing of a Daughter of a dead nation but i came out paying my highest tribute to mother of humanity-DR.AAFIA SIDDIQIUI”
(میں ایک مردہ قوم کی ایک بیٹی کی سزا کا مشاہدہ کرنے (امریکی عدالت) چلا گیا تھا لیکن میں انسانیت کی ماں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو اپنا سب سے زیادہ خراج تحسین پیش کرکے باہر آیا ہوں)۔ یہ تو اس نام نہاد عدالتی فیصلہ کی مختصر تفصیل بیان کی گئی ہے۔ ڈاکٹر عافیہ کو30 مارچ ، 2003 ءکو اسلام آباد جاتے ہوئے اس کے تین کمسن بچوں سمیت اغواءکیا گیا تھا۔ جسے پاکستانی اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کر چکی ہے ۔ 2008 ءمیں بین الاقوامی میڈیا کے توسط سے پتہ چلا کہ عافیہ بگرام ، افغانستان کے خفیہ امریکی عقوبت خانے میں قیدی نمبر 650 کے نام سے قید ہے اور اس پر انسانیت سوز تشدد کیا جارہا ہے۔ یہ پہلا موقع تھا جب عافیہ کو بآسانی پاکستان واپس لایا جاسکتا تھاکیونکہ وہ امریکی شہری نہیں تھی اور اس پر امریکی فوجیوں پر حملے کا جو جھوٹا الزام لگایا گیا تھاوہ جرم افغانستان کی سرزمین پر سرزد ہوا تھا اسلئے مقدمہ بھی افغانستان میں چلنا چاہئے تھا ۔ اس کے بعد قدرت نے ہمارے حکمرانوں اور انتظامیہ کو یکے بعد دیگرے کئی مواقع عطا کئے جس سے فائدہ اٹھا کر عافیہ کو وطن واپس لایا جا سکتا تھا۔ 2003 ءسے 2022ءتک، 20 سال کے طویل عرصہ کے دوران ظفراللہ خان جمالی (مرحوم)، چوہدری شجاعت، شوکت عزیز، یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف، نواز شریف، شاہد خاقان عباسی، عمران خان اور اب محمد شہباز شریف وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہیں ، سب نے قوم کو سبز باغ دکھائے مگر کوئی بھی قومی غیرت اور پاکستانی شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے معاملہ میں اپنے ایگزیکٹو پاور کو استعمال کرنے کی ہمت نہیں کرسکا ہے۔ یہ پاکستانی قوم کی بدقسمتی ہے کہ ہمیں حکمران نااہل، بزدل اور قومی غیرت سے عاری ملے مگر الحمدللہ، پاکستانی قوم عظیم ہے ۔ ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنی والی اہم شخصیات نے عافیہ پر ظلم کیخلاف آواز اٹھائی ہے۔پاکستان اور بیرون ممالک کے کئی نامور قانون دانوں نے 86 سالہ سزا کو ناانصافی پر مبنی قرار دیا ہے۔ ماضی کے زلزلہ اور موجودہ سیلاب زدگان کی امداد اور بحالی کیلئے جس طرح قوم نے یکجہتی کا اظہار کیا ہے اس ایثار کی مثال نہیں ملتی ہے۔ ڈاکٹر عافیہ کو وطن واپس لانے کے معاملہ میں کراچی سے خیبر تک قوم ہمیشہ متحدرہی ہے اور ہر اہم موقع پر اس کا اظہار بھی کرتی رہتی ہے۔ 20 سال کی طویل جدوجہد کے دوران اسی سال 2 جولائی کو میری والدہ عصمت صدیقی وفات پا گئیں۔ اپنی زندگی کے آخری ایام میں انہوں نے کچھ باتوں کو بار بار دہرایا جیسے مجھے کہا کہ دبئی جا کر جنرل پرویز مشرف سے ملو اور اسے معاف کرآﺅ اور ان کا یہ کہنا کہ یہ نہ سمجھنا کہ مجھے اس حالت تک عافیہ کے غم نے پہنچایا ہے اگر عافیہ کا غم ہوتا تو میں اسی روز مرگئی ہوتی جب اسے تین کمسن بچوں سمیت اغواءکیا گیا تھا مجھے تو غم اپنے حکمرانوں کی بے حسی کاہے اور وہ کہتی تھیں کہ میں مرجاﺅں تو افسوس نہ کرنا کہ عافیہ سے مل نہ سکی ۔ان کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ مومن کو تو کانٹا چبھنے پر بھی اجر ملتا ، مجھے اور عافیہ کو اتنا بڑا غم برداشت کرنے پر کتنا اجر مل رہا ہوگا ۔ ”جس رب نے عافیہ کو بدترین حالات میں 20 سال سے زندہ رکھاہوا ہے ،ہمارا وہی رب عافیہ کو وطن واپس لائے گا“ ان شاءاللہ۔ ہم تو حجت پوری کررہے ہیں تاکہ کوئی روز محشر یہ عذر پیش نہ کر سکے کہ ہم تو بے خبر تھے ۔کالم نگاروں سے درخواست ہے کہ ماضی کی طرح ایک مرتبہ پھر عافیہ رہائی کی صدا اپنے قلم و کالم کے توسط سے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچانے میں عافیہ کے مددگار بن جائیں ،اہل اقتدار و اختیار کا ضمیر جگائیے، عافیہ کو آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔میں دعا گو ہوں کہ آپ کی یہ کاوش دنیا و آخرت میں عزت و افتخار اور اور اجر عظیم کا باعث بنے ۔ آمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔