کالم

پنجاب یونیورسٹی دنیا کی بہترین جامعات میں شامل

riaz-chuadary

ہ کرنے پردنیا کی بہترین57 فیصد جامعات میں شمار کر لیا گیا ہے۔ اس سے قبل پنجاب یونیورسٹی 2018 میں دنیا کی بہترین 78 فیصد جامعات میں شامل تھی۔جامعات کی عالمی رینکنگ اور وفاقی و صوبائی سطح پر تسلیم کئے جانیوالے سب سے معتبر ادارے کیو ایس کی نئی رینکنگ 2023ءکے مطابق پنجاب یونیورسٹی کو شاندار کامیابی کا مظاہرپنجاب یونیورسٹی کی یہ ترقی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نیازاحمداختر صاحب کی شبانہ روز محنت کے سبب ہے۔ ان کے چار سالہ دور میں پنجاب یونیورسٹی نے رینکنگ میں 22فیصد ترقی کی۔ان کی سربراہی میں پنجاب یونیورسٹی ایشیا کی 145ویں بہترین جامعہ قرار پائی۔ وائس چانسلر کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی کے اساتذہ، ملازمین و طلباءکی مشترکہ کوششوں سے رینکنگ میں بہتری آئی۔ پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر 31 مئی 2018ء کوپنجاب یونیورسٹی کے پہلے مستقل وائس چانسلر تعینات ہوئے۔آپ کا تعلق جنوبی پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان سے ہے۔ڈاکٹر نیاز احمدصاحب کی انتھک تعلیمی خدمات کی وجہ سے ستارہ امتیاز سے نوازا جا چکا ہے۔انہوں نے اپنی تقرری سے لے کر آج تک انتہائی جان فشانی اور بڑی لگن سے اس ادارے کو پروان چڑھایا ۔ پروفیسر صاحب کی گڈ گورننس، میرٹ پر سختی سے عمل درآمد اورجدید تحقیق کے فروغ کے باعث یونیورسٹی کی عالمی رینکنگ ہرسال بہتر ہو رہی ہے۔ڈاکٹر صاحب نے اپنی تقرری کے فوراً بعد یہ بات واضح کر دی تھی کہ آئندہ یونیورسٹی میں ہر کام قانون، میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ کسی استاد کو ذاتی پسند یا ناپسند پر نہ ترقی ملے گی اور نہ عہدے ملیں گے۔اسی طرح یونیورسٹی کی زمین کا کمرشل بنیادوں پر استعمال بھی ختم کر دیا گیا۔ یہاں صرف نصابی اور یونیورسٹی سے متعلقہ تقریبات کی اجازت دی گئی۔ پنجاب یونیورسٹی کا شعبہ پٹرولیم انجینئرنگ دنیا کے بہترین 100سے 150اداروں میں شامل ہے۔مذہبی علوم میں پنجاب یونیورسٹی کو دنیا کے 101 سے 130 بہترین اداروں میں شمار کیا گیا۔ 2022ءمیں پنجاب یونیورسٹی کے 15مضامین بین الاقوامی رینکنگ میں شامل ہوئے۔ 1869میں قائم ہونیو الے نیچر پبلشنگ نے نیچرل سائنسز میں جامعہ پنجاب کوپاکستان میں نمبر 1 قرار دیا ۔ آئندہ پچاس سالہ قومی و تعلیمی ضروریات کے تحت پنجاب یونیورسٹی کی اکیڈیمک ری سٹرکچرنگ کی گئی۔ 2018-2022 میں پنجاب یونیورسٹی میں 67 تدریسی شعبہ جات و تحقیقی مراکز کا اضافہ کیا گیا۔حال ہی میں وفاقی حکومت کی جانب سے ملک کی پندرہ جامعات کو دنیا کی سو بہترین جامعات میں شامل ہونے کا ہدف مقررکیا گیا۔اسی ضمن میں موجودہ معیار میں بہتری اور ترقی کیلئے فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہائرایجوکیشن کمیشن ، پنجاب یونیورسٹی کو 10 ارب فراہم کرے گا۔ دس ارب سے جامعہ میں لیبز، فیکلٹی کی بھرتی، ہونہار طلبا کو تعلیمی وظائف کے حصول اور نئے سینٹرز بنائے جائیں گے۔ پنجاب یونیورسٹی نے بھی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی تیاری کرتے ہوئے وائس چانسلر کے زیرصدارت یونیورسٹی اساتذہ اورمختلف شعبوں کے سربراہوں کے ساتھ مشاورت کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی شعبہ تعلقات عامہ کی چار سالہ کارکردگی کی رپورٹ کے مطابق 2018ءسے 2022ءپنجاب یونیورسٹی کی تاریخ میں سب سے ذیادہ ترقی کے سال دیکھے گئے۔پروفیسر نیاز احمد اختر صاحب کے دور میں پنجاب یونیورسٹی دنیا کی بہترین 78 فیصد سے ترقی کر کے 62 فیصد جامعات میں شامل ہوئی۔ کیو ایس ایشین رینکنگ میں پنجاب یونیورسٹی نے 87 درجے ترقی حاصل کی۔2018 میں پنجاب یونیورسٹی کا ایک بھی مضمون بین الاقوامی رینکنگ میں شامل نہیں تھا۔ 2022 میں کیو ایس نے جامعہ پنجاب کے 15 مضامین کو دنیا کے بہترین اداروں میں شمار کیا۔پنجاب یونیورسٹی میں قومی و معاشرتی مسائل کا حل کرنے والی تحقیق کی پہلی مرتبہ خصوصی حوصلہ افزائی ہوئی۔ 2020 میں یونیورسٹی اساتذہ نے سب سے ذیادہ امپیکٹ فیکٹر تحقیقی مقالہ جات شائع کئے ۔ 2018-2022 کے چار سالوں میں یونیورسٹی کی تاریخ میں سب سے ذیادہ تقرریاں و ترقیاں ہوئیں۔ 2018-2022 میں دہائیوں سے ترقی و اگلی تعیناتی کے منتظر اساتذہ و ملازمین کے مسائل حل ہوئے ۔ 2018-2022 میں یونیورسٹی کی حالیہ پچاس سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ سینیٹ کے 8 اجلاس منعقد ہوئے۔ اس عرصہ میں گڈ گورننس کے حقیقی ماڈل کو پہلی مرتبہ عملی جامہ پہنایا گیا۔بین الاقوامی ادارے ٹائمز ہائیر ایجوکیشن کی جانب سے سال 2021 کی 500 سے زائد ایشیا کی بہترین جامعات کی رینکنگ جاری کی گئی ہے جس میں پاکستان کی جامعات نے بہتر کارکردگی کی بنیاد پر جگہ بنائی ۔ ہائیر ایجوکیشن کی جانب سے بین الاقوامی درجہ بندی کے علاوہ خطوں کی رینکنگ بھی جاری کی گئی ہے ۔ رواں سال کے دوران ایشیا کی یونیورسٹی رینکنگ میں پاکستانی جامعات ابھر کر سامنے آئی ہیں۔ پاکستان کی 16 یونیورسٹیاں بہترین جامعات کی فہرست میں شامل ہیں ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔