اداریہ کالم

وزیر اعظم کا دورہ امریکہ

وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف ان دنوں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کیلئے امریکہ کے دورے پر ہےںاور اجلاس میں آئے عالمی رہنماو¿ں سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں ، ان ملاقاتوں میں وہ پاکستان میں آنےوالے سیلاب سے ہونےوالی تباہ کاریوں بارے بھی ان رہنماو¿ں کو آگاہ کررہے ہیں ، ان ملاقاتوں کے دوران وزیر اعظم نے ان عالمی رہنماو¿ں پر واضح کیا ہے کہ پاکستان عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث ان تباہ کاریوں کا شکار ہورہا ہے ، وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف نے عالمی رہنماﺅں سے ملاقاتوں میں سیلاب سے ہونے والی تباہی اور چیلنج سے نمٹنے کےلئے حکومتی اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان شدت سے موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کا شکار ہے، کاربن کے اخراج میں عالمی سطح پر پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، ماحولیاتی تبدیلی کے چلینج سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری کی جانب سے اجتماعی اقدامات ناگزیر ہیں۔گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77ویں اجلاس میں شرکت کی اور سائیڈ لائن پر عالمی رہنماﺅں سے ملاقاتیں بھی کیں۔ وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف سے وفد کی سطح پر آسٹریا کے فیڈرل چانسلر کارل نہامر کی ملاقات ہوئی جس میں دو طرفہ دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم سے سیلاب سے ہونے والی تباہی اور چیلنج سے نمٹنے کےلئے حکومتی اقدامات پر روشنی ڈالی جبکہ آسٹریا کی جانب سے سیلاب متاثرین سے اظہار یکجہتی پر شکریہ بھی ادا کیا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان شدت سے موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کا شکار ہے، کاربن کے اخراج میں عالمی سطح پر پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری کی جانب سے اجتماعی اقدامات ناگزیر ہیں۔وزیراعظم نے چانسلر نیہامر کو پاکستان آسٹریا تعلقات کو مزید فروغ دینے کےلئے جلد از جلد پاکستان کا دورہ کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان آسٹریا کو ایک اہم ملک اور یورپی یونین کے اہم رکن کے طور پر دیکھتا ہے، مارچ 2022 میں آسٹریا کے وزیر خارجہ کے دورے نے دو طرفہ تعلقات کو مستحکم کرنے میں مدد کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، اعلیٰ تعلیم اور موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات سے نمٹنے کیلئے تعاون کو بڑھانے کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ اقوام متحدہ کے اجلاس کی سائیڈ لائن پر وزیراعظم شہباز شریف فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون، اسپین کے صدر پیڈرو سانچیز پیریز کاسٹیجن اور ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی سے دو طرفہ ملاقاتیں ہوئیں۔ان ماحولیاتی تبدیلیوں بارے سب سے پہلے ملک کے معروف صحافی جناب ایس کے نیازی نے قوم کو آگاہ کیا اور اپنے گروپ کے اخبارات میں اس حوالے سے نہ صرف خبریں شائع کیں بلکہ اس حوالے سے کئی کالمز بھی لکھے ، بعد ازاں انہوں نے اپنے روز ٹی وی کے مقبول عام شو سچی بات میں بھی آگاہی فراہم کی اور حکومت پر زور دیا کہ وہ اس کو کنٹرول کریں اور دریاو¿ں کے کنارے بسنے والی نئی بستیوں کی روک تھام کیلئے عملی اقدامات کریں ، اگر آج سے بیس سال کے پہلے روزنامہ پاکستان کے اخبارات کو اٹھاکر دیکھا جائے تو پتہ چلے گا کہ سردار خان نیازی نے نکاسی آب کے حوالے سے بھی نشاندہی کی تھی مگر اس وقت کی حکومتوں نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی جس کے باعث 2010کے سیلاب اور بعد ازاں 2022میں آنے والے سیلاب کے باعث ہزاروں افراد کو اپنے جانو ں سے ہاتھ دھونا پڑے، نئے آبی ذخائر کے قیام کے حوالے سے ایس کے نیازی نے روز ٹی وی پر بہت سارے پروگرام بھی کئے اور سابقہ حکومت پر واضح کیا کہ وہ اس حوالے سے جلد از جلد اقدامات کرتے ہوئے نئے ڈیموں کی تعمیر کا کام شروع کرے تاکہ سیلاب کے باعث پانی ضائع ہونے سے بچ جائے اور اس کے ساتھ ساتھ اس جمع شدہ پانی سے نہ صرف بجلی کی تیاری کاکام لیا جائے بلکہ اپنی زرعی معیشت کو بہتر بنانے کیلئے بھی اسی استعمال میں لایا جاسکے ، اب بھی وقت ہے کہ حکومت ان تجاویز پر عملدرآمد کرے۔
یورپی یونین کی سفیر کی سپہ سالار سے ملاقات
حالیہ سیلاب کے بعد مسلح افواج کے سپہ سالار متاثرین سیلاب کی بحالی اور آبادکاری کیلئے مسلسل مصروف چلے آرہے ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ جلد از جلد اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جاسکے تاکہ سردیوں کے شروع ہونے سے قبل یہ تمام متاثرین اپنے اپنے گھروں کو واپس لوٹ جائیں، اس حوالے سے سپہ سالار مسلسل دوست ممالک سے رابطے میں ہیں اور فنڈ ریزنگ کے کام میں حکومت وقت کی مدد کرکے اپنا فریضہ نبھارہے ہیں ، اسی حوالے سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ عالمی شراکت داروں کی مدد سیلاب متاثرین کے بچا اور بحالی میں اہم ہوگی۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق سپہ سالار سے یورپی یونین کے سفیر نے ملاقات کی، ملاقات میں پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ آرمی چیف نے یورپین یونین سفیر کو نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد دی، دونوں جانب سے مشترکہ مفادات کی بنیاد پر دوطرفہ روابط میں مزید وسعت کی امید کا اظہار کیا گیا ۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے یورپین یونین کی حمایت کا شکریہ ادا کیا۔اس موقع پر سپہ سالار کا مزید کہنا تھا کہ عالمی شراکت داروں کی مدد سیلاب متاثرین کے بچا اور بحالی میں اہم ہوگی، پاکستان یورپی یونین کے ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، مشترکہ مفادات کی بنیاد پر باہمی فائدہ مند کثیر الجہتی تعلقات میں وسعت کیلئے پر امید ہیں، حالیہ سیلاب میں متاثرین کی مدد کرنے کیلئے افواج پاکستان کی جانب سے کی جانےوالی امدادی سرگرمیاں تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھے جائیں گے ، اپنے ہم وطنوں کی خدمت کیلئے افواج پاکستان کی ایک بڑی وسیع تاریخ ہے ،زلزلے ، سیلاب اور دیگر ناگہانی آفتوں کے دوران افواج پاکستان کی سرگرمیاں اپنی مثال آپ ہے ، ہمیں امید ہے کہ موجود ہ آفت سے نکلنے میں بھی افواج پاکستان اپنا کردار بھرپور طور پر ادا کرے گی۔
وفاق ،پنجاب دوبارہ آمنے سامنے
ان دنوں وفاق اور پنجاب میں ایک بار پھر ٹھن گئی ہے اور پنجاب حکومت نے وفاقی وزراءکیخلاف دہشت گردی کے مقدمات درج کرا دیئے ہیں ، اسی حوالے سے وفاقی حکومت نے مقدمہ درج کرنے والے افسرا ن کو ان کے عہدوں سے فارغ کرتے ہوئے مرکز رپورٹ کرنے کی ہدایت کی ہے۔مسلم لیگ ن کے رہنماو¿ں جاوید لطیف اور مریم اورنگزیب کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کرنے پر سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کا تبادلہ کردیا گیا، اس معاملے پر وفاق اور پنجاب حکومت میں ٹھن گئی ہے اور وزیراعلیٰ نے غلام محمود ڈوگر کو عہدہ چھوڑنے سے روک دیا ہے جبکہ وفاق نے حکم نہ ماننے پر تادیبی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ آئی جی فیصل شاہکار اور وزیر اعلی پرویز الٰہی کے درمیان بھی دہشت گردی کی دفعہ کے تحت درج مقدمے کے معاملے میں ڈیڈ لاک برقرار ہے، وزیراعلیٰ کی ہدایت پر آئی جی نے ٹال مٹول سے کام لیا جس پر پرویز الٰہی نے سی سی پی او لاہور کو ہدایت دے کر مقدمہ درج کیا۔ آئی جی پنجاب فیصل شاہکار مقدمے کے خلاف تھے اور انہوں نے 25 مئی کے واقعات کے ذمہ دار افسران پر بھی مقدمہ درج نہیں کیا تھا، جس پر پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے وزیراعلی کو آئی جی پنجاب کو تبدیل کرنے کی ہدایت کردی تھی۔ وفاقی حکومت نے کیپیٹل سٹی پولیس آفیسر(سی سی پی او)لاہور غلام محمود ڈوگر کی خدمات واپس لے لیں اور انہیں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کا حکم دیا جس پروزیراعلی پنجاب نے وفاقی حکومت سے شدید احتجاج کیا اور سی سی پی اوغلام محمودڈوگرکوچارج چھوڑنے سے روک دیا ہے۔پرویز الٰہی کا کہنا تھاکہ وفاقی حکومت انتقام میں اندھی ہوچکی ہے، وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے وفاق کیخلاف محاذ آرائی کا کوئی جواز نہیں بنتا ، انہیں چاہیے کہ وہ اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔