کالم

رہائشی سہولیات میں اضافے کا فیصلہ

riaz-chuadary

وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے پولیس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب سے کوئی افسر ہماری اجازت کے بغیرغیر قانونی طورپر واپس نہیں جائے گا۔آئینی اورقانونی طورپر پنجاب حکومت مفادعامہ کے تحت افسران کو روک سکتی ہے۔ جی اوآر میں افسروں کے لئے رہائشی سہولتوں میں اضافہ کرنے کےلئے بڑے گھروں اورکوٹھیوں کا رقبہ کم کرکے اپارٹمنٹس تعمیر کیے جائیں گے۔جی او آر میں کئی کوٹھیاں 8،8کنال رقبے پر مشتمل ہیں۔ 8،8کنال پرمشتمل گھروں کی جگہ جدید طرز پر اپارٹمنٹس کی تعمیر سے متعدد افسران کی رہائشی ضرورت پوری ہوسکے گی۔
پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں 150 پولیس پٹرولنگ پوسٹیںبنانے کا بڑا بروقت اور احسن فیصلہ کیا ہے۔کچے کے علاقے میں سپیشل فورس کوتنخواہ میں خصوصی مراعات کا وعدہ بھی کیا گیا۔جبکہ کچے کے علاقے میںڈاکوو¿ں اور دہشت گردوں کے سد باب کےلئے پولیس کے بنکرقائم کیے جائیں گے۔ان علاقوں میں آرمی کے ریٹائرڈ کمانڈوپر مشتمل فورس قائم کرنے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ پنجاب حکومت پولیس افسران و ملازمین کو سہولیات فراہم کر رہی ہے مگر یہ سہولیات عوام تک بھی پہنچنی چاہیئں۔ عام آدمی کو تھانے میں فوری انصاف ملناچاہیے۔ پولیس کا فرض ہے کہ وہ تھانے آنے والے ہر سائل کی بلاتفریق دادرسی کرے۔جب عام آدمی کا رویہ پولیس کے بارے میں بدلے گاتب ہی تھانہ کلچر بھی تبدیل ہوگا۔ ایف آئی آر اوردادرسی کیلئے عوام کو باربار تھانے جانے کی ضرورت پیش نہیں آنی چاہیے۔ایف آئی آر قانون کے مطابق مضبوط ہونی چاہیے۔انوسٹی گیشن کے عمل کو بہتر اورموثر بنایا جائے تاکہ مجرم سزا سے بچ نہ سکے۔
وزیر اعلیٰ پرویز الہی نے پہلے بھی پولیس کے مسائل حل کیے اوراب بھی پولیس کی ویلفیئر کے لئے اقدامات کررہے ہیں۔ان کی سربراہی میں حکومت پولیس عوام کی جان و مال کے تحفظ کیلئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھے گی۔
چودھری پرویز الٰہی نے جرمنی کے سفیر الفریڈ گراناس کوجنوبی پنجاب میں سیلاب سے ہونے والی تباہی اور متاثرین سیلاب کیلئے بحالی کی سرگرمیوں سے آگاہ کیا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے پاکستان شدید متاثر ہوا ہے۔یہ ایک ایسا چیلنج ہے جس پر اقوام عالم کو فوری طور پر مشترکہ لائحہ عمل اپنانے کی ضرورت ہے۔عالمی برادری کو آزمائش کی اس گھڑی میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دینے کی ضرورت ہے۔
جنوبی پنجاب سمیت پاکستان کے دیگر صوبوں میں سیلاب سے تباہی کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔پنجاب حکومت نے متاثرین سیلاب کی بحالی و آبادکاری کیلئے مربوط لائحہ عمل بنایا ہے۔حکومت اپنے وسائل سے مصیبت زدہ بہن بھائیوں کی ہرممکن مدد کر رہی ہے۔گھروں، فصلوں اور لائیوسٹاک کو پہنچنے والے نقصان کے ازالے کیلئے مالی امداد کا خصوصی پیکیج دیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ 2002 میں اپنے سابق دور میں کوہ سلیمان کے ہل ٹورنٹس کے پانی کو چینلائزڈ کرنے کا پروگرام شروع کیا۔بدقسمتی سے بعد میں آنے والی حکومت نے اس پروگرام کو روک دیا لیکن اب ہم نے دوبارہ واٹر چینلائزڈ کرنے اور سمال ڈیمز بنانے کا منصوبہ بنایا ہے۔قیمتی پانی کو سمندر میں جا کر ضائع ہونے سے روکنے کیلئے ڈیمز پاکستان کیلئے ضروری ہیں۔اگر ڈیم ہوتے تو پانی سے اتنی تباہی نہ ہوتی اور پانی بھی سٹور ہوتا۔جتنے زیادہ ڈیم ہم بنائیں گے اتنی ہی تباہی سے بچیں گے۔
جرمن سفیر نے بارشوں اور سیلاب سے جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہارکرتے ہوئے بحالی کے کاموں میں وزیراعلیٰ کے اقدامات کوسراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ چودھری پرویز الٰہی کی قیادت میں پنجاب حکومت کیساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔دو طرفہ تعاون بڑھانے کیلئے تیزی سے اقدامات کے خواہاں ہیں۔ جرمنی پاکستان کا بہترین پارٹنر ہے۔ ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن، صحت اور واٹر سٹوریج کے حوالے سے جرمنی کے تجربے اورمہارت سے استفادہ کریں گے۔پنجاب جرمنی کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے میں مددلے گا۔موجودہ صورتحال میں جرمنی کی جانب سے واٹر سٹوریج کیلئے تکنیکی معاونت کا وزیر اعلیٰ نے کھلے دل سے خیرمقدم کیا۔
پنجاب حکومت سیلاب متاثرین کی جلد بحالی کیلئے کوشاں ہے۔ مخیر حضرات وزیراعلیٰ فلڈ ریلیف فنڈ میں رقوم جمع کروا رہے ہیں۔سیلاب متاثرین کی بحالی میں حصہ لینے والے مخیر حضرات کا جذبہ بھی قابل قدر ہے۔ حکومت کی جانب سے سیلاب متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض کی روک تھام اور طبی سہولتوں کی فراہمی کیلئے میڈیکل کیمپس لگائے گئے ہیںجہاں میڈیکل ٹیمیں متاثرین سیلاب کے علاج معالجے کیلئے موجود ہیں۔ پنجاب حکومت نے ملکی یکجہتی کے فروغ کیلئے میڈیکل ریلیف مشن بلوچستان اور سندھ بھی روانہ کیا ہے۔ میڈیکل ریلیف مشن ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل سٹاف، ادویات اور امدادی سامان پر مشتمل ہے۔اس کے علاوہ سیلاب زدگان کیلئے 9 ٹرک بھیجے گئے ہیں جن میں ادویات، راشن اور دیگر امدادی سامان شامل ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے شہر میں آتشزدگی کے واقعات کے بروقت سدباب کے لئے ہدایت کی کہ آتشزدگی کی صورت میں مختلف مقامات پر قائم واٹر ہائیڈرنٹ سے پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ دوسری طرف ریسکیو1122کی طرف سے بڑی عمارتوں کے سیفٹی آڈٹ کے بغیر کوئی نقشہ پاس نہ کیاجائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔