اداریہ

امریکی صدر کی سیلابی صورتحال پر مدد کی یقین دہانی

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ سربراہی اجلاس میں عالمی تنازعات،انسانی المیوں اورمعاشی بحرانوںسمیت ان تمام مسائل پر غور کیا جا رہا ہے جو بین الاقوامی برادری کےلئے درد سر بنے ہوئے ہیں۔دیگر ایشوز سے ہٹ کر اگر صرف انسانی المیوں کو پیش نظر رکھا جائے تو پاکستان میں بارش اور سیلاب کے بعدسامنے آنے والے انسانی المیے کی جو صورتحال پیدا ہوچکی ہے وہ اتنے بڑے پلیٹ فارم پر نظر انداز نہیں کی جا سکتی ۔ یہی وجہ ہے کہ اقوام متحدہ اجلاس میںامریکی صدر نے اپنے خطاب میںپاکستان میں سیلابی صورتحال کا خصوصی طور پر ذکر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ دنیا کو عملی طور پر پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے دنیا سے بھرپور اپیل کی کہ وہ پاکستان کی حالیہ سیلاب سے ہونے والی تباہی سے نمٹنے میں مدد کرے۔ امریکی صدر نے موسمیاتی تبدیلی کے بحران سے نمٹنے کے لیے کارروائی کا بھی مطالبہ کیا اور صرف رواں سال کے لیے پوری دنیا میں انسانی زندگی بچانے والی امداد اور خوراک کے تحفظ کے لیے 2 ارب 90 کروڑ ڈالر کے فنڈ کا اعلان کیا۔انہوں نے دنیا بھر میں وسیع تر معاشی اور سیاسی بحرانوں کو روکنے کےلئے کمزور ممالک کے قرضوں پرشفاف طریقے سے مذاکرات کرنے کی تجویز بھی دی۔ انہوں نے دنیا پر بدلتی ہوئی آب و ہوا کے اثرات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا بیشتر حصہ اب بھی پانی میں ڈوبا ہوا ہے اور اسے مدد کی ضرورت ہے۔ خاندانوں کو اس اذیت کا سامنا ہے کہ کون سے بچے کو کھانا کھلانا ہے اور یہ سوچ رہے ہیں کہ کیا وہ زندہ رہے گا، یہ موسمیاتی تبدیلی کی انسانی قیمت ہے اور یہ بڑھ رہی ہے، کم نہیں ہو رہی۔امریکی صدر کی طرف سے دنیا کو جھنجوڑنا پاکستان کے ضمن میں انتہائی خو ش آئند ہے،امید کی جا سکتی ہے کہ دنیا اب پاکستان کی کھل کر مدد کرے گی،کیوںکہ پاکستان کو جس طرح موسمیاتی تبدیلیوں کی تباہی کا چیلنج در پیش ہے اس میں پاکستان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے،خطے میں موسمیاتی تبدیلی کا یہ وبال خود انہیں ترقی یافتہ ممالک کا پیدا کردہ ہے جن کے سامنے باربار مدد کی اپیل کی جارہے ۔قبل ازیں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی عالمی رہنماو¿ں پر زور دیا تھا کہ وہ پاکستان کے قرضوں سے نمٹنے میں مدد کریں۔ اسی سمت میں قدم اٹھاتے ہوئے صدر جو بائیڈن نے بڑے عالمی قرض دہندگان بشمول غیر پیرس کلب ممالک پر زور دیا کہ وہ دنیا بھر میں وسیع تر اقتصادی اور سیاسی بحرانوں کو روکنے کے لیے کم آمدنی والے ممالک کے لیے قرضوں کی معافی کے لیے شفاف مذاکرات کریں۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں جووعدہ کردہ فوائد کی فراہمی کے بغیر بہت بڑا قرض بنادیتے ہیں، کے بجائے ترقی پذیر ممالک کی مدد کے دوسرے طریقوں پر غور کریں۔امریکی صدر کا یہ کہنا بجا اور درست ہے کہ آئیے دنیا بھر میں بنیادی ڈھانچے کی بے پناہ ضروریات کو شفاف سرمایہ کاری کے ساتھ پورا کریں، دوسری جانب اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر دوسرے روز بھی وزیراعظم شہباز شریف کی عالمی رہنماو¿ں کے ساتھ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے بھی وزیراعظم سے ملاقات کی، انہوں نے سیلاب متاثرین سے ہمدردی کا اظہار کیا اور انہیں اس مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کے امریکی عزم کا یقین دلایا۔اس کے علاوہ عالمی بینک گروپ کے صدر ڈیوڈ ملپاس نے شہباز شریف سے ملاقات میں انہوں نے عالمی بینک کی جانب سے پاکستان کی تعمیر نو اور بحالی کی کوششوں میں مدد کرنے کے لیے آمادگی کا اظہار کیا اور سیلاب سے متعلق امدادی کوششوں میں پاکستان کی مدد کے لیے فوری طور پر 85 کروڑ ڈالر کی رقم دوبارہ دینے کا عزم بھی کیا۔ علاوہ ازیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77ویں اجلاس کے صدر کسبا کوروسی سے ملاقات میں وزیراعظم شریف نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جامع اصلاحات کی اہمیت اور شفاف، مشاورتی اور تعمیری بین الحکومتی مذاکرات جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا، جو تمام رکن ممالک کی توقعات اور مقف کے جوابات دے سکیں۔ انہوں نے جنرل اسمبلی اور دیگر متعلقہ اداروں اور فورمز میں ترقیاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے گروپ آف 77 کے موجودہ سربراہ کی حیثیت سے پاکستان کی حمایت کا بھی اظہار کیا۔ جنرل اسمبلی کے صدر نے پاکستان کے ساتھ اپنی مکمل ہمدردی، یکجہتی اور تعاون کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متعلق تباہی پاکستان کی نہیں تھی اور یہ دنیا کی مدد کا مستحق ہے، انہوں نے کہا کہ عالمی مسئلے کا عالمی حل ہونا چاہیے۔ اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف اورامریکی صدر کے نمائندہ خصوصی برائے موسمیاتی تبدیلی جان کیری کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں موسمیاتی تبدیلی کے مسئلہ سے نمٹنے اور توانائی کے شعبہ میں مذاکرات آگے بڑھانے پر اتفاق کیاگیا۔یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث تباہ کن سیلاب سے پاکستان کو شدید نقصان پہنچا ہے، پاکستان کو بدترین قدتی آفت کا سامنا ہے، تعمیر نو اور بحالی کیلئے عالمی برادری سے مسلسل تعاون کی اشد ضرورت ضرورت ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی لیکن پاکستان میں!
یہ امر عام آدمی کی سمجھ سے بالا تر ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے اور یہ سلسلہ گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری ہے۔اب تیل کی عالمی مارکیٹ میں فی بیرل قیمت 87ڈالر تک جا گری ہے لیکن پاکستان میں گنگا الٹا ہی بہہ رہا ہے۔اگلے روز حکومت نے خاموشی سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رات گئے اضافہ کر دیا جس کے بعد عوام میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے،عوامی سطح پر شدید احتجاج کیا جا رہا ہے اورعوام کہ یہ کہنا سوفیصد بجا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کم ہو رہی ہیں جبکہ حکومت نے پٹرول بم دوبارہ گرا دیا ہے اور وہ بھی رات گئے۔حکومت کی اس واردات کے بعد اگلی صبح پٹرول پمپس پر خریداروں اور ملازمین میں تکرار بھی ہوتی رہی۔منگل کی شب دو بجے وزارت خزانہ کی جانب سے پٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں اضافہ کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ۔ وزارت خزانہ کے مطابق پٹرول کی قیمت میں1.45 روپے فی لٹر کا اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں کوئی ردوبدل نہیں کیا گیا،وزارت خزانہ کے مطابق پٹرول کی نئی قیمت 237.43روپے فی لٹر ہوگئی ہے ۔ پاکستان میں حالیہ سیلاب کے بعد ملک کو شدید جانی اور مالی نقصان کا سامنا ہے۔سیلاب میں 1500سے زائد افراد جاں بحق اور33ملین سے زائدافراد متاثر ہوئے ہیں۔اس صورتحال نے ملک کو معاشی تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔پیٹرول کی قیمت بڑھتے ساتھ ہی عوام اور اپوزیشن کی جانب سے سوشل میڈیا پر بھی ایک طوفان برپا ہو گیا ہے۔ حکومت نجانے کیوں عالمی سطح ہونے والی کمی کا فائدہ عوام کو منتقل نہیں کر رہی،حالانکہ اس سے قبل جب اپوزیشن میں تھے تو بڑے بڑے دعوے کئے جاتے تھے ، خود وزیراعظم ستر روپے لٹر کا مژدہ سنایا کرتے تھے،اپوزیشن اتحاد کی حکومت بنانے کی خواہش تو کسی طور پوری ہو گئی لیکن عوام کے خواب خاک میں مل گئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔