پاکستان

احتساب عدالت کا اسحاق ڈار کے دائمی وارنٹ معطل کرتے ہوئے گرفتار نہ کرنے کا حکم

احتساب عدالت کا اسحاق ڈار کے دائمی وارنٹ معطل کرتے ہوئے گرفتار نہ کرنے کا حکم

احتساب عدالت نے پاکستان مسلم لیگ ن کے بڑے رہنما اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے دائمی وارنٹ معطل کرتے ہوئے ملک واپس آنے پر گرفتار نہ کرنے کا حکم دے دیا۔

سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے دائمی وارنٹ گرفتاری کے خلاف درخواست کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کی، اسحاق ڈار کے وکیل قاضی مصباح نے عدالت کے روبرو پیش ہو کر دلائل کا آغاز کیا۔

احتساب عدالت کے جج نے وکیل سے استفسار کیا کہ اسحاق ڈار بیمار تھے یا کوئی اور مسئلہ تھا؟ وکیل نے عدالت کو مسلم لیگی رہنما کے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کی وجوہات سے آگاہ کیا اور استدعا کی کہ اسحاق ڈار کے دائمی وارنٹ گرفتاری منسوخ کیے جائیں، وکیل نے عدالت کو یقین دلایا کہ اسحاق ڈار ائرپورٹ پر اترتے ہی سیدھے عدالت پیش ہو جائیں گے۔

فاضل جج نے استفسار کیا کہ پراسیکیوٹر کہاں ہیں جس پر نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ افضل قریشی عمرہ کی ادائیگی کے لیے گئے ہوئے ہیں۔

بعد ازاں مختصر وقفے کے بعد احتساب عدالت نے اسحاق ڈار کے دائمی وارنٹ معطل کر دیے، عدالت نے اسحاق ڈار کو اپنے آپ کو حوالے کرنے کا موقع فراہم کرتے ہوئے حکم دیا کہ انھیں پاکستان آنے پر گرفتار نہ کیا جائے۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے دوران سماعت تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسحاق ڈار پاکستان واپس آ جائیں، اس کے بعد وارنٹ منسوخی کو دیکھیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔