پاکستان

روس سےتجارتی تعلقات پر وزیر اعظم کا اہم بیان سامنے آگیا

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ روس سے تجارتی تعلقات اور پٹرولیم مصنوعات پر بات چیت جاری ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے بلومبرگ کو خصوصی انٹرویو کے دوران کہا ہے کہ سیلاب کے باعث ملک کا ایک تہائی حصہ ڈوب گیا، موسمیاتی تبدیلی کے باعث سیلاب سے لاکھوں لوگ بےگھر ہوئے، سیلاب سے ۱۵۰۰ سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، لاکھوں ایکڑ پرکھڑی فصلیں تباہ ہوئیں، ۳۰ لاکھ بچوں کے وبائی امراض میں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ان کا کہنا تھا امریکی صدر، ترک صدر، فرانسیسی صدر کے متاثرین سے متعلق بیان پر شکر گزار ہیں، دنیا نے جو مدد کی وہ تعریف کے قابل ہے لیکن ہماری ضرورت سے بہت کم ہے، ابتدائی تخمینے کے مطابق سیلاب سے ۳۰ ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے، لوگوں کو دوبارہ بحال کرنے، انفرا اسٹرکچر کی تعمیر کے لیے مزید امداد کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگلے دو ماہ میں پاکستان پر قرضوں کی ذمہ داریاں ہیں، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ، یورپی رہنماؤں سے پیرس کلب میں مدد کی بات کی ہے، کہا ہے کہ دنیا کو ہمارے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا کیونکہ آئی ایم ایف کے ساتھ سخت شرائط پر معاہدہ کیا ہے۔
بھارت سے تعلقات سے متعلق سوال پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا بھارت کے ساتھ تعلقات کی بحالی چاہتے ہیں، بطور پڑوسی ہمیں ہمیشہ ساتھ رہنا ہے، بھارت اگر ہم سے کشمیر کے معاملے پر بات کرنا چاہتا ہے تو ہم تیار ہیں۔
روس کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ روس کے صدر پیوٹن سے تیل، گیس اور گندم کی خریداری پر بات کی ہے۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہماری توقع سے زیادہ بڑھ گئی ہیں، سیلاب سے تعلیمی ادارے، اسپتال، سرکاری عمارتیں، پل اور سڑکیں سب تباہ ہوگئے، اس وقت ملک کو اتحاد، مصالحت اور امن کی ضرورت ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اپنے لوگوں سے کہتا ہوں کہ اس وقت سیاست سے بالاتر ہو کر متاثرین کی مدد کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔