کالم

ہمارے اپنے اعمال کانتیجہ

a r tariq

ہمارے ہاںاہم موقعوں کے علاوہ گاہے بگائے بھی مزدوروں کے نام پر، ورکروں کے حقوق کے حوالے سے مختلف سیمینار ،کانفرنسز،تقریبات منعقد ہوتی رہتی ہیں جس میں تقاریراور مباحثے ہوتے ہیں۔ مزدوروں کے حقوق کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو کی جاتی ہے ۔ ان کے حقوق کے متعلق آگاہی اور ادائیگی حقوق کے سلسلے میں کافی باتیں کی جاتی ہیں۔مزدوروں کے حقوق پر زور دیا جاتا ہے۔مزدوروں کے معاشی استحصال اور محرومیوں کا رونا رویا جاتا ہے۔ان کے حقوق ادا کرنے اور حق تلفی نہ ہو،کادرس دیا جاتا ہے اور آئندہ کےلئے سہانے سپنے دکھانے اور سجانے کے بعد مزدوروں کے ساتھ یکجہتی کےلئے فوٹو سیشن بھی کیے جاتے ہیں۔ مقررین کی طرف سے مزدوروں کے حقوق کے حوالے سے تیز و تندفقروں،اعلیٰ سوچ و وچار پرمبنی خیالات اور آسمان کی حدوں کو چھوتے بلند و بانگ دعوے اور ”اب ایسا نہیں چلے گا“ جیسی باتیں ،انتہائی دلفریب،دل کو موہ لینے والے انداز سے ایسے کی جاتی ہے جیسے اب سب ٹھیک ہوجائےگا،مزدور خوشحال ہوگا،بے روزگاری ومہنگائی کم ہوگی،ہرطرف خوشحالی کا دوردورہ ہوگاباالخصوص مزدور کو اس کے جملہ حقوق ملنے لگے گیں،ناانصافی نہیں ہوگی،حق تلفی کا تو ذرا سا بھی شائبہ نہ ہوگا،ترقی وخوشحالی کی نہریںبہنے لگے گی،مزدور کا استحصال اب نہیں ہوگا مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہوتااور نہ ہی ایسی کسی سوچ کو پذیرائی اور تعبیرملتی ،نہ ہی مزدور کے دن بدلتے ،نہ ہی مزدور کے آنگن میںخوشحالی آتی،نہ ہی مزدور کے حقوق کا خیال رکھا جاتا،نہ ہی مزدور خوشحالی دیکھتا۔وہی جگہ،وہی ماحول ۔۔۔۔تبدیلی اور بہتری ناپید ۔ بس ایک ڈرامہ،ڈھونگ ہے مزدور ڈے ودیگرگاہے بگاہے ہوتی تقریبات کے نام پر،انٹرنیشنل لیول پربزنس مینوں ، مقتدر حلقوں کامزدوروں کو طفل تسلیاںاور حالات اب سدھرے گےںکے سہانے سپنے دکھائے ، بچھایا ہوا ایک تاش وشطرنج کا کھیل ہے جس کے سارے پتے اور ساری گوٹیاں اب کے باربھی مزدور کے گھر پر ہی بجلیاں بن کر گرے گی اور فائدہ پہلے کی طرح اب بھی صرف سرمایہ دار ہی اٹھائے گا۔ مزدور کے حصے میں کڑکتی ،چلچلاتی دھوپ میں دن رات پسینہ ایک کیے صرف چند ٹکے ہی ہاتھ آئیں گے جن کو ہر ماہ بطور مزدوری ادا کرتے وقت بھی اکثر مالکان کے ہاتھ کانپتے ہیں۔اکثر کو تو تنخواہ کی یہ ادائیگی بھی ”بارعظیم“اور” جان جوکھوں والا کا م لگتا ہے“ ۔ اس موقع پر بعض کا تو بس نہیں چلتا کہ دے کر چھین لیں۔ایسے لوگ باتیں کرتے ہیں تو آسمان میں قلابازیاں تک لگا جاتے ہیں۔ جوتی کپڑا اچھا پہنا ہو یا امارت کے غرور میں مبتلا ہوتواپنے مخاطب کو طنزا ایسی باتیں کر جاتے ہیں کہ انسان کے رتبے اور شان کے بھی منافی ہوتی ہیںاور زبان چلاتے ہوئے پل بھر کےلئے بھی نہیں سوچتے کہ کیا کہے جارہے اور کیوں کہے جار ہے ہیں۔اللہ نے ایسے لوگوں کو پیسہ کیا دے رکھا ہے بعض اس وجہ سے اُوقات اور آپے سے باہر نظر آتے ہیں ۔بعض فیکٹریوںیونٹوں دفاترزمیں تو تنخواہ بھی ایسے دیتے ہیں جیسے تنخواہ نہ سہی،خیرات دے رہے ہیںبس ان پیٹ بھرے خاص ٹولے کابس نہیں چلتاورنہ اس سے بھی محروم کردیں یا تنخواہ دینا جھوٹ ہوجائے ۔ ایسے لوگ جب بات کرنے پر آجائیں ، خاص طور پر یوم مزدوریاکسی اہم موقع پر تقریر کرنا ہوتو ایسی ایسی لچھے دار ،دل کو لبھا دینے والی باتیں کرتے ہیں کہ وہ مزدور جو ایسے بندوں کے ماضی حال اور مستقبل سے خوب واقف ہوتے، بھی ان کی شاندار تقریر سن کر شرماسا جاتے،مزدوروں کے جائز حقوق پر ”کنڈلی مارے سانپ“ کی طرح بیٹھے ہوتے ہیںمگر باتیں بڑی دل لبھادینے والی کریں گے اوراگرسننے والے اپنی گھریلو مجبوریوں کے باعث انتہائی مجبور ہوتو پھر ایسے لوگوں کے وارے نیارے ہوجاتے ہیں۔اس کے علاوہ تنخواہ بناتے ایک ایک منٹ کا حساب رکھتے ، اکثر کم ہی بناتے اور مزدور نے جو اضافی ٹائم لگایا ہوتا ہے ،اس بابت اوورٹائم دینے کی بات آجائے تو بیمار پڑجاتے ۔اس موقع پرایسے کاموںکے سبب اگر کسی وجہ سے ایسے فیکٹری والے مختلف المذہب لوگوں پر قہرالہیٰ نازل ہوجائے تو پھر خانہ کعبہ ،گرجا گھر ، معبد، مندر ، گردوارامیں جا کر درستگی حالات کی دہائیاں ، التجائیں ، دعائیں کرتے نظر آتے ہیںمگر حقوق مزدوراں ادا کرنے کی جانب نہیں آتے ہیں) اگر کوئی تنخواہ میں کٹوتی کمی بیشی یا اُوور ٹائم سے یکسر محرومی پر صدائے احتجاج بلند کرے یا کوئی بات اختلاف کرے تو اسے گیٹ بند اور نو انٹری کا تحفہ دے کروہاں سے چلتا کرتے ہیں ۔ایسے لوگ بڑے سیاہ کار،مکار،دغابازہوتے ہیں۔کسی ناگہانی آسمانی ا ٓفت کے نتیجے میںتباہ وبرباد ہوجاتے ہیں مگر بندوں کا حق جو اِن کے ذمے ہے ادا نہیں کرتے۔ مزدور کے جائزحقوق ادا نہ کرنے اور ان کے معاشی استحصال پر لمحہ بھر کےلئے بھی شرمندہ نہیں ہوتے۔انسانیت کے احساسات سے عاری ایسے لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید وہ اللہ عزوجل کے حضور”غضب حقوق بندگان خدا“پرجیسے جوابدہ ہی نہ ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔