25 دسمبر۔قائد کا پاکستان اور ہماری نفسیاتی گرہیں

16

بانی پاکستان کی ذات ایک بار پھر اہلِ قلم کی جولانی طبع کی زد میں ہے۔ایک صاحب فرماتے ہیں وہ تو سیکولر تھے اور دوسرے تڑپ کر یہ ثابت کرنے کی کوشش میں مصروف ہو جاتے ہیں کہ وہ تو کامل ایک مذہبی انسان تھے۔یہ بحث محض بابائے قوم کے شخصی رجحانات کے مطالعے تک محدود ہوتی تو اس میں کوئی مضائقہ نہ ہوتا لیکن احباب اس بحث سے حاصل کردہ نتائج کی بنیاد پر پاکستان کی فکری سمت طے کرنا چاہتے ہیں۔ایک گروہ کا اصرار ہے چونکہ قائد اعظم ایک سیکولر انسان تھے اس لیے پاکستان کو ایک سیکولر ریاست ہونا چاہیے اور دوسرا گروہ مصر ہے کہ چونکہ قائد اعظم ایک مذہبی انسان تھے اس لیے پاکستان کو ایک اسلامی ریاست ہونا چاہیے۔جب بحث یہ رخ اختیار کر جاتی ہے تو میرے جیسا طالب علم حیرت سے سوچتا ہے علم کی دنیا میں اتنی سطحیت اور اتنا بچپنا کہاں سے آ گیا؟جب ہم دونوں اطراف کے دلائل پڑھتے ہیں تو معاملہ مزید سنگین ہو جاتا ہے اور معلوم ہوتا ہے بے سمتی اور خلط مبحث تو تھا ہی فکری بد دیانتی کا عنصر بھی نمایاں ہے۔ہر دو گروہ حیات قائد کا مطالعہ اپنی اپنی عصبیت کے اندر رہ کر کرتے ہیں۔سیکولر احباب کو حیات قائد سے صرف سیکولرزم نظر آتا ہے اور وہ ان کی مذہب پسندی کے ڈھیروں حوالہ جات کو یکسر نظر انداز کر دیتے ہیں اسی طرح مذہبی رجحانات رکھنے والے احباب جب قائد کی زندگی کا مطالعہ کرتے ہیں تو انہیں حیات قائد کے صرف وہ پہلو نظر آتے ہیں جو وہ دیکھنا چاہتے ہیں۔اس رویے کو نرم سے نرم الفاظ میں بد دیانتی کہا جائے گا اور علم کی دنیا میں ایسے رویوں کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔ہاں اگر مقصد صرف اپنے اپنے گروہوں کو ان کی موجود عصبیتوں کے حق میں دلائل فراہم کرنا ہو تو دوسری بات ہے۔جو ان عصبیتوں کا طوق اپنی گردنوں سے نہیں نکال سکتے وہ ان سطور کے مخاطب نہیں،تاہم جو حضرات ایک معروضی تجزیے کا ذوق رکھتے ہیں انہیں چند سوالات پر غور فرما لینا چاہیے۔
فرض کریں ہم مان لیتے ہیں قائد اعظم ایک سیکولر آدمی تھے۔(اگر چہ حقائق اس کے بر عکس ہیں)۔اب کیا اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ چونکہ قائد اعظم ایک سیکولر انسان تھے اس لیے پاکستان کو بھی ایک سیکولر ریاست ہونا چاہیے؟یہ مطالبہ تو خود سیکولر احباب کی فکری ساخت کی مبادیات کے خلاف ہے کہ کسی ایک شخص کی رائے کا اس حد تک مقلد ہو جایا جائے کہ پورے سماج کو اس کی رائے کے مطابق زندگی گزارنے کا حکم دے دیا جائے۔اگر سماج کی غالب اکثریت مذہبی رجحانات رکھتی ہو تو کیا ان کو اپنی سوچ اور رائے کے مطابق زندگی گزارنے کا حق ہے یا انہیں کہا جائے گا کہ تمہیں یہ حق نہیں رہا کیونکہ قائد اعظم سیکولرزم چاہتے تھے؟سیکولرزم تو ، ہمیں بتایا جاتا ہے، انسانی آزادیوں کا قائل ہے پھر سیکولر احباب کے اس رویے کو کیا نام دیا جائے کہ وہ پورے سماج کو کہتے ہیں تم اس ریاست کو اسلامی ریاست نہیں بنا سکتے کیونکہ قائد اعظم سیکولر تھے،اور چونکہ وہ سیکولر تھے اس لیے پاکستان کو سیکولر ہونا چاہیے۔سیکولر احباب بتائیں،پارلیمان کی قانون سازی پر ایک فرد کی رائے کوکس طرح فوقیت دی جا سکتی ہے؟اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے احکامات پر تو یہ سیکولر حضرات اپنی ذاتی رائے کو ترجیح دیتے ہیں لیکن معاشرے سے ان کا مطالبہ ہے کہ وہ ایک شخص کی رائے پر سب کچھ قربان کر دیں اور پاکستان کو سیکولر ملک بنا دیں۔دل آزاری پر معذرت خواہ ہوں لیکن یہ رویہ فکری بد دیانتی نہیں تو اور کیا ہے۔آپ سیکولرزم کا پرچار کیجیے لیکن اس کے لیے اپنے ہی بنیادی آدرشوں کو تو پامال نہ کیجیے۔یہ حضرات اگر کہیں ہم سیکولرزم چاہتے ہیں تو ان کی رائے کا احترام کیا جانا چاہیے لیکن اگر یہ کہیں سب سیکولر ہو جاؤ کیونکہ قائد اعظم سیکولر تھے تو یہ رویہ خود سیکولرزم کے مبینہ اصولوں کی نفی قرار پائے گا۔
جب سیکولر احباب نے اپنے مقصد کے حصول کے لیے قائد اعظم کی ذات کو استعمال کیا اور سیاق و سباق سے ہٹ کر ان کے چند خطابات کی اپنی مرضی سے تشریح کر کے انہیں سیکولر ثابت کرنے کی کوشش کی تو رد عمل میں اب مذہبی طبقے نے یہ ثابت کرنا شروع کر دیا کہ قائد اعظم تو ایک مذہبی شخصیت تھے۔یہ ردعمل محض قائد کی فکر و شخصیت کی تفہیم تک محدود ہوتا تو ایک اچھی مشق ہوتی کہ قائد کی حقیقی فکر کی تفہیم آسان ہوتی۔لیکن انہوں نے بھی وہی بنیادی غلطی کی جو سیکولر احباب نے کی۔انہوں نے قائد کو مذہبی آدمی ثابت کیا اور پھر کہا چونکہ قائد مذہبی آدمی تھے اس لیے پاکستان کو اسلامی ریاست ہونا چاہیے۔اب پاکستان کو اسلامی ریاست بنانے کے لیے یہ سرے سے کوئی دلیل ہی نہیں کہ قائد اعظم بھی مذہبی شخصیت تھے۔دین کے باب میں حجت صرف قرآن و سنت ہیں۔اور قرآن و سنت میں کہیں نہیں لکھا کہ دین پر عمل کرنے سے پہلے یہ بھی دیکھ لینا کہ قائد اعظم ایسا چاہتے تھے کہ نہیں۔اگر یہ مان بھی لیا جاے کہ قائد اعظم ایک سیکولر انسان تھے تو اس کا یہ مطلب کیسے ہو سکتا ہے کہ اب پاکستان میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا قانون نافذ نہیں ہو گا۔اس صورت میں قائد کے سارے احترام کا ساتھ ان کی رائے کو ایک طرف رکھ دیا جائے گا قرآن و سنت پر عمل کیا جائے گا۔
یہ بحث کامل خلط مبحث ہے۔اور احباب پوری توانائی سے اس لاحاصل بحث میں وقت ضائع کر رہے ہیں۔اور ہر دو گروہ اس بحث میں فکری بد دیانتی کے مرتکب بھی ہو رہے ہیں۔پاکستان کی فکری شناخت کے تعین کی دو صورتیں ہیں۔ اول مذہبی بیانیہ، اس میں حتمی فیصلہ قرآن و سنت کا ہے کسی اور شخصیت کا جتنا بھی احترام ہو اس کی رائے کو دینی احکامات پر فوقیت نہیں دی جا سکتی۔دوم: سیکولر بیانیہ ،اس میں عوام الناس فیصلہ کریں گے کہ انہوں نے کس شناخت کے ساتھ زندگی گزارنا ہے ۔اس میں پارلیمان اگر اسلام کو ریاستی مذہب قرار دیتی ہے تو پھر کوئی شخصی رائے اسے سیکولر نہیں بنا سکتی۔
پاکستان کی فکری شناخت کے باب میں حجت بنائے بغیر البتہ قائد کی فکر کا مطالعہ ہونا چاہیے کہ وہ کس رجحان کے آدمی تھے۔ہر دو گروہ قائد کی زندگی کے صرف وہ پہلو بیان کر رہے ہیں جن سے ان کے موقف کو تقویت ملتی ہے۔ ہر گروہ کی جانب سے اپنے حق میں پیش کیے ڈھیروں دلائل کے مطالعے سے ایک عام آدمی پریشان ہو جاتا ہے کہ قائد تھے کیا، مذہبی یا سیکولر؟میرا کیال ہے وہ نہ سیکولر انتہا پسند تھے نہ مذہبی انتہا پسند۔وہ نہ لبرل فاشسٹ تھے اور نہ ہی مُلائیت کے علمبردار۔وہ ایک جدید جمہوری اسلامی ریاست کے بانی تھے۔ مسلم دنیا میں ملائیت( تھیو کریسی ) اور شہنشاہیت کے مروجہ نظاموں کے بر عکس
پاکستان دنیائے اسلام میں پارلیمانی جمہوریت کا پہلا تجربہ تھا۔جمہوریت کا یہ تصور مسلم دنیا میں اس سے پہلے کہیں نہ تھا اس لیے سیکولر احباب کو لگتا ہے قائد سیکولر تھے۔چونکہ قائد نے مذہب کی بار بار بات کی اس لیے مذہبی طبقے کو لگتا ہے وہ ان جیسے تھے۔لیکن یہ سچ کوئی نہیں مان رہا کہ قائداعظم ایک جدید اسلامی جمہوری ریاست کے بانی تھے۔جب تک اس حقیقت کی تفہیم نہیں ہو گی نفسیاتی گرہیں نہیں کھلیں گی۔
*****