Home » کالم » اورمضامین/کالم » 4 تصادم سے گریز میں ہی جمہوریت کی بقاء ہے

4 تصادم سے گریز میں ہی جمہوریت کی بقاء ہے

احتجاج  جمہوریت کا حسن ہے اور پرامن احتجاج روکنے کیلئے ڈنڈے ، گنڈاسے اٹھا کر سیاسی ماحول کو مدر کرنا دانشمندی نہیں کون کہتا ہے کہ حکمرانوں کو کچھ نہ کہو، ان کی کوتاہی کی نشاندہی نہ کی جائے لیکن مثبت تنقید سے اپنی بھی اصلاح کریں حکومتی کارکردگی کے حوالے سے ’’وائٹ پیپر کی یہ ریت سابقہ حکومتوں کے دور میں ڈالی گئی اور اس کا مقصد جائز طورپر حکومت کے غلط کام کی نشاندہی کرکے صحیح سمت متعین کرنا نہیں بلکہ آپس کی محاذ آرائی کو اور بڑھانا اور کردار کشی تھا۔ ماضی کے ادوار پر نظر ڈالی جائے تو وہاں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان انتقام و نفرت کی سیاست کے سوا کچھ نہیں ملتا یہاں تک کہ ایک دوسرے کو سیکورٹی رسک اور غدار بھی کہا گیا ۔ ایک دوسرے کی پارٹیوں کے عہدیداروں کے خلاف مقدمات درج ہوتے رہے اورگرفتاریاں ہوتی رہیں۔ کوچہ سیاست میں آج بھی لہوگرمانے اور گرانے کامرحلہ درپیش ہے۔ اقتدار کے کراؤن تک رسائی ہی شاید مطمع نظر ٹھہرا لیا گیا ہے ضد اور انا ہے کہ دونوں طرف پھنکار رہی ہے ۔ چیئرمین تحریک انصاف ہر حال میں 30 ستمبر کو رائیونڈ مارچ کیلئے کمربستہ ہیں ۔ ان کے بقول ملک کا آئین انہیں احتجاج کا حق دیتا ہے۔ حکمران جماعت کے بعض لوگ اس انتہا پسندی کو شہ دے رہے ہیں اور کارکنوں کو امادہ فساد کررہے ہیں ۔ سیاسی درجہ حرارت اس قدر آگے تک لے جانا اور کارکنوں کو تشدد پر اکسا کر ڈنڈا بازی کی تربیت دینا کسی سیاسی جماعت میں تشدد اور انتہا پسندی کے بڑھتے ہوئے رجحانات کی عکاسی قرار دیا جاسکتا ہے۔ پرامن احتجاج سب کا حق ہے لیکن مار دھاڑ ، گھیراؤ جلاؤ کی نہ تو آئین میں کوئی گنجائش ہے نہ قانون اس کی اجازت دیتا ہے۔ دنیا میں کوئی لیڈر جو انسانی جان کی حرمت سے واقف ہو اور ریاست کے ساتھ تصادم کی سوجھ بوجھ رکھتا ہو جسے عوام سے ہمدردی ہو وہ کبھی ایسا راستہ اختیار نہیں کرتا ۔ جدوجہد ہمیشہ آئین و دستور کے مطابق جمہوری اور مسلمہ اخلاقی روایات کے مطابق ہونی چاہیے معاشرہ کسی تخریب ، اشتعال اور تصادم سے گزرے بغیر تبدیلی سے دوچار ہو۔ ہمارے ہاں سیاست کی یہ ایک تلخ حقیقت رہی ہے کہ عوامی بیانات محض پولیٹیکل پوائنٹ اسکورنگ اور الفاظ سے سیاست چمکانے کا ایک عمل ہے، عوام کا کبھی جمہوریت ، کبھی آمریت ، کبھی انصاف اور کبھی مذہب کے نام پر استحصال کیا جاتا رہا ہے۔ دھونس ، ہر کام کیلئے ناجائز دباؤ ڈالنا اور ڈلوانا اور شارٹ کٹ کے ذریعے آگے بڑھنے کی کوشش کرنا یہی وہ سماجی رویے ہیں جن کی قبولیت اور عدم قبولیت ہی اس بات کا تعین کرتی ہے کہ کوئی رہنما کتنا عالیٰ ظرف ہے یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ سیاسی شخصیتوں کے تصادم میں فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوتا ہے ۔ اگر اختلافات کو تصادم کا رنگ دے دیا جائے تو تعمیری سوچ ختم ہو جاتی ہے ۔ پاکستان میں یہی کہانی دہرائی جارہی ہے۔جب ہم ہاتھوں میں ڈنڈے اور جیبوں میں پتھر بھر کر اسلحے کے سہارے سڑک پر آتے ہیں تو ساری دنیا ہماری وطن پرستی پر عش عش کر اٹھتی ہے۔ قوم دھرنوں، گھیراؤ جلاؤ اور ایجی ٹیشن کے ہولناک نتائج پہلے ہی بھگت چکی ، سیاسی مسائل کا حل سیاسی انداز میں تلاش کرنا چاہیے ملک جو پہلے ہی حالت جنگ میں ہے اور ہماری فورسز نے دہشت گردی کے خاتمے تک اس جنگ کو لڑنے کے عزم کا اظہار کیا ہے ان کی قربانیوں کو ایسے متوقع پرتشدد احتجاج کی نذر کرنا کوئی دانشمندی نہیں ہے۔
تحریک انصاف کی قیادت کو بھی چہے کہ وہ اپنا پلان واضح کرے اور ہرقسم کے ابہام کو دور کرے اور ہر قسم کے اختلافات اور معاملات کو جمہوری طریقوں سے حل کرے ۔ ایک بڑے مارچ کو روکنا ممکن نہیں جب ریاستی ادارے اسے نہیں روک سکتے تو سیاسی کارکن کیسے روکیں گے ۔ بہترین حل یہی ہے کہ حکومت اس احتجاج کی اجازت دے دے اور پولیس اور انتظامیہ کو یہ ذمہ داری سونپے کہ وہ تحریک انصاف کی انتظامیہ کے ساتھ مل کر اس مارچ کا روٹ اور حدود طے کرے ۔ بعض عناصر پرتشدد سیاست کو فروغ دے کر جمہوریت اور نظام کو خطرات سے دوچار کرنا چاہتے ہیں۔ سیاسی اختلافات کو مذاکرات کی میز پر حل کریں اور اپوزیشن اپنا موقف اس ایوان میں ارکان کے سامنے رکھے جو بہترین پلیٹ فارم ہے۔ اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کیا جائے تاکہ انصاف مل سکے ۔ صرف عوام کو سڑکوں پر لاکر اور تلخی بڑھا کر مقاصد حاصل نہیں کیے جاسکتے فی الحال معاملہ کچھ یوں ہے ۔ رائیونڈ کا رخ کرنے پر تحریک انصاف سیاسی تنہائی کا شکار ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری بھی لندن روانہ ہوچکے ہیں۔ پانامہ لیکس پر ساتھ کھڑی جماعتیں بھی رائیونڈ جانے سے متفق نہیں۔ پیپلز پارٹی صاف انکار کرچکی ہے۔ جماعت اسلامی بھی رضا مند نہیں۔ تحریک انصاف کو اصل دھچکا اس وقت لگا جب طاہر القادری نے رائیونڈ جانے سے انکار کیا۔ طاہر القادری جتنی تیزی سے منظر پر ظاہر ہوتے ہیں اس سے کہیں زیادہ تیزی کے ساتھ اوجھل بھی ہو جاتے ہیں ۔ بلا شبہ وہ ایک شعلہ بیان مقرر اور پرجوش سیاسی قائد ہیں مگر یہ کسی کو پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کب کیا کریں ۔خان صاحب کو یہ بات جان لینی چاہیے کہ جو لوگ شیشے کے گھروں میں رہتے ہیں وہ ایک دوسرے پر پتھر نہیں پھینکتے ۔ اگر میاں صاحب کا احتساب ہوتا ہے تو آصف علی زرداری کیسے بچ سکتے ہیں ۔ حکومت گرنے کی صورت میں عمران کا راستہ صاف ہوگا یہ پیپلز پارٹی کو کسی صورت قبول نہیں۔ اسفند یار ولی اور مولانا فضل الرحمن عمران خان کے منطقی حریف ہیں ۔ خان نے ایک کو اقتدار سے محروم کیا ہے تو دوسرے کا راستہ روکا ہے ۔ ان کی دلی خواہش ہوگی کہ وہ غلطی پر غلطی کریں اور ان کی مقبولیت میں کمی ہو جائے ۔ پی ٹی آئی میں خلفشار روز بروز بڑھ رہا ہے۔ پی ٹی آئی کے سابق ایڈیشنل سیکرٹری سیف اللہ نیازی کا احتجاجاً استعفیٰ اور یوتھ ونگ کا جہانگیر ترین کے خلاف اعلان بغاوت خان صاحب کیلئے تشویش کا باعث ہونا چاہیے۔ عمران خان کو جاتی امراء مارچ کرنے کی بجائے پارٹی کے تنظیمی امور پر توجہ دینی چاہیے۔ 2018ء کا الیکشن بھی اب زیادہ فاصلے پر نہیں ۔ ایم کیو ایم شکست و ریحت کا شکار ہے لہذا ایم کیو ایم سے کسی قسم کی امید یا توقع کی وابستگی عبت ہے۔ جماعت اسلامی بدقسمتی سے نہ تیرہ میں ہے نہ تین میں خیبرپختونخواہ میں تحریک انصاف کی کارکردگی بھی اتنی قابل رشک نہیں کہ عوام اسے بہتر حکمران تصور کریں ۔ عمران خان نے سیاست کے عملی میدان میں پختگی ، بصیرت اور بہتر سمجھ بوجھ کا ثبوت نہیں دیا۔ تجزیوں کے مطابق 2018ء میں مسلم لیگ(ن) کے سویپ کرنے کے امکان ہیں۔ اس کی وجہ تمام تر تنقید کے ب اوجود مسلم لیگ(ن) کی ضمنی انتخابات میں بہتر کامیابی معاشی راہداری ، سی پیک کی تکمیل ، گوادر کی اہم بندرگاہ کی تعمیر سے پسماندہ علاقوں میں خوشحالی آنے اور عالمی سطح پر پاکستان کی اہمیت میں اضافہ

About Admin

Google Analytics Alternative