Home » کالم » 6 دسمبر اور بابری مسجد کی شہادت
asghar-ali

6 دسمبر اور بابری مسجد کی شہادت

asghar-ali

ہندوستان بھر کے مسلمان 6 دسمبر کو یومِ سیاہ کے طور پر مناتے ہیں کیونکہ 23 برس قبل یعنی 6 دسمبر 1992 کو جنونی ہندوﺅں نے بابری مسجد کو شہید کر کے بھارتی مسلمانوں کے جذبات کو جو ٹھیس پہنچائی تھی اس کا مداوا آج تک نہیں ہو سکا بلکہ انتہا پسند ہندو گروہ کھلے عام اپنے اس غیر انسانی جرم کو بطور کارنامہ بیان کرتے ہیں اور سنگھ پریوان میں شامل BJP سمیت ساری جماعتیں اس دن کو ” گرو دیوس“ یعنی یومِ فخر کے طور پر مناتی ہیں ۔
اس امر سے سبھی آگاہ ہیں کہ یہ گروہ ان مذموم عزائم کا اظہار کر رہے ہیں کہ وہ جلد ہی متھرا میں واقع عید گاہ مسجد اور بنارس کی عالم گیری مسجد کو بھی شہید کر دیں گے اور ان کی جگہوں پر بالترتیب کرشن مندر اور شیو مندر بنایا جائے گا ۔ اس کے علاوہ بھی پورے ہندوستان میں 3 ہزار دیگر مسجدوں اور درگاہوں کی فہرست جاری کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ جلد یا بدیر ان تمام عبادت گاہوں کو مسمار کر دیا جائے گا ۔
بابری کی شہادت کے 23 سال مکمل ہونے پر غیر جانبدار حلقوں نے اس معاملے کا جائزہ لیتے کہا ہے کہ اتر پردیش کے ضلع فیض آباد کے قصبے ایودھیا میں واقع 4 سو سالہ بابری مسجد کی مسجد کو جس طور شہید کیا گیا اس سے بھارتی سیکولر ازم کے دعوو وں کی قلعی پوری طرح کھل چکی ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ عالمی برادری کے اکثر حلقے اپنی وقتی مصلحتوں کے پیش نظر اس انسانی المیے کا خاطر خواہ ڈھنگ سے اعتراف نہیں کر رہے جس کی وجہ سے بھارت میں ہندو انتہا کے جذبات اتنا فروغ پا چکے ہیں کہ اٹھارہ ماہ پہلے BJP جیسی انتہا پسند جماعت بھاری اکثریت سے چوتھی بار حکومت بنانے میں کامیاب ہو چکی ہے ۔
مبصرین کے مطابق بابری مسجد کی شہادت میں BJP اور سنگھ پریوار کا جو کردار رہا ہے اس سے تو ایک عالم آگاہ ہے مگر یہ بھی ایک کھلا راز ہے کہ کانگرس سمیت کم و بیش سبھی بھارتی جماعتیں اعلانیہ یا غیر اعلانیہ طور پر اس جرم میں ملوث ہیں کیونکہ جب یہ جرم سر زد ہوا تو بھارت میں کانگرس کی حکومت تھی اور وزیر اعظم نرسیما راﺅ چاہتے تو اس المیے کو وقوع پذیر ہونے سے رکوا سکتے تھے اور اگر ذرا سا بھی خلوص نیت ہوا تو اس گھناﺅنے جرم میں ملوث افراد کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جا سکتا تھا کیونکہ 1996 تک کانگرس کی حکومت قائم رہی تھی ۔
اس کے علاوہ مئی 1996 سے اپریل 1997 تک دیوی گوڈا بھارتی وزیر اعظم رہے جو خود کو بہت بڑا سیکولر شخص قرار دیتے نہیں تھکتے مگر تب بھی اس غیر انسانی فعل کے مرتکب تمام افراد یونہی کھلے عام پھرتے رہے ۔اپریل 1997 سے مارچ 1998 تک اندر کمار گجرال بھارتی وزیر اعظم رہے ۔ وہ بھی سیکولر ازم کے بہت بڑے چمپئن رہے مگر اس ضمن میں کچھ نہ کر پائے ۔تب مارچ 1998 سے مئی 2004 تک واجپائی کی زیر قیادت BJPکا دورِ حکومت شروع ہوا ۔تب تو گویا بابری مسجد کی شہادت کے مجرموں کی لاٹری نکل آئی۔ ایڈوانی کو وزیر داخلہ اور نائب وزیر اعظم مقرر کر کے گویا انعام سے نوازا گیا تو ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی مرکزی وزارت کے حقدار قرار پائے ۔ ونے کٹیار کو نہ صرف لوک سبھا رکن بنایا گیا بلکہ وزارت بھی دی گئی ۔ اوما بھارتی کو مدھیہ پردیش کی وزارت اعلیٰ ملی ۔ اسی طرح سوامی چمیانند مرکز میں نائب وزیر داخلہ بنے ۔ اس فہرست میں اور بھی بہت سے نام شامل تھے ۔ خود واجپائی نے دسمبر 2000 میں لوک سبھا میں گوہر افشانی کی کہ ” بابری مسجد کو شہید کر کے رام مندر کی تعمیر تمام بھارتی عوام کی امنگوں کی عکاس ہے اور BJP اس ادھورے ایجنڈے کو بہر طور پورا کرے گی ۔“
مئی 2004 سے 10 سال تک کانگرس اور سونیا گاندھی کی حکومت رہی مگر اس معاملے کے کسی ملزم کو ایک گھنٹے کی بھی سزا نہ سنائی جا سکی اور اب گذشتہ 18ماہ سے تو گویا مودی جیسی انتہا پسند شخصیت ہی بھارت کے اقتدار اعلیٰ پر قابض ہے ۔ ایسے میں کوئی بہتری کی امید کرے بھی تو کیسے ۔بہرحال ایسے جرم کا ارتکاب اگر دنیا کے کسی مہذب معاشرے میں ہوتا تو شاید متعلقہ سوسائٹی کے سبھی بالا دست مارے ندامت کے کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہتے مگر غالباً د نیا کی سب سے بڑی ”جمہوریت“ کے تو رنگ ڈھنگ ہی نرالے ہیں ۔

About Admin

Google Analytics Alternative