کالم

77ویںیوم آزادی پر تجدید عہد اورکشمیریوں کا یوم سیاہ

گزشتہ روز بدھ چودہ اگست2024ءکو ملک بھر میں77واں یوم آزادی اس عزم کی تجدید کےساتھ منایاگیا کہ تحریک آزادی ¿پاکستان کے جذبے کے تحت ملک کو حقیقی اسلامی فلاحی ریاست بنایا جائے گا۔دن کا آغاز وفاقی دارالحکومت میں31اور صوبائی دارالحکومتوں میں اکیس اکیس توپوں کی سلامی سے ہوا۔ جشن آزادی کی مناسبت سے سرکاری اور نجی عمارتوں کےساتھ ساتھ گلیوں، بازاروں اور عوامی مقامات کو سربز پرچموں اور برقی قمقموں سے سجایا کیا گیا۔ پاکستان ایک طویل اور لازوال جدوجہد کے بعد مارض وجود میں آیا ہے ۔پاکستان کی ترقی و خوشحالی ایک اٹل حقیقت ہے ۔پاکستان کی 24 کروڑ آبادی ہے اور اس میں 65% آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہیں جن کی عمریں 30 سال سے کم ہے ۔پاکستان جغرافیائی اعتبار سے خطے کا ایک اہم ملک ہیں۔اسکے پاس 1046کلومیٹر طویل سمندری پٹی موجود ہے جس سے عالمی سمندری راستوں تک باآسانی رسائی حاصل ہے ۔سی پیک اور تاپی جیسے منصوبے خطے اور عالمی تجارت کے فروغ کےلئے اہم منصوبے ہیں جس سے پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ،پاکستان کا وسیع و عریض تاریخی و ثقافتی ورثا انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔پاکستانی میں قدرتی ورثے موجود ہیں جس میں صحرا، سمندر، جھیلیں ، بل کھاتے دریا، بلند و بالا پہاڑ موجود ہیں ۔گلگت بلتستان میں دنیا کی دوسری بلند چوٹی کے ٹو موجود ہے ،سوات میں بدھ مت کے تاریخی سٹوپا مجسمے موجود ہیں جنہیں مشہور بادشاہ آشوکا کی جانب سے بنایا گیا ۔مغلیہ دور کے کئی شاہکار جن میں شاہی قلعہ، بادشاہی مسجد ، شیش محل اور ہرن منار جیسے تاریخی ورثے موجود ہیں جہاں دنیا بھر سے سیاح تشریف لاتے ہیں ۔پاکستان دنیا بھر میں انسداد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر رہا ہے اور ہزاروں جانوں کی قربانی دے چکا ہے ۔پاکستان کا مستقبل تابناک ہے اور ترقی کی منازل طے کرنے میں ہر پاکستانی بڑھ چڑھ کر اپنا خون پسینہ ایک کرے گا۔
دوسری جانب کراچی میں مزار قائد پر گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب منعقد ہوئی، پاکستان نیول اکیڈمی کے کیڈٹس نے مزار قائد پر اعزازی گارڈز کے فرائض سنبھالے۔ کمانڈنٹ پاکستان نیول اکیڈمی کے کموڈور محمد خالد تقریب کے مہمان خصوصی تھے، پریڈ کمانڈر کے فرائض لیفٹیننٹ کمانڈر احمد حسن تمغہ بسالت نے سرانجام دیے۔پاکستان نیول اکیڈمی کے کیڈٹس ہر سال 14 اگست کو یہ ذمہ داری سنبھالتے ہیں۔یوم آزادی کی مناسبت سے صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے الگ الگ پیغامات جاری کئے۔ اپنے الگ الگ پیغامات میںانہوں نے پوری پاکستانی قوم کو یوم آزادی پر مبارکباد دی۔ صدر آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ یہ دن حق خودارادیت کےلئے برصغیر کے مسلمانوں کی تاریخی جدوجہد کی یاد دلاتا ہے۔ آج کے دن ہمیں اپنے اختلافات بھلا کر اتحاد سالمیت اور معاشی استحکام کےلئے پرعزم ہوکر کام کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے قانون کی حکمرانی برقرار رکھنے اور جمہوری اداروں کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان اپنے جائز حق کےلئے جدوجہد کرنے والے بھارت کے غیر قانونی زیرقبضہ جموں و کشمیر اور فلسطین کے عوام کی حمایت کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔اسی طرح وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اپنے پیغام میں اندرون و بیرون ملک مقیم پاکستانی عوام کو دلی مبارک باد دی۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنے آباد و اجداد اور تحریک پاکستان کے بے شمار گمنام ہیروز کو عظیم قربانیوں پر خراج عقیدت پیش کرتے ہیں جنہوں نے جنوبی ایشیا میں لاکھوں مسلمانوں کےلئے ایک آزاد ملک کے حصول کےلئے انتھک جدوجہد کی جہاں وہ اپنے عقائد اور اقدار کے مطابق زندگی بسر کرسکیں۔
77ویں یوم آزادی کے موقع پر پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں آزادی پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل عاصم منیرنے کہا کہ ہم اس ذات باری تعالی کے شکر گزار ہیں جس نے ہمیں آزادی کی نعمت عطا کی اور حوصلہ، ہمت اور طاقت عطا کی کہ ہم ناصرف اس مملکت خداداد کا دفاع کر سکیں بلکہ اس مسلمہ حقیقت کو آنے والی نسلوں کےلئے ایک کامیاب اور عظیم مثال بنا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے قوم شعور کی بنیاد نظریہ پاکستان ہے جو دو قومی نظریے پر مبنی ہے، اس تاریخی اور دائمی نظریے نے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک علیحدہ شناخت، ثقافت اور تہذیب قائم کرنے کا موقع فراہم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ قیام پاکستان کا مقصد محض ایک جغرافیائی خطے کا حصول نہ تھا بلکہ ایک ایسے فلاحی ریاست کا قیام تھا جہاں اسلام کے سنہری اصولوں کی بنیاد پر معاشرہ امن و سلامتی اور افہام و تفہیم سے مسلمانوں اور اس ملک میں موجود تمام دوسرے مذاہب کے لوگوں کو آزادی اور تحفظ میسر کر سکے۔ آزادی پاکستان علامہ اقبال کی مدبران سوچ، قائد اعظم محمد علی کی عظیم قیادت اور برصغیر کے لاکھوں مسلمانوں کی بے لوث قربانیوں کا ثمر ہے،یہ ملک ناصرف قائم رہنے بلکہ دنیائے عالم میں نمایاں مقام حاصل کرنے کےلئے معرض وجود میں آیا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے بزرگوں نے اپنے جداگانہ تشخص کی خاطر ہجرت کی صعوبتیں برداشت کیں اور بے شمار قربانیاں دیں، آج کے دن ہم تحریک پاکستان کے قائدین اور کارکنان کو خراج عقیدت پیش کرنے کےساتھ ساتھ ان شہدا، غازیوں اور لواحقین کو بھی سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے ان قربانیوں کی بنا پر آزادی کے پرچم کو سربلند رکھا، بلاشبہ آج ہمارا ان آزاد فضاو¿ں میں زندگی بسر کرنا شہدا کی عظیم قربانیوں کی مرہون منت ہے۔
پاکستان اپنا یوم آزادی چودہ اگست مناتاہے جبکہ بھارت 15اگست کو یہ دن مناتا ہے۔بھارت کے یوم آزادی کے جشن میں مظلوم کشمیری رنگ میں بھنگ ڈال دیتے کیونکہ دنیا بھر جہاں جہاں کشمیری مقیم ہیں وہ اسے یوم سیاہ کے طور لیتے ہیں۔ ہر سال کی طرح امسال بھی یہ خبر سامنے آئی ہے کہ آج جمعرات کے روز بھارت کے یوم آزادی یعنی کشمیریوں کے یوم سیاہ کے موقع پر یورپی ہیڈ کوارٹرز برسلزمیں بھارتی سفارتخانے کے سامنے ایک بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا جائےگا۔ اس مظاہرے کا اہتمام کشمیرکونسل یورپ کررہی ہے، مظاہرہ مقامی وقت کے مطابق صبح گیارہ بجے شروع ہوگا۔برسلزکے مظاہرے میں کشمیریوں اور پاکستانیوں کے علاوہ کشمیریوں سے ہمدردی رکھنے والی دیگر کمیونٹیز، سماجی تنظیموں کے نمائندوں کے علاوہ سیاسی و سماجی شخصیات بھرپور شرکت کرتے ہیں۔ کشمیرکونسل ای یو کی جانب سے کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیرکے عوام کےخلاف بھارتی ریاستی دہشت گردی میں اضافہ ہوا اور اسی وجہ سے مظلوم کشمیری گونا گون مشکلات کا شکار ہیں، بھارت کشمیریوں کے خلاف سنگین جرائم میں ملوث ہے ہم اس وقت تک بھارت کے یوم آزادی کو یوم سیاہ مناتے رہیں گے جب تک جموں و کشمیرکو بھارت سے آزادی مل نہیں جاتی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے