Site icon Daily Pakistan

9 مئی کی کہانی۔ فرانزک رپورٹ کی زبانی

قومی سلامتی کے اکثر ماہرین کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک ایسا موڑ ثابت ہوئے ہیں جن کے اثرات وقت گزرنے کے ساتھ مزید واضح ہوتے جا رہے ہیں۔قانونی اور عدالتی ماہرین کی رائے ہے کہ ا ن واقعات کو محض جذباتی ردِعمل یا وقتی سیاسی اشتعال قرار نہیں دیا جاسکتا کیوں کہ اب سامنے آنے والی فرانزک رپورٹس اور عدالتی کارروائیاں یہ ظاہر کر رہی ہیں کہ معاملہ اس سے کہیں زیادہ سنگین اور منظم نوعیت کا تھا۔ اسی تناظر میں پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری کی تازہ رپورٹ نے ایک بار پھر 9 مئی کے پس منظر اور کرداروں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔PFSL کی رپورٹ کے مطابق پشاور میں 9 مئی کو پیش آنے والے پرتشدد واقعات سے متعلق ویڈیو فوٹیج میں خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی موجودگی کی تصدیق کی گئی ہے۔ رپورٹ میں سابق صوبائی وزرا کامران بنگش، تیمور جھگڑا اور عرفان سلیم کی شناخت بھی ویڈیوز کے ذریعے ثابت ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ فوٹیج پشاور پولیس کی جانب سے فراہم کی گئی تھی، جسے پولیس اسٹیشن شرقی پشاور کے ذریعے فرانزک جانچ کے لیے بھیجا گیا۔یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ فرانزک لیبارٹری نے 16 ویڈیو کلپس پر مشتمل ایک یو ایس بی کا نہایت باریک بینی سے تجزیہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق آڈیو ویژول مواد کا فریم بہ فریم جائزہ لیا گیا، جس کے دوران بعض ویڈیوز میں کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ کے شواہد نہیں ملے، جبکہ چند کلپس میں افراد اور تحریر کی شمولیت کے آثار سامنے آئے۔ مزید یہ کہ دو ویڈیوز، جن میں وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور عرفان سلیم دکھائی دیتے ہیں، ان میں کلپ اسپلائسنگ کے شواہد بھی پائے گئے۔تاہم فرانزک ماہرین کے مطابق اس تکنیکی پہلو کے باوجود چہروں کی شناخت ایک علیحدہ اور مضبوط عمل ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ سہیل آفریدی، عرفان سلیم، کامران بنگش اور تیمور جھگڑا کی پروفائل تصاویر کا ویڈیوز میں موجود افراد سے موازنہ کیا گیا اور چاروں صورتوں میں شناخت کی تصدیق ہوئی۔ قانونی ماہرین کے بقول عدالت میں اس نوعیت کی بصری شناخت ایک اہم شہادت سمجھی جاتی ہے، خاص طور پر جب اسے دیگر شواہد کے ساتھ جوڑا جائے۔یہ امر خصوصی توجہ کا حامل ہے کہ یہ فرانزک تجزیہ 19 دسمبر سے 23 دسمبر 2025 کے درمیان مکمل ہوا اور رپورٹ میں واضح طور پر درج ہے کہ تجزیہ صرف بصری مواد تک محدود رکھا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رپورٹ کسی سیاسی تاثر یا مفروضے پر نہیں بلکہ تکنیکی حدود کے اندر رہتے ہوئے تیار کی گئی، جو اس کی قانونی حیثیت کو مزید مضبوط بناتا ہے۔علاوہ ازیں انسدادِ دہشت گردی عدالت پہلے ہی پشاور پولیس کو ہدایت دے چکی تھی کہ ریڈیو پاکستان پر حملے کے مقدمے میں فرانزک رپورٹ حاصل کی جائے۔ پولیس حکام کے مطابق رپورٹ موصول ہونے کے بعد وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو بطور ملزم نامزد کرنے کے حوالے سے مشاورت شروع کر دی گئی ہے۔ تحقیقاتی افسر اور ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے آئی جی خیبر پختونخوا کو اس پیش رفت سے آگاہ کیا، جبکہ پولیس کے قانونی شعبے سے بھی رائے لی جا رہی ہے۔تحقیقاتی ٹیم کے ارکان کا کہنا ہے کہ PFSL رپورٹ کا تفصیلی مطالعہ جاری ہے اور اب پولیس قانونی طور پر ایک ضمنی چالان عدالت میں جمع کرانے کی پابند ہے۔ ریڈیو پاکستان حملہ کیس کی ایف آئی آر پولیس اسٹیشن شرقی میں درج ہے، اور وزیر اعلیٰ کی مبینہ موجودگی سے متعلق فوٹیج اسی مقدمے کے تحت فرانزک تصدیق کے لیے بھیجی گئی تھی۔ پولیس کے مطابق رپورٹ تین روز قبل موصول ہوئی اور باقاعدہ طور پر عدالت میں جمع کرا دی گئی ہے۔سیاسی محاذ پر اس پیش رفت کے بعد بیانات کا سلسلہ بھی تیز ہو گیا ہے۔ پنجاب کی وزیر اطلاعات و ثقافت عظمیٰ بخاری نے فرانزک رپورٹ کو 9 مئی کے واقعات سے متعلق ایک فیصلہ کن ثبوت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پشاور میں ریڈیو پاکستان کی عمارت، ٹول پلازوں اور ایمبولینسوں کو نذرِ آتش کرنے کے واقعات کسی جذباتی ہجوم کا عمل نہیں بلکہ ایک منظم سازش کا حصہ تھے۔ ان کے بقول منصوبہ بندی انہی عناصر نے کی جو بعد ازاں تشدد میں براہِ راست ملوث پائے گئے اور ان کے بیانات، بشمول مراد سعید، ریکارڈ پر موجود ہیں۔یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ حکومتی موقف کے مطابق ماضی میں بھی 9 مئی سے متعلق شواہد قوم کے سامنے رکھے گئے، مگر تحریک انصاف کی قیادت نے ہمیشہ انکار اور متبادل بیانیے کا سہارا لیا۔ عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ جناح ہاؤس سمیت حساس ریاستی عمارتوں پر حملے کرنے والے افراد عام کارکن نہیں تھے بلکہ پارٹی کے باقاعدہ عہدیدار اور ٹکٹ ہولڈرز تھے، جو اس معاملے کو محض احتجاج کے دائرے سے باہر لے جاتا ہے۔قانونی مبصرین کے مطابق ریڈیو پاکستان کی عمارت کو جلانا، ٹول پلازوں پر حملے اور ایمبولینسوں کو نذرِ آتش کرنا ایسے جرائم ہیں جنہیں کسی صورت سیاسی اختلاف یا احتجاج کا جواز نہیں دیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ان واقعات کو انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت دیکھا جا رہا ہے۔اسی دوران ایک اور اہم پیش رفت کے طور پر پنجاب اسمبلی میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی آمد کے موقع پر پیش آنے والے ہنگامے کی باضابطہ تحقیقات بھی شروع کر دی گئی ہیں۔ مبصرین کے نزدیک یہ تحقیقات بھی 9 مئی کے مجموعی پس منظر سے جڑی ہوئی ہیں اور اس بات کا عندیہ دیتی ہیں کہ ریاست اب ان واقعات کو نظرانداز کرنے کے موڈ میں نہیں۔حرف آخر کے طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ 9 مئی کے واقعات، ان سے جڑی فرانزک رپورٹس اور عدالتی کارروائیاں پاکستان میں قانون کی بالادستی اور سیاسی قیادت کی ذمہ داری کا ایک کڑا امتحان ہیں۔ آنے والے دنوں میں عدالتوں کے فیصلے نہ صرف اس مقدمے کا رخ متعین کریں گے بلکہ یہ بھی طے کریں گے کہ مستقبل میں سیاسی احتجاج اور تشدد کے درمیان لکیر کہاں کھینچی جائے گی۔

Exit mobile version