Home » کالم » پاکستان کے سیاحتی مقامات

پاکستان کے سیاحتی مقامات

پاکستان کے سیاحتی مقامات

بیرون ملک سے دردمند پاکستانی اپنے اہل خانہ کے ہمراہ یا تنہا جب بھی اپنے وطن لوٹتے ہیں توایک ہی تکرار پاکستان کے ہرخاندان میں زیر بحث رہتی ہے کہ دنیا بھر میں پاکستان کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے غیر ملکی ہمیشہ تشویش ناک لب ولہجہ اختیار کرتے ہوتے کہتے ہیں کہ’پاکستان محفوظ نہیں ہے ‘ جب بھی پاکستان کی کوئی بات کی جائے تواُن شکوؤں کی تان یہیں آکر ٹوٹتی ہے کہ’پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا تو درکنار آپ کا ملک تو کسی قسم کی سیاحت کے قابل بھی نہیں ‘جبکہ پاکستانی جانتے ہیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے پاکستان کو کیا کچھ عطا نہیں فرمایا ہے ۔ چاروں موسم پوری شدت و توانائی کے ساتھ پاکستان کواپنے اپنے وقت پر فیضیاب کرتے ہیں پاکستان میں اگر دھوپ نکلتی ہے توبھرپور توانائی سے چمکتی ہوئی کاٹ دار دھوپ نکلتی ہے ‘انگریز دنیا’ ایسی روشن‘چمکدار اور بھرپور دھوپ کیلئے ترستے ہیں کون نہیں جانتا کہ ‘انگریز دنیا’ سیاحت کی بہت ہی شوقین دنیا ہے اْنہیں کون بتائے یہ ملکی ذمہ داری کس کی ہے کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات گلگت اور بلتستان سمیت خیبر پختونخواہ کے قبائلی علاقے کو بلندوبالا پہاڑوں دلکش وخوبصورت نظاروں کی حسین دنیا ہے، جس کسی سیاح نے پاکستان میں قدرتی حسن وکمالات کی یہ ناقابلِ فراموش دنیا نہیں دیکھی اْس نے گویا کچھ نہیں دیکھا اس میں کوئی شک بھی نہیں ہے ۔پندرہ بیس برس قبل وادی چترال سے سوات ویلی تک اپر دیرزیریں اور دیر بالا وادی شوال تک کے یہ علاقے عالمی خفیہ اداروں اوراْن کے چیلے ملکی دہشت گردوں کے قبضہ میں تھے وہ دور واقعی بہت ‘خطرناک’ دور تھا پاکستانی فوج کے شروع کیئے گئے آپریشن راہ راست’راہ نجات’آپریشن خیبر ٹو اور پھر فیصلہ کن آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں دنیا کے ان خوبصورت اور قدرت کے عطاکردہ بیش بہا نظاروں کے حامل علاقوں سے دہشت گردی کی جہنم زار لعنتوں کا ہمیشہ ہمیشہ کیلئے خاتمہ کردیا گیا بیرون ملک پاکستانیوں کا یہی گلہ ہے کہ امریکااور مغربی دنیا میں قائم پاکستانی سفارت خانوں نے دنیا کو اب تک یہ کیوں باور نہیں کرایا کہ پاکستان دنیا کے سیاحوں کیلئے جو بلندوبالا فلک بوس خوبصورت پہاڑوں کی سرزمین ہے اْن کیلئے اب ‘خطرناک’نہیں رہا امریکا سمیت مغربی دنیا میں قائم پاکستانی سفارت خانوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ دنیا کے اہم دارالحکومتوں میں ‘پاکستان سیاحت کیلئے ایک بہترین ملک’ کے موضوع پرپے درپے سمینارزمنعقد کروائیں اور پاکستان کے بارے میں ‘را’ اور ‘سی آئی اے’ کے پھیلائے ہوئے پروپیگنڈوں کے پاکستان دشمن تاثر کو زائل کریں پاکستان میں موجود لاتعداد سیاحتی مقامات کا دنیا سے تعارف کرایا جائے تاکہ دنیا کے سیاحوں کا رخ پاکستان کی جانب ہونے لگے، عالمی سیاحت کا مرکز پاکستان ہوگا تو پاکستان کے زرمبادلہ میں یقینی اضافہ ہونے لگے گا ملکی زرمبادلہ میں آئے روز کی کمی کی ایک وجوہ پاکستان میں سیاحت کے شعبہ پر جیسی خاص توجہ ہونی چاہیئے تھی وہ نہیں دی گئی۔ پی ٹی آئی کی حکومت کے علاوہ ماضی کی حکومتوں اور اْن کے سرکردہ لیڈروں نے ملکی سیاحت کو کسی خاطر میں نہیں رکھا وہ بڑے ہی ناشکرے حکمران تھے جنہوں نے ملکی زرمبادلہ میں اضافہ کرنا تو رہا درکناراُن ماضی کے حکمرانوں نے زرمبادلہ کو چوراْچکوں کی طرح سے لوٹنے میں ہی اپنی میعاد حکمرانی پوری کی اور ملکی زرمبادلہ لوٹ کر لے گئے ۔ پاکستان کے عوام کی واضح اکثریت پی ٹی آئی کی موجودہ صوبائی اور وفاقی حکومت کو یہ کریڈٹ دینے میں حق بجانب ہے کہ اس حکومت نے پاکستانی سیاحتی ویژن کو اپنی اولین ترجیحات کا حصہ بنایا ، قوم کے نام اپنی پہلی نشری تقریر میں وزیراعظم عمران خان نے دنیا کو پیغام دیاکہ ‘پاکستان کے سیاحتی مقامات دنیا کے دیگر مقامات سے زیادہ دلکش وحسین نظاروں کے حامل مقامات ہیں وزیراعظم نے بالکل صحیح نشاندہی کی کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات سمیت قبائلی علاقہ جات کو فلک بوس پہاڑوں کی سرزمین کل بھی کہا جاتا تھا اورآج بھی کہا جاتاہے آسمان کی بلندیوں کو چھونے والے بل کھاتے ہوئے یہ پہاڑ سرسز و شاداب بھی ہیں جوہر دیکھنے والی انسانی آنکھ کو خوشگوار متحیر محوکردینے والے اِن خوبصورت ودلکش نظاروں کا اسیر بنالیتے ہیں ۔یہ پہاڑ اور یہ گہری وادیاں جن سے لاتعداد مقامات پر قدرتی چشمہ اونچائی سے گہرائی میں گرتے ہیں جن کا نظارہ کرکے انسان قدرت کی منظر کسی کی کرشمہ سازی پربے اختیار واہ واہ کرنے لگتا ہے، خاص کرخیبر پختونخواہ کے ضلع اپر دیر میں واقع ‘کْمرات ویلی’ ملکی وغیر ملکی سیاحوں کیلئے ترجیحی بنیادوں ایک بہت ہی پْرکشش مقام بن سکتا ہے دنیا کا خوبصورت ترین مقام ‘ کْمرات ویلی’ خیبر ختونخواہ کے ضلع اپردیر سے کچھ فاصلہ پر واقع ہے۔ ویسے تو خیبر پختونخواہ کے سبھی بالائی علاقے قدرتی حسین نظاروں کی دلکشی کے مرقع ہیں مگر یہاں خاص طور اگر یہ کہا جائے تو بے جانہ ہوگا کہ کْمرات ویلی کی تاحد نگاہ پھیلی ہوئی سرسبز وشادابی’بل کھاتے اونچے نیچے اور ان کے درمیان میں بہتی ہوئی چھوٹی بڑی ندیاں اور آبشاریں کسی بھی دیکھنے والی نگاہ کو سحرانگیزخوابوں کی دنیا میں پہنچادیتی ہیں اگر’کْمرات ویلی’ کو قدرت کا ایک نہایت ہی بیش قیمت تحفہ کہا جائے تو یقیناًیہ دل گزیں احساس ‘کْمرات ویلی’ کے ہم پلہ تصور کیا جاسکتا ہے، حکومت خبیرپختونخواہ کے قبائلی علاقوں کے مقامی حسن کو دنیا میں متعارف کرانے میں بیوروکریسی کی ‘ریڈٹیپ ازم ‘ کی پرواہ نہ کرے ہنگامی بنیادوں پر فیصلہ کن اقدامات اْٹھائے جائیں۔ دیربالا میں ریزورٹس کے قیام کے فوری انتظامات کیئے جائیں تاکہ دیربالا کے بے روزگار قبائلیوں کو باعزت روزگار کے مواقع میسرآسکیں ۔خیبر پختونخواہ میں سیاحتی مقامات جا بجا پھیلے ہوئے ہیں جن پر بعض قبضہ مافیا نے اپنے ناجائز منفی کاروبار کے ٹھکانے بنا رکھے ہیں وہ ہر آئینی وقانونی حکومتی اقدامات کی مخالفت کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اب جبکہ ملک میں قانون کی بالا دستی کی ریت روایت جڑپکڑنے لگی ہے۔لہٰذا صوبائی حکومت ایسوں کے پھیلائے ہوئے من گھڑت پروپیگنڈوں سے بالکل مرعوب نہ ہو اور علاقہ کے عوام کے مفاد کی خاطرملکی آئین اور قانون کی رٹ کو بحال کرنے میں کوئی بھی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا جائے۔

About Admin

Google Analytics Alternative