Home » Author Archives: Admin

Author Archives: Admin

پاکستان کے اندرونی معاملات میں بولنے پر فواد چوہدری کا سشما سوراج کو کرارا جواب

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ہندو لڑکیوں کا اغوا پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے جب کہ یہ مودی کا بھارت نہیں جہاں اقلیتوں سے نارواسلوک کیا جاتاہے۔

سندھ سے 2 ہندو لڑکیوں کے مبینہ اغوا سے متعلق بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کی ٹوئٹ پر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ ہندو لڑکیوں کامعاملہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے، یہ عمران خان کانیا پاکستان ہے، یہاں اقلیتوں کومساوی حقوق حاصل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مودی کابھارت نہیں جہاں اقلیتوں سے ناروا سلوک کیا جاتاہے، امید کرتے ہیں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج بھارتی اقلیتوں کےحقوق کےمعاملے پر بھی ایسا ہی ردعمل دیں گی۔

واضح رہے کہ ڈھرکی کی 2 ہندو لڑکیاں مبینہ طور پر لاپتہ ہوگئی ہیں، سوشل میڈیا پر واقعے کی تفصیلات وائرل ہونے کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے اس کا نوٹس بھی لیا ہے لیکن خود کو جمہوریت کا چیمپیئن سمجھنے والی بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے ٹوئٹ کی تھی کہ انہوں نے پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن سے اس کی تفصیلات طلب کی ہیں۔

پاکستان پرحملہ کرنے والا بھارت اب خیرسگالی کا پیغام بھیج رہا ہے، وزیرخارجہ

ملتان: وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پاکستان پرحملہ کرنے والا بھارت اب خیرسگالی کا پیغام بھیج رہا ہے تاہم بھارت میں الیکشن تک اتارچڑھاؤ دکھائی دے گا اور بھارت نے جارحیت کی تو دفاع کا حق رکھتے ہیں۔ 

ملتان میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بہت سے ممالک بھارت کو اقوام متحدہ میں سپورٹ کررہے ہیں اس پر پاکستانیوں کو متحد ہونا ہوگا، بھارت سفارت کاری کے زریعے ہمیں پیچھے دھکیلنے اور ہرفورم پراکیلا کرنے کی کوشش کررہا ہے جب کہ بھارت بہت سے معاملات پر اقوام متحدہ میں جانا جاتا ہے، اس سلسلے میں چین سے مشاورت کرنے گیا تھا، چین کل بھی پاکستان کے ساتھ تھا اور آج بھی ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بھارت کے وزیراعظم کا عمران خان کو پیغام ملا ہے جس میں انہوں نے ہمیں مبارک باد بھیجی ہے،  23 مارچ پرمودی کا پیغام تبدیلی نہیں توکیا ہے، مودی کے بیان کا خیرمقدم کرتے ہیں، یہ اللہ کا کرم ہے کہ وہ بھارت جو پاکستان پر حملہ کر رہا تھا اب خیر سگالی کا پیغام بھیج رہا ہے تاہم بھارت کی طرف سے ابھی اتار چڑھاؤ دکھائی دے گا، ہم امن کے راستے پر ہیں لیکن غافل نہیں، پاکستان نے پہلے بھی امن کو ترجیح دی،اب بھی دیتے ہیں،بھارت نے اگر جارحیت کی تو اپنا دفاع کرنے کا حق رکھتے ہیں۔

ملکی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیرخارجہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے اگر (ن) لیگ سے الائنس بنانے کا فیصلہ کیا ہے تو اس کا احترام کرتا ہو، میں دونوں سیاسی جماعتوں سے کہتا ہوں وہ ہمیں بتا دیں کہ سکیورٹی معاملات کو کیسے بہتر کیا جا سکتا ہے، میں نے ان دونوں کو نیشنل سکیورٹی کے مسلے پر اکٹھے بیٹھنے کی دعوت دی ہے، میری زرداری اور شہباز شریف دونوں سے بات ہوئی اور ان کو خط لکھا۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بلاول بتائیں کالعدم تنظیموں کےخلاف کیا اقدامات اٹھائیں، بلاول کی تجاویزکو اہمیت دیں گے، صرف بیانات سے ملکی مسائل حل نہیں ہوتے جب کہ اللہ تعالیٰ نوازشریف کو صحت یاب کرے، ہرگز نہیں چاہیں گے کہ نواز شریف کوکوئی تکلیف پہنچے، ان کو مکمل صحت کی سہولیات دی جارہی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگرکسی اقلیت کے ساتھ ناانصافی ہوگی تو ہم ان کا ساتھ دیں گے، اگرہندوکمیونٹی کےساتھ کوئی ناانصافی ہوئی ہوگی تو اس کادفاع کریں گے۔

کراچی میں پیٹرول پمپ پر دھماکے سے ایک شخص جاں بحق، 5 زخمی

کراچی: نیو کراچی سیکٹر 5سی فور میں پیٹرول پمپ پر دھماکے کے نتیجے میں آگ لگ گئی جس کے باعث ایک شخص جاں بحق جب کہ 5 زخمی ہوگئے۔

کراچی کے علاقے نیو کراچی سیکٹر 5سی فور میں پیٹرول پمپ پر دھماکے کے بعد آگ لگ گئی جس کے نتیجے میں جھلس کر ایک شخص جاں بحق جب کہ 5 زخمی ہوگئے، واقعے کے بعد فائر بریگیڈ کی گاڑیوں نے موقع پر پہنچ کر آگ بجھائی اور امدادی اہلکاروں نے زخمیوں کو فوراً اسپتال منتقل کیا جہاں 2 افراد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ آفس سے متصل کمرے میں گیس بھر جانے کے باعث دھماکا ہوا، دھماکے کے باعث آگ لگی، جس سے قریب موجود 6 افراد جُھلس گئے، جھلسنے والوں میں 5 زخمی جبکہ ایک شخص جاں بحق ہوا، جھلسنے والوں میں فیول اسٹیشن کے مالک اور ملازمین شامل ہیں جب کہ فیول اسٹیشن کے مالک راشد کی حالت تشویشناک ہے۔

برطانیہ میں دس لاکھ افراد سڑکوں پر نکل آئے، بریگزٹ ریفرنڈم دوبارہ کرانے کا مطالبہ

لندن: برطانیہ کی سڑکوں پر 10 لاکھ سے زائد افراد سراپا احتجاج ہیں اور ان کا بنیادی مطالبہ یورپی یونین سے انخلاء پر دوبارہ ریفرنڈم کرانا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانیہ میں بریگزٹ مخالف مارچ نے شدت اختیار کرلی ہے، 10 لاکھ سے زائد افراد بریگزٹ پر دوبارہ ریفرنڈم کا مطالبہ لے کر برطانیہ کی سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ مظاہرین نے یورپی یونین کے حق میں درجنوں پوسٹرز اور پرچم اٹھا کر احتجاج کیا اور ناقص حکمت عملی پر وزیراعظم تھریسامے کے خلاف نعرے بازی کی۔

London 2

بریگزٹ مخالف مارچ کی قیادت بریگزٹ مخالف سیاست دانوں نے کی جس میں اپوزیشن اور حکومتی اراکین بھی شامل ہیں۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ  سب سے اچھی ڈیل برطانیہ کا یورپی یونین سے انخلاء نہ ہونا ہے اور معاشی ماہرین نے بھی یورپی یونین سے علیحدگی پر برطانیہ کی معیشت کو بے تحاشا نقصان ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

London 1

دوسری جانب بریگزٹ کی مخالفت میں 40 لاکھ سے زیادہ افراد نے ایک آن لائن درخواست کی توثیق بھی کی ہے جس میں برطانوی آئین کے آرٹیکل 50 کی تنسیخ کا مطالبہ کیا گیا ہے جو کہ یورپی یونین سے انخلاء سے متعلق ہے۔ وزیراعظم تھریسامے یورپی یونین سے انخلاء پر متفقہ بریگزٹ ڈیل لانے میں ناکام رہی ہیں اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کی مشکلات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

London 4

واضح رہے کہ برطانیہ کو 1945 کے بعد سے سب سے بڑے سیاسی بحران کا سامنا ہے، گزشتہ برس یورپی یونین سے انخلاء پر ریفرنڈم کے بعد برطانیہ کو اس برس 29 مارچ تک یورپی یونین سے علیحدہ ہوجانا تھا لیکن اس پیچیدہ آئینی عمل میں بار بار رکاوٹیں کھڑی ہورہی ہیں، کئی حکومتی اراکین بھی اپنی وزیراعظم سے نالاں ہیں اور مستعفی ہوچکے ہیں۔

London 3

بلاول بڑے مسائل پر بات کریں ابو بچاؤ مہم کیلیے بڑا وقت پڑا ہے ، فواد چوہدری

 لاہور: وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری بڑے مسائل پر بات کریں ابو بچاؤ مہم کے لیے بڑا وقت پڑا ہے۔

لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران فواد چوہدری نے کہا کہ اقلیتوں کا تحفظ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے، دنیا کی ہر ریاست میں جرائم ہوتے ہیں لیکن دیکھنا ہوتا ہےکہ ان جرائم کی روک تھام کے لیے ریاست کا کیا ردعمل ہوتا ہے، 2 بچیوں کو سندھ سے اغوا کیا گیا، سوشل میڈیا پر ہندو لڑکیوں کی مذہب کی تبدیلی سے متعلق ویڈیو وائرل ہوئی ہے، اغواہونے والی بچیوں کی تلاش جاری ہے، جلد ملزمان گرفتار کرلیے جائیں گے، تمام ذمہ داروں کو جلد گرفتار کیا جائے گا۔

فواد چوہدری نے کہا کہ بھارتی وزیر خارجہ نے پاکستان میں ہندو لڑکیوں کے اغوا پر تشویش کا اظہارکیا، کیا ہی اچھا ہو بھارتی وزیر خارجہ بھارت میں اقلیتوں کی حالت پر بھی ایسی تشویش کا اظہار کریں، بھارتی ریاست گجرات میں سیکڑوں مسلمانوں کوشہید کیا گیا، بھارتی حکومت وہاں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے ظلم کے حوالے سے سوچے، نئے پاکستان میں ہر مذہب ، رنگ اور نسل کے لوگ مساوی حقوق رکھتے ہیں، ہم اپنی اقلیتوں کے ساتھ کھڑے ہیں، کیا بھارت دعویٰ کرسکتا ہے کہ وہ اقلیتوں کےساتھ کھڑا ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری یا مریم نواز سے ان کی کوئی ذاتی لڑائی نہیں لیکن ابو کے پیسوں پر سیاست کرنا کچھ مناسب کام نہیں، بلاول اور مریم کم از کم کچھ دیر کے لیے نوکری ہی کر لیں۔ پیپلز پارٹی یا بلاول زرداری کا اصل مسئلہ جعلی اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی ہے، وہ بڑے مسائل پر بات کریں، ابو بچاؤ مہم کے لیے بڑا وقت پڑا ہے، انہیں بھارتی رویے کے خلاف ٹرین مارچ کرنا چاہیے، بلاول نے شاید دیکھا نہیں کہ خورشید شاہ کتنے بڑے دہشت گردوں سے ملتے رہے ہیں، یہ کہنا ٹھیک نہیں کہ نیشنل ایکشن پلان پر صحیح طور پر عمل نہیں ہوا، نیشنل ایکشن پلان میں واضح ہے کہ جہاد صرف ریاست کر سکتی ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ خورشید شاہ اور مولانا فضل الرحمان کو بھی معیشت کا درد ہونے لگا ہے، فضل الرحمان اور خورشید شاہ کومعلوم ہے کہ ان کی باری بھی آنے والی ہے۔ مولانا فضل الرحمان کو اسلام سے زیادہ اسلام آباد کی فکر ہے، ان سے ہاتھ ملائیں تو ان کی آنکھوں میں آنسو ہوتے ہیں، وہ 88 کے بعد اقتدار سے باہر ہوئے ہیں، ان کا دکھ سب سےزیادہ ہے، گزشتہ حکومت کےمقابلے میں ہم نےبہت کم قرضے لیے، پی ٹی آئی حکومت نے قرضے نہیں لیے بلکہ اسے پچھلے قرضے ادا کرنا پڑ رہے ہیں۔

وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ حکومت جامع منصوبہ بندی کے تحت آگے بڑھ رہی ہے، ملکی اداروں میں بھی بہتری نظر آرہی ہے، وقت کے ساتھ ساتھ ملک میں بہتری آرہی ہے، اعلی سطح پر کرپشن پر قابو پانےکے لیے عملی اقدامات کررہے ہیں، کرپشن میں خاطر خواہ کمی نظر آرہی ہے۔

مہاتیر محمد کے دورے کے حوالے سے فواد چوہدری نے کہا کہ پچھلی حکومت کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ پاکستان کی کیا اہمیت ہے، آج وزیراعظم کو دنیا میں مسلم امہ کے نمائندے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ، ہم امریکا ،مغربی دنیا اور مسلم ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کی پالیسی پر گامزن ہیں، مہاتیر محمد کا دورہ پاکستان تیسرا بڑا دورہ تھا۔

یوم پاکستان کی شاندار تقریب، دفاعی قوت کا بھرپور مظاہرہ

تحریک آزادی پاکستان کے دوران 23 مارچ 1940 کو مولوی فضل الحق نے قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت میں لاہور کے منٹوپارک میں مسلم لیگ کے اجتماع میں تاریخی قرارداد پاکستان پیش کی ،جسے بھاری اجتماعی اکثریت سے منظوری دی گئی۔اسی قرارداد ہی کی وجہ سے برصغیر کے مسلمانوں کیلئے ایک علیحدہ وطن کے قیام کی راہ ہموار ہوئی۔اس عظیم دن کی مناسبت سے ہم بحیثیت قوم ہر سال23 مارچ کو یوم پاکستان کے طور پر مناتے ہیں۔ ہر سال کی طرح اس بار بھی ملک بھر میں قرار دادِ پاکستان پیش کیے جانے کے 79سال پورے ہونے پر یومِ پاکستان خصوصی جوش و جذبے سے منایا گیا۔اس دن کی مناسبت سے مرکزی تقریب اسلام آباد میں منعقد ہوئی جس میں فوجی قوت اور اتحاد کا بھر پورمظاہرہ کیا گیا۔ اسلام آبادپریڈ گراؤنڈ میں ہونے والی پریڈ میں پاکستان کی مسلح افواج کیساتھ دوست ممالک چین، ترکی، سعودی عرب بحرین ، سری لنکا ، اور آذربائیجان کے دستے اور ہوا باز بھی شریک ہوئے،پریڈ میں تینوں مسلح افواج کے دستوں نے صدر پاکستان کو سلامی پیش کی، ائر ماشل مجاہد انور نے فلائی پاسٹ کی قیادت کی۔ ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر ، وزیراعظم عمران خان اور صدرِ مملکت عارف علوی تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے جبکہ غیر ملکی مہمان بحرین کی نیشنل گارڈ کے سربراہ اور آذربائیجان کے وزیر دفاع بھی تقریب میں شریک تھے۔ علاوہ ازیں چیئرمین جوائنٹ چیفس، تینوں سروسز چیف، حکومتی شخصیات، غیر ملکی سفراء اور زندگی کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے مرکزی تقریب میں شرکت کی۔ قرار داد پاکستان کے 79 سال بعد بھی قوم میں جذبہ پاکستان کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے اور وطن عزیز کی مسلح افواج اسی مناسبت سے پریڈ اور دفاعی طاقت کی نمائش کرتی ہیں جس کو یوم پاکستان پریڈ کہا جاتا ہے۔یوم پاکستان پریڈ کی رنگا رنگ تقریب میں بری، فضائی اور بحری افواج کی جانب سے اپنی مہارت کا شاندار مظاہرہ کیا گیا۔اس دن کے آغاز پر شاندار روایت کو برقرار رکھتے ہوئے علی الصبح وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 31 توپوں اور صوبائی دارالحکومتوں میں 21، 21 توپوں کی سلامی دی گئی، جبکہ نماز فجر کے بعد مساجد میں ملک کی سلامتی، ترقی، خوشحالی کے لیے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا گیا جبکہ مفکر پاکستان علامہ اقبال اور بانی پاکستان کے مزارات پر پر گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقاریب بھی منعقد ہوئیں۔اسلام آباد کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ایک جامع خطاب کیا کیا،انہوں نے پوری قوم کو مبارک دیتے ہوئے کہا ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں، جس نے ہمیں آزادی کی نعمت عطا فرمائی، 23 مارچ ہماری قومی تاریخ کا وہ دن ہے جس دین برصغیر کے مسلمانوں نے قرار داد پاکستان پیش کی۔انہوں نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بابائے قوم نے مسلمانوں میں وہ روح پھونک دی کہ حالات کی بندشیں بھی قیامِ پاکستان کی کوئی رکاوٹ پیدا نہ کرسکیں۔صدر مملکت کا کہنا تھا کہ جس طرح آزادی کا حصول قربانی کا متقاضی ہوتا ہے اسی طرح اسے برقرار رکھنے کیلئے مزید قربانیاں دینا پڑتی ہیں۔انہوں نے دشمن کی رشہ دوانیوں اور سازشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری تاریخ میں بہت نشیب و فراز آئے، ہم پر جنگیں مسلط کی گئیں، ہمیں دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑا لیکن ہم نے عزم، مہارت اور حکمت عملی سے دہشت گردی کا مقابلہ کیا اور انہیں کامیاب نہیں ہونے دیا۔ دیں امن کی خواہش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے ہم دنیا کی واحد قوم ہیں جس نے دہشت گردی کے خلاف اتنی لمبی لڑائی لڑی جس میں ہم سرخرو ہوئے۔صدر نے پڑوسی ملک بھارت کو پرامن رہنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی کوتاہ بینی ہے کہ وہ پاکستان کو 1947 سے پہلے کے نظریات کی عینک سے دیکھتا ہے جو خطرناک ہے، اسے پاکستان کی حقیقت کوتسلیم کرنا ہوگا۔پلوامہ حملے کے بعد بھارت نے غیر ذمہ داری کامظاہرہ کرتے ہوئے تمام بین الاقوامی قوانین کو بلائے طاق رکھتے ہوئے جارحیت کی جس کا جواب دینا ہمارا حق اور فرض تھا۔انہوں نے دشمن پر یہ بھی واضح کیا کہ قوم کے عزم اور افواج پاکستان کی جرأت و بہادری سے ہم سرخرو ہوئے اور الحمداللہ آج ہم ابھرتی ہوئی معاشی قوت کیساتھ ساتھ دفاعی ایٹمی قوت ہیں۔ہم امن چاہتے ہیں، ہمیں جنگ کے بجائے تعلیم اور روزگار پر توجہ دینی چاہیے،ہماری اصل جنگ غربت کے خلاف ہونی چاہیے ۔ صدر نے سرحدوں پر دفاع وطن کا فریضہ انجام دینے والے جوانوں کو بھی سلام پیش کیا اور کہا کہ بلاشبہ آپ قوم کا فخر و وقار ہیں، آپ کے دل میں موجود جذبہ حب الوطنی نے ملک کا دفاع ناقابل تسخیر بنا دیا ہے۔ پاکستان الحمداللہ محفوظ ہے، ہماری معاشی ترقی سیکیورٹی حالات کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے لیکن اب پاکستان کو ترقی کی طرف لے جانے کا وقت آگیا ہے، ترقی یافتہ پاکستان شہدا اور غازیوں کیلئے سب سے بڑا خراج تحسین ہوگا۔قبل ازیں یومِ پاکستان کے موقع پر وزیراعظم عمران خان نے بھی قوم کے نام خصوصی پیغام جاری کیا اور کہا کہ حکومت ایک ایسے معاشرے کے قیام کیلئے پرعزم ہے جہاں ہرکوئی اپنی بہترین صلاحیتوں کے مطابق ملک کی سماجی واقتصادی ترقی میں اپناکرداراداکرسکے۔انہوں نے کہا کہ قومی دن کے موقع پرہمیں اپنے ان کشمیری بھائیوں کوفراموش نہیں کرناچاہیے جو طویل عرصے سے بھارت کی ریاستی دہشت گردی کانشانہ بن رہے ہیں اورمصائب ومشکلات میں زندگی بسرکرنے پرمجبورہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آج کا پاکستان نیا پاکستان ہے، پاکستان قوم ماردِ وطن کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ہم ایسا معاشرہ بنانے کے لیے کوشاں ہیں ہمدردی و انصاف کی بنیاد پر مبنی ہو جس میں موجود ہر شخص معاشی و اقتصادی ترقی میں اپنی صلاحیت کے مطابق کردار ادا کر سکے۔پاکستان برابری کی بنیاد پر اپنے ہمسایوں کے ساتھ پرامن اور دوستانہ تعلقات چاہتا ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ خطے کے تمام ممالک ایک دوسرے کے ساتھ مل کر خطے میں غربت و افلاس کو ختم کریں اور لوگوں کی سماجی و معاشی ترقی حاصل کریں۔وزیراعظم عمران خان نے بھی دنیا کو باور کرایاکہ پاکستان کی امن کوششوں کو کمزور نہیں سمجھنا چاہیے، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہوگیا۔
پاکستانی تقریب کا بائیکاٹ،مودی سرکار کا قابل مذمت رویہ
سفارتی آداب و روایات سے بے بہرہ بھارت نے ایک بار پھر سطحی حرکت کی اور نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن میںیوم پاکستان کی ضیافت کا بائیکاٹ کیا جسکا جواز حریت پسندرہنماؤں کو تقریب میں مدعو کرنا کا گھڑاگیا۔تاہم دوسری طرف بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے ہم منصب عمران خان کو خیر سگالی کا پیغام بھی بھیجا جس میں مل جل کر کام کرنے اور امن کو فروغ دینے پر زور دیا گیا۔اس دوہرے عمل پر بھارت میں مودی کو شدید تنقید کا سامنا ہے تو وہ درست ہے۔یہ کتنا افسوسناک امر ہے کہ نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے باہر بھارتی پولیس اور سادہ کپڑوں میں خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں نے گھیراؤ کیے رکھا اور وہ یوم پاکستان کی تقریب میں شرکت کیلئے آنے والے مہمانوں کو ہراساں کرتے رہے۔ان کے نام پوچھتے رہے سادہ کپڑوں اور یونیفارم میں پولیس اہلکارشرکت کرنے والوں کو روک کر انہیں بتاتے کہ حکومت نے یوم پاکستان کا بائیکاٹ کر رکھا ہے ، صحافی جو اس تقریب کی رپورٹنگ کیلئے آئے تھے انہیں بھی شرکت نہ کرنے کا پیغام دیا گیا۔مودی سرکار کا یہ رویہ قابل مذمت ہے۔

سام سنگ کے 2 مڈرینج فونز پاکستان میں متعارف

سام سنگ نے رواں ماہ اپنا فلیگ شپ فون گلیکسی ایس 10 پاکستان میں متعارف کرایا تھا اور گزشتہ دنوں خاموشی سے 2 مڈرینج ڈیوائسز بھی ملک میں فروخت کے لیے پیش کردی گئی ہیں۔

سام سنگ نے گلیکسی اے 30 اور اے 50 اسمارٹ فونز پاکستان میں متعارف کرادیئے ہیں، جن کو سب سے پہلے فروری میں بارسلونا میں ہونے والی موبائل ورلڈ کانگریس کے دوران پیش کیا گیا تھا۔

گلیکسی اے 30 اور اے 50 اسمارٹ فونز میں 6.4 انچ کا سپر امولیڈ انفٹنی یو ڈسپلے دیا گیا ہے، جن میں نیا پرایزم ڈیزائن دیا گیا ہے جو کہ تھری ڈی راﺅنڈ ایجز سے لیس ہے۔

دونوں میں فرق کیمرے سے شروع ہوتا ہے۔

اے 50 میں فرنٹ پر 25 میگا پکسل کیمرا دیا گیا ہے جبکہ بیک پر 25، 5 اور 8 میگا پکسل پر مشتمل تین کیمروں کا سیٹ اپ موجود ہے۔

اس کے مقابلے میں اے 30 میں فرنٹ پر 16 میگا پکسل جبکہ بیک پر 16 اور 5 میگا پکسل کا ڈوئل کیمرا سیٹ اپ دیا گیا ہے۔

اے 50 میں 4 سے 6 جی بی ریم اور 64 جی بی اسٹوریج کے آپشنز موجود ہیں جبکہ اے 30 تھری سے 4 جی بی ریم اور 64 جی بی اسٹوریج دی گئی ہے، دونوں کی اسٹوریج ایس ڈی کارڈ سے بڑھائی جاسکتی ہے۔

اے 50 میں سام سنگ نے گلیکسی ایس 10 کا ایک فیچر فنگرپرنٹ سنسر کی شکل میں دیا ہے جو کہ اسکرین کے اندر نصب ہے۔

اسی طرح کواڈ کور ایکسینوس 9610 پراسیسر اور 4000 ایم اے ایچ بیٹری بھی اس فون کا حصہ ہے جس کے ساتھ فاسٹ چارجنگ سپورٹ دی گئی ہے۔

اے 30 میں ایکسینوس 7904 پراسیسر اور 4000 ایم اے ایچ بیٹری فاسٹ چارجنگ سپورٹ کے ساتھ دی گئی ہے، تاہم اس میں فنگرپرنٹ سنسر فون کے بیک پر موجود ہے۔

یہ دونوں فونز پاکستان میں تین رنگوں بلیو، وائٹ اور بلیک میں دستیاب ہوں گے۔

گلیکسی اے 30 کی قیمت 40 ہزار جبکہ گلیکسی اے 50 کی 52 ہزار روپے رکھی گئی ہے۔

اپنی مرضی سے اسلام قبول کرکے شادی کی، ہندو لڑکیوں کا اعترافی بیان سامنے آگیا

سندھ سے مبینہ طور پر اغوا ہونے والی دونوں ہندو لڑکیوں کا اعترافی بیان سامنے آگیا جس میں ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے 

اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا۔سندھ کے علاقے ڈہرکی سے مبینہ طور پر اغوا ہونے والی دونوں ہندو لڑکیوں کا اعترافی بیان سامنے آگیا جس میں ان کا کہنا ہے کہ ہم نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے اور اپنی مرضی سے شادی کی ہے۔ دونوں لڑکیوں کا کہنا تھا کہ وہ اپنے اس فیصلے پر خوش اور مطمئن ہیں اور ان کے ساتھ کسی نے زبردستی نہیں کی۔منظر عام پر آنے کے بعد دونوں لڑکیوں نے لاہور ہائیکورٹ میں تحفظ کی درخواست دائر کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان کو تحفظ فراہم کیا جائے، دوسری جانب پولیس نے ایک شخص کو بھی گرفتار کرلیا ہے جس نے لڑکیوں کے نکاح میں ان کی مدد کی تھی۔

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے سندھ سے 2 نوعمر ہندو لڑکیوں کےاغوا کا نوٹس لیتے ہوئے بچیوں کی بازیابی کے لیے سندھ اور پنجاب حکومت کو مشترکہ حکمت عملی بنانے کی ہدایت کی تھی۔

Google Analytics Alternative