Home » Author Archives: Admin (page 10)

Author Archives: Admin

حالات نے بیٹے کو میرے ساتھ رہنے نہ دیا

بچہ مختلف مراحل سے گزر کر پرائمری کلاس تک پہنچتا ہے ۔ پھر اے لیول اور او لیول کالج یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرتا ہے ۔ والدین بھاری فیسیوں کے ساتھ دیگر ر اخراجات برداشت کرتے ہیں پھر کچھ بچے پڑھ کر انجینئر بن جاتے ہیں ، کچھ ڈاکٹر بن جاتے ہیں ، کچھ وکالت کی ڈگری حاصل کر لیتے ہیں ۔ اس کے بعد جاب کی باری آتی ہے ۔ کچھ سی ایس ایس کر لیتے ہیں ، کچھ فورسز میں کمیشن حاصل کر لیتے اور کچھ بزنس میں اور کچھ نوکری کی تلاش میں اور کچھ دلہا بن جاتے ہیں ۔ والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ بیٹا ہمارا تمام عمر ہمارے ساتھ رہے ، ہمارے بڑھاپے کا سہارا بنے ۔ یہ ساری تمہید اس لئے باندھی ہے کہ بتایا جائے کہ یہ تمام مراحل بچپن سے لیکر جوانی تک کے کتنے کھٹن مشکل ہوتے ہیں ۔ اب دنیا کے تمام ترقی پذیر ممالک اپنی ملکی ترقی کےلئے باہر سے بنا بنایا ٹیلنٹٹ نوجوانوں کا اپنے ہاں ہاتھوں ہاتھ ایسے لیتے ہیں ۔ جیسے کوئی پودا خود لگانے کے درخت ہی لے لے ۔ اس لئے کہ یہ ہمارے نوجوان پھل دار درخت بن چکے ہوتے ہیں ان نوجوانوں کو خوشی خوشی قبول کر لیتے ہیں ۔ انہیں نوکریاں دیتے ہیں ۔ نیشنلٹیاں دیتے ہیں ۔ دوسری جانب ہ میں ان کی قدر نہیں ہوتی اپنے کچھ ملکی ادارے ان بچوں کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کرتے ہیں ۔ نوکری کے ساتھ اسے ٹاچر دیتے ہیں ۔ اس کی ترقی میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں ۔ انہیں ذلیل کرتے ہیں ۔ ایک سرکاری ملازم نے سائیکل خریدی ویسے تو سائیکل بہت پیاری تھی لیکن اس کے پیچھے کیئریر نہیں تھا اس نے بیٹے کو دوکاندار کے پاس بھیجا کہ اسے درست کر دے ۔ جب دوکاندار سے ٹھیک کر کر واپس آیا تو دیکھا اس کا کیئریر تو ہے مگر اسٹینڈ غائب ہے ۔ واپس وہ خود دوکاندار کے پاس گیا پوچھا کیا ماجرا ہے اسٹینڈ کیوں نکالا ۔ دوکاندا ر نے کہا صاحب جی سرکاری نوکری میں ایک چیز مل سکتی ہے یا کیئریر یا اسٹینڈ ۔ اگر اسٹینڈ لوگے تو کیئریر ختم اور اگر کیئریر بنانا ہے تو تو کبھی اسٹینڈ مت لینا ۔ سرکاری ملازم ہمیشہ گھر سے آفس جاتے یہی سوچتے رہتے ہیں کہ آج میری دم پر کون پاءوں رکھے گا اور میں نے آج کس کی دم پر پاءو رکھنا ہے ۔ اکثر باس چونکہ خود بوٹ پالش کرتے ہوئے ترقی کی منزلیں طے کرتا ہے لہٰذا یہ سلسلہ دوسروں کے ساتھ جاری رکھتا ہے ۔ ایسے میں یہ نوجوان اپنے باس کے رویہ اور اداروں کے حالات سے تنگ آ کر کسی ترقی یافتہ ملک میں جانے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔ اپنا ملک اور اپنے والدین جھنوں نے اس نوجوان کو اپنے ہاتھوں سے پالا ہوتا ہے پڑھایا ہو تا ۔ اب جب اس نوجوان کا والدین اور ملک کی خدمت کرنے کا وقت آتا ہے تو وہ بے بس دکھائی دیتے ہیں اور مجبورا پھر ملک اور والدین سے دور چلے جاتے ہیں اور پھر یہ نوجوان دوسروں کا قیمتی اثاثہ بن جاتے ہیں چمکتے ستارے بن جاتے ہیں اور ہم دیکھتے ہی رہ جاتے ہیں ۔ ایسی ایک بے بسی کی ایک تصویر پچھلے دنوں فیس بک پر باپ بیٹے کی دیکھی ۔ جسے دیکھ کر پڑھ کر آنکھیں نم ہوئیں ۔ سوچا کیوں نہ آپ سے بھی یہ شیئر کروں ۔ فیس بک پر اس تصویر میں باپ اپنے نوجوان ڈاکٹر بیٹے کے ساتھ ایئرپورٹ پر کھڑا ہے ۔ باپ بیٹے کو الواع کہنے آیا تھا ۔ باپ نے اس تصویر کے نیچے جو کچھ لکھا وہ حقیت پر مبنی ہے ۔ باپ یہ بھی کر سکتا تھا کہ خوشی خوشی بیٹے کو چھوڑ آتا ۔ دل میں اداس ہوتا اور سو جاتا ۔ میں اس باپ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جس نے اپنے درد اور غم کو ہم سب سے شیئر کیا ۔ باپ لکھتا ہے کہ آج میں یہاں اپنے بیٹے ڈاکٹر محمد ماجد خان کو انگلینڈ رخصت کرنے آیا ہوں ۔ ہم دونوں اس بات پر اداس نہیں تھے کہ ایک دوسرے سے جدا ہو رہے تھے ۔ اداس اس بات پر تھے کہ وہ ایوب میڈیکل کالج کا گریجویٹ تھا اس کو ڈاکٹر بنایا ۔ پاکستان میں اس نے میڈیسن میں سپیشلسٹ بننے کے امتحان پاس کئے اور بے نظیر بھٹو ہسپتال راولپنڈی ہسپتال سے ٹرینک چار سال میں مکمل کی ۔ ہر تحریری امتحان پہلے چانس میں پاس کیا لیکن کلینک ٹیسٹ میں علم سے زیادہ اداکاری کی ضرورت تھی یا سفارش کی ضرورت تھی ۔ جس میں یہ مسلسل فیل کیا جا رہا تھا ۔ گورنمنٹ کی نوکری اسے اس لئے نہیں مل رہی تھی کہ وہ میرٹ سرکاری پرائیویٹ چائنا روس اور افغانستان کا ایک تھا ۔ جس پر سرکاری کالج کے ڈاکٹر ہمیشہ کم ہوتے ہیں ۔ بہت کوشش کے بعد اسی حکومت میں اس کو نوکری ملی دیر بالا وہاڑی میں ۔ اس سے کام میڈیکل سپیشلسٹ کا لیا جا رہا تھا لیکن وہ عام میڈیکل آفیسر کی سیٹ پر تھا ۔ ساتھ ساتھ وہ ہر امتحان میں حصہ لیتا تھا ہر بار تحریری امتحان میں پاس ہوتا رہا لیکن جونہی بات انفرادی بغیر ریکارڈ کے ایک پروفیسر کے ہاتھ آتی وہ فیل ہو تا گیا ۔ اس لئے اس کو ;70808367; کی ڈگری نہیں مل سکی ۔ اس دوران وائس چانسلر کا بیٹا جس کو پاس کرنے کےلئے تحریری امتحان کا معیار نیچے کیا گیا ۔ اور پہلے چانس میں کلینیکل میں پاس کیا گیا جس کی پوری میڈیکل ڈیپارٹمنٹ گواہ ہے ۔ میرا بیٹا جو کہ پاکستان میں سروس کےلئے پر عزم تھا آئستہ آئستہ حو صلہ ہارنے لگا ۔ اس نے گوروں کے امتحان ;77826780; کی تیاری کی اور پہلے دو تحریری امتحان پاس کئے اور انہوں نے رزلٹ دیکھ لئے تو پیچھے پڑھ گئے اور چار مختلف جگہوں سے اسے جاب کی افر ملی اور با لاخر آج وہ انگلینڈ روانہ ہو چکا ہے ۔ میرے بیٹھے کو پاکستان نے ٹرین کیا اور ہم نے اسے پڑھایا کہ یہی رہ کر ملک اور ہماری خدمت کرے گا مگر ایسا اس نظام کی خرابیوں کی وجہ سے نہ ہو سکا ۔ میرا بچہ جسے ناز و نعمتوں پالا تھا پڑھایا تھا اب وہ گوروں کی خدمت کرے گا ۔ والدین سے دور رہے گا ۔ اسی طرح نہ جانے کتنے اور ڈاکٹر ماجد پاکستان میں ہونگے جو جا چکے ہیں یا جانے کو تیار بیٹھیں ہیں اسی کو ;66;rain ;68;rain کہتے ہیں ۔ یہ کہانی اس باپ کی ہے جس کا دل کرتا ہے کہ بیٹا اس ملک کی خدمت ہمارے پاس رہ کر کرے ۔ باپ بھی تیار اور بیٹا بھی مگر ہمارا نظام ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتا ۔ ہم چہرے بدلتے ہیں نظام نہیں بدلتے ۔ ہم اپنے اداروں کے سسٹم کو ٹھیک نہیں کرتے ۔ اداروں میں ایسے لوگوں کو لایا ، لگایا جاتا ہے جن کی کمزوریاں دوسروں کی فائلوں میں بند ہوتی ہیں ۔ لہٰذا ان سے اپنے مرضی سے کام لیتے ہیں ۔ کسی ادارے کا ملاز م اپنی نوکری سے فارغ ہو جانے پر اس نے یہ شعر لکھا ۔ ترقی کی فصل میں کاٹ لیتا ۔ تھوڑے سے تلوے اگر چاٹ لیتا ۔ میرے لہجے میں جی حضور نہ تھا ۔ اس کے علاوہ کوئی قصور نہ تھا ۔ ہمارے ہاں علی بابا چالیس چور وں میں ہمیشہ علی بابا ہی بدلا جاتا ہے چالیس چور وہی کے وہی رہتے ہیں یہی چور بعد میں نئے علی بابا کے ساتھ شامل ہو جاتے ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں اب تبدیلی آئے گی کیونکہ علی بابا چلا گیا ہے نیا ذہین فتین افسر آ گیا ہے مگر بعد میں پتہ چلتا ہے یہ بھی وہی کام کررہا ہے جو پہلے والا علی بابا کرتا تھا ۔ صرف چہرہ بدلا ہے ۔ جب کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ بندوں کو نہیں نظام کو بدلو ۔ یہ کام لگتا آسان ہے مگر کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے ۔ لہٰذا ڈاکٹر ماجد جیسے نوجوان غیروں کی خدمت کریں گے ۔ والدین سے دور رہے گے ۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم بے وقوف ٹھہرے اور وہ سمجھ دار ۔ جو بچپن سے جوانی تک کا بچے کا عرصہ مشکل ہی نہیں مانگا ترین بھی ہوتا ہے جبکہ پڑھنے کے بعد کا وقت جو آسان ہوتا ہے ۔ انہیں تھوڑی سے پش کی ضرورت ہوتی ہے پھر اس نوجوان سے ساری عمر فائدے اٹھا تے ہیں اور ہم جب پھل کھانے کا وقت آتا ہے تو اسے دوسروں کے ہاں چھوڑ آتے ہیں ۔ پھر نہ پھل ملتا ہے اور نہ چھاءوں ۔ ہم سب کےلئے لمحہ فکریہ ہے ۔ کب تک ہمارا ٹیلنٹ باہر جاتا رہے گا ۔ کب ہم ہوش کے ناخن لیں گے ۔

بوائے فرینڈ کی تصویر شیئر کرنے پر ماڈل کو 2 کروڑ 35 لاکھ روپے جرمانے کا سامنا

فلسطینی نژاد امریکی سپر ماڈل 24 سالہ جی جی حدید ہمیشہ ہی اپنے فیشن اور معاشقوں کی وجہ سے خبروں میں رہتی ہیں۔

خبریں ہیں کہ ان دنوں جی جی حدید کے 26 سالہ امریکی ماڈل ٹیلر کیمرون کے ساتھ تعلقات ہیں اور انہیں متعدد بار ایک ساتھ دیکھا گیا۔

لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ جی جی حدید کو نئے شخص سے تعلقات استوار کرنے کے وقت میں پرانے بوائے فرینڈ کی تصویر انسٹاگرام پر شیئر کرنے پر کم سے کم پاکستانی 2 کروڑ 35 لاکھ روپے جرمانے کا سامنا ہے۔

جی ہاں، اطلاعات ہیں کہ جی جی حدید پر ایک امریکی فوٹوگرافر نے ہرجانے کا مقدمہ دائر کردیا ہے۔

جی جی حدید پر سابق بوائے فرینڈ زین ملک کا فوٹو شیئر کرنے کا الزام ہے—فوٹو: دی گلیمر
جی جی حدید پر سابق بوائے فرینڈ زین ملک کا فوٹو شیئر کرنے کا الزام ہے—فوٹو: دی گلیمر

شوبز ویب سائٹ ’ای آن لائن‘ کے مطابق جی جی حدید پر اپنے ہی سابق بوائے فرینڈ پاکستانی نژاد برطانوی گلوکار و لکھاری زین ملک کی تصویر شیئر کرنے کا الزام ہے۔

رپورٹ کے مطابق زین ملک کی تصویر کے حقوق امریکی فوٹوگرافر کے پاس تھے اور جی جی حدید نے مالکانہ حقوق حاصل کیے بغیر اپنے سابق بوائے فرینڈ کی تصویر کو انسٹاگرام اسٹوری میں شیئر کردیا تھا۔

جی جی حدید کی جانب سے زین ملک کی تصویر کو انسٹاگرام پر شیئر کرنے کے بعد فوٹوگرافر رابرٹ اونیل نے سپر ماڈل پر ہرجانے کا مقدمہ دائر کردیا۔

جی جی حدید کا شمار دنیا کی معروف ماڈلز میں ہوتا ہے—فوٹو: انسٹاگرام
جی جی حدید کا شمار دنیا کی معروف ماڈلز میں ہوتا ہے—فوٹو: انسٹاگرام

فوٹوگرافر رابرٹ اونیل نے جی جی حدید کے خلاف نیویارک کی عدالت میں مقدمہ دائر کرتے ہوئے ان پر ڈیڑھ لاکھ امریکی ڈالر یعنی پاکستانی 2 کروڑ 35 لاکھ روپے سے زائد کے ہرجانے کا دعویٰ بھی دائر کردیا۔

فوٹوگرافر نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ جی جی حدید کی جانب سے ان کے سابق بوائے فرینڈ کی تصویر شیئر کیے جانے سے ان کی تصاویر کو مالکانہ حقوق حاصل کیے بغیر شیئر کیا جائے گا اور اس تصویر کو مواد بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا۔

جی جی اور زین ملک کے تعلقات 2015 سے 2018 تک رہے—فوٹو: دی مرر
جی جی اور زین ملک کے تعلقات 2015 سے 2018 تک رہے—فوٹو: دی مرر

فوٹوگرافر نے عدالت سے درخواست کی کہ انہیں سپر ماڈل سے زین ملک کی تصویر کو مالکانہ حقوق لیے بغیر شیئر کرنے پر 2 کروڑ 35 لاکھ روپے دلوائے جائیں۔

دوسری جانب اپنے خلاف مقدمہ دائر ہونے کے بعد تاحال جی جی حدید نے کوئی بیان نہیں دیا۔

خیال رہے کہ زین ملک اور جی جی حدید کے درمیان 2015 سے مارچ 2018 تک تعلقات رہے اور دونوں کو متعدد بار ایک ساتھ دیکھا گیا تھا۔

اطلاعات ہیں کہ جی جی حدید نے ماڈل ٹیلر کیمرون سے تعلقات استوار کرلیے—فوٹو: ای آن لائن
اطلاعات ہیں کہ جی جی حدید نے ماڈل ٹیلر کیمرون سے تعلقات استوار کرلیے—فوٹو: ای آن لائن

دونوں ایک دوسرے سے سرعام محبت کا اظہار بھی کرتے رہے تھے اور دونوں کی منگنی کی خبریں بھی تھیں، تاہم اچانک دونوں نے مارچ 2018 میں ایک دوسرے سے الگ ہونے کا اعلان کرکے سب کو حیران کردیا تھا۔

دونوں کی علیحدگی کے بعد یہ خبریں بھی سامنے آئیں کہ دونوں جلد ہی ایک بار پھر ایک ہوجائیں گے، تاہم ایسا نہیں ہوا اور اب خبریں ہیں کہ جی جی حدید کے امریکی ماڈل ٹیلر کیمرون سے تعلقات ہیں۔

تاہم جی جی حدید اور ٹیلر کیمرون نے اپنے تعلقات کی خبروں کے حوالے سے وضاحت نہیں کی۔

واضح رہے کہ جی جی حدید کے والد فلسطینی جب کہ ان کی والدہ نیدرلینڈ کی ہیں۔

جی حدید کی بڑی بہن معروف ماڈل بیلا حدید ہیں، جب کہ ان کے بھائی انور حدید بھی ماڈلنگ کرتے ہیں، حدید بہنوں کا شمار دنیا کی سپر اسٹار ماڈلز میں ہوتا ہے۔

جی جی حدید نے خود پر مقدمہ دائر ہونے پر تاحال کچھ نہیں کہا—فوٹو: انسٹاگرام
جی جی حدید نے خود پر مقدمہ دائر ہونے پر تاحال کچھ نہیں کہا—فوٹو: انسٹاگرام

اسٹیٹ بینک نے آئندہ دو ماہ کے لئے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے آئندہ دو ماہ کے لئے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا ہے جس میں شرح سود کو برقرار رکھا گیا ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے آئندہ دو ماہ کے لئے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا ہے جس میں شرح سود کو 13 اعشاریہ 25 فیصد کی سطح پر برقرار رکھا گیا ہے۔

اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 20ء کے لیے مہنگائی کی پیش گوئیوں میں 16 جولائی 2019ء کو زری پالیسی کمیٹی کے پچھلے اجلاس سے اب تک کوئی تبدیلی نہیں ہوئی اور زرعی پالیسی کمیٹی نے اپنے 16 ستمبر 2019ء کے اجلاس میں پالیسی ریٹ میں بھی کوئی تبدیلی نہیں کی، اور پالیسی ریٹ 13.25 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

بہری ،گونگی اور اَندھی دنیا

بعض اوقات ایسی خبریں یا اطلاعات سامنے ;200;تی ہیں کہ بندے کا انسانیت سے بھی اعتبار ڈگمگانے لگتا ہے اور سر پیٹ کے رہ جاتا ہے ۔ اس مادی دنیا میں ہر گزرتے دن کے ساتھ یقینا انسانیت اور انسانی قدریں قصہ پارینہ بنتی چلی جا رہی ہیں ۔ زر پرستی کا یہ عالم ہے کہ انسانیت کی بجائے انسانی منڈی ہر معاشرہ چاہے وہ مشرقی ہے یا مغربی اسکی اولین ترجیح ہے ۔ مغربی معاشرہ خود کو زیادہ مہذب اور انسان دوست گردانتا ہے اس میں کسی حد تک سچائی بھی ہے لیکن یورپی اور مغربی دنیا کی صورتحال کو بھی ;200;ئیڈیل قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ انسانیت کے مقابلے میں انسانی منڈی کی ترجیح ان ہی معاشروں کاسکہ راءج الوقت ٹھہرا ہے ۔ اس کی دلیل میں ڈھیروں واقعات پیش کئے جا سکتے ہیں کہ کس طرح انسانی منڈی کو انسانیت پر ترجیح دی جا رہی ہے، لیکن ایک تازہ مثال ملاحظہ ہو کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالی کے باوجود بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو بل گیٹس فاوَنڈیشن کی جانب سے ایوارڈ سے نوازا جا رہا ہے ۔ بل گیٹس کو انسانیت دوست اور تعلیم دوست مانا جاتا ہے ۔ ان کے کریڈٹ پر بیسیوں ایسے پروجیکٹ ہیں جن پر وہ بھاری رقم خرچ کرتا ہے ۔ بل گیٹس فاوَنڈیشن کی جانب سے مودی کو بھارت کے قوم پرست رہنما سواچ بھرت ابھیان کی کلین انڈیا مشن کے تحت ملک میں محض بیت الخلا تعمیر کرنے کے مسئلہ کی طرف توجہ دینے کے اعتراف میں ایوارڈ دینے کا اعلان کیا گیا ہے ۔ ہے ناں دورنگی کہ ایک مسئلے کی جانب صرف توجہ دینے پر ایک بڑی فاوَنڈیشن کے من میں لڈو پھوٹ اُٹھے لیکن دوسری جانب یہی مودی مقبوضہ کشمیر اور خود بھارت کے اندر اقلیتوں اور مذہبی ;200;زادی کےلئے جلاد بنا ہوا ہے ۔ یہ وہی مودی ہے جو 2002 ء میں گجرات فسادات کا ذمہ دار اور ایک ہزار سے زائد مسلمانوں کے قتل کا موجب بنا تھا ۔ اس وقت مودی گجرات کے وزیراعلیٰ تھے ۔ اسی وجہ سے اُسے ;200;ج بھی گجرات کے قصائی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ امریکہ نے2005 ء میں انٹرنیشنل ریلیجیس فریڈم ایکٹ کے تحت مودی کی امریکہ داخلے پر پابندی عائد کردی تھی لیکن یہ پابندی امریکہ ہی کی طرف سے اُس وقت ہوا میں اڑا دی گئی جب 2014 میں انتہا پسند بھارتی معاشرے نے ایک قاتل کو اپنا وزیر اعظم منتخب کر لیا ۔ ایوارڈ دینے کے اس قبیح فعل پر بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاوَنڈیشن کو شدید تنقید کا سامنا تو ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ مغربی و یورپی پالیسی سازوں کی منافقت کہاں دم لیتی ہے ۔ قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیائی نژاد امریکی ماہرین تعلیم وکلا اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی جانب سے بل گیٹس فاوَنڈیشن کے فیصلے کے خلاف ;200;ن لائن پٹیشن شروع کردی گئی ہے جس میں موقف اپنایا گیا ہے کہ یہ کھلا تضاد ہے کہ انسانی حقوق کے حوالے سے ایوارڈ ایک ایسے ;200;دمی کو دیا جائے جو گجرات کے قصائی کے نام سے مشہور ہے ۔ مہم کے منتظمین نے ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ اگر مودی کو ایوارڈ دیا جاتا ہے تو پھر یہ انسانی حقوق کی پامالی، بھارتی سول سوساءٹی اور انصاف کے لیے لڑنے والوں کی حوصلہ شکنی اور بھارت میں اقلیتی حقوق کی کوئی حیثیت نہ ہونے کا پیغام سمجھا جائے گا ۔ انہوں نے بل گیٹس فاوَنڈیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ مودی کو یہ ایوارڈ نہ دے ۔ دوسری جانب امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے اداریہ میں کہا گیا ہے کہ بیت الخلا تک رسائی کی مہم کیسے اہم ہوسکتی جب دیگر انسانی جانوں کو جرائم اور تشدد کا سامنا ہو ۔ واشنگٹن پوسٹ کا یہ کہنا بجا اور حقیقت پر مبنی ہے کہ مودی کے اقتدار میں ;200;نے کے بعد بھارت ایک متشدد اور انتہا پسند ملک کے طور ابھرا ہے جہاں سکھ ،دلت ،کرسچن اور مسلمانوں کو شدید قسم کی اذیتوں کا سامنا ہے ۔ مذہبی ;200;زادی سوالیہ نشان بن چکی ہے ۔ مسلمان مذہبی فراءض کی ادائیگی کی وجہ سے روزانہ کی بنیاد پر تشدد برداشت کر رہے ہیں ۔ حتیٰ کہ مسلم عبادت گاہیں بھی ہندو انتہا پسندوں کے نشانہ پر ہیں ۔ مساجد پر مسلح حملے توڑ پھوڑ اور ان کو سرکاری سرپرستی میں مسمار کرنے کا سلسلہ بلا خوف خطر جاری ہے ۔ روز ایسے کلپس وائرل ہو رہے ہیں جن میں مسلمانوں کا پیٹا جا رہا ہوتا ہے یا مساجد پر حملے ہو رہے ہوتے ہیں ۔ معروف تاریخی بابری مسجد کی شہادت کیسے بھلائی جا سکتی ہے جو بھارت کے نام نہاد لبرل چہرہ پر بدنما داغ ہے ۔ بھارت میں انصاف کا نظام بھی اب مودی زدہ ہو چکا ہے ۔ چھبیس ستائیس برس سے بابری مسجد انہدام کا کیس عدالتوں میں چل رہا ہے لیکن مسلم اقلیت کو انصاف نہیں مل رہا،ایسے میں یہ اطلاعات سامنے آرہی ہیں کہ ایک اور تاریخی مسجد گیان واپی بھی کٹر ہندوءوں کے نشانے پر ;200;چکی ہے ۔ اس بارے ذرا بذریعہ انٹرنیٹ تحقیق کی تو یہ اطلاعات سچ ثابت ہوئیں ،اور یہ بھی بات سامنے آئی کہ اس مسجد کو گرانے کی سازش کے پیچھے بھی وہی سطحی جواز تراشہ جا رہا ہے کہ اسے بھی مندر کی جگہ پر تعمیر کیا گیا ہے ۔ گیان واپی مسجد یو پی میں واقع ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ اسے مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر نے17 ویں صدی میں تعمیر کرایا تھا لیکن بعض مورخوں کے نزدیک مغل شہنشاہ جلال الدین اکبر کے عہد میں بھی یہ مسجد موجود تھی اورنگ زیب عالمگیر نے 1658 میں اسکی صرف تعمیر نو کرائی تھی ۔ اب ;200;ر ایس ایس اور بی جے پی جیسی دیگر انتہا پسند جماعتوں کا دعوی ٰہے کہ اسے کاشی وشوناتھ مندر کے کھنڈرپر تعمیر کیا گیاہے ۔ یہ مسجد دریائے گنگا کے کنارے کے قریب واقع ہے ۔ بابری مسجد کی طرح اسکی حیثیت بھی مسلمہ ہے ۔ حالیہ الیکشن مہم کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی، وشوا ہندو پریشد اور بجرنگ دل کے کرتا دھرتاؤں کے انتخابی نعروں میں سے ایک بنیادی نعرہ تھا کہ’’ ایودھیا تو صرف جھانکی ہے، کاشی، متھرا باقی ہیں ‘‘ ۔ مسلمانوں کے لیے یہ واضح پیغام تھا کہ وہ بابری مسجد کے انہدام کے بعد کیا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ گیان واپی مسجد کے قرب جوار کا45000 مربع میٹر علاقے کو زبردستی خالی کروایا جا چکا ہے ۔ الیکشن کے موقع پریوپی وارنسی سے انتخابی کاغذات جمع کرانے کے موقع پر نریندر مودی نے کہا تھا کہ کاشی وشواناتھ مندر ہر حال میں تعمیر ہو گا اور اس کےلئے600کروڑ روپے مختص کر دیے گئے ہیں ، چونکہ نریندر مودی اسی حلقہ سے منتخب ہوئے ہیں تو اس بنا پر کاشی مندر کو خصوصی اہمیت حاصل ہو چکی ہے اور کام پر تیزی سے پیشرفت جاری ہے ۔ مودی کے اس نئے شیطانی پروجیکٹ سے 300گھر مسمار اور600 خاندان در بدر ہونگے ۔ مقامی طور رہائشیوں میں بے چینی دیکھنے اور سننے میں ;200; رہی ہے ۔ ایک ہزار سے زائد پولیس والے اب وشواناتھ مندر اور گیان واپی مسجد پر پہرہ دیتے ہیں اور ;200;نے جانے والوں کی تفصیلی تلاشی لی جاتی ہے سکیورٹی اس قدر سخت ہے کہ انتہاپسند ہندووَں کے سوا کوئی اسکے اندر نہیں جاسکتا،یہ بات بھی سامنے ;200;ئی ہے کہ پوجا پاٹھ کےلئے جانے والا یہ عہد کرتا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں مسلمانوں کو نقصان پہنچانے اور انکے خاتمے کیلئے کوئی نا کوئی ایک قدم ضرور اٹھائے گا ۔ وشوا ناتھ مندر میں ہی انتہاپسند ہندو تنظیم وشوا ہندو پریشد کی بنیاد رکھی گئی تھی ۔ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ 2013 ء میں جب بی جے پی کی طرف سے نریندرا مودی کو لوک سبھا کے لیے پہلی بار پارٹی ٹکٹ دیا گیا تو اس نے اپنی انتخابی مہم کا ;200;غاز اسی کاشی وشوا ناتھ مندر کے دورے سے کیا تھا اور کئی گھنٹے پوجا پاٹھ میں گزارے اور اپنے روایتی مسلم کش عقائد کے مطابق مسلمانوں کے خلاف عہد کیا تھا ۔ اسکے بعد سے بھارتی سرزمین مسلمانوں کیلئے تنگ ہونے لگی ہے ۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف زہر تو مودی کے ڈی این اے میں شامل ہے اسے جہاں موقع ملتا ہے ڈنگ مارنے سے نہیں چوکتا مگر وہ انسانی حقوق اور مذہبی ;200;زادیوں کے ٹھیکیدار مودی کے معاملے میں کیوں گونگے اور بہرے ہو جاتے ہیں ۔ کیا اسلئے کہ بھارت انسانوں کی ایک بڑی منڈی ہے،یہاں انسانیت ثانوی حیثیت رکھتی ہے ۔ کشمیر اور کشمیریوں کا بیالیس روز سے ناطقہ بند ہے،کیا امن اور ;200;زادی کے ذمہ دار انٹرنیشنل ادارے انسانی المیہ جنم لینے کے انتظار میں ہیں تاکہ وہ تب کھل کر ماتم کر سکیں ۔ مقبوضہ کشمیر اور بھارت کے اندر اقلیتوں کےخلاف نریندر مودی حکومت کے رویہ پر عالمی برادری کی خاموشی انتہائی شرمناک ہے ۔

99.6 اسکرین ٹو باڈی ریشو والا منفرد اسمارٹ فون

ویو کے نئے فلیگ شپ فون نیکس 3 کو 16 ستمبر کو متعارف کرایا جارہا ہے اور اس چینی کمپنی نے اس نئی ڈیوائس کی مزید جھلک پیش کی۔

نیکس 3 دنیا کا پہلا ایسا اسمارٹ فون ہوگا جس میں اسکرین ٹو باڈی ریشو 99.6 فیصد دیا جائے گا۔

جی ایس ایم ایرینا کی رپورٹ کے مطابق ویو کے نیکس پراڈکٹ مینجر لی شیانگ نے چینی سوشل میڈیا سائٹ ویبو پر اس نئے فون کے بارے میں کچھ تفصیلات شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ کمپنی انڈسٹری کے روایتی کیلکولیشن طریقہ کار کو استعمال کرکے آل اسکرین فون بنانے میں کامیاب ہوا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ آئندہ 6 ماہ تک نیکس تھری کے اسکرین ٹو باڈی ریشو کا مقابلہ کوئی کمپنی نہیں کرسکے گا۔

انہوں نے اس کی ایک ٹیزر تصویر بھی شیئر کی جس میں سائیڈ بیزل غائب ہیں جبکہ اوپر اور نیچے کے بیزل نہ ہونے کے برابر ہیں۔

اس فون کے حوالے سے سامنے آنے والی لیکس کے مطابق نیکس 3 میں 6.89 انچ امولیڈ ڈسپلے دیا جائے گا جس میں فنگرپرنٹ سنسر دیا جائے گا۔

اس کے علاوہ اسنیپ ڈراگون 855 پلس پراسیسر، 12 جی بی تک ریم، 512 جی بی اسٹوریج اور 4500 ایم اے ایچ بیٹری 44 واٹ فاسٹ چارجنگ سپورٹ کے ساتھ دی جائے گی۔

اس کے بیک پر 64، 13 اور 13 میگا پکسل کیمروں کا سیٹ اپ ہوگا جبکہ فرنٹ 16، سولہ میگا پکسل کے ڈوئل سیلفی کیمرے موجود ہوں گے، جبکہ اینڈرائیڈ پائی آپریٹنگ سسٹم دیا جائے گا۔

اس فون کی پروموشنل ویڈیو کمپنی کی جانب سے اگست کے آخر میں جاری کی گئی تھی اور اس کے اسکرین ایجز لگ بھگ فون کے بیک تک ہوں گے اور بظاہر کوئی بٹن نہیں ہوگا۔

اس فون میں فائیو جی سپورٹ دی جائے گی اور پروموشنل ویڈیو مین اس کی جھلک بھی دیکھی جاسکتی ہے۔

ویوو کا پہلا نیکس فون دنیا کا پہلا فون تھا جس میں سلائیڈ آﺅٹ کیمرا دیا گیا تھا جبکہ نیکس 2 میں آگے کے ساتھ پیچھے بھی ڈسپلے دیا گیا تھا، جس میں پرائمری کیمرے کو سیلفی کے بھی استعمال کیا جاسکتا تھا۔

ملک کے مختلف علاقوں میں ڈینگی کی صورتحال تشویشناک

ملک کے مختلف علاقوں میں مون سون سیزن کے اختتام کے ساتھ ساتھ مچھر کے کاٹنے سے ہونے والے ڈینگی بخار نے وبا کی صورت اختیار کرلی جس کے باعث روزانہ کی بنیاد پر سیکڑوں مریض ہسپتال پہنچ رہے ہیں۔

راولپنڈی میں ڈینگی کی صورتحال خطرناک صورت اختیار کرچکی ہے اراولپنڈی کے 3 سرکاری ہسپتالوں میں اتوار کے روز 195 مریض لائے گئے جس سے متاثرہ افراد کی تعداد 543 تک جاپہنچی۔

ایک رپورٹ کے مطابق سرگودھا میں 50 سے زائد مقامات پر ڈینگی لاروا کی نشاندہی کی گئی جس کے باعث ڈسٹرک ہیڈکوارٹر ٹیچنگ ہسپتال میں 8 افراد داخل کیے گئے۔

 

میونسپل کارپوریشن کے عملے کے مطابق فنڈز کی کمی کے باعث ڈینگی لاروا کا پھیلاؤ روکنا ممکن نہیں، ایک ملازم نے بتایا کہ سیاسی بنیادوں پر بھرتیوں کے باعث ادارہ دیوالیہ ہوچکا ہے۔

تاہم بہاولپور میں اتوار کے روز ڈینگی مریضوں کے لیے قائم خصوصی وارڈز سے 28 افراد کو طبیعت بہتر ہونے پر ڈسچارج کردیا گیا۔

خیال رہے کہ اس سے قبل اسپیشل برانچ پنجاب نے صوبے کے 6 اضلاع کو ڈینگی کے حوالے سے خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ محکمہ صحت کے حکام نے ڈینگی پھیلنے کے خطرے کے پیشِ نظر بروقت اقدامات نہیں کیے۔

 

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ راولپنڈی میں مذکورہ بیماری کی روک تھام نہ کیے جانے کے سبب لاہور، گوجرانوالہ، شیخوپورہ، فیصل آباد اور ملتان میں بھی یہ وبا پھوٹ سکتی ہے۔

لاہور میں انسداد ڈینگی مہم کا آغاز

ڈینگی کے بڑھتے ہوئے کیسز کے باعث ضلعی انتظامیہ نے پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں انسداد ڈینگی مہم کا آغاز کر دیا۔

اس مہم کے دوران عوام الناس کو انسداد ڈینگی سے متعلق بھر پور آگاہی دی جائے گی اور اس دوران ڈینگی سے بچاو کے پیغامات والے فلوٹس لاہور کی سٹرکوں پر موجود ہوں گے۔

ڈپٹی کمشنر لاہور صالحہ سعید نے بتایا کہ ایجوکیشن اتھارٹی سرکاری و پرائیویٹ اسکولوں میں 18 لاکھ بچوں کو آگاہی مہم میں شامل کرے گی اس دوران یونیورسٹیز، کالجز اور اسکولز کے بچوں کو ڈینگی سے بچاؤ کا سفیر بنایا جائے گا۔

انہوں نے عوام کو ہدایت کی کہ اپنے اردگرد کا ماحول صاف رکھیں اور کسی جگہ پانی کو کھڑا نہ ہونے دیں جبکہ دیگر افراد کو بھی ڈینگی کے حوالے سے آگاہی فراہم کریں۔

دوسری جانب خیبرپختنوخوا کے ضلع مانسہرہ میں 89 افراد میں ڈینگی وائرس کی تصدیق ہوگئی جس کے باعث محکمہ صحت کے حکام، لیڈی ہیلتھ ورکرز کی مدد سے آگاہی مہم کا آغاز کرنے پر مجبور ہیں۔

اس ضمن میں ڈپٹی ڈسٹرک ہیلتھ افسر ڈاکٹر ناصر شاہ نے بتایا کہ ’شہری علاقوں میں 17 کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ 13 کیسز دیہی یونین کونسلز میں سامنے آئے‘۔

سعودی عرب میں تیل تنصیبات پر حملے کے بعد عالمی منڈی میں تیل مہنگا

نیویارک: سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا۔

سعودی عرب میں تیل کے کنوؤں اور پلانٹس پر حملوں کے نتیجے میں تیل کی عالمی رسد میں پانچ فیصد کمی ہوگئی ہے جس کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں چار ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق امریکی خام تیل کی قیمت میں 10.68 فیصداضافہ ہوگیا اور یورپی آئل مارکیٹوں میں برینٹ خام تیل 11.77فیصدمہنگا ہوگیا۔ تیل کی عالمی منڈی میں امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 60.71 ڈالر اور برینٹ کروڈ کے دام 67.31ڈالر فی بیرل ہوگئے ہیں۔

ایک موقع پر خام تیل کے بیرل کی قیمت میں اس سے بھی زیادہ اضافہ ہوا تاہم پھر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی تیل ذخائر جاری کرنے کی منظوری دی جس کے نتیجے میں تیل کی عالمی قیمت میں کچھ کمی آئی۔

سعودی عرب کا کہنا ہے کہ تنصیبات سے تیل کی رسد مکمل طور پر بحال ہونے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں جس کے باعث اتنے ہی عرصے تک قیمتوں میں اضافہ برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔

ہفتے کے روز سعودی عرب میں تیل کی دو بڑی اور اہم تنصیبات پر ڈرون حملے ہوئے تھے جس کے نتیجے میں ان مقامات پر آگ لگ گئی اور کافی مالی نقصان ہوا۔ امریکا نے الزام لگایا ہے کہ ان حملوں میں ایران کا ہاتھ ہے تاہم ایرانی حکومت نے یہ الزام مسترد کردیا ہے۔

واضح رہے کہ یمن سے ایرانی حمایت حوثی باغی متعدد بار سعودی عرب پر میزائل حملے کرچکے ہیں۔

‘آئرن مین’ کے مداحوں کے لیے بڑی خبر سامنے آگئی

رواں سال ریلیز ہوئی مارول کی کامیاب سپر ہیرو فلم ‘ایوینجرز اینڈ گیم’ میں مشہور زمانہ آئرن مین کے کردار کو مار دیا گیا تھا، جس پر مداحوں نے بےحد مایوسی کا اظہار کیا۔

متعدد سپرہیروز کو ایک پروجیکٹ میں جمع کرکے ایوینجرز سیریز بنائی گئی، جس کے آخری حصے میں سپر ہیرو آئرن مین نے ولن کو مارنے کے لیے اپنی جان بھی گوا دی تھی۔

آئرن مین کے اس کامیاب کردار کو روبرٹ ڈاؤنی جونیئر نے نبھایا اور اب مداحوں کے لیے خوشی کی خبر یہ ہے کہ شاید ان کا یہ پسندیدہ کردار واپسی کرنے جارہا ہے۔

ڈیڈلائن نامی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق روبرٹ اپنے اس کردار کے ساتھ جلد ریلیز ہونے والی ہولی وڈ فلم ‘بلیک وڈو’ میں واپسی کریں گے۔

فلم بلیک وڈو میں ہولی وڈ اداکارہ اسکارلٹ جونسن نے نتاشا رومن آف کا مرکزی کردار نبھایا اور ان کا یہ سپر ہیرو کردار ایوینجرز کا بھی حصہ رہا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس فلم میں روبرٹ ایک مختصر کردار کے لیے جلوہ گر ہونے جارہے ہیں۔

جبکہ اس فلم میں آئرن مین کے ساتھ ساتھ ایوینجرز کے اور بھی سپر ہیروز نظر آئیں گے۔

فلم ‘بلیک وڈو’ اگلے سال یکم مئی کو سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔

Google Analytics Alternative