Home » Author Archives: Admin (page 10)

Author Archives: Admin

بھارت: چاند کا خلائی مشن روانگی سے ایک گھنٹہ قبل منسوخ

بھارت نے چاند سے متعلق تحقیقات کرنے کے لیے راکٹ روانہ کرنے کا مشن محض ایک گھنٹہ قبل ڈرامائی طور پر تکنیکی مسئلے کے سبب منسوخ کردیا۔

فرانسیسی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق بھارت چندرائن 2 یا مون چیریئٹ 2 بھیج کر روس، امریکا اور چین کے بعد چان کی سطح پر خلائی جہاز بھیجنے والا چوتھا ملک بننے کا خواہاں تھا۔

خلائی جہاز روانہ کرنے کے لیے کی جانے والی گنتی 56 منٹ 24 سیکنڈ پر روک دی گئی جسے بھارتی وقت کے مطابق رات 2 بج کر 51 منٹ پر روانہ ہونا تھا۔

بھارت کے اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (آئی ایس آر او) نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے بتایا کہ 56 منٹ پر خلائی گاڑی کی لانچ کے موقع پر ایک تکنیکی رکاوٹ آگئی۔

چنانچہ احتیاط سے کام لیتے ہوئے چندرائن کی لانچ آج کے لیے منسوخ کردی گئی جبکہ لانچ کی آئندہ تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

ریاست آندھرا پردیش کے ایک جزیرے پر واقع اسپیس سینٹر کے حکام کا کہنا تھا کہ خلائی گاڑی کو لانچ سسٹم میں مسئلہ تھا تا ہم ادارے نے یہ نہیں بتایا کہ اب یہ روانگی کب عمل میں آئے گی۔

بھارت کی جانب سے چاند کی جانب مشن امریکی خلا باز نیل آرم اسٹرانگ کے چاند پر تاریخی چہل قدمی کی 50 ویں سالگرہ سے 5 روز قبل روانہ کیا جانا تھا۔

بھارت نے چندرائن 2 کی تیاری پر 14 کروڑ ڈالر خرچ کیے ہیں جو اب تک کا سب سے سستا مشن بننے جارہا تھا۔

چاند پر اترنے کے دوسرے مشن کے لیے 6 ستمبر کی تاریخ مقرر کی گئی تھی، خاص بات یہ ہے کہ چندرائن 2 کا آربیتر، لینڈر، اور روور بھارت میں ہی ڈیزائن اور تیار کیا گیا تھا۔

اس سے قبل بھارت کا پہلا مشن چدرائن 1 چاند کی سطح پر نہیں اتر سکا تھا بلکہ اس نے ریڈار استعمال کر کے پانی کی تلاش کا کام کیا۔

دوسری جانب بھارت مریخ کی جانب بھی تحقیقاتی مشن روانہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ، 2014 میں سیارہ مریخ کے مدار میں سیٹیلائٹ داخل کرنے والا چوتھا ملک بن گیا تھا۔

شہباز شریف کا خاندان اقبال جرم کرکے کرپشن سے توبہ کرلے، فردوس عاشق

اسلام آباد: وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ شہباز شریف کا خاندان اقبال جرم کرکے کرپشن سے توبہ کرلے۔

وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ زلزلہ متاثرین کی امداد کا 8 کروڑ روپے کا سرکاری چیک براہ راست شہباز شریف کے داماد علی عمران کے ذاتی اکاؤنٹ میں جمع ہوا۔

فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ اگر شہباز اینڈ سنز بشمول داماد  سچے ہیں تو ملک سے کیوں بھاگے؟، ارتھ کویک ری کنسٹرکسن اینڈ ری ہیبی لٹیشن اتھارٹی (ایرا) کے افسر کے اعتراف کے بعد بہتر یہی ہے کہ شہباز شریف کا خاندان بھی اقبال جرم کرکے کرپشن سے توبہ کر لے، توبہ کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں، ایرا کے افسر اکرام نوید نے نیب سے پلی بارگین کرتے ہوئے اپنے بیان حلفی کی صورت میں اس جرم کا اعتراف کیا۔

وزیراعظم کی معاون خصوصی نے کہا کہ لیگی ترجمان جھوٹ کو تحفظ دینے کے لیے جھوٹ پر جھوٹ بول رہے ہیں، لیکن جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے، نوکری کی زنجیر میں جکڑے ن لیگی ترجمان کب تک  چوری، کرپشن اور منی لانڈرنگ کا دفاع کریں گے، شہباز اینڈ سنز کے کالے دھن اور ٹی ٹیز کی فہرست اتنی طویل ہے کہ دفاع کرتے کرتے جلد ترجمانوں کے ہاتھ کھڑے ہوجائیں گے۔

واضح رہے کہ برطانوی اخبار ڈیلی میل نے دعویٰ کیا ہے کہ شہباز شریف نے برطانیہ کی جانب سے 2005 کے زلزلہ متاثرین کے لیے دی گئی 50 کروڑ پاؤنڈز کی امداد میں سے کئی ملین پاؤنڈ کی رقم چرائی اور منی لانڈرنگ کے ذریعے برطانیہ پہنچائی۔ برطانوی حکومت کے امدادی ادارے ڈیپارٹمنٹ فار انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ (ڈی ایف آئی ڈی) نے اس خبر کی تردید کرتے ہوئے اسے ’بے بنیاد‘ اور ’من گھڑت‘ قرار دیا ہے۔

چلتے ہوئے ہمارے ہاتھ سیدھے اور بھاگتے ہوئے مڑ کیوں جاتے ہیں؟

ویسے آپ دوڑ رہے ہوں، ہمارے ہاتھ خودبخود مڑ جاتے ہیں جس کی وجہ کہنی کی حرکت ہوتی ہے، مگر کیا ایسا کرنا دوڑنے کی رفتار بڑھانے میں مدد دیتا ہے؟

اگر ایک امریکی تحقیق کے نتائج کو درست مانا جائے تو دوڑتے ہوئے ہاتھوں کو سیدھا رکھنا بھی ہماری رفتار کو متاثر نہیں کرتا۔

یہ دلچسپ دعویٰ ہارورڈ یونیورسٹی کی تحقیق میں سامنے آیا۔

ویسے دیکھنے میں عجیب یا حیران کن لگے اور لوگوں کو گھورنے پر مجبور کردے مگر دوڑتے ہوئے ہاتھوں کو سیدھا رکھنا بھی اتنا ہی موثر ہے جتنا انہیں کہنی کی مدد سے موڑ لینا۔

آپ خود غور کریں تو جب آپ دوڑتے ہوئے رفتار بڑھائیں گے تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ ہاتھ کہنی کی جانب مڑجائیں گے۔

دوڑتے ہوئے ہاتھ کو اوپر کی جانب موڑ لینا اور چہل قدمی کرتے ہوئے ہاتھ سیدھے رکھنا، اکثر افراد ایسا کرتے ہیں، مگر اب تک سائنسدان یہ نہیں جاتنے تھے کہ اس کی وجہ کیا ہے۔

تو محققین نے 8 رضاکاروں کو ایک ٹریڈمل پر چلنے اور دوڑنے کا کہا جس کے دوران کچھ افراد کے ہاتھ سیدھے رکھے گئے جبکہ کچھ کو موڑنے کا کہا گیا۔

کچھ رضاکاروں کو آکسیجن ماسک پہنائے گئے تاکہ دیکھا جاسکے کہ وہ کتنی آکسیجن استعمال کرتے ہیں۔

محققین کا خیال تھا کہ دوڑتے ہوئے کہنیوں کا مڑ جانا جبکہ چلتے ہوئے ہاتھوں کو سیدھا رکھنا رفتار برقرار رکھنے میں زیادہ موثر ثابت ہوتا ہے مگر یہ خیال 50 فیصد ہی درست ثابت ہوسکا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ چہل قدمی کرتے ہوئے کہنی کو موڑ لینے سے زیادہ جسمانی توانائی خرچ ہونے لگی جبکہ آکسیجن کے استعمال کی شرح بھی 11 فیصد تک بڑھ گئی، جبکہ حیران کن طور پر دوڑنے والے افراد میں دونوں طریقوں سے کوئی فرق سامنے نہیں آسکا۔

محققین کا کہنا تھا کہ وہ یہ نہیں جان سکے کہ ہم دوڑتے ہوئے ہاتھ اوپر کی جانب موڑ کیوں لیتے ہیں مگر ان کے خیال میں اس کے پیچھے فائدہ مند وجہ چھپی ہے اور وہ یہ ہے کہ اس طرح ہاتھ سر کو ایک پوزیشن میں مستحکم رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔

اس تحقیق کے نتائج جریدے جرنل آف ایکسپریمنٹل بائیولوجی میں شائع ہوئے۔

اس سے قبل 2016 میں امریکا کی مشی گن یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ نسان چلتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو حرکت دے کر جسمانی توانائی کو بچاتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق اگر لوگ چلتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو ساکت رکھیں تو حرکت دینے کے مقابلے میں ان کی 12 فیصد میٹابولک توانائی زیادہ خرچ ہوتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ قدرتی طور پر ہاتھوں کا چلنا چلنے کا سب سے بہترین طریقہ ہے جو جسمانی توانائی کو بچاتا ہے۔

محققین نے بتایا کہ ہاتھوں کی حرکت ہماری ٹانگوں سے جڑی ہوتی ہے، جب آپ بائیں پیر کو آگے بڑھاتے ہیں تو دایاں ہاتھ آگے بڑھتا ہے اور ایسا قدرتی طور پر ہوتا ہے کیونکہ اگر بائیں پیر کے ساتھ بایاں ہاتھ آگے بڑھے تو 26 فیصد زیادہ جسمانی توانائی خرچ ہوگی۔

محققین کے مطابق چلتے ہوئے ہاتھوں کی حرکت سے توانائی اس لیے بچتی ہے کیونکہ ہاتھ پنڈولم کا کام کرتے ہیں اور چلنے کے ساتھ حرکت میں آکر جسمانی توانائی کا اخراج کم کردیتی ہے۔

ریکوڈک کیس میں پاکستان پر جرمانہ؛ وزیراعظم کی کمیشن بنانے کی ہدایت

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے ریکوڈک کیس میں کمیشن بنانے کی ہدایت کردی۔

ریکوڈک کیس میں پاکستان پر جرمانے کے معاملے پر وزیراعظم عمران خان نے کمیشن بنانے کی ہدایت کردی، کمیشن تحقیقات کرے گا یہ صورتحال کیسے پیدا ہوئی اور پاکستان کو جرمانہ کیوں ہوا، کمیشن ملک کو نقصان پہنچانے والوں کا تعین بھی کرے گا۔

حکومت پاکستان نے ریکوڈک کیس پر مایوسی کا اظہار کیا، اس حوالے سے اٹارنی جنرل آفس سے ایک اعلامیہ جاری کیا گیا جس کے مطابق عالمی عدالت نے کئی سو صفحات پر مشتمل فیصلہ جمعہ کے روز سنایا، اٹارنی جنرل آفس اور صوبائی حکومت بلوچستان فیصلے کے قانونی اورمالی اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں حکومت پاکستان مشاورت سے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیکر آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی۔

اعلامیہ میں کہا گیا کہ حکومت پاکستان بین الاقوامی قوانین کے تحت تمام قانونی آپشنز استعمال کرنے کاحق رکھتی ہے تاہم حکومت پاکستان ٹی ٹی سی کمپنی کی جانب سے معاملے کے مذاکرات کے ذریعے حل کے بیان خوش آئند قراردیتی ہے اور تمام بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو خوش آمدید کہتا ہے۔

اعلامیہ کے مطابق پاکستان ریکوڈک ذخائر کی ڈیلپمنٹ میں دلچسپی رکھتا ہے اور پاکستان بطور ذمہ دار ریاست بین الاقوامی معاہدوں کوسنجیدگی سے دیکھتی ہے، بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے قانونی حقوق اورمفاد کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا جب کہ وزیراعظم نے ریکو ڈک معاملہ پر تحقیقاتی کمیشن بنانے کی ہدایت کی ہے جو تحقیقات کرے گا یہ صورتحال کیسے پیدا ہوئی اور پاکستان کو جرمانہ کیوں ہوا۔

واضح رہے انٹرنیشنل سینٹر فارسیٹلمنٹ آف انوسٹمنٹ ڈسپیوٹس نے ریکوڈک کا معاہدہ منسوخ کرنے کی پاداش میں پاکستان پر 4 ارب 10 کروڑ ڈالر جرمانہ عائد کیا ہے جس پر ایک ارب 87 کروڑ ڈالر سود بھی ادا کرنا ہوگا۔

ڈیلی میل کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا ہے، شہبازشریف

 لاہور: مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہبازشریف نے اپنے خلاف برطانوی اخبار کی جانب سے لگائے گئے کرپشن الزامات پر ڈیلی میل کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے کا کر دیا۔

ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے شہبازشریف نے لکھا کہ ڈیلی میل کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا ہے، خود ساختہ اور گمراہ کن خبر عمران خان اور شہزاد اکبر کی ایما پر چھاپی گئی، ہم ان دونوں حضرات کے خلاف بھی قانونی چارہ جوئی کریں گے۔

شہبازشریف نے مزید  لکھا کہ ویسے! عمران خان صاحب آپ کو ابھی میری جانب سے کیے گئے 3 ہتک عزت کے دعوں کا جواب بھی دینا ہے۔

واضح رہے کہ برطانوی اخبار ڈیلی میل نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کی منی لانڈرنگ کے حوالے سے انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے صوبہ پنجاب کے لیے برطانیہ نے 50 کروڑ پاؤنڈز کی امداد دی، امداد کے لاکھوں پاؤنڈز برطانیہ منتقل کیے گئے جب کہ شہباز شریف نے کچھ رقم ڈی ایف آئی ڈی کے پروگرام سے چرائی۔

 

امریکا میں برطانیہ کے سابق سفیر نے ڈونلڈ ٹرمپ کیخلاف نیا پنڈوراباکس کھول دیا

امریکا میں تعینات سابق برطانوی سفیر سر کم ڈاروچ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف نیا پنڈوراباکس کھول دیا۔

سابق برطانوی سفیر سر کم ڈاروچ کی لیک ہونے والی ای میل میں کہا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق امریکی صدر باراک اوباما سے حسد میں ایران کے ساتھ نیوکلیئر ڈیل ختم کی۔

سر کم ڈاروچ کی جانب سے برطانوی حکومت کو 2018 میں بھیجے گئے خفیہ پیغام میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ختم کرنے کے اقدام کو ’سفارتی غنڈہ گردی‘ قرار دیا گیا۔

برطانوی وزیرخارجہ بورس جانسن نے بھی صدر ٹرمپ کو ڈیل قائم رکھنےکی کوشش کی تھی تاہم ہو ناکام رہے، بورس جانسن نے وائٹ ہاوس کا دورہ کر کے ٹرمپ سے ملاقات کی لیکن وہ امریکی صدر کو جوہری منصوبے پر قائم رہنے کے لیے قائل نہ کر سکے

سابق برطانوی سفیر سرکم نے افشا ہونے والی خفیہ میل میں لکھا تھا کہ ایران ڈیل پر صدر ٹرمپ کے مشیروں کی رائے میں بھی اختلاف ہے۔

سر کم ڈاورچ نے اپنی میل میں یہ بھی لکھا کہ جان بولٹن کے ٹرمپ انتظامیہ کا حصہ بننے کے بعد ایران ڈیل کا یہ حشر ہونا ہی تھا، ٹرمپ انتطامیہ کے پاس ایران پر نئی پابندیوں کے سوا کوئی پلان بی نہیں ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ برس مئی میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے اسے سابق صدر اوباما کی سنگین غلطی اور نااہلی قرار دیا تھا۔

چند روز قبل سابق برطانوی سفیر سر کم ڈاروچ کی جانب سے اس حوالے سے برطانوی حکومت کی لکھی گئی خفیہ میلز افشا ہوئی تھی جس میں انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس فیصلے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

سر کم ڈاروچ کی ای میلز افشا ہونے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا میں تعینات سابق برطانوی سفیر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں بے وقوف قرار دیا تھا جب کہ سر کم ڈاروچ نے ای میلز اسکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیا تھا۔

ہڑتالیں مسئلے کا حل نہیں ،معاملہ مل بیٹھ کر حل کیا جائے

وزیر اعظم عمران خان نے اپنے ٹوءٹربیان میں جس کرب کا اظہار کیا ہے اس کی ایک جھلک گزشتہ روز کی شٹر ڈاوَن ہڑتال اور حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی ججز ویڈیو سکینڈل میں دیکھی جا سکتی ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ جس طرح سسلین مافیا بیرون ملک جمع اربوں روپے بچانے کیلئے ریاستی اداروں پر دباءو ڈال رہاہے،اسی طرز پر پاکستانی مافیا بھی رشوت ، بلیک میلنگ اور دھمکیوں کے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی مافیا منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک جمع کی گئی اربوں مالیت کی دولت کو تحفظ دینے کیلئے ریاستی اداروں اور عدلیہ پر دباوَ ڈال رہا ہے‘ ۔ یہ ایک انتہائی خطرناک صورتحال ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب ملک کو شدید معاشی بحران کا سامنا ہے اور حکومت کو ناچار ;200;ئی ایم ایف سے مزید بیرونی قرض اٹھانا پڑا ہے ملک کی کاروباری سرگرمیاں تاجروں نے ہی معطل کر کے ٹیکس کلچر کے فروغ میں رکاوٹیں کھڑی کر نے کی کوشش کی ہے ۔ یہ ایک نا مناسب رویہ ہے جس سے ملکی معیشت پرمزید منفی اثر پڑے گا ۔ گزشتہ روز کی ہڑتال اگرچہ جزوی رہی اور زیادہ تر تجارتی مراکز علامتی شٹر ڈاوَن کے بعد کھلے رہے مگر تشویش کی بات یہ ہے کہ ;200;خر کب ملک میں ٹیکس کلچر جڑ پکڑ پائے گا ۔ حکومت کی طرف سے ٹیکسز اور تجارتی سرگرمیوں کو دستاویزی شکل دینے کے خلاف آل پاکستان انجمن تاجران جانب سے ہڑتال کی کال دی گئی تھی ۔ پاکستان میں موجودسینکڑوں تاجر تنظی میں اور لاکھوں تاجر ریٹیل شعبے سے وابستہ ہیں اور ان میں سے بعض نے اس ہڑتال پر سخت موقف اپنایا توبعض نے اس میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا ۔ تاہم ناقدین نے اس ہڑتال کو تاجروں کی حکومت کو بلیک میل کرنے کی کوشش قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ عمل انکم ٹیکسز سے بچنے کےلئے معیشت کو بغیر دستاویزات سے رکھنے کا حربہ ہے ۔ تاجر برادری کو اپنے اس رویے پر نظر ثانی کرنا پڑے گی اور حکومت بھی ان کے جائز خدشات کو ایک بار پھر دور کرنے کی کوشش کرے ۔ اس سے کون ;200;گاہ نہیں کہ ایک دن کی ہڑتال سے اربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے اور تمام معاشی اشاریے گرنے لگتے ہیں ۔ ملک پہلے ہی اربوں ڈالر کا مقروض ہے، بیشتر ملکی اثاثے گروی رکھے جا چکے ہیں اور ڈیفالٹ کا خطرہ ہر وقت سروں پر منڈلاتا رہتا ہے ۔ ابھی گزشتہ روز ہی ایک عالمی عدالت میں چلنے والا ریکوڈیک کیس کا فیصلہ بھی پاکستان کے خلاف سامنے ;200;یا ہے جس میں پاکستان کو چھ ارب ڈالر جرمانہ عائد کیا گیا ہے ۔ ورلڈ بینک گروپ کے 5 اداروں میں سے ایک انٹرنیشنل سینٹر برائے سیٹلمنٹ ;200;ف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس نے ریکوڈک کیس میں پاکستان کےخلاف 5;46;976 ارب ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے ۔ ٹیتھیان کاپر کمپنی (ٹی سی سی)کی انتظامیہ نے اس کیس11;46;43 ارب روپے کے نقصانات کا دعویٰ کیا تھا ۔ کمپنی کی جانب سے یہ دعویٰ بلوچستان حکومت کا کمپنی کے لیے لیزنگ درخواست مسترد ہونے کے بعد ;200;ئی سی ایس ;200;ئی ڈی میں 2012ء میں دائر کیا گیا تھا ۔ پاکستانی حکومت اور عالمی کمپنی کے درمیان یہ کیس 7 سال تک جاری رہا تھا ۔ ٹربیونل کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان معاہدے کو کالعدم کرتے ہوئے بین الاقوامی قوانین سے نابلد تھی اور ان کے پاس پیشہ وارانہ مہارت بھی نہ تھی ۔ اگر پاکستان یہ ادائیگی نہ کر پایا تو پاکستان کے بیرون ملک اثاثے ضبط ہو سکتے ہیں ۔ اس صورتحال کا تقاضہ ہے کہ ملکی معیشت کی بہتری کے لئے سب کو مل کر اقدامات اُٹھانے چاہئیں ۔ ساتھ ہی ہم سب پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ صرف ملک کی خاطرمشکل فیصلوں حکومت کے ساتھ کھڑے ہوں اور مفادات کے اسیروں سے کنارہ کریں ۔ یہاں بڑے بڑے مافیا ملک کو جونکوں کی طرح چمٹے ہوئے ہیں ۔ یہ فیصلہ اب کرنا ہوگا کہ ان جونکوں سے کس طرح نجات حاصل کرنی ہے ۔ وزیر اعظم نے اپنی ٹویٹ میں جو تصویر کشی کی ہے وہ درست ہے ۔ انہوں نے سابق اطالوی صدر کی تصویر بھی لگائی ہے جنہوں نے یہ کہا تھا کہ مافیا ریا ست کو بلیک میل کر رہا ہے ۔ انہوں سابق صدر نیپلی ٹانو کے عدالتی بیان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اطالوی سرکاری زعما نے کس طرح ساز باز کر کے 20سال قبل بم دھماکوں میں مافیا کا ساتھ دیا، بم دھماکے میں 21 معصوم افراد کےساتھ مافیا مخالف جج بھی مارے گئے تھے ۔ وزیراعظم عمران خان نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فرمان کا حوالہ بھی اور لکھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کسی ملک کی تباہی اور بربادی کا اصل سبب غربت ہوتی ہے، غربت کی اصل وجہ حکمرانوں کا صحیح یا غلط طریقے سے دولت اکٹھا کرنا ہے ۔ آج ملک کو جو معاشی بحران درپیش ہے اس میں ایک رتی بھر بھی شک نہیں رہا کہ یہ ماضی کے حکمرانوں کی ہوس زرنے وطن عزیز کو اس نہج پر پہنچایا ہے ۔

بھارتی آرمی چیف کی گیدڑ بھبکی

بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت نے پاک فوج کو مستقبل میں کسی قسم کی مہم جوئی سے باز رہنے کی دھمکی دیتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ ماضی میں پاکستان نے بارہا یا تو انڈیا میں مداخلت کی یا دہشت گردی کی سرکاری سرپرستی کی ہے ۔ جنرل راوت نے پاکستان کو خبردار کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ پاکستانی فوج کی جانب سے ہر قسم کی طالع آزمائی کی سزا دی جائے گی اور اسے کسی بھی طرح کی دہشت گردی کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا ۔ اسے کہتے ہیں الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے ۔ شاید موصوف چند ماہ قبل کا ایڈونچر بھول گئے جس میں لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی پر دوجہاز گرائے گئے اور ایک پائلٹ ابھی نندن زندہ گرفتارہوکر جنرل روات کے منہ تمانچہ بنا ۔ رہ گئی بات مہم جوئی اور مدخت کی تو شاید وہ گریباں میں جھانکنا بھول گئے کی اس کا ملک کیا کررہا ہے ۔ جنوبی ایشیا کا کونسا ملک ہے جو بھارتی کارستانیوں سے محفوظ رہا ہو ۔ کلبوشن پاکستان میں کیا کرنے آیا تھا اور نہیں تو یہی یاد کر لیتے تو یقینی طور پر جنرل راوت کو کچھ کہنے کی ہمت نہ ہوتی ۔ کلبھوشن ایک ایسا مجرم ہے جو بھارتی دعوں کی نفی کرتا ہو اس کا اصل چہرہ ہے ۔

شمالی وزیرستان،چوکی پر حملہ

شمالی وزیرستان جو امن کی طرف لوٹ چکا ہے وہاں امن دشمن اورشر پسندوں کی فائرنگ سے دو سیکورٹی اہلکار شہید ہوئے ہیں ۔ یہ حملہ شمالی وزیرستان کی تحصیل دتہ خیل میں ایک چیک پوسٹ پر کیا گیا جس میں دو سیکورٹی اہلکاروں جام شہادر نوش کیا ۔ اللہ شہداء کے درجات بلند کرے جو ملک کے دفاع کی خاطر جانوں کے نذرانے پیش کررہے ہیں ۔ پاک سکیورٹی فورسسز نے دہشت گردوں کا قلع قمع کردیا ہے لیکن بعض مقامی شرپسندوں کی پشت پناہی کی وجہ سے کوئی کارروائی کر ڈالتے ہیں لیکن انہیں اور انکے پشت پناہوں کے مذموم مقاصد کبھی کامیاب نہیں ہونگے ۔

ریٹیل قیمت کا ٹیگ نہ ہونے پر بندرگاہوں پر 400 کنٹینرز کی کلیئرنس رک گئی

کراچی: درآمدی اشیا کی پیکنگ پرریٹیل قیمت کا ٹیگ نہ ہونے کی وجہ سے کراچی کے بندرگاہوں پر400کنٹینرزکی کلیئرنس رک گئی ہے۔

ذرائع نے ایکسپریس کوبتایا کہ ملک میں درآمد ہونے والے ٹن پیک اشیائے خوردونوش، اسپئیرپارٹس، ٹائلز، ٹائرز، کارن فلیک، چاکلیٹس سمیت خوردہ سطح پرفروخت ہونے والی متفرق اشیاء کے400 کنٹینرزگزشتہ 2ہفتے سیکسٹمزکلئیرنس کے منتظر ہیں۔

واضح رہے کہ وفاقی وزارت تجارت کی سفارشات کی روشنی میں مالی سال2019-20 کیوفاقی بجٹ میں یکم جولائی 2019 سے ملک میں درآمد ہونے والی اشیاکی پیکنگ پرریٹیل قیمت لازم قرار دیدی گئی ہے اور ساتھ ہی درآمدہ اشیا کی درآمدہ ویلیوکے بجائے ریٹیل پرائس پرسیلزٹیکس کی ویلیواسیسمنٹ لاگوکیاگیا ہے اور انہی اقدام کی روشنی میں پاکستان کسٹمز کے حکام  نے عمل درآمد کرتے ہوئے یکم جولائی 2019 کوپہنچنے والے ایسی درآمدہ مصنوعات کے کنسائنمنٹس روکنا شروع کردیے ہیں جن کی پیکنگ پر ریٹیل پرائس کاٹیگ چسپاں نہیں کیاگیاہے۔

مذکورہ اقدام پر عمل درآمد کے بعدکسٹم حکام اور متاثرہ درآمدکنندگان کے درمیان ریٹیل پرائس ٹیگ لگانے پر تنازع کھڑا ہوگیاہے۔ متاثرہ درآمدکنندگان کا موقف ہے کہ روکے گئے کنٹینرز جون اور جولائی2019 میں پرانے بل آف لیڈنگ پر درآمد کیے گئے تھے۔ لہذا محکمہ کسٹمز گزشتہ مالی سال کے دوران شپمنٹ کیے جانے والیکنٹینرز کی بلامشروط کلئیرنس کرے کیونکہ کنٹینرز کی کلئیرنس میں تاخیر سے درآمدکنندگان پربھاری ڈیمریجز اور ڈیٹینشن عائد ہوچکے ہیں جبکہ حکومت درآمدہ اشیا کی پیکنگ پر ریٹیل قیمت چسپاں کرنے کی لازمی شرط پر عمل درآمدکو6ماہ کیلیے موخر کرے۔

Google Analytics Alternative