Home » Author Archives: Admin (page 2)

Author Archives: Admin

سخت احتساب ۔۔۔مگرپراسیکیوشن پر توجہ دی جائے

کرپشن کے خلاف حکومت نے بھرپوراقدامات کا آغاز کررکھا ہے اس میں جوبھی ملوث ہو، چاہے وہ جتنا بھی طاقتور کیوں نہ ہواس سے تحقیقات اورتفتیش لازمی ہوگی، جس کی واضح اور تاریخی مثال موجود ہے شاید ہی پاکستان کی تاریخ میں ایسا واقعہ خال خال ہی پیش آیا ہو، کہ بیک وقت کسی بھی دنیا کے ملک میں اپنے دور کا ایک صدر مملکت اور دوسابقہ وزرائے اعظم پابندسلاسل ہوں اور تیسرے وزیراعظم کے بارے میں تحقیقات چل رہی ہوں ، ان اقدامات سے واضح نظر آتا ہے کہ حکومت ’’نو کرپشن ‘‘کے فارمولے پرگامزن ہے ،نوازشریف پہلے ہی گرفتار اور جیل میں بند ہیں جبکہ آصف علی زرداری بھی مقیدہے، خاقان عباسی کوگزشتہ روز گرفتارکرلیاگیا جبکہ تیسرے وزیراعظم راجہ پرویزاشرف کاکیس چل رہاہے اگر وہ بھی تسلی بخش جواب نہ دے سکے تو گرفتار ہوجائیں گے، حکومت واضح کرچکی ہے کہ جس نے بھی کرپشن کی ہے وہ اس سلسلے میں جوابدہ ہے تاہم حکومت کو سمجھنا ہوگا کہ کمزور پراسیکیوشن احتسابی عمل پر سوالات اٹھانے کاموقع دیتی ہے اس لئے ضروری ہے کہ پراسیکیوشن کے عمل پرتوجہ دی جائے تاکہ احتساب کے جاری عمل کے نتاءج نکل سکیں ۔ نیب نے مسلم لیگ(ن)کے رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو ایل این جی اسکینڈل میں گرفتار کرلیا،شاہد خاقان پر قومی خزانے کو ڈیڑھ ارب کا نقصان پہنچانے کا الزام ہے، نیب نے شاہد خاقان عباسی کی گرفتاری کے حوالے سے اسپیکر قومی اسمبلی کو آگاہ کردیاہے،سابق سیکرٹری پیٹرولیم عابد سعید وعدہ معاف گواہ بن گئے ہیں ،شاہد خاقان عباسی مسلم لیگ(ن)کے صدر شہبازشریف کی پریس کانفرنس میں شرکت کے سلسلے میں احسن اقبال کے ساتھ لاہور جارہے تھے، اُدھر سندھ ہائی کورٹ نے(ن) لیگی رہنما اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی ایل این جی کیس میں 7 روز کے لیے حفاظتی ضمانت منظور کرلی ہے ۔ سابق وزیر خزانہ اور لیگی رہنما مفتاح اسماعیل ایل این جی کیس میں نیب گرفتاری سے بچنے کےلئے صبح 7 بجے ہی سندھ ہائی کورٹ پہنچ گئے ۔ بعد ازاں سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی جس میں موقف اپنایا گیا ہے کہ نیب کارروائی بدنیتی پر مبنی ہے، نیب نے جب بھی طلب کیا میں وہاں گیا ہوں تاہم گرفتاری کا خدشہ ہے لہذا حفاظتی ضمانت دی جائے ۔ مفتاح اسماعیل اور عمران الحق کے وکلا نے حفاظتی ضمانت درخواستیں سننے کی درخواست دائر کی جس کو عدالت نے منظور کرلیا ۔ درخواست کی سماعت کے دوران عدالت نے مفتاح اسماعیل اور سابق ایم ڈی پی ایس او عمران الحق کی حفاظتی ضمانت 7 روز کے لیے منظور کرلی تاہم دونوں کو 5 ،5 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے اور متعلقہ عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز نیب کی جانب سے مفتاح اسماعیل کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے جس کے بعد نیب ٹیم نے سابق وزیر خزانہ کی گرفتاری کے لیے ان کے گھر پر چھاپہ بھی مارا تاہم وہ گھر کے اندر موجود نہیں تھے ۔ وزیر اعظم کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ شاہد خاقان کوان کی خواہش پر گرفتار کیاگیا،شہباز شریف کے چہرے کا اڑتا رنگ بتارہا تھاکہ قانون اپنا رنگ دکھا رہاہے ۔ وزیرداخلہ اعجاز شاہ کاکہناکہ وزیراعظم وہ کام ضرور کرینگے جو ملکی مفاد میں ہو، پاکستان کی پالیسی میں واضح تبدیلی آئی ہے، جس نے جو کیاوہ ضرور بھگتے گا ۔ وزیرریلوے شیخ رشید نے کہاکہ جو زیادہ چیخ رہا ہے اس کی اگلی باری ہے، ایل این جی کیس میں ابھی بہت گرفتاریاں ہونگی،90روز میں بڑے فیصلے ہونگے ۔ فیاض الحسن چوہان نے کہاکہ گرفتاری پر شہباز شریف کا واویلا قوم کو گمراہ نہیں کر سکتا ۔

ملکی ترقی اور خوشحالی کے لئے صنعتی ترقی ناگزیر ہے

وزیراعظم نے پھراعادہ کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیاہے کہ ادارے آزاد ہیں وہ کام کریں ، حکومت کوئی مداخلت نہیں کرے گی،جب ادارے آزاد ہوتے ہیں تونظام بھی بہترین چلتاہے مگراس آزادی کو جانچنے کے لئے ایک واضح اوردوٹوک پیمانہ ہے کہ اگرکوئی بھی ادارہ کسی کے خلاف کارروائی کرتاہے تواس میں اقرباء پروری یاکسی قسم کی سیاسی جھلک نظرنہیں آنی چاہیے ،کیونکہ وزیراعظم نے کہہ دیا ہے کہ ادارے آزاد ہیں تووہ ادارے اپوزیشن سے ہٹ کراُن افراد کے خلاف بھی کارروائی کرنے کے مجاز ہیں جو کہ حکمران نیت میں بیٹھے ہوئے ہیں ، وزیراعظم نے لاہوردورہ کے موقع پرمختلف ملاقاتیں کیں جن میں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور دیگراہم شخصیات بھی شامل تھیں کے علاوہ اجلاس کی صدارت بھی کی، عمران خان نے کہاکہ ملکی ترقی اور خوشحالی کے لیے صنعتی ترقی ناگزیر ہے ، اس کی بدولت روزگار میسر ہو گا اور ملک میں دولت بڑھے گی، 1960 کی دہائی کا پاکستان ایشیا میں بھرپور ترقی کر رہا تھا جس کی وجہ صنعتی ترقی تھی، بدقسمتی سے ہم ایک منفی مائنڈ سیٹ کا شکار ہو گئے اور خطے کے دوسرے ممالک ہم سے ;200;گے نکل گئے، وزیراعظم عمران خان نے کاروبار میں ;200;سانی اور کاروباری طبقے کو سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے حکومتی اقدامات سے شرکا کو ;200;گاہ کیا اور کہا جلد ہی کاروباری حضرات اس ضمن میں حکومتی کاوشوں کے نتاءج سے مستفید ہوں گے،وزیر اعظم نے انڈسٹریل زوننگ اور ٹاءون پلاننگ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ان کی اہمیت کو نظر انداز کیا گیا جس کی وجہ سے ;200;لودگی، بنیادی سہولیات کا فقدان اور دوسرے سماجی مسائل نے جنم لیا ۔ وزیر اعظم نے اس ضمن میں متعلقہ اداروں کو مربوط حکمت عملی وضع کرنے کی ہدایت کی ۔ لاہو رچیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نمائندگان نے موجودہ حکومت کے جانب سے معیشت کو باقاعدہ دستاویزی شکل میں لانے اور ٹیکس اصطلاحات کے اقدامات پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا اور مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی ۔ نمائندگان نے انڈسٹرئیل زوننگ ، کاروبار کو سہل بنانے اور کاروباری طبقے کو درپیش مسائل کے حوالے سے وزیر اعظم کو ;200;گاہ کیا ۔ وزیر اعظم عمران خان نے وزیر اعلیٰ پنجاب کو عوام کو ریلیف فراہم کرنے ، مہنگاء پر قابو پانے اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف فوری اقدامات کی ہدایت کی ۔ ملک اس وقت مشکل حالات میں ہے تاجر اورعوام حکومت کاساتھ دیں ، قانون سب کے لئے برابر ہے، ادارے قانون کی بالادستی کو یقینی بنائیں ۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کو شعبہ صحت کی بہتری کے سلسلے میں موجودہ حکومت کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات پر بریفنگ دی گئی ۔ سیکرٹری ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن مومن آغا نے وزیراعظم کو ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کے جاری منصوبوں کے بارے میں آگاہ کیا ۔ سرکاری ہسپتالوں کے انتظام و انصرام کو دور جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے،انصاف صحت کارڈ کا دائرہ کار صوبے کے پسماندہ علاقوں میں مزید بڑھایا جائے، عام آدمی کو صحت کی بہترین سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کےلئے سرکاری ہسپتالوں میں جزا و سزا کا جامع نظام متعارف کروایاجائے ۔

بھارتی سپریم کورٹ کا بابری مسجد شہادت کیس کا فیصلہ 9 ماہ میں سنانے کا حکم

نئی دلی: بھارتی سپریم کورٹ نے سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن کورٹ کو تاریخی بابری مسجد کی شہادت کیس کا فیصلہ سنانے کے لیے 9 ماہ کا حتمی وقت دے دیا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ میں بابری مسجد شہادت اور رام مندر کے قیام کے تنازع پر فیصلہ سنانے کے لیے سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن کورٹ کو دی گئی ڈیڈ لائن میں توسیع کے لیے درخواست کی سماعت ہوئی۔

سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ کے ججز آر ایف نریمان اور سوریا کانت نے سی بی آئی کورٹ کو بابری مسجد شہادت کیس کا فیصلہ سنانے کے لیے دی گئی مہلت میں مزید اضافہ کرتے ہوئے 9 ماہ میں کیس کا فیصلہ سنانے کا حکم دے دیا

سپریم کورٹ نے اتر پردیش کو سی بی آئی کورٹ کو تمام تر سہولیات درکار کرنے اور کیس کا ٹرائل کرنے والے جج کمار یادیو کی مدت ملازمت میں اضافے کا حکم بھی دیا جنہیں رواں برس 30 ستمبر کو ریٹائرڈ ہونا تھا۔

قبل ازیں سپریم کورٹ نے اپریل 2017 میں سی بی آئی کورٹ کو روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرتے ہوئے 2 سال کے اندر کیس کا فیصلہ سنانے اور بی جے پی رہنماؤں ایل کے ایڈوانی اور مرلی منوہر جوشی سمیت کئی ہندو رہنماؤں کیخلاف فوجداری مقدمات بحال کرنے کا حکم دیا تھا۔

2017 سے جاری کیس کی سماعت کے دوران سی بی آئی کورٹ کے دو ججز جہان فانی سے کوچ کرگئے جس کے بعد کیس کا فیصلہ سنانے کے لیے مزید 3 ماہ کی مہلت دی گئی تھی جو اس ماہ ختم ہوگئی اور اب سی بی آئی کورٹ کی درخواست پر مزید 9 ماہ کا وقت دے دیا گیا۔

واضح رہے کہ 6 دسمبر 1992 میں ایودھیا میں تاریخی مسجد کو رام مندر کی جائے پیدائش قرار دیتے ہوئے انتہا پسند ہندوؤں نے شہید کرکے عارضی رام مندر بھی تعمیر کردیا تھا جس پر سپریم کورٹ میں کیس درج کیا گیا اور فیصلہ آنے تک مندر کی مزید تعمیر کو روک دیا گیا تھا۔

انسٹاگرام لائیکس چھپانے کے فیچر کی دیگر ممالک تک توسیع

انسٹاگرام میں ایک ایسی بڑی تبدیلی آنے والی ہے جو اس کے استعمال کا انداز بدل کر رکھ دے گی۔

فیس بک کی زیرملکیت فوٹو شیئرنگ اپلیکشن میں اب ایک بڑی تبدیلی کی آزمائش ہورہی ہے جس کے تحت پوسٹس پر لائیکس کی تعداد کسی اور کو نظر نہیں آئے گی۔

انسٹاگرام کے اس فیچر کی آزمائش رواں سال اپریل سے کینیڈا میں ہورہی تھی اور دیکھا جارہا تھا کہ کسی پوسٹ پر لائیکس کی تعداد چھپانا صارفین کو کس حد تک فائدہ پہنچاتا ہے۔

فیس بک کی زیرملکیت فوٹو شیئرنگ ایپ نے اس کے نتائج تو جاری نہیں کیے مگر اس فیچر کو چند دیگر ممالک تک توسیع دینے کا اعلان کیا ہے۔

انسٹاگرام کی جانب سے کیے گئے ایک ٹوئیٹ کے مطابق کینیڈا کے ساتھ ساتھ اب آسٹریلیا، برازیل، آئرلینڈ، اٹلی، جاپان اور نیوزی لینڈ میں منتخب صارفین لائیکس اور ویڈیو ویوز کو دیگر سے چھپا سکیں گے۔

منتخب صارفین کو ایک بینر نظر آئے گا جس میں انہیں ٹیسٹ کے بارے میں بتایا جائے گا اور اس پر لکھا ہوگا ‘ہم چاہتے ہیں کہ آپ کے فالورز اس پر توجہ دیں کہ آپ کیا شیئر کررہے ہیں، اس پر نہیں کہ آپ کی پوسٹس پر کتنے لائیکس ہوتے ہیں’۔

ایک اور ٹوئیٹ میں انسٹاگرام نے لکھا ‘ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے دوست آپ کی شیئر کی گئی تصاویر اور ویڈیوز پر توجہ دیں، اس پر نہیں کہ ان پر کتنے لائیکس ہیں، آپ ضرور لائیک کیے گئے افراد کی فہرست دیکھ سکیں گے، مگر آپ کے دوست نہیں دیکھ سکیں گے کہ آپ کی پوسٹ کو کتنے لائیک کیا’۔

فالوروز کو بس یہ لکھا نظر آئے گا کہ ‘ Liked by [user] and others ‘ ۔

اس فیچر کی آزمائش زیادہ ممالک میں کیے جانے کے بعد توقع ہے کہ اس فیچر کو بہت جلد تمام صارفین کے لیے متعارف کرایا جاسکتا ہے۔

کمپنی کو توقع ہے کہ اس فیچر کی بدولت صارفین کو اپنی پوسٹس کا دیگر سے موازنہ کرنے کے بوجھ سے نجات مل جائے گی اور ان کے رویے پر اس کے خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے۔

اس سے قبل ٹوئٹر کے سی ای او جیک ڈورسے نے بھی لائیک بٹن کو ختم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس فیچر کو ختم کرنے سے صارفین پر فالورز اور لائیکس کا دباﺅ ختم ہوجائے گا۔

بھارت میں ‘گاؤ ماتا کے محافظوں‘ کے بہیمانہ تشدد سے 3 افراد ہلاک

پٹنہ: بھارت میں گاؤ ماتا کی حفاظت کے نام پر گاڑی میں مویشی لے جانے والے تین افراد کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں تینوں کی موت واقع ہوگئی۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی ریاست بہار کے ایک گاؤں میں مشتعل ہجوم نے گائے چوری کا الزام عائد کر کے 3 افراد کو تشدد کا نشانہ بنا کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ پولیس نے ہلاک ہونے والوں کی شناخت ظاہر نہیں کی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد ایک ٹرک میں مویشیوں کو لاد کر لے جا رہے تھے کہ گاؤں کے لوگوں نے انہیں روک لیا اور لاٹھیوں، گھونسوں اور لاتوں سے تشدد کا نشانہ بنایا جس کے باعث 3 افراد ہلاک اور ایک شدید زخمی ہوگیا۔

ہلاک ہونے والے افراد کے اہل خانہ نے اسپتال کے باہر شدید احتجاج کیا جس پر پولیس حرکت میں آئی اور مظاہرین کے مطالبے کو مانتے ہوئے 3 افراد کو حراست میں لے لیا۔ حراست میں لیے گئے افراد کا کہنا تھا کہ گاؤں میں مویشی چوری کے واقعات عام ہیں اس لیے انہیں بھی چور سمجھا گیا۔

واضح رہے کہ 2015ء سے لے کر اب تک بھارت میں 44 افراد کو گائے کے تحفظ کے نام پر ہلاک کیا جاچکا ہے جب کہ سپریم کورٹ نے مشتعل ہجوم کے ہاتھوں معصوم افراد کی ہلاکت پر اسمبلی کو قانون سازی کا حکم بھی دیا ہے۔

رگوں کے اس عام عارضے سے واقف ہیں؟

کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ کچھ افراد کے جسموں پر رگیں موٹی اور پھول جاتی ہیں اور جلد کے اندر سے بھی نظر آنے لگتی ہیں۔

اسے ویریکوس وین (Varicose Vein) کہا جاتا ہے جو بہت عام عارضہ ہوتا ہے جس کا شکار مردوں کے مقابلے میں خواتین زیادہ ہوتی ہیں۔

جسم کی کوئی بھی رگ اس مسئلے کا شکار ہوسکتی ہے تاہم زیادہ تر ٹانگوں اور پیروں کی رگوں میں یہ مسئلہ زیادہ سامنے آتا ہے۔

ہوسکتا ہے کہ آپ کو علم نہ ہو مگر ہمارے جسم میں 2 اقسام کی رگیں ہوتی ہیں، ایک جو سطح یا جلد پر زیادہ نمایاں ہوتی ہیں جبکہ دوسری جو زیادہ گہرائی میں ہوتی ہیں اور عام طور پر سطح پر موجود رگوں میں یہ عارضہ نظر آتا ہے۔

وجوہات

عمر بڑھنے سے رگوں کی لچک کم ہونے لگتی ہے اور کمزور بھی ہوجاتی ہیں، اور کبھی کبھار دل کو واپس خون بھیجنے میں ناکام ہوجاتی ہیں، جس کے نتیجے میں خون رگوں میں جمع ہونے لگتا ہے، جس سے وہ پھیل جاتی ہیں اور نیلی نظر آنے لگتی ہیں کیونکہ اس میں خون کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔

دوران حمل بھی اس مسئلے کا سامنا ہوسکتا ہے کیونکہ اس عرصے میں ٹانگوں کی جانب دوران خون میں کمی آسکتی ہے یا بچے کی نشوونما کے دوران جسم کا اضافی وزن بھی ٹانگوں کی رگوں پر بوجھ بڑھا دیتا ہے جس سے وہ پھیل جاتی ہیں، دوران حمل ہارمونز میں آنے والی تبدیلی بھی اس کی ایک وجہ ہے۔

اگر رگوں کے والو خون کو واپس دل اور پھیپھڑوں تک پہنچانے میں ناکام ہو، تو اس سے بھی رگیں پھول کر نمایاں ہوجاتی ہیں۔

ناقص طرز زندگی سے بھی یہ مسئلہ ہوتا ہے خصوصاً زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا، ورزش سے دوری اور موٹاپے سے رگوں کا یہ مرض لاحق ہوسکتا ہے۔

علامات

اس کی سب سے زیادہ نمایاں نیلی یا گہرے جامنی رنگ کی رگیں جلد پر نمودار ہوجانا ہے، جو بل کھائی ہوئی اور بہت زیادہ موٹی ہوسکتی ہیں، عام طور پر یہ تکلیف دہ عارضہ نہیں ہوتا، مگر کبھی کبھار تکلیف کا احساس بھی ہوتا ہے خصوصاً ٹانگوں میں درد یا بھاری پن کا احساس ہوسکتا ہے۔

علاج

یہ مرض تکلیف دہ یا جان لیوا نہیں ہوتا، مگر اس کے ساتھ زندگی گزارنا ضرور غیراطمینان بخش ہوسکتا ہے، اور ہاں اس کا علاج کسی گھریلو ٹوٹکے یا مالش سے نہیں ہوسکتا بلکہ ڈاکٹر سے رجوع کرنا پڑتا ہے، اور جتنا جلد علاج کروائین گے، اتنا ہی بہتر ہوگا، کیونکہ ابتدا میں اس مرض کے قدرتی پھیلاﺅ کو روکنا بہت آسان ہوتا ہے اور زیادہ بہتر نتائج حاصل ہوتے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر کو بھارت میں ضم نہیں کیا جا سکتا

مودی حکومت کی شروع دن سے یہ کوشش رہی ہے کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اسے بھارت میں مدغم کیا جائے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی جب سے اقتدار میں آئی ہے، مقبوضہ کشمیر میں خصوصی آئینی حقوق واپس لینے کے لئے مسلسل کوشش کررہی ہے جبکہ بھارتی آئین کا آرٹیکل 35 ;39;اے;39; مقبوضہ جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ ریاست کے مستقل شہریوں اور ان کے خصوصی حقوق کا تعین کرے ۔ ابھی گزشتہ برس ہی مقبوضہ کشمیر ہائیکورٹ نے نریندر مودی سرکار کے ارمانوں پر اوس ڈالتے ہوئے واضح کردیا تھا کہ ریاست جموں و کشمیر کو بھارتی آئین میں خصوصی حیثیت دینے والے آرٹیکل 370 کو منسوخ یا تبدیل نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اس میں کوئی ترمیم کی جا سکتی ہے ۔ عدالت نے آرٹیکل 370 سے متعلق ایک درخواست کی سماعت کے دوران قرار دیا کہ آرٹیکل 370 بھارت اور ریاست جموں کشمیر کے درمیان تعلق کا نظریاتی فریم ورک ہے ۔ عدالت کے مطابق دیگر راجواڑوں کی طرح جموں و کشمیر بھارت میں ضم نہیں ہوا اسے محدود خودمختاری حاصل ہے جبکہ بھارتی آئین کا آرٹیکل 35 اے 1954 کے بعد جموں و کشمیر میں ریاستی اسمبلی اور حکومت کے وضع کردہ قوانین کو تحفظ فراہم کرتا ہے ۔ عدالت نے قرار دیا کہ مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی کے بنائے گئے قوانین کو بھارتی پارلیمنٹ بھی تبدیل نہیں کر سکتی ۔ آرٹیکل 370 کے تحت حاصل محدود خودمختاری کے تحت مقبوضہ کشمیر میں کسی غیرکشمیری حتیٰ کہ کسی فوجی افسر کو لاکر آباد کیا جا سکتا ہے نہ اسے جائیداد خریدنے کی اجازت ہوتی ہے ۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی جماعت کے بعض رہنماؤں نے الیکشن سے پہلے اور نریندر مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد مقبوضہ کشمیر کو خصوصی آئینی حیثیت دینے والے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کا واضح عندیہ دیا تھا جس کا مقصد مقبوضہ کشمیر کو بھارت میں مستقلاً ضم کرنے کی راہ ہموار کرنا تھا تاہم مقبوضہ کشمیر ہائیکورٹ نے مودی اور ان کے حامی بی جے رہنماؤں کے ارمانوں پر اوس ڈال دی ہے ۔ مسئلہ کشمیر کے بارے میں سلامتی کونسل کی قرار داد مجریہ 21 اپریل 1948ء ، اقوام متحدہ کشمیر کمیشن برائے ہندو پاکستان مجربہ 13 اگست 1948ء اور جنوری 1949ء کے تحت مذکورہ کونسل کی نگرانی میں کی گئی رائے شماری کے نتاءج کے مطابق پاکستان یا ہندوستان میں ریاست جموں اور کشمیر کے الحاق کی حمایت کرتے ہیں ۔ ہندوستان نے کونسل کی قرار دادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس ریاست پر فوجی قبضہ کر کے اسے بھارت میں ضم کر لیا لیکن افسوس کی بات ہے کہ سلامتی کونسل نے بھارت کے اس ناجائز اقدام کے خلاف اقوام متحدہ کے منشور کے باب 7 کی شقوں 39 تا 1947 کے تحت کوئی اقدام نہیں کیا بلکہ اسی عالمی تنظیم نے 1999 ء میں انڈونیشیا کی مشرقی تیمور سے علیحدگی کی مزاحمت پر اس ریاست کے خلاف کونسل کے ارکان کو ہر کارروائی کی ہدایت کر دی تھی جبکہ سلامتی کونسل کی چشم پوشی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت نے مقبوضہ ریاست پر فوجی قبضہ مستحکم کر لیا اور اس پر 6 لاکھ فوج ، نیم فوجی دستے اور پولیس کو مسلط کر دیا ۔ چنانچہ بھارت کے اس ناجائز اور غیر قانونی اقدام کے خلاف مقامی آبادی اٹھ کھڑی ہوئی لیکن جب بھارت نے ان کے پر امن احتجاج کو کچلنے کےلئے فوجی ہتھکنڈے استعمال کئے تو مظلوم عوام قابض بھارتی فوج کے خلاف ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہو گئے ۔ بین الاقوامی قانون مقبوضہ آبادی کو اپنا وطن آزاد کرانے کے لئے مسلح جدوجہد کا حق دیتا ہے لیکن بھارت حریت پسندوں کو دہشت گرد قرار دے کر ان کے خلاف انسداد دہشت گردی جیسے کالے قانون کی آڑ میں کشمیری عوام کی نسل کشی کرنا ہے اور پاکستان کی حکومت اور فوج کو اس کا ذمہ دار قرار دیتا ہے ۔ بھارت اور بعض بڑی طاقتوں نے یہ موَقف اختیار کیا کہ حکومت پاکستان نے بھارت سے 2 جولائی 1972ء کو معاہدہ شملہ میں کشمیر سمیت تمام تنازعات کو دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے طے کرنے پر اتفاق کیا ہے لہٰذا یہ مسئلہ سلامتی کونسل میں نہیں اٹھایا جا سکتا ۔ یہ بڑی طاقتوں کی انتہائی بددیانتی اور پاکستان کے حکمرانوں کی کمزوری اور نا اہلی ہے کہ وہ ایسے غیر قانونی موَقف کو مانتے ہیں جس سے بھارت کشمیر پر اپنے ناجائز قبضہ کو طول دیتا جا رہا ہے ۔ اول تو معاہدہ شملہ میں ایسی کوئی شق نہیں ہے کہ فریقین کسی تنازع کو سلامتی کونسل میں نہیں اٹھا سکتے ، دوم یہ کہ اگر بالفرض ایسی کوئی شق ہوتی بھی تو وہ کالعدم ہو جاتی کیونکہ اقوام متحدہ کے منشور کی شق 103 کی روسے اگر کوئی معاہدہ اقوام متحدہ کے منشور سے متصادم ہو تو وہ نافذ العمل نہیں ہو سکتا ۔ کشمیر کی صورت حال کے پیش نظر مقبوضہ علاقے پر قابض بھارتی فوج پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ حریت پسند قیدیوں کو جنگی قیدیوں کی حیثیت دے ان کے ساتھ جنیوا کنونشن ;737373; کے تحت سلوک کرے نہ کہ اپنے انسداد دہشت گردی کے کالے قانون ;6570838065; کے مطابق ان پر ذہنی اور جسمانی تشدد کرے یا ان کا ماورائے عدالت قتل کرے بھارت کو 80 ہزار کشمیریوں کے قتل پر بین الاقوامی تعزیراتی عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیا جانا چاہیے ۔

مریم نواز کے خلاف نیب کی جعلی ٹرسٹ ڈیڈ کی درخواست خارج

اسلام آباد: احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز کے خلاف جعلی ٹرسٹ ڈیڈ جمع کرانے کے معاملے پر نیب کی درخواست خارج کردی ہے۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی سربراہی میں جعلی ٹرسٹ ڈیڈ کیس کی سماعت ہوئی، ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ٹرسٹ ڈیڈ جعلی تھی جب کہ عدالت کا ایکسکلوزیو دائرہ اختیار ہے۔

مریم نواز نے نیب پراسیکیوٹر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو ایک سال کیوں لگا عدالت کو یاد دلانے میں، نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ وہی عدالت کو بتا رہا ہوں، مریم نواز نے کہا کہ تھوڑی سی دیر کردی، بس ایک سال جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ دیر آئے لیکن درست آئے۔ وکیل مریم نواز نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ہر وقت بندہ درست نہیں آتا، درخواست قابل سماعت نہیں لہذا مسترد کریں۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد 10 منٹ بعد فیصلہ سنایا جس میں عدالت نے مریم نواز کے خلاف نیب کی جانب سے ایون فیلڈ ریفرنس میں جعلی ٹرسٹ ڈیڈ کی درخواست کو مسترد کردیا۔

سماعت کے موقع پر مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز پیشی کے لیے کیپٹن (ر) صفدر، پرویز رشید، مریم اورنگزیب اور سعدیہ عباسی کے ہمراہ احتساب عدالت پہنچیں جہاں کارکنوں نے ان کا استقبال کیا۔

احتساب عدالت پہنچنے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ ملک میں آزادی اظہار معطل ہوچکا ہے، ہم سے متعدد بار رابطہ کیا گیا لیکن ہم نے بات نہیں کی، میں اور میاں صاحب بات چیت کے لوازمات پورے نہیں کرسکتے۔

صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ وہ کون سے لوازمات ہیں، جس پر مریم نواز نے کہا کہ بات چیت کے لیے اصولوں کی قربانی دینا پڑتی ہے اور اصولوں کی قربانی دینے کے لیے ہم تیار نہیں، مسلم لیگ (ن) کے جتنے قائدین کو گرفتار کریں ڈرنے والے نہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ پارٹی کی مشاورت سے سڑکوں پر نکلیں گے، پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق چلیں گے جب کہ اگر کسی سیاسی جماعت کے بغیرملک گیر ہڑتال ہوسکتی ہے تویہ حکومت کی ناکامی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں تو حکومت کو پانچ سال دینے کو تیارہوں لیکن عوام نہیں، ایک سوال پر کہ کیا آرمی چیف کو ایکسٹینشن ملنی چاہیے، مریم نواز نے کہا کہ آئین و قانون پر عملدرآمد ہونا چاہیے، نہ اس سے زیادہ نہ کم۔

سیکیورٹی انتظامات؛

مریم نواز کی عدالت پیشی کے موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے، احتساب عدالت کے چاروں اطراف خاردار تاریں لگائی گئی تھیں جب کہ 2  ہزار سے زائد پولیس، رینجرز، ایف سی اور اسپیشل برانچ کے اہلکاروں سمیت خواتین پولیس اہلکاروں کو بھی کو احتساب عدالت کے باہر تعینات کیا گیا تھا۔

پولیس ذرائع کے مطابق احتساب عدالت میں غیر متعلقہ شخص کا داخلے بند کرکے پولیس افسران کو احکامات جاری کیے گئے تھے کہ احتساب عدالت کسی صورت ن لیگی کارکن نہ پہنچ پائیں، دوسری جانب احتساب عدالت جانے کی کوشش کرنے والے متعدد (ن) لیگی کارکنوں کو حراست میں لے لیاگیا ہے۔

شہباز شریف مذمت؛

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے پارٹی کارکنوں کی گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین سمیت پارٹی کارکنوں کی گرفتاری عمران نیازی کی فسطائیت اور آمرانہ ذہنیت کا ثبوت ہے۔

ہواوے کا اینڈرائیڈ کو ہی اپنے فونز میں برقرار رکھنے کا فیصلہ

امریکا کی جانب سے بلیک لسٹ کیے جانے کے بعد جب گوگل کے اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم کا لائسنس منسوخ ہونے کا خدشہ پیدا ہوا تو ہواوے نے اپنا آپریٹنگ سسٹم متعارف کرانے کا اعلان کیا۔

تاہم اب امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی جارہی ہے تو چینی کمپنی نے اپنے فونز کے لیے اپنے تیار کردہ ہونگ مینگ سسٹم کی بجائے گوگل کے اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم کو ہی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

چین کے سرکاری خبررساں ادارے ژنہوا کے مطابق ہواوے کی سنیئر نائب صدر کیتھرین چین نے کہا ہے کہ ہونگ مینگ آپریٹنگ درحقیقت فونز کے لیے ڈیزائن ہی نہیں کیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس آپریٹنگ سسٹم کو صنعتی مقاصد کے لیے تیار کیا گیا ہے اور اس میں کسی فون آپریٹنگ سسٹم کے مقابلے میں کوڈز بہت کم ہیں جبکہ کسی فون کے مقابلے میں لیٹنسی بہت کم ہے، یعنی یہ بہت زیادہ والیوم کا دیٹا بہت کم وقت میں پراسیس کرسکتا ہے۔

ہواوے کے چیئرمین لیانگ ہوا نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ہونگ مینگ کو انٹرنیٹ آف تھنگز ڈیوائسز کے لیے تیار کیا گیا تھا اور کمپنی نے تاحال فیصلہ نہیں کیا کہ اسے فون آپریٹنگ سسٹم کے لیے استعمال کرنا چاہیے یا نہیں۔

خیال رہے کہ رائٹرز نے اتوار کو اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ آئندہ 2 سے 4 ہفتوں میں ہواوے کو مصنوعات فروخت کرنے والی کمپنیوں کے لائسنسز کی منظوری دینے کے لیے تیار ہے، تاکہ وہ پرزہ جات چینی کمپنی کو فروخت کرسکیں۔

یہ ہواوے کو مئی میں بلیک لسٹ کیے جانے کے بعد پابندیوں میں نرمی کا عندیہ دینے والا پہلا نمایاں اقدام ہوگا۔

گزشتہ ماہ جی 20 کانفرنس کے دوران چینی صدر سے ملاقات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکی کمپنیوں کو ہواوے کے ساتھ کاروبار جاری رکھنے کی اجازت دی جائے گی جبکہ گزشتہ ہفتے امریکی محکمہ تجارت نے چینی کمپنی سے کاروبار کے لیے امریکی کمپنیوں کو خصوصی لائسنس کا اجرا جاری رکھنے کا عندیہ دیا تھا۔

امریکی پابندیوں میں نرمی کے اشارے کے بعد اب تجزیہ کاروں نے تخمینہ لگایا ہے کہ 2019 میں ہواوے فونز کی فروخت 26 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے خصوصاً اگر اسے جلد دوبارہ گوگل لائسنس تک رسائی مل جائے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق جولائی کے آخر تک اگر ہواوے کو گوگل موبائل سروسز تک رسائی مل جائے تو رواں سال ڈیوائسز کی فروخت 26 کروڑ سے تجاوز کرسکتی ہے جبکہ لائسنس کے بغیر یہ اعدادوشمار 23 کروڑ کے قریب ہوسکتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ہواوے کو رواں سال مئی میں ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے بلیک لسٹ کیا تھا جس کے لیے کمپنی کے چینی حکومت سے مبینہ روابط کو بنیاد بنایا گیا تھا۔

Google Analytics Alternative