Home » Author Archives: Admin (page 20)

Author Archives: Admin

آسکر ایوارڈز کیلئے پاکستانی انٹری کے طور پر ‘لال کبوتر’ کا انتخاب

فلمی دنیا کے سب سے متعبر اور اعلیٰ فلمی ایوارڈ آسکر کے لیے پاکستانی فلموں کا انتخاب کرنے والی پاکستانی اکیڈمی سلیکشن کمیٹی نے رواں برس ریلیز ہونے والی فلم ‘لال کبوتر’ کا نام ایوارڈ میں نامزدگی کے لیے منتخب کرلیا۔

خیال رہے کہ آسکر کے لیے پاکستان، بھارت، ایران، ترکی اور افغانستان سمیت دنیا کے تمام ملکوں میں قائم کمیٹیاں ہی اپنے اپنے ممالک کی کسی ایک فلم کو ‘غیر ملکی’ زبان کی کیٹیگری کے لیے منتخب کرتی ہیں۔

گزشتہ برس پاکستانی کمیٹی نے فلم ‘کیک ’ کا انتخاب کیا تھا، جس کا مقابلہ دنیا کی 93 دیگر فلموں سے تھا۔

اس بار شرمین عبید چنائے کی سربراہی میں کام کرنے والی پاکستانی کمیٹی نے فلم ‘لال کبوتر’ کا انتخاب کیا ہے، جس کا نام جلد ہی 92 ویں اکیڈمی (آسکر) ایوارڈزاکی غیر ملکی فلموں کی کیٹیگری کے لیے بھجوایا جائے گا۔

اکیڈمی ایوارڈز کی موشن پکچرز آرٹس اینڈ سائنسز اکیڈمی ایوارڈز کی تمام کیٹیگریز کے لیے حتمی نامزدگیوں کا انتخاب دسمبر 2019 میں کرے گی، جبکہ 13 جنوری کو حتمی نامزدگیوں کی فہرست جاری کی جائے گی جبکہ ایوارڈ تقریب 9 فروری 2020 کو منعقد ہوگی۔

پاکستانی کمیٹی میں شرمین عبید چنائے کے علاوہ زیبا بختیار، ضرار کھوڑو، زیب النسا حامد، سرمد کھوسٹ، عاصم عباسی، رضوان بیگ، جمیل بیگ، صنم سعید اور حمنہ زبیر شامل ہیں۔

لال کبوتر کراچی کے ایک ٹیکسی ڈرائیور کی کہانی ہے جو اپنے حالات بہتر بنانے کے لیے دبئی جانا چاہتا ہے اور اس واسطے اسے 3 لاکھ روپے درکار ہیں، جن کو حاصل کرنے کے لیے وہ اپنے جرائم پیشہ دوستوں کے ساتھ مل کر ٹیکسی چھینے جانے کا ڈرامہ کرتا ہے اور اس ڈرامے کے دوران اس کی ملاقات حادثاتی طور پر ایک لڑکی سے ہوجاتی ہے جس کے صحافی شوہر کو ایک مقامی بلڈر نے نامعلوم ٹارگٹ کلر کے ہاتھوں قتل کروادیا ہوتا ہے۔

احمد علی اکبر نے اس ٹیکسی ڈرائیور کا کردار ادا کیا ہے جبکہ منشا پاشا مقبول صحافی کی بیوہ کے روپ میں نظر آئی ہیں۔

اس فلم کی ہدایات کمال خان نے دی تھیں جبکہ ہانیہ چیمہ اور کامل چیمہ ایگزیکٹیو پروڈیوسر ہیں۔

آسکر کے لیے نامزدگی پر کمال خان نے کہا ‘یہ پوری ٹیم کے لیے فخر کا لمحہ ہے، ہم سب بہت پرجوش ہیں اور پاکستانی سلیکشن کمیٹی اور لال کبوتر کو دیکھنے والوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں’۔

تجارت بڑھانے کیلیے’’افریقی پالیسی‘‘ پر عمل پیرا ہیں، رزاق داؤد

اسلام آباد:  ایتھوپیا کے وزیر تجارت نے پاکستان کے دورے کے موقع پر پاکستانی سرمایہ کاروں کو ایتھوپیا میں ٹیکسٹائل اور مینوفیکچرنگ شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے جبکہ مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے کہاکہ پاکستان افریقہ کی جانب تجارت کو بڑھانے کیلیے’’افریقہ پالیسی‘‘ پر عمل پیرا ہے۔

ایتھوپیا کے تجارتی وفد کی وزارتِ تجارت میں مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد سے ملاقات ہوئی، ملاقات میں ایتھوپیا کے وزیر مملکت برائے خارجہ مارکوس ٹیکلے، وزیر برائے تجارت و صنعت مسگانو آریگاودیگر شامل تھے، سیکریٹری تجارت سردار احمد نواز سکھیرا وزارت تجارت، وزارت خارجہ کے اعلیٰ حکام بھی شریک تھے، اس موقع پر ایتھوپیا کے وزیر مملکت برائے خارجہ مارکوس ٹیکلے نے کہا کہ پاکستان اور ایتھوپیا کے تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

ایتھوپیا کہ وزیر تجارت مسگانو آریگا نے کہاکہ دونوں ممالک کے مابین کاروباری افراد کے مابین روابط بڑھانے کیلیے ٹریڈ سیمینارز، صنعتی اشیا کی نمائش اور کاروباری وفود کا تبادلہ کی ضرورت ہے۔ پاکستانی سرمایہ کار ایتھوپیا میں ٹیکسٹائل گارمنٹس اور مینوفیکچرنگ شعبے میں سرمایہ کاری کریں۔

مشیر تجارت عبدالر زاق داؤد نے کہا کہ پاکستان افریقہ کی جانب تجارت کو بڑھانے کیلیے’’افریقہ پالیسی‘‘ پرعمل پیرا ہے، ایتھوپیا اس حوالے سے بہت اہم ملک ہے، پاکستان نے چاول، ٹیکسٹائل اور چمڑے کے علاوہ اب انجینئرنگ کے شعبے سے بھی برآمدات کر رہا ہے، پاکستانی ٹریکٹرزکو موزمبیق، تنزانیہ کے بعد اب انگولا بھی برآمدکرے گا، رواں سال نومبر میں پاکستان نیروبی میںکانفرنس کا انعقادکرے گا، نیروبی کانفرنس میں افریقی ممالک کو مدعوکریں گے۔

آئی ایم ایف کی ٹیکس ریفنڈ سے متعلق شرط پوری نہ ہونے کا امکان

 اسلام آباد: اس بات کا قوی امکان ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف کی شرط کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ٹیکس دہندگان کو 75 ارب روپے ریفنڈ نہیں کرپائے گا۔

آئی ایم ایف سے حاصل کردہ 6 ارب ڈالر کے قرضہ پروگرام کے تحت پاکستان کو رواں مالی سال میں بجٹ خسارہ 276 ارب روپے تک محدود کرنا ہے جو گذشتہ مالی سال میں 13.5 کھرب روپے تھا۔

آئی ایم ایف کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بجٹ خسارے کا ہدف 102 ارب روپے ہے، اگر حکومت ٹیکس بقایاجات کی مد میں 75 ارب روپے ٹیکس دہندگان کو ریفنڈ کردے تو یہ ہدف ایک حد تک نرم کیا جاسکتا ہے۔

ایف بی آر کی جانب سے رواں ہفتے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی حکومت 75 ارب روپے کے بجائے ٹیکس بقایاجات کی مد میں صرف 22 ارب روپے ادا کرسکی ہے جو ہدفی رقم کا محض 30 فیصد ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر حکومت باقی ماندہ 53 ارب روپے جاری کرتی ہے تو اس کا 10.71 کھرب روپے کے آئی ایم ایف ہی کے متعین کردہ سہ ماہی ریونیو ہدف پر منفی اثر پڑے گا۔

واضح رہے کہ ایف بی آر نے جولائی تا ستمبر کے لیے ریونیو ہدف 11.11 کھرب روپے مقرر کیا ہے۔ ٹیکس ریفنڈز کی پست شرح کا سبب رواں مالی سال کے لیے مقرر کردہ 55 کھرب روپے کی آمدنی کا بڑا ہدف ہے۔ جولائی اور اگست کے لیے ایف بی آر نے 644 ارب روپے کا نسبتاً کم ہدف مقرر کیا تھا مگر ان دو ماہ میں ریونیو ہدف سے 64 ارب روپے کم ( 580 ارب ) رہا تھا۔

ایف بی آر کا منصوبہ تھا کہ پرومیسری نوٹس کے ذریعے مخصوص مقدار میں ریفنڈز ادا کیے جائیں۔ تاہم پرومیسری نوٹس کو بطور ضمانت تسلیم کرنے میں بینکوں کی ہچکچاہٹ کی وجہ سے یہ نوٹس تیز رفتاری سے جاری نہیں ہوسکے۔

ذرائع کے مطابق اسٹیٹ بینک بھی پرومیسری نوٹس کو بینکوں کے اسٹیچوٹری لکویڈٹی ریشو کا حصہ سمجھنے میں متامل تھا۔ اگر حکومت 30 ستمبر تک ریفنڈز کی مد میں 75 ارب سے زائد ریلیز کرتی ہے تو اسے 102 ارب روپے کے پرائمری بجٹ ہدف میں اتنی ہی رعایت مل جائے گی۔ تاہم یوں معلوم ہوتا ہے کہ حکومت نے اس رعایت یا ترغیب کا فائدہ نہ اٹھاکر صنعتکاروں کو ریلیف مہیا کرنے کا موقع گنوادیا ہے۔

زرد دانتوں کی سفیدی واپس لانے میں مددگار آسان طریقے

دانتوں کی رنگت میں تبدیلی اکثر یقینی ہوتی ہے اور بتدریج نظر آتی ہے۔

درحقیقت عمر بڑھنے کے ساتھ دانتوں کی رنگت زیادہ زرد ہونے لگتی ہے جس ک یوجہ اوپری سطح کا غائب ہوجانا ہے اور اس کے نیچے موجود زرد جھلی زیادہ نمایاں ہوجاتی ہے۔

تاہم اگر یہ جوانی میں ہی زرد ہونے لگیں تو اس کی وجہ مخصوص غذاﺅں یا مشروبات جیسے بلیو بیریز، کافی یا چائے وغیرہ کا استعمال ہوسکتا ہے۔

زیادہ چینی اور سادی کاربوہائیڈریٹس پر مبنی غذا، تمباکو نوشی، مخصوص ادویات اور ماﺅتھ واش کے سائیڈ ایفیکٹ، جینز، منہ میں چوٹ، فلورائیڈ کا زیادہ استعمال، دانتوں کی ناقص نگہداشت اور لعاب دہن کی کمی بھی اس کی وجوہات میں شامل ہیں۔

تاہم اگر آپ اس زرد رنگت سے نجات چاہتے ہیں تو درج ذیل میں چند آسان طریقے دیئے جارہے ہیں جو کو اپنا معمول بناکر آپ یہ کام کرسکتے ہیں۔

دانتون کو برش

یقیناً سب سے پہلی چیز تو دانتوں کو برش کرنا ہے اور وہ بھی درست طریقے سے، خصوصاً ایسی غذاﺅں یا مشروبات کے بعد جن سے دانتوں کی رنگت میں تبدیلی کا امکان ہو۔دن میں کم از کم 2 بار 2 سے 3 منٹ کے لیے برش کرنا چاہیے اور ہر حصے کو کور کرنا چاہیے۔

بیکنگ سوڈا اور ہائیڈروجن پری آکسائیڈ

بیکنگ سوڈا اور ہائیڈروجن پری آکسائیڈ کا پیسٹ استعمال کرنے سے دانتوں سے پلاک اور بیکٹریا کو ختم کرکے داغوں سے نجات پائی جاسکتی ہے۔ ایک کھانے کا چمچ بیکنگ سوڈا 2 کھانے کے چمچ ہائیڈرجن پری آکسائیڈ میں مکس کرکے پیسٹ بنائیں اور اس سے برش کرکے اچھی طرح کلیاں کریں۔ ایک 2012 کی تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا کہ بیکنگ سوڈا اور پری آکسائیڈ پر مبنی ٹوتھ پیسٹ کا استعمال دانتوں کے داغ ختم کرکے سفیدی واپس لاتا ہے۔

ناریل کے تیل کا استعمال

ناریل کے تیل سے پلاک اور بیکٹریا کا خاتمہ ہوتا ہے جس سے دانتوں کی سفیدی واپس لانے میں مدد ملتی ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک سے 2 چائے کے چمچ تیل کو منہ میں 10 سے 30 منٹ تک رکھیں اور اسے نگلنے سے گریز کریں، اس کے بعد تھوک دیں اور پھر پانی سے کلیاں کرکے ایک گلاس پانی پی لیں اور پھر دانتوں پر برش کرلیں۔ اس کی افادیت کے حوالے سے کوئی سائنسی تحقیقی رپورٹس تو موجود نہیں مگر 2015 کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا کہ تلوں کے تیل اور سورج مکھی کے تیل سے پلاک سے ہونے والی سوجن میں کمی لائی جاسکتی ہے۔ تیل کا استعمال دانتوں کی سفیدی مٰں مدد دیتا ہے کیونکہ ہلاک کا اجتماع دانتوں کو زرد کرتا ہے۔

سیب کا سرکہ

سیب کے سرکے کو بھی اس مقصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، دو چائے کے چمچ سیب کے سرکے کو 6 اونس پانی میں ملا کر 30 سیکنڈ تک اس سے غرارے کریں اور پھر پانی سے کلیاں کرکے دانتوں پر برش کرلیں۔ 2014 کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ یہ سرکہ بلیچنگ ایفیکٹ رکھتا ہے مگر یہ دانتوں کی سطح کو نقصان بھی پہنچا سکتا ہے تو اس کا استعمال احتیاط سے کرنا چاہیے اور بہت مختصر مقدار ہی فائدہ مند ہے۔

لیموں، مالٹے یا کیلے کے چھلکے

کچھ لوگوں کا دعویٰ ہے کہ لیموں، مالٹے یا کیلوں کے چھلکوں کو دانتوں پر رگڑنے انہیں سفید بناتا ہے۔ اس مقصد کے لیے چھلکوں کو نرمی سے دانتوں پر 2 منٹ تک رگڑیں اور اس کے بعد اچھی طرح کلیاں کریں اور پھر برش کرلیں۔ سائنسی طور پر ایسے شواہد زیادہ نہیں کہ پھلوں کے چھلکے اس حوالے سے موثر ہیں، تاہم 2017 کی ایک تحقیق میں لیموں کے چھلکے سے حاصل کیے گئے سیٹرک ایسڈ ایکسٹریکٹس کو اس مقصد کے لیے آزما کر دیکھا گیا جو کسی حد تک موثر ثابت ہوا۔

زیادہ پانی والے پھلوں اور سبزیوں کا استعمال

زیادہ پانی والے پھلوں اور سبزیوں جیسے کریلے، تربوز یا دیگر کا استعمال دانتوں کو صحت مند رکھتا ہے، ان میں موجود پانی دانتوں اور مسوڑوں کو پلاک اور بیکٹریا سے بچاتا ہے۔ اور ہاں ان کا استعمال منہ میں لعاب دہن کی مقدار بھی بڑھاتا ہے جس سے کھانے کے ذرات کو نکالنے میں مدد ملتی ہے جو دانتوں میں پھنس جاتے ہیں۔تاہم اس حوالے سے بھی سائنسی شواہد زیادہ ٹھوس نہیں مگر کوئی نقصان بھی نہیں۔

بس اپنے منہ کی صفائی کا خیال رکھنا اور دانتوں کا چیک اپ کرانا چاہیے، اگر اوپر درج طریقوں سے کوئی کامیابی نہ ہو تو ڈینٹسٹ یہ تعین کرنے میں مدد دے سکتا ہے کہ آپ کے لیے کیا اقدام بہتر ثابت ہوگا۔

چائے پینے کا یہ فائدہ آپ کو ضرور پسند آئے گا

اگر آپ کو چائے پینا پسند ہے تو اچھی خبر یہ ہے کہ یہ عادت دماغی افعال کو صحت مند بنانے میں مدد دیتی ہے۔

یہ دعویٰ سنگاپور میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

سنگاپور نیشنل یونیورسٹی کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ چائے پینے کا معمول اس مشروب سے دور رہنے والے افراد کے مقابلے میں دماغی حصوں کو زیادہ بہتر طریقے سے منظم رکھنے اور دماغی افعال صحت مند بنانے میں مدد دیتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران 36 افراد کے دماغی ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا اور محققین کے مطابق نتائج سے چائے پینے کی عادت کے دماغی ساخت پر مثبت اثرات کے اولین شواہد ملتے ہیں۔

اس تحقیق کے لیے سنگاپور کی یونیورسٹی نے برطانیہ کی Essex اور کیمبرج یونیورسٹی کے ساتھ مل کر کام کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ چائے پینا عادت بنالینے سے عمر بڑھنے سے دماغی سرگرمیوں آنے والی تنزلی کی روک تھام ممکن ہے۔

اس سے قبل ماضی کی تحقیقی رپورٹس میں چائے کے انسانی صحت پر فوائد کا ذکر کیا جا چکا ہے جیسے مزاج میں بہتری اور خون کی شریانوں سے جڑے امراض کی روک تھام وغیرہ۔

2017 کی ایک تحقیق میں بھی دریافت کیا گیا تھا کہ چائے پینے کی عادت معمر افراد میں دماغی تنزلی کا امکان 50 فیصد تک کم کردیتی ہے۔

اسی تحقیق کو اب سنگاپور اور برطانیہ کی یونیورسٹیوں نے مزید آگے بڑھاتے ہوئے 60 سال یا اس سے زائد عمر کے 36 افراد کی خدمات حاصل کرکے ان کی صحت، طرز زندگی، نفسیاتی صحت وغیرہ کا ڈیٹا اکٹھا کیا۔

ان افراد کی دماغی کارکردگی اور امیجنگ کے نتائج کا تجزیہ کرنے کے بعد دریافت کیا گیا کہ جو لوگ ہفتے میں کم از کم 4 بار سبز چائے، اولونگ چائے یا سیاہ چائے کا استعمال کرتے ہیں، ان کے دماغی حصے زیادہ موثر طریقے سے ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔

محققین کے مطابق اگر آپ سڑک کی ٹریفک کی مثال لیں تو یہ خیال کریں کہ دماغی حصے منازل کی طرح ہیں، جبکہ دماغی حصوں کے درمیان تعلق سڑکوں کی طرح، جب سڑک کا نظام بہتر طریقے سے منظم کیا جائے تو گاڑیوں اور مسافروں کی حرکت بھی زیادہ تیز اور کم ذرائع سے ممکن ہوتی ہے، اسی طرح دماغی حصوں کا باہمی تعلق زیادہ منظم ہونے پر معلومات کا تجزیہ بھی زیادہ موثر ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری پرانی تحقیق میں ثابت ہوا تھا کہ چائے پینے والے افراد کے دماغی افعال اس مشروب سے دور رہنے والوں کے مقابلے میں بہتر ہوتے ہیں ، اب حالیہ نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ دماغی نیٹ ورک پر چائے پینا معمول بنانے سے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دماغی کارکردگی اور دماغی حصوں ایک دوسرے سے تعلق رکھتے ہیں تو ان افعال کو سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل ایجنگ میں شائع ہوئے۔

کیا ہلدی واقعی ایک سپرفوڈ ہے؟

ہلدی ایسا مصالحہ ہے جس کا استعمال پاکستان کے ہر گھر میں کھانا پکانے کے لیے ہوتا ہے جبکہ مختلف ممالک میں اسے مختلف امراض کے علاج کے طور پر بھی بطور دوا استعمال کیا جاتا ہے۔

ایسا بھی کہا جاتا ہے کہ ہلدی ایسا سپرفوڈ ہے جو کینسر سے مقابلہ کرتا ہے، ڈپریشن میں کمی لاتا ہے اور بھی بہت کچھ کرسکتا ہے۔

مگر اس حوالے سے کتنی حقیقت ہے اور یہ صحت کو کیا کچھ فراہم کرسکتا ہے؟

ویب ایم ڈی کی ایک رپورٹ میں اس کا جائزہ لیا گیا ہے۔

ڈپریشن

ہلدی میں موجود متعدد مرکبات ممکنہ طورپر صحت کو معاونت فراہم کرتے ہیں، ان میں سب سے نمایاں curcumin ہے، سائسندانوں کے خیال میں یہ وہ جز ہے جو ڈپریشن میں کمی لاسکتا ہے جبکہ سکون آور ادویات کو زیادہ موثر طریقے سے کام کرنے میں مدد دیتا ہے، تاہم اب تک اس حوالے سے تحقیقی رپورٹس میں نتائج ملے جلے رہے ہیں۔

ذیابیطس ٹائپ ٹو

ہلدی ورم کش ہوتی ہے اور اس وجہ سے یہ بلڈشوگر لیول مستحکم رکھنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے، یعنی یہ ذیابیطس ٹائپ ٹو سے بچنے یا اس کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے کارآمد ٹول ثابت ہونے والا مصالحہ ہے۔ پری ڈائیبیٹس کے شکار 240 افراد پر ہونے والی ایک تحقیق میں دریافت کیا کہ ہلدی سپلیمنٹ کا 9 ماہ تک استعمال ذیابیطس کا شکار ہونے کا خطرہ کم کرتا ہے۔ اس حوالے سے تحقیق بھی جاری ہے مگر زیادہ تر جانوروں پر ہورہی ہے، انسانوں پر نہیں۔

وائرل انفیکشن

اگر آئندہ کبھی موسمی نزلہ زکام کا شکار ہوں تو ہلدی چائے کو استعمال کرکے دیکھیں جو کہ متعدد اقسام کے وائرسز سے لڑنے میں مدد دے سکتی ہے جن میں فلو بھی شامل ہے مگر اس حوالے سے بیشتر تحقیق لیبارٹری میں ہوئی ہے لوگوں پر نہیں۔

ہائی کولیسٹرول

اس حوالے سے طبی سائنس کی رائے ملی جلی ہے، کچھ تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا کہ ہلدی کا استعمال نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح میں کمی کرتا ہے جبکہ دیگر رپورٹس میں کہا گیا کہ اس سے کوئی اثر مرتب نہیں ہوتا۔ سائنسدان تاحال ہلدی کے دل کو تحفظ دینے کے اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں اور ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ہلدی کا استعمال بائی پاس کرانے والے افراد میں ہارٹ اٹیک سے تحفظ دے سکتا ہے۔

الزائمر

الزائمر کے شکار افراد کو دائمی ورم کا سامنا ہوتا ہے اور ہلدی قدرتی طور پر ورم کش خصوصیات رکھتی ہے، مگر کیا یہ مصالحہ الزائمر کا مقابلہ کرسکتا ہے؟ تو اس حوالے سے اب تک کوئی ٹھوس سائنسی ثبوت سامنے نہیں آسکا ہے کہ یہ اس مرض کی روک تھام کے لیے موثر ہے۔

جوڑوں کے امراض

ہلدی کا استعمال جوڑوں کے درد، اکڑن اور ورم میں کمی لانے کے حوالے سے فائدہ مند سمجھا جاتا ہے اور اب تک تحقیقی نتائج بھی حوصلہ بخش رہے ہیں، مگر اس حوالے سے ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے، اگر آپ جوڑوں کے درد کے لیے اسے آزمانا چاہتے ہیں تو اس کا استعمال کالی مرچ کے ساتھ کرنا بہتر ہے۔

کینسر

لیبارٹری اور جانوروں پر ہونے والی تحقیقات میں دریافت کیا گیا ہے کہ ہلدی کینسر زدہ خلیات کی نشوونما روک دیتی ہے، مگر ان رپورٹس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس وقت کیا ہوگا جب کوئی شخص ہلدی کو کھائے گا، مزید یہ کہ ہلدی کچھ کیموتھراپی ادویات کے اثر میں مداخلت کرسکتی ہے۔

سردرد

ہلدی ادرک کی نسل سے ہوتی ہے جو کہ سردرد سے نجات کے لیے قدرتی ٹوٹکا ہے تو یہ حیران کن نہیں کہ سردرد کے علاج کے لیے ہلدی کے استعمال کا مشورہ دیا جائے خصوصاً آدھے سر کے درد کے لیے۔ تاہم اس حوالے سے سائنسی شواہد بہت کم ہیں کہ ہلدی سے سردرد کا علاج یا روک تھام ممکن ہے، بس ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ یہ نیا طریقہ علاج کا حصہ ہوسکتی ہے۔

کیل مہاسے

کچھ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہلدی کا ماسک جلد پر لگانے سے کیل مہاسوں سے لڑنے میں مدد ملتی ہے، جس کی ممکنہ وجہ اس مصالحے کی جراثیم اور ورم کش خصوصیات ہیں، مگر اس حوالے سے سائنسی طور پر کوئی ثبوت موجود نہیں۔

دنیا کا سیاہ ترین میٹریل تیار کرلیا گیا

سائنسدانوں نے حادثاتی طور پر ایسا میٹریل تیار کرلیا جو کہ سیاہ ترین ہے اور 99.995 فیصد تک روشنی کو جذب کرلیتا ہے۔

میساچوسٹس انسٹیٹوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے انجنیئرز نے اس میٹریل کو کاربن نانو ٹیوبز (سی این ٹیز) کی مدد سے تیار کیا اور اس کی دریافت حادثاتی طور پر ہوئی۔

بنیادی طور پر یہ سائنسدان سی این ٹیز کو برقی موصل میٹریل جیسے المونیم کی مدد سے اگانے کے طریقوں پر تجربات کررہے تھے تاکہ اس کی برقی اور تھرمل خوبیوں کو بڑھایا جاسکے، مگر اس میٹریل کی رنگت نے ٹیم کو حیران کردیا اور اس وقت انہیں احساس ہوا کہ انہوں نے سیاہ ترین رنگت والا میٹریل تیار کرلیا ہے۔

اس دریافت کو گزشتہ دنوں نیویارک اسٹاک ایکسچینج میں آزمایا گیا جہاں موجود 16.78 قیراط کے قدرتی زرد ہیرے پر اس میٹریل کی کوٹنگ کردی گئی، جس کے بعد جگمگاتے ہیرے کی ساری شاہ و شوکت سیاہ رنگ میں گم ہوگئی۔

تحقیقی ٹیم کے مطابق اس میٹریل کو عملی اپلائنسز پر بھی آزمایا جاسکتا ہے اور اس سے خلائی دوربینوں کے فنکشنز کو بھی مدد مل سکے گی۔

ایم آئی ٹی کے اس میٹریل سے قبل وانٹا بلیک نامی میٹریل کو سیاہ ترین کا اعزاز حاصل تھا۔

برطانوی سائنسدانوں کا تیار کردہ یہ میٹریل 99.96 فیصد تک روشنی جذب کرلیتا اور انفراریڈ کو بھی اپنے اندر سے گزرنے نہیں دیتا۔

2017 میں محققین نے ایک یوٹیوب ویڈیو میں بتایا ‘ایک ہائی پاور لیزر پوائنٹر بھی اس میٹریل کے پیچھے موجود کسی چیز کو دکھانے میں ناکام رہتا ہے، ہم نے اس سے پہلے اتنا سیاہ میٹریل کبھی تیار نہیں کیا تھا’۔

وانٹا بلیک کا ایک نمونہ — اسکرین شاٹ
وانٹا بلیک کا ایک نمونہ — اسکرین شاٹ

اس میٹریل کو 2014 میں تیار کیا گیا تھا مگر اب اسے پہلی بار 2017 میں ایک اسپرے کی شکل میں فروخت کے لیے پیش کیا گیا۔

اور ہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ یہ کوئی پینٹ یا کپڑا نہیں بلکہ کروڑوں کاربن نینو ٹیوبز سے تیار کردہ خصوصی کوٹنگ ہے۔

جب روشنی اس اسپرے سے رنگی ہوئی کسی چیز سے ٹکراتی ہے تو وہ نینو ٹیوبز کے خلا میں داخل ہوتی ہے اور وہاں پھنس کر جذب ہوجاتی ہے۔

گوگل فوٹوز کو میسجنگ ایپ بنانے کی تیاری

اسٹوریز ایسا فیچر ہے جو اسنیپ چیٹ نے متعارف کرایا اور مقبول بھی ہوا جس کے بعد انسٹاگرام، فیس بک، میسنجر اور واٹس ایپ میں بھی اسے بہت زیادہ مقبولیت ملی۔

ایسا لگتا ہے کہ اسی سے متاثر ہوکر گوگل نے اپنی فوٹو ایپ فوٹوز میں نیا فیچر میموریز متعارف کرایا ہے جو کہ انسٹاگرام سے بہت زیادہ ملتا جلتا ہے۔

اس فیچر میں صارفین پرانی تصاویر اور ویڈیوز اسٹوریز جیسے فارمیٹ میں دیکھ سکیں گے۔

اس سے قبل گوگل فوٹوز میں پرانی تصاویر کے لیے ری ڈسکور دس ڈے نامی فیچر تھا جو ایپ کے اسسٹنٹ ٹیب میں منتقل کیا گیا تھا مگر میموریز نامی فیچر سب سے اوپر انسٹاگرام اسٹوریز جیسی شکل میں چھوٹے سرکل میں نظر آئے گا، جن میں ایک سال پرانی تصاویر یا ویڈیوز سے آغاز ہوگا اور پھر پیچھے چلتا جائے گا۔

تاہم ہر تصویر یا ویڈیو کو میموری کے طور پر نہیں دیکھا جاسکے گا بلکہ ایک الگورتھم ان کا انتخاب کرے گا، یہ فیچر آج سے تمام صارفین تک پہنچنا شروع ہوجائے گا۔

فوٹو بشکریہ گوگل
فوٹو بشکریہ گوگل

مگر گوگل فوٹوز میں یہی نیا اضافہ نہیں ہورہا بلکہ آنے والے مہینوں میں تصاویر اور ویڈیوز کو دوستوں اور گھروالوں کے ساتھ شیئر کرنے کا طریقہ کار بھی انسٹاگرام کے فیچر ڈائریکٹ میسجز جیسا ہونے والا ہے۔

جہ ہاں واقعی فوٹوز بہت جلد گوگل کی نئی میسجنگ ایپ بھی بننے والی ہے جو اس سے قبل ایلو، ڈو، ہینگ آﺅٹس، گوگل چیٹ اور متعدد دیگر ایپس کی شکل میں اس میدان میں ناکامی کا منہ دیکھ چکا ہے۔

اس کے علاوہ تصاویر کے پرنٹ آﺅٹ کا فیچر بھی متعارف کرایا جارہا ہے مگر فی الحال وہ صرف امریکا تک ہی محدود ہوگا۔

تاہم ان تمام سوشل فیچرز کی بدولت گوگل کو توقع ہے کہ اس کی مقبول ترین ایپس میں سے ایک گوگل فوٹوز کے ذریعے وہ مزید آمدنی کے حصول کے ذرائع بناسکے گا۔

خیال رہے کہ گوگل فوٹوز استعمال کرنے والوں کی تعداد ایک ارب سے زائد ہے۔

Google Analytics Alternative