Home » Author Archives: Admin (page 20)

Author Archives: Admin

سوناکشی سنہا پر دھوکا دہی کا مقدمہ درج

دبنگ گرل سوناکشی سنہا یوں تو آج کل اپنی آنے والی کامیڈی فلم ’خاندانی شفا خانہ‘ کی تشہیر اور ایکشن کامیڈی فلم ’دبنگ تھری‘ کی شوٹنگ میں مصروف ہیں۔

تاہم ان کے مداحوں کے لیے بری خبر یہ ہے کہ اداکارہ پر ایک بار پھر دھوکا دہی کا مقدمہ دائر کرکے ان کے خلاف تفتیش شروع کردی گئی۔

سوناکشی سنہا پر الزام ہے کہ انہوں نے بھارتی دارالحکومت دہلی میں ایک شو میں پرفارمنس کرنا تھی اور انہوں نے اس شو میں پرفارمنس کے لیے آرگنائیزرز سے 24 لاکھ روپے بھی لیے تھے۔

تاہم پیسے لینے کے باوجود اداکارہ نے شو میں پرفارمنس کرنے سے انکار کردیا تھا۔

پیسے لینے کے باوجود شو میں پرفارمنس نہ کرنے کے الزام کے تحت ہی اداکارہ کے خلاف بھارتی ریاست اتر پردیش میں مقدمہ دائر کرکے ان کے خلاف تفتیش شروع کردی گئی۔

اداکارہ کے ترجمان نے الزامات کو مسترد کردیا—فوٹو: انسٹاگرام
اداکارہ کے ترجمان نے الزامات کو مسترد کردیا—فوٹو: انسٹاگرام

انڈیا ٹوڈے کے مطابق سوناکشی سنہا کے خلاف ریاست اترپردیش کے ضلع مرادآباد میں دھوکا دہی کا مقدمہ دائر کیے جانے کے بعد پولیس اداکارہ کے گھر بھی گئیں، تاہم اداکارہ رہائش گاہ پر موجود نہیں تھیں۔

رپورٹ کے مطابق اترپردیش کی پولیس نے ممبئی پولیس کی مدد سے سوناکشی سنہا کے گھر کا دورا کیا، جہاں پولیس نے اداکارہ کے ملازمین کا بیان ریکارڈ کیا اور پولیس کئی گھنٹوں تک دبنگ اداکارہ کا انتظاربھی کرتی رہیں۔

طویل انتظار کرنے کے باوجود اداکارہ کے نہ آنے پر پولیس سوناکشی سنہا کی رہائش سے چلی گئی، تاہم امکان ہے کہ پولیس ایک بار پھر اداکارہ کا بیان ریکارڈ کرنے کے لیے ان کے گھر کا دورا کرے گی۔

اداکارہ پر دھوکا دہی کا مقدمہ دائر کرنے پر ان کے سیکریٹری نے بتایا کہ اداکارہ پر جھوٹ کے تحت مقدمہ دائر کیا گیا۔

اداکارہ کے ترجمان کا کا کہنا تھا کہ سوناکشی سنہا نے اپنے 9 سالہ کیریئر میں کبھی بھی کسی کو دھوکا نہیں دیا، وہ جہاں بھی پرفارمنس کا وعدہ کرتی ہیں وہ اپنا وعدہ پورا کرتی ہیں۔

خیال رہے کہ اس سے قبل بھی اسی کیس میں رواں برس فروری میں سوناکشی سنہا کے خلاف اتر پردیش کے مرادآباد ضلع میں ہی مقدمہ دائر کیا گیا تھا۔

فروری میں سوناکشی سنہا سمیت دیگر 5 افراد کو بھی مقدمے میں نامزد کیا گیا تھا اور اداکارہ سمیت پانچوں افراد پر الزام تھا کہ انہوں نے دہلی میں ہونے والے شو میں پرفارمنس نہیں کی اور پرفارمنس کے لیے دی گئی 37 لاکھ روپے کی رقم بھی واپس نہیں کی۔

اداکارہ اور دیگر پانچ افراد کے خلاف فروری میں اس وقت مقدمہ دائر کیا گیا تھا جب شو کرانے والے آرگنائیزر نے مبینہ طور پر زہر کھاکر خودکشی کرنے کی کوشش کی تھی۔

سوناکشی سنہا سے قبل بھی کئی بولی وڈ اداکاراؤں اور اداکاروں پر اس طرح کے دھوکا دہی کے مقدمے دائر کیے جا چکے ہیں۔

ایسے ہی مقدمات کا سامنا کرنے والے اداکاروں میں سلمان خان، راج پال یادیو اور امیشا پٹیل جیسی اداکارائیں شامل ہیں۔

جج ارشد ملک کے الزامات میں رتی برابر سچائی نہیں، مریم نواز

لاہور: نائب صدر مسلم لیگ (ن) مریم نواز کا کہنا ہے کہ جج کو فارغ کرنے کا مطلب ہے کہ اعلیٰ عدلیہ نے حقائق کو تسلیم کرلیا جبکہ جج ارشد ملک کے الزامات میں رتی برابر سچائی نہیں۔

احتساب عدالت اسلام آباد کے جج ارشد ملک کو عہدے سے ہٹادیا گیا ہے اور انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں بیان حلفی جمع کرایا ہے جس میں نواز شریف اور ن لیگ پر دھمکیوں اور رشوت دینے کے الزامات عائد کیے ہیں۔

مریم نواز نے جج ارشد ملک کے بیان حلفی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جج کے الزامات میں رتی برابر سچائی نہیں، اگر الزامات سچ ہوتے تو دوران مقدمہ وہ عدالت میں نواز شریف کا سامنا کرتے اور پوچھتے کہ آپ مجھے کیوں رشوت آفر کر رہے ہیں، جج ارشد ملک اعلیٰ عدلیہ کو مطلع کرتے اور دباؤ میں لانے پر بھری عدالت میں نواز شریف کی گرفتاری کا حکم صادر فرماتے۔

مریم نواز نے کہا کہ جج صاحب ہر کسی سے ہنسی خوشی ملتے رہے، کسی کو اپنی سرکاری گاڑی بھیج کر اپنے ذاتی گھر بلاتے رہے اور کسی سے خود ان کے دفتروں اور گھروں میں جا کر کہتے رہے کہ مجھے دباؤ میں لاؤ اور بلیک میل کرو۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے جج کو ہٹانے کے فیصلہ پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا معاملہ کسی جج کو معطل کئے جانے کا نہیں، اس فیصلے کو معطل کرنے کا ہے جو اس جج نے دیا، معاملہ کسی جج کو عہدے سے نکالنے کا نہیں بلکہ اس فیصلے کو عدالتی ریکارڈ سے نکالنے کا ہے جو اس جج نے دباؤ میں دیا، معاملہ کسی جج کو فارغ کرنے کا نہیں بلکہ اس کے فیصلے کو فارغ کرنے کا ہے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ جج کو فارغ کرنے کا مطلب ہے کہ اعلیٰ عدلیہ نے حقائق کو تسلیم کرلیا، ایسا ہی ہے تو وہ فیصلہ کیسے برقرار رکھا جارہا جو اس جج نےدیا، فیصلہ دینے والے جج کو سزا سنادی تو بے گناہ نواز شریف کو کیوں رہائی نہیں دی جارہی۔

مریم نواز نے کہا کہ اگر ایک جج مس کنڈکٹ کا مرتکب پایا گیا ہے اور اسے اپنے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے تو اس مس کنڈکٹ کا نشانہ بننے والے کو سزا کیسے دی جاسکتی ہے۔

نائب صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ نواز شریف 3 بار وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہنے والے پاکستان کے پہلے اور واحد شخص ہیں اور وہ شخص آج بےگناہ ثابت ہو جانے کے باوجود جیل کی سلاخوں کے پیچھے قید ہے، یہ کہاں کا انصاف ہے، کیا صرف جج کو فارغ کر دینا کافی ہے۔

 

70سالہ مُلکی سیاست پرچاچا اَچھن کی لچھے دارباتیں

معاف کیجئے گا،آج اپنے کالم کی ابتداء مُلکی سیاست پرچاچا اچھن کی لچھے دار اور گول مول باتوں سے کرناچاہوں گا ۔ پہلے تو بتاتا چلوں کہ چاچا اچھن مجھ سمیت ہر پاکستانی کے شعور کے کسی خانے میں رہتے ہیں ۔ جنہیں ہم لفٹ نہیں کراتے ہیں ۔ اِن کی باتوں پر دھیان نہیں دیتے ہیں ۔ حالاں کہ جو یہ کہتے ہیں سب سچ ہوتا ہے ۔ مگر بس اِن کا کہاہوا یہ سچ ذرا سا لچھے دارضرور ہوتاہے ۔ اِسی لئے آپ کی طرح مجھے بھی اِن کی بہت سی باتوں پر کبھی اتفاق اور اختلاف رہتا ہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ چاچا اچھن کی لچھے دار باتیں ہوتی تو بڑی دلچسپ ہیں ۔ اِن کی باتیں پچھلے الیکشن کے بعد سے تو بہت زیادہ گول مول ہوگئیں ہیں یعنی کہ جب سے پی ٹی آئی اور وزیراعظم عمران خان کی حکومت اقتدار میں آئی ہے ۔ تب سے چاچا اچھن کا اکثر یہ کہنا ہے کہ مُلک کے موجودہ سیاسی حالات تقاضا کرتے ہیں کہ اَب قوم کے سامنے اپنی پسند کے لیڈروں اور سیاست دانوں کی جمہوریت کے لبادے میں لپڑی چپڑی اور لگی لپٹی باتیں عوام الناس میں پھیلانے کے بجائے ۔ ہ میں قوم کو خوشحالی اور مُلکی ترقی کے خواب دِکھا کر دھوکہ دے کر قوم کو لوٹ کھانے اور قرضوں اور بحرانوں اور مہنگائی و پریشانیوں کے دلدل میں دھکیلنے والے قومی لٹیروں کے سیاہ کارناموں کو قوم سے چھپانے اور پردہ ڈالانے کے بجائے ۔ ہر حا ل میں پاکستانی قوم کے سامنے سب کچھ سچ سچ بیان کردینا ہوگا ۔ ایسا کرنا یوں بھی ضروری ہوگیاہے کہ آج قوم میں سچ جاننے کی تڑپ پہلے سے بہت زیادہ بڑھتی جارہی ہے ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم قوم کو سچ چھاپا کر اندھیرے میں رکھے رہیں ۔ اور اِس چکر میں ہمارا سب کچھ ہاتھ سے نکل جائے ۔ یقینا کہیں ایسا نہ ہوجائے کہ اچھے اور بُرے رہنماوں اور سیاستدانوں کی آپس کی لڑائی جھگڑوں اور کھینچاتی کی وجہ سے جمہوریت کی چڑیاکسی اور کے ہاتھوں قید کرلی جائے ۔ پھر سب کے ماتھے پر بارہ بج جائیں گے ۔ اور سِوائے کفِ افسوس کے کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا ۔ بہر حال یہ ایک الگ بحث ہے ۔ جِسے پھر کسی وقت کےلئے چھوڑے دیتا ہوں ۔ ہاں توپچھلے دِنوں کراچی میں وزیراعظم عمران خان سے تاجروں اور صنعتکاروں نے ملاقات کی ۔ جِسے اپوزیشن اور ملاقاتی حلقے بے نتیجہ ظاہر کرکے اپنا احتجاج جاری رکھ کر اِس میں شدت لانا چاہتے ہیں ، جب کہ وزیراعظم عمران خان کا واضح موقف رہاکہ سابق حکمران مُلک اور قوم سے جھوٹ بول کر غداری کرتے رہے ۔ جنہوں نے اپنے دورِ اقتدار میں قوم سے کہا کچھ اور کیا کچھ ۔ اَب معیشت پرانے طریقے سے نہیں چلائی جاسکتی ہے ۔ کاروبار کے لئے آسانیاں پیدا کرناچاہتے ہیں ،اِسی دوران تاجروں ، صنعتکاروں اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے 50ہزار سے بڑی خریداری پر شناختی کارڈ کی شرط ختم کرنے سے دوٹوک انکارکرتے ہوئے اپنے عزم کو دہرایا کہ ہرحال میں تمام لوگوں کو ٹیکس دینا ہوگا،معیشت کی بحالی اور استحکام کےلئے تمام فریقین ہماراساتھ دیں ۔ مل بیٹھ کرمسائل کا حل نکالیں گے ۔ ‘‘بیشک آج محب وطن پاکستانیوں کو جمہوریت سے زیادہ ایماندار اور اپنے کئے ہوئے وعدوں اور دعووں پر عمل کرنے والے وزیراعظم عمران خان جیسے رہنما کی ضرورت ہے ۔ آج اِس سے اِنکار نہیں کہ ہماری تباہی اور بربادی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ستر سال سے ہر حکمران نے قوم کے ساتھ جھوٹ بولا ،مسندِ اقتدار کے مزے لئے ،قومی خزانہ سے لوٹاکھایاپیا اور کمر پر ہاتھ صاف کیا اور چلتا بنا ۔ مگر اَب ضرورت اِس امر کی ہے کہ قوم سے سچ اور صرف سچ بولاجائے اور ماضی کے جھوٹے بہروپیوں کا کیادھرا سب قوم کے سامنے کھول کھول کر بیان کیا جائے ۔ تاکہ پاکستانی قوم اور دنیا کو لگ پتہ جائے کہ نصف صدی سے زائد عرصے تک جس کسی نے بھی پاکستان پر حکمرا نی کی ہے ۔ اُ س نے قوم کو جھوٹ بول کر دھوکہ دیا اور قومی خزانے کو اپنے اللے تللے کےلئے ابا جی کی جاگیر سمجھ کر استعمال کیا اور قوم کو اربوں کے قرضوں کے بوجھ تلے زندہ درگو کرکے اپنی آف شور کمپنیاں بنوائیں ، اقامے لئے اور بیرون ممالک کے بینکوں میں اپنے اربوں ڈالرزجمع کروائے اورلندن ، دبئی اور امریکا سمیت دنیا کے دیگرترقی یافتہ ممالک میں اپنی بڑی بڑی بے شمار جائیدادیں بنائیں ۔ یوں وہ سینہ تان کر مُلک اور قوم کا ستیاناس کرگیا ۔ اَب کڑے احتساب میں ہے ۔ ہ میں یہ ماننا پڑے گا کہ پاکستان میں بدقسمتی سے کوئی شئے اپنی اصل حالت میں نہیں ہے،دودھ سے لے کر شہد اور اِنسانوں کی خصلت وفطرت سے لے کر انسانیت اور اِنسان کی سیاست سے لے کر جمہوریت تک سب ہی کچھ تو ملاوٹ سے بھرپور اور اصلیت سے دور ہیں ۔ سرزمین پاکستان میں سِوائے چند ایک کو چھوڑ کر کوئی بھی شعبہ مقدس نہیں ہے ،ہمارے یہاں صرف لیڈر ہی نہیں ووٹرتک دونمبر اور کرپٹ ہیں ۔ کیوں نہ ہوں دھوکہ اور مکروفریب تو جیسے ہم پاکستانیوں میں خون کی طرح رس بس گئے ہیں ۔ اَب ہم اِنہیں اور یہ ہ میں چھوڑنا بھی چاہیں ۔ تو یہ ممکن ہی نہیں بلکہ ناممکن لگتا ہے کوئی کچھ بھی کرلے ۔ اَب ہم اِسی ڈگر پر قیامت تک قائم رہیں گے ۔ اِس لئے کہ ہم دھوکہ مکروفریب اور کرپشن کے عادی ہوگئے ہیں ۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے دیس میں سیاست سے خدمت اور جمہوریت سے انصاف کا عنصر نکل چکا ہے ۔ جب کسی مُلک و معاشرے اور تہذیب وثقافت میں دونمبری کاموں کا رجحان پروان چڑھ جائے تو پھر اُس مُلک و معاشرے اور تہذیب وتمدن کی تباہی مقدر بن جاتی ہے ۔ مگر پھر بھی پاکستانی قوم کو موجودہ پی ٹی آئی اور وزیراعظم عمران خان کی حکومت سے اچھی اُمید رکھنی چاہئے کیوں کہ چشم فلک نے بھی دیکھ لیا کہ اللہ نے کس طرح گزشتہ سال جولائی میں پاکستان میں ہونے والے عام انتخابات میں حکمرانی کی شکل میں مسندِ اقتدار پر قابض قومی لٹیروں سے اقتدار چھین کر عمران خان کو دیا ۔ جن سے اقتدار کی کنجی چھینی گئی ہے وہ وزیراعظم عمران خان کو اول روز سے ہی بلیک میل کررہے ہیں ۔ اِس میں کو ئی شک بھی نہیں ہے یہ تو دنیا کو بھی نظر آرہاہے ۔ اقتدار کے لالچی پی ایم ایل (ن) اور پی پی پی والے سارے بلیک میل مل کر کسی نہ کسی بہانے اپنے لئے این آر او مانگنے کے لئے مُلک میں انارکی پھیلانا چاہ رہے ہیں ۔ حالانکہ ایسا کچھ نہیں ہوگا ۔ جیسا کہ وزیراعظم عمران خان اور اِن کی حکومت سے این آر او کے شدت سے طالب چاہتے ہیں ۔ این آر او کے متلاشی اپنے بچاوَ کےلئے ہروہ حربہ آزمانا چاہتے ہیں کہ کسی نہ کسی بہانے عمران خان سے این آر او کی صورت میں ریلیف مل جائے ۔ تو اِن کی چاندی ہوجائے ۔ بھلے سے کوئی کہہ دے کہ یہ ساری لوٹی ہوئی قومی دولت واپس کردیں اور مُلک سے خاندانوں سمیت باہر چلے جائیں مگر قوم یہ بات اچھی طرح ذہن میں رکھے کہ وزیراعظم اِن قومی لٹیروں سے ساری لوٹی ہوئی قومی دولت واپس بھی لیں گے اور کسی قومی مجرم کو مُلک سے باہر بھی نہیں جانے دیں گے ۔

ماہرہ خان پاکستان فلم انڈسٹری کی سنڈریلا قرار

کراچی: نامور پاکستانی اداکارہ مایا علی نے اداکارہ ماہرہ خان کو پاکستان فلم انڈسٹری کی سنڈریلا قرار دے دیا۔

حال ہی میں اداکارہ مایا علی نے اپنی فلم ’’پرے ہٹ لو‘‘ کی تشہیر کے سلسلے میں وسیم بادامی کے شو میں شرکت کی جہاں انہوں نے آئٹم نمبرزسمیت مختلف موضوعات پر کھل کر بات کی۔

دوران گفتگو مایا علی نے فلموں میں آئٹم نمبرز شامل کیے جانے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ڈرامے اور فلم میں فرق ہوتا ہے۔ لوگ فلم تفریح کے لیے دیکھنے جاتے ہیں، فلم میں شامل گانوں کو چاہے آپ آئٹم نمبرکہہ لیں، شادی نمبر کہہ لیں یا کچھ بھی کہہ لیں، فلم میں شامل تمام گانے لوگوں کوتفریح فراہم کرتے ہیں۔

مایاعلی نے فلم ’’طیفا ان ٹربل‘‘ میں اپنے ساتھی اداکارعلی ظفر اور میشا شفیع کے جنسی ہراسانی  معاملے پربات کرتے ہوئے کہا کہ دونوں میں سے کون جھوٹ بول رہا ہے اورکون سچ یہ وہ نہیں جانتیں لیکن اتنا ضرورجانتی ہیں کہ ان کا علی ظفر کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ بہت اچھا رہا ہے۔

میزبان کی جانب سے پوچھے جانے والے سوال کہ وہ اداکارہ ماہرہ خان، نیلم منیر اورمہوش حیات میں سے کسے پاکستان فلم انڈسٹری کی سنڈریلا سمجھتی ہیں تو مایا علی نے کہا کہ ان کے نزدیک اداکارہ ماہرہ خان پاکستان فلم انڈسٹری کی سنڈریلا ہیں۔

واضح رہے کہ مایا علی کی فلم ’’پرے ہٹ لو‘‘ عیدالضحیٰ کے موقع پرریلیزکی جائے گی۔ فلم میں ان کے ساتھ شہریارمنورمرکزی کردارمیں نظر آئیں گے جب کہ اداکارہ ماہرہ خان بھی فلم میں اہم کردارادا کررہی ہیں۔

راشد خان تینوں فارمیٹ کیلئے افغانستان کے کپتان مقرر

افغان کرکٹ بورڈ نے اسٹار لیگ اسپنر راشد خان کو تینوں فارمیٹ کے لیے کپتان مقرر کردیا ہے جبکہ سابق کپتان اصغر افغان کو ان کا نائب مقرر کیا گیا ہے۔

افغان بورڈ نے یہ فیصلہ ورلڈ کپ میں ٹیم کی ناقص کارکردگی کے بعد کیا جہاں گلبدین نائب کی زیر قیادت افغان ٹیم کو اپنے تمام میچوں میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔

عالمی نمبر ایک ٹی20 باؤلر راشد خان کے لیے بھی یہ ورلڈ کپ بہت اچھا نہیں رہا اور وہ توقعات کے برعکس کچھ اچھا کھیل پیش نہ کر سکے لیکن افغانستان کرکٹ کے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے 20سالہ کرکٹر کو قیادت کی ذمے داری سونپی گئی ہے۔

ورلڈ کپ کے دوران 8 اننگز میں راشد خان تقریباً 70کی اوسط سے صرف 6 وکٹیں لے سکے جبکہ انگلینڈ کے خلاف میچ میں انہیں 110 رنز کی پٹائی برداشت کرنی پڑی اور وہ ون ڈے کرکٹ کی تاریخ میں دوسرے مہنگے ترین باؤلر ثابت ہوئے۔

گزشتہ سال زمبابوے میں ورلڈ کپ کوالیفائر کے دوران کپتان اصغر افغان کی غیرموجودگی میں 4 میچوں میں افغانستان کی راشد نے قیادت کی تھی اور ان سے تین میں انہیں شکست کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔

رپورٹس کے مطابق ورلڈ کپ سے قبل بھی راشد خان کو ون ڈے ٹیم کی قیادت کی پیشکش کی گئی تھی لیکن انہوں نے اسے مسترد کردیا تھا جس کے بعد انہیں گلبدین کا نائب مقرر کیا گیا تھا۔

عمران خان حکومت اورپنجاب کا محکمہ تعلیم

لاہور سے ایک دوست نے ای میل کے ذریعے اطلاع دی ہے کہ محکمہ تعلیم پنجاب کے ذمہ داروں نے پنجاب کی نویں جماعت کی پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی کتاب سے’’ ختم نبوت‘‘ کا پیرا نکال دیا گیا ہے ۔ اس سے قبل سینیٹر اورامیر جماعت اسلامی سراج الحق صاحب نے اپنے ایک بیان میں انکشاف کیا کہ جب نواز شریف صاحب کے دور حکومت میں ختم نبوت کی دفعات کو چھیڑا گیا تھا تو میں نے سینیٹ میں اس کو ختم کرانے کے لیے پہلے تحریک انصاف کے سینیٹروں سے بات کی تھی کہ نواز شریف حکومت نے یہ غلط کام کیا ہے ۔ میں اس کے خلاف سینیٹ میں تحریک پیش کرنے والا ہوں آپ میری حمایت کریں ۔ مگر تحریک انصاف کے سینیٹروں نے صاف انکار کر دیا ۔ انہوں نے کہا کہ پھر میں نے نون لیگ کے سینیٹرراجہ ظفرالحق صاحب سے اور جمعیت علما اسلام کے سینیٹر مولانا حماد صاحب سے رابطہ قائم کیا ۔ انہوں نے اس کام میں تعاون کیا ۔ پھر ہم سب نے مل کر الیکشن کمیشن کے ووٹ کے حوالے سے ختم نبوت کی شکوں کو اپنی پرانی اصلی حالت میں برقرارکرنے میں کامیاب ہوئے ۔ کیا تحریک انصاف کی حکومت کو اس نازک معاملہ کا احساس نہیں ;238; یاعوام سمجھےں کہ تحریک انصاف کی حکومت میں کچھ قادیانیوں کے ایجنٹ گھسے ہوئے ہیں جو وزیر اعظم عمران خان صاحب کی مدینہ کی فلاحی ریاست کے ایجنڈے کو ناکام کرنے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں ۔ یا عمران خان خود درپردہ قادیانیوں کی حمایت کرتے ہیں ;238;نہ جانے عمران خان کی حکومت کس سمت میں کام کر رہی ہے ۔ کیا اس کا عوام کودکھانے کاچہرہ الگ ہے اور اندر کا چہرہ الگ ہے;238; اس کی تحقیق کرنے کےلئے ہم پیپلز پارٹی کے سابق فعال کارکن اور بھٹو صاحب کے قریبی ساتھی ،ہارون آباد کے ڈاکٹر احسان باری صاحب جو حیی الفلاح سیاسی پارٹی کے سربراہ بھی ہیں کے ایک پرانے کالم کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ وہ اپنے ایک کالم میں تحریر کرتے ہیں ۔ جب مرحوم ذوالفقار علی بھٹو صاحب پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھنے جا رہے تھے تو انہوں نے قادیانی خلیفہ سے ملاقات کر کے مدد کی درخواست کی تھی ۔ قادیانیوں نے بھٹو کی درخواست منظور کرتے ہوئے بھر پور مدد کی تھی ۔ قادیانی کارکنوں نے اپنے پلے سے خرچ کر کے بھٹو کے جلسوں کو کامیاب کیا ۔ بھٹو کی اکثر کانفرنسیں قادیانیوں کے ہوٹل شیزان میں ہوا کرتی تھیں ۔ ڈاکٹر احسان باری کی بات کی تصدیق اُس ویڈیو سے بھی ہوتی ہے جو الیکشن کے دوران سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ۔ لندن میں تحریک انصاف کی مقامی لیڈر شپ کی ایک خاتون کارکن قادیانیوں کے ہیڈ کواٹر میں دوسرے لوگوں کے سامنے موجود ہ قادیانی خلیفہ سے ملاقات کر رہی ہے ۔ یہ خاتون تحریک انصاف کی الیکشن میں مدد اور حمایت کی درخواست کر رہی ہے ۔ قادیانی خلیفہ اس خاتون سے کہہ رہا ہے کہ اس سے قبل ہم نے بھٹو کی بھی مدد کی تھی ۔ مگر اقتدار میں آکر اس نے پارلیمنٹ کے ذریعے کافر قرار دے دیا ۔ اب ہم محتاط ہوگئے ہیں ۔ پہلے آپ الیکشن جیت کر آئیں ۔ ہمارے لیے کچھ کریں پھر ہم آپ کی مدد کرنے کا سوچیں گے ۔ کیا عمران خان نے الیکشن کرجیت ایک نامی گرامی قادیانی عاطف کو اقتصادی مشیر اسی لیے بنایا تھا;238;اڈاکٹر احسان باری نے یہ بھی لکھا کہ بھٹو جب اقتدار میں آنے کے بعد امریکا گئے تو انہیں کہا گیا کہ قادیانی ہمارے آدمی ہیں ان کا آپ کو خیال رکھنا ہو گا ۔ جب دوسری بار بھٹو امریکا گیا تو یہی ڈیمنڈ دھرائی گئی ۔ اس سے اس بات کی مزید کنفرمیشن ہو گئی کہ قادیانی فتنہ کو امریکا، برطانیہ اور اسرائیل کی ہمیشہ کی طرح داہمی حمایت حاصل ہے ۔ برطانیہ میں قادیانیوں کا تبلیغی ہیڈ کواٹر، اسرائیل میں اس کی شاخ اورامریکا کی بھٹو کو ہدایات روز روشن کی طرح عیاں ہیں ۔ مدینہ کی فلاحی ریاست کی گردان دوہرانے والے وزیر اعظم عمران خان صاحب کی حکومت کے کچھ کارنامے سامنے آئے ہیں ۔ لاہور میں شیطان کا مجسمہ نصب کیا ۔ اس سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں ;238; شہدائے بالاکوٹ اور مسلمانوں کے ہیروں کے گلے کاٹنے والا، لاہور کی بادشاہی مسجد میں گھڑوں کا استبل بنانے والا،مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رکنے والا، رنجیت سنگھ کا اسٹیچو نصب کر کے کس ٹارگٹ تک پہنچنا چاہتے ہیں ;238; اقوام متحدہ میں کشمیر میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے والا پاکستان کا ازلی دشمن بھارت کو ووٹ دینے کو کیا سمجھنا چائے;238; ۔ پارلیمنٹ کے اندر آپ کے ٹکٹ پر جیتنے والی خاتون نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات کیوں کی;238; پارلیمنٹ میں آپ کے سابق وزیر اطلاعات نے شراب بندش بل کی مخالفت کیوں کی;238; نون لیگ حکومت کے دوران’’ ختم نبوت;248; ‘‘کے حوالے سے الیکشن کی شکوں کو تبدیل کرنے کے کوشش کو ختم کرنے کے لیے سینیٹر سراج الحق صاحب کے بل کی آپ کے سینیٹروں نے حمایت نہ کر کے کس کو پیغام پہنچایا;238; سینما کے لیے فنڈ مختص کرنا اور حج کی سبسڈی ختم کرنے میں کتنا ثواب ملا;238;الیکٹرونک میڈیا میں فحاشی زورں پر کیوں ہے;238;ارد گرد کرپٹ لوٹوں کو ہٹا کر تحریک انصاف کے ایمان دار لوگوں کو کب تعینات کیا جائے گا;238;ایوان صدر میں مشاعرے اور صدر کے سیروتفریح کے لیے فضول خرچی کا چرچا اخبارات میں آیا ہے ۔ اس کا غریب عوام کو کون جواب دے گا;238;آپ نے ملک کو ایم آئی ایف کے حوالے کر دیا ہے ۔ آپ کو یاد کراتے ہیں کہ ملیشیا کے سابق صدر نے کہا تھا کہ جس ملک کا ستیا ناس کرنا ہو اس ملک کو آئی ایم ایف کے حوالے کر دو ۔ ملک کا بجٹ آئی ایم ایف نے بنایا ۔ ڈالر کو اب اسٹیٹ بنک کنٹرول نہیں کر سکے گا ۔ سہ ماہی بجلی اور گیس کے بلوں میں اضافہ آئی ایم ایف کے پروگرام میں شامل ہے ۔ آپ کو مسیح سمجھ کر عوام نے ووٹ دیا ۔ آپ سے توقع تھی کہ عوام کو مہنگائی، بجلی گیس کے بلوں میں کمی اور روزگار ملے گا ۔ مگر اب تو عوام کی چیخیں نکل گئیں ہیں ۔ اور آئی ایم ایف نے جو پروگرام دیا ہے اس سے مزید مہنگائی بڑھے گی ۔ شاید لوگ بھوک اور ظلم سہ کر بھی آپ کی مدینہ کی فلاحی ریاست کی گردن پر بروسہ کر لیتے ۔ مگر لگتا ہے کہ آپ کے لوگوں نے تو ان کے ایمان پر بھی حملے کرنا شروع کر دیے ہیں ۔ عوام آپ سے توقع رکھتے تھے کہ گزشتہ حکومتوں نے جو اسلام کی دفعات محکمہ تعلیم سے نکالی تھیں وہ آپ واپس داخل کرائیں گے مگر آپ نے تو عوام کو دکھ پہنچاتے ہوئے رسول;248; پاک کے دشمنوں قادیانیوں کی حمایت کرتے ہوئے ہوئے پنجاب کے محکمہ تعلیم کی نویں جماعت کی ٹیکسٹ بک سے ختم نبوت;248; کے پیرے کو بھی نکال دیا ہے ۔ اگر واقعی محکمہ تعلیم نے ختم نبوت;248; کا پیرا نکال دیا ہے تو متعلقہ لوگوں سے آپ کی طرف سے پوچھ گچھ ہونی چاہیے ۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ پنجاب کی نویں جماعت کی ٹیکسٹ بک میں ختم نبوت;248; کا پیرا پھر سے شامل کیا جائے ۔

شناختی کارڈ کی آڑ میں تاجر کچھ اور مطالبات منوانا چاہتے ہیں، شبر زیدی

اسلام آباد: چیئرمین ایف بی آر کا کہنا ہے کہ دال، آٹے اور سوجی سمیت کسی کھانے کی چیز پرٹیکس نہیں لگایا اور شناختی کارڈ کی آڑ میں تاجر کچھ اور مطالبات منوانا چاہ رہے ہیں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کہا کہ دال، آٹے اور سوجی سمیت کسی کھانے کی چیز پرٹیکس نہیں لگایا، کیا اب میں کاغذ پر لکھ کر دوں اگر ان چیزوں پر ٹیکس لگایا ہوتا تو جواب دہ بھی ہوتا تاہم بغیر ٹیکس لگائے روٹی کی قیمت بڑھنے کا تعلق ہم سے نہیں، اس حوالے سے وزیراعظم سے بات ہوگی۔

شبرزیدی نے کہا کہ ایسا فیصلہ نہیں کرنا چاہتے جس سے صنعت اور تجارت کونقصان پہنچے اور کسی کے ساتھ بھی مذاکرات میں ڈیڈ لاک نہیں، فیصل آباد چیمبر، اپٹما اور کراچی کے تاجروں سے بات چیت ہوگئی، سیلز ٹیکس سے متعلق افواہیں پھیلائی جارہی ہیں جب کہ زیروریٹنگ اورشناختی کارڈ کے معاملے پرمذاکرات ہوئے ہیں۔

چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ شناختی کارڈ کا مسئلہ ختم ہوگیا ہے لیکن قومی شناختی کارڈ کی شرط سے متعلق بھی غلط فہمیاں پیدا کی جارہی ہیں، شناختی کارڈ کی شرط صرف سیلز ٹیکس میں رجسٹرڈ 47 ہزار افراد کے لیے ہے تاہم شناختی کارڈ کی آڑ میں لوگ اپنے دیگرمسائل کوحل کرنا چاہتے ہیں۔

شبرزیدی نے کہا کہ متعدد موبائل فون ایسے ہیں جو بغیر ڈیوٹی کے امپورٹ ہوئے جن کی تعداد لاکھوں میں ہے اور اس طرح کے موبائل فونز پر 20 ہزار روپے جرمانہ بنتا ہے تاہم ہمیں کہا جارہا ہے کہ 400 روپے لے کربند موبائل کوآن کردیں۔

میزان بینک نے نیٹ فلیکس کو ادائیگی کی سہولت غیرشرعی قرار دیکر بند کردی

کراچی: میزان بینک نے آن لائن ویڈیو اسٹریمنگ سائٹ نیٹ فلیکس کو ماہانہ فیس کی آئن لائن ادائیگی کی سہولت غیرشرعی قرار دے کر بند کردی۔

میزان بینک ذرائع کے مطابق اسلامی بینک کے صارفین آن لائن اسٹریمنگ سہولت نیٹ فلیکس کے لئے ادائیگی نہیں کرسکتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اس بات کا فیصلہ بینک کے شریعہ بورڈ نے کیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام میں جن چیزوں کی ممانعت ہے اُن شعبوں میں بینک اپنی خدمات فراہم نہیں کرسکتا ہے،نیٹ فلیکس کو بینک کے بورڈ نے اسی زمرے میں شمار کیا ہے جس کی وجہ سے ادائیگی روک دی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق اسلامی بینکوں کا انتظام اسٹیٹ بینک کی ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری کی ادائیگی کے لئے مرکزی بینک قانونی اور ریگولیٹری ماحول وضع کرتا ہے جب کہ اسلامی بینکوں کو فراہم کئے گئے ماحول کی پاسداری کرنا ہوتی ہے۔تاہم، اسلامی بینک اپنے صارفین کو کون سی سہولیات فراہم کرتا ہے یہ بینک کے پالیسی اور شریعہ بورڈ کی صوابدید ہے۔

یاد رہے کہ نیٹ فلکس ویڈیو اسٹریمنگ کی ایک امریکی کمپنی ہے جس کے صارفین ماہانہ معاوضہ ادا کرنے کے بعد فلمیں اور ٹی وی شوز دیکھ سکتے ہیں۔

Google Analytics Alternative