Home » Author Archives: Admin (page 3)

Author Archives: Admin

رابی پیرزادہ نے وائلڈ لائف حکام کو مودی کا دوست قرار دیدیا

لاہور:  اداکارہ و گلوکارہ رابی پیر زادہ نے وائلڈ لائف حکام کو مودی کا دوست قرار دیدیا، انہوں نے دعویٰ کیا کہ سانپ اور اژدھے رکھنے کے حوالے سے کوئی نوٹس نہیں ملا اور نہ ہی وائلڈ لائف کے کسی عہدیدار نے رابطہ کیا ہے۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی جنگ لڑ رہی ہیں کیونکہ پاکستانی حکومت اس ضمن میں کچھ نہیں کر رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جانوروں سے نہیں ڈرتیں اور نہ ہی انہیں وائلڈ لائف کے عہدیداروں کا خوف ہے۔

جعلی اکاؤنٹس کیس:نیب کا سابق ڈی جی کے گھر پر چھاپہ، اثاثوں کی تفصیلات برآمد

کراچی:  جعلی اکاؤنٹس کیس میں اہم پیشرفت، نیب راولپنڈی نے کراچی میں سابق ڈی جی پارکس لیاقت علی کی رہائشگاہ پر چھاپہ مار کر گھر سے غیر قانونی اثاثوں کی تفصیلات برآمد کرلیں۔

نیب ذرائع کے مطابق ملزم کے گھر سے برآمد اشیاء کی فہرست 8 صفحات پر مشتمل ہے۔ گرفتار ملزم لیاقت علی خان نے نیب کو خود تمام سامان کی نشاندہی کی، ملزم باغ ابن قاسم کی غیر قانونی الاٹمنٹ کا مرکزی کردار ہے۔

آمدن سے زائد اثاثے: خورشید شاہ کا 2 روزہ راہدری ریمانڈ منظور

اسلام آباد:  احتساب عدالت نے پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ کا 2 روزہ راہداری ریمانڈ منظور کرلیا۔

عدالت نے 21 ستمبر تک خورشید شاہ کا راہداری ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں متعلقہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں خورشید شاہ اپنی گرفتاری کو انتقامی کارروائی قرار دے دیا۔ انہوں نے کہا وزیراعظم سمیت وفاقی وزراء کے خلاف بھی انکوائریز چل رہی ہیں، مگر گرفتار اپوزیشن کو ہی کیا جا رہا ہے۔

یادر ہے نیب نے سابق اپوزیشن لیڈر اور پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ کیخلاف ان کے بینک اکاؤنٹس اور بے نامی جائیدادوں کی تحقیقات کی جا رہی تھیں، خورشید شاہ نے اعجاز کے نام سے سکھر، روہڑی میں دو جائیدادیں بنا رکھی ہیں جبکہ لڈومل کے نام پر 11، آفتاب حسین سومرو کے نام پر 10جائیدادیں بنا رکھی ہیں۔

آصف زرداری اور فریال تالپور پر فرد جرم کیلئے 4 اکتوبر کی تاریخ مقرر

اسلام آباد: میگا منی لانڈرنگ اور پارک لین کیسز منطقی انجام کے قریب پہنچ لگے۔ احتساب عدالت نے آصف زرداری اور فریال تالپور پر فرد جرم عائد کرنے کے لیے 4 اکتوبر کی تاریخ مقرر کر دی۔

اس موقع پر عدالت میں موجود فاروق ایچ نائیک نے کہا ہمیں ابھی تک ریفرنس کی کاپی بھی نہیں ملی جس پر جج محمد بشیر نے کہا ریفرنس کی نقول موجود ہیں، آپ کو ابھی دے دیتے ہیں، ریفرنس کی نقول کی تقسیم کے بعد آئندہ سماعت پر ملزمان پر فرد جرم عائد کی جائے گی۔ میگا منی لانڈرنگ اور پارک لین کیسز کی سماعت اب 4 اکتوبر کو ہو گی۔

وزیراعظم عمران خان اہم دو روزہ دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے

اسلام آباد:  وزیراعظم عمران خان 2 روزہ دورے پر سعودی عرب پہنچ گئے جہاں وہ سعودی قیادت سے ملاقاتوں میں دو طرفہ تعلقات اور مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم پر بات چیت کریں گے۔

وزیراعظم عمران خان ان ملاقاتوں کے دوران مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور علاقائی صورتحال پر بھی بات چیت کریں گے۔ وزیراعظم عمران خان اپنے دورہ سعودی عرب کے دوران عمرہ بھی ادا کریں گے۔

جدہ کے رائل ٹرمینل پر گورنر مکہ نے وزیراعظم عمران خان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر، قونصل جنرل، سعودی حکام اور قونصلیٹ کے افسران موجود تھے۔

وزیراعظم عمران خان کے دورہ سعودی عرب پر ان کے ہمراہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ اور معاون خصوصی ذوالفقار بخاری ہمراہ ہیں۔

خورشید شاہ کی گرفتاری سے کچھ نہیں ہوگا، کوئی ٹف ٹائم نہیں دے سکتا: وزیر داخلہ

کوئٹہ:  وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے کہا ہے کہ کرائم کرنے والا پکڑا جائے تو کیا ٹف ٹائم دے گا؟ خورشید شاہ کی گرفتاری سے کچھ نہیں ہوگا۔

ایک اہم سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ وقت کشمیریوں سے یکجہتی کرنے کا ہے۔ مجھے پورا یقین ہے مولانا فضل الرحمان دھرنا نہیں دیں گے۔

اعجاز شاہ نے نیب کی گرفتاریوں پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ کوئی ٹف ٹائم نہیں دے سکتا، روٹین کی لائف چلتی رہتی ہے، ”جناں کھادیاں گاجراں ٹیڈ اوناں دے پیڑ“۔ کرائم کرنے والا پکڑا جائے تو کیا ٹف ٹائم دے گا؟ خورشید شاہ کی گرفتاری سے کچھ نہیں ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ سیف سٹی لگژری نہیں ضرورت بن گئی ہے۔ کوئٹہ میں سیف سٹی بننا چاہیے۔ حکومت کا مشن عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔

وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے خورشید شاہ کی گرفتاری پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اپوزیشن کو ٹف ٹائم نہیں دے رہی، یہ معمول کی کارروائی ہے۔

نیب کا پیپلز پارٹی رہنما خورشید شاہ کے گھر پر چھاپہ، اہم دستاویزات قبضے میں لے لی گئیں

اسلام آباد: پیپلز پارٹی رہنما سید خورشید شاہ کو کیوں گرفتار کیا گیا؟ نیب نے وجوہات بتا دیں۔ انہوں نے بے نامی جائیدادیں اور اثاثے بنائے۔ ہوٹل، پٹرول پمپ اور عالی شان گھروں کے مالک ہیں۔ نیب نے اسلام آباد میں ان کی رہائشگاہ سے دستاویزات بھی قبضے میں لے لیں۔

تفصیلات کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب) کی ٹیم نے اسلام آباد میں پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کے گھر پر چھاپہ مارا اور تلاشی کے دوران دستاویزات قبضے میں لے لیں۔

نیب کے مطابق خورشید شاہ نے شکار پور روڈ سکھر میں 25 کروڑ لاگت کا تاج محل ہوٹل اعجاز بلوچ کے نام پر جبکہ روہی روڈ پر کروڑوں کی مالیت کا پیٹرول پمپ فرنٹ مین قاسم شاہ کے نام پر بنایا۔

ایک اور فرنٹ مین پپو مہر کے نام پر سرکاری اراضی پر بنگلہ اور روہڑی میں بے نامی گلگ ہوٹل تعمیر کیا گیا۔ خورشید شاہ نے پروفیسرز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوساٹی سکھر میں بھی محل نما گھر بنایا اور اس کے لیے ظاہر شدہ اثاثوں میں سے رقم استعمال نہیں ہوئی۔

پیپلزپارٹی رہنما نے عمر جان اینڈ کو اور نواب اینڈ کمپنی کو ٹھیکے دے کر بھی مالی فوائد حاصل کیے۔

دوسری جانب احتساب عدالت نے پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کا 2 روزہ راہداری ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔ پراسیکیوٹر نیب نے عدالت کو بتایا کہ خورشید شاہ کو گزشتہ روز گرفتار کیا گیا، ان کخلاف نیب سکھر میں کیس چل رہا ہے، آج سکھر کی کوئی فلائٹ نہیں، 7 روزہ راہداری ریمانڈ دیا جائے۔

عدالت نے 21 ستمبر تک خورشید شاہ کا راہداری ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں متعلقہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں خورشید شاہ اپنی گرفتاری کو انتقامی کارروائی قرار دے دیا۔ انہوں نے کہا وزیراعظم سمیت وفاقی وزرا کے خلاف بھی انکوائریز چل رہی ہیں، مگر گرفتار اپوزیشن کو ہی کیا جا رہا ہے۔

یاد رہے سابق اپوزیشن لیڈر اور پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کیخلاف ان کے بینک اکاؤنٹس اور بے نامی جائیدادوں کی تحقیقات کی جا رہی تھیں۔

نیب کے مطابق خورشید شاہ نے اعجاز کے نام سے سکھر، روہڑی میں دو جائیدادیں بنا رکھی ہیں جبکہ لڈومل کے نام پر 11، آفتاب حسین سومرو کے نام پر 10جائیدادیں بنا رکھی ہیں۔

بے نامی ایکٹ کے تحت خصوصی بینچ بنانے کی منظوری دےدی گئی وفاقی کابینہ کے کلیدی فیصلے

وفاقی کابینہ کے اجلاس میں میں جہاں اور فیصلے کئے گئے ہیں وہاں پر میڈیا کے حوالے سے خصوصی عدالتیں قائم کرنے کابھی فیصلہ کیاگیا ہے جو کہ بہت خوش آئند ہے، صحافت یوں بھی ریاست کاچوتھا ستون ہوتا ہے، صحافی اورصحافت کو بے حد ذمہ داری کامظاہرہ کرناچاہیے لیکن ہمارے ملک میں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میڈیا کی کوئی سمت ہی نہیں جس کا جب دل چاہے وہ کسی کی بھی پگڑی اچھال سکتا ہے ۔ خصوصی طورپر جس دن سے الیکٹرانک میڈیا وطن عزیز میں متعارف ہوا اس دن سے ’’بریکنگ نیوز‘‘ تو عوام کے دماغ کے لئے کینسرکی سی حیثیت اختیار کرگئی ہے ۔ بریکنگ نیوز کا کوئی معیارنہیں ، بھینس بھی نالے میں گرجائے تو پرائیویٹ ٹی وی چینلزکی سکرینیں لال پیلی ہوجاتی ہیں اورغضب خدا کا اس وقت ہوتا ہے کہ جب کسی کا کوئی پیارا فوت ہوجائے تو اس کے منہ کے آگے مائیک رکھ کر اس کے تاثرات پوچھے جاتے ہیں ، ایسی بے ڈھنگی صحافت کا قبلہ درست کرنا انتہائی ضروری ہے ۔ پھر کوئی ثبوت ہونہ ہو کسی بھی شخص سے الزام عائد کرنا اتناہی آسان ہے، مقصدپگڑی اچھالنا ہے اور ریٹنگ حاصل کرنا ہے اس ریٹنگ کی دوڑ نے بھی صحافت کابھرکس ہی نکال دیاہے ۔ پرنٹ میڈیا پھربھی کسی حد تک صحافتی اقدارکاخیال رکھتا ہے کیونکہ اخبار میں صحافت سیکھنے کے عمل سے گزرتے گزرتے آدمی کندن بن جاتا ہے لیکن الیکٹرانک میڈیا میں فریش نوجوانوں کے ہاتھ میں مائیک دیدیاجاتاہے ۔ بنیادی اصولوں سے آگاہی نہیں کرائی جاتی آزادی اظہاررائے کی آڑ میں اس وقت پگڑیاں اچھالنے کاخوب بازار گرم ہے ۔ روز رات کو آٹھ بجے پوری قوم جب ٹی وی سکرینوں کے سامنے بیٹھتی ہے تووہاں اسے معیاری گفتگو کی بجائے ایک دوسرے پر الزام تراشیاں اورعجیب وغریب قسم کے ذاتی رقیق حملے دیکھنے، سننے کو ملتے ہیں ۔ اِن ہی کے آگے حدودقیود ،بند باندھنے کے لئے حکومت نے میڈیا کے لئے خصوصی عدالتیں قائم کرنے کافیصلہ کیاہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ بغیر ثبوت کے جو اعلیٰ حکومتی شخصیات یامعاشرے سے تعلق رکھنے والے کسی بھی شخص پرالزام تراشی کی جاتی ہے اسے کسی چیزکابھی ذمہ دارٹھہرایاجاتاہے ۔ آیا کیا اس حوالے سے کوئی ثبوت ہیں جن کی نجی زندگیوں کو زیربحث لایاجاتا ہے اِن باتوں کو کیونکرثابت کیاجاسکے گا،ہم حکومت کے اس فیصلے کوسراہتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ میڈیا کے لئے ایسے قوانین بھی بنانے چاہئیں جس سے معیاری صحافت پنپ سکے ۔ میڈیا ریاست کا چوتھا ستون بن چکا ہے، وزیراعظم میڈیا کی ;200;زادی پریقین رکھتے ہیں ، میڈیا کے شفاف کردار کو فروغ دیا جائے ۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیراعظم کی معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی سے کوئی ڈیل نہیں ہورہی، وزیراعظم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کا مقدمہ لڑنے جا رہے ہیں ۔ وزیراعظم نے کابینہ کو اپنے دورے کی ترجیحات اور خطاب کے خدوخال سے ;200;گاہ کیا ، وفاقی کابینہ نے بے نامی ایکٹ کے تحت خصوصی بینچ بنانے کی منظوری دےدی،بے نامی ایکٹ کے تحت مقدمات خصوصی بینچز کو بھیجے جائیں گے،وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکا کا ایک نکاتی ایجنڈامسئلہ کشمیرکو اجاگر کرنا ہے، وزیراعظم نے کابینہ کواپنے دورہ امریکا پر اعتماد میں لیا، جنرل اسمبلی خطاب میں مسئلہ کشمیرکوبھرپورطریقے سے اجاگرکرینگے،دورے کے دوران اہم رہنماءوں سے ملاقاتیں کریں گے، بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ پاکستان کے موقف کی جیت ہے، بھارتی ظلم و جبر مظلوم کشمیریوں کے صبر کے ;200;گے پسپا ہو رہا ہے ۔ بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر فسطائی مودی کے جھوٹ کا پول کھول دیا، مقبوضہ کشمیر میں عالمی انسانی حقوق کا تحفظ بھارتی عدلیہ کی ;200;زادی کا امتحان ہے ۔ دنیا دیکھ رہی ہے کہ سپریم کورٹ اپنے دعوے کے مطابق بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ اور مودی سرکار کے دباءو کا مقابلہ کیسے کرتی ہے;238; ۔

اشرف غنی کی انتخابی ریلی میں دھماکہ، بال بال بچ گئے

امریکی سفار تخانے کے قریب اور صوبہ پروان میں ہونے والے طالبان کے دو حملوں میں 48 افراد ہلاک اور 80 زخمی ہوگئے جبکہ افغان صدر اشرف غنی بھی بال بال بچ گئے ۔ دونوں حملوں کی ذمہ داری طالبان کی جانب سے قبول کرلی گئی ہے ۔ پہلا دھماکا افغانستان کے صوبے پروان میں افغان صدر اشرف غنی کی انتخابی ریلی کے قریب کیا گیا ۔ جس میں 26 افراد ہلاک اور 42 زخمی ہوگئے ۔ دھماکے میں افغان صدر محفوظ رہے ۔ دھماکا اس وقت کیا گیا جب اشرف غنی اپنے کارکنوں سے خطاب شروع کرچکے تھے ۔ دھماکے کے بعد بھی اشرف غنی نے اپنا خطاب جاری رکھا ۔ طالبان کا کہنا ہے کہ ان کا ہدف اشرف غنی نہیں بلکہ ریلی کی سیکیورٹی پر مامور افغان سیکیورٹی اہلکار تھے ۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہناہے کہ ریلی پر حملہ 28 ستمبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب کو سبوتاژ کرنے کیلئے کیا گیا، ہم نے پہلے ہی لوگوں کو خبردار کردیا تھا کہ وہ انتخابی ریلیوں میں نہ جائیں ۔ دوسرا دھماکا افغان دارالحکومت کابل میں امریکی سفارت خانے کے قریب کیا گیا جس میں 22 افراد ہلاک اور 38 زخمی ہوگئے ۔ ۔ خیال رہے کہ طالبان نے حالیہ دنوں میں حکومت اور غیر ملکی افواج پر حملوں میں اضافہ کردیا ہے اور گزشتہ دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں کو جواز بناتے ہوئے طالبان اور امریکا کے درمیان دوحا میں جاری امن مذاکرات کو منسوخ کردیا تھا ۔ ادھروزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے افغانستان کے صوبہ پروان میں افغان صدر اشرف غنی کی ریلی پر ہونے والے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دھماکے کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا معصوم انسانوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا انتہائی قابل مذمت ہے ۔ انہوں نے جاں بحق ہونے والوں کےلئے مغفرت جبکہ زخمیوں کےلئے جلد صحت یابی کی دعا کی اور کہا افغانستان میں قیام امن پورے خطے میں امن و استحکام کے لئے ناگزیر ہے ۔ دوسری جانب دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ افغان صدر اشرف غنی کی ریلی پر دہشتگرحملے کی مذمت کرتے ہیں ، پاکستان افغانستان میں قیام امن کی مکمل حمایت کرتا ہے ۔

آئی ایم ایف کے وفد کاپاکستان کی معاشی پالیسیوں پراظہاراطمینان

;200;ئی ایم ایف مشن نے پاکستان کی جانب سے معیشت کی بہتری کےلئے کی جانے والی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے حکومت کی پالیسیوں پر اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان سے مشرق وسطی اور وسطی ایشیا کے ڈائریکٹر ;200;ئی ایم ایف جہاد ;200;زور نے ملاقات کی، ۔ ;200;ئی ایم ایف مشن نے حکومت کی پالیسیوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کی تعریف و توثیق کی اور کہا کہ پروگرام کے نفاذ کے تین ماہ میں اعشاریے ٹیکس بیس میں توسیع اور محصولات میں اضافے میں بہتری دکھا رہے ہیں ۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت معیشت میں بہتری کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھارہی ہے اور اب ملک ترقی اور تمام مطلوبہ اہداف کو حاصل کر رہا ہے، ;200;ئی ایم ایف پروگرام استحکام اور اصلاحات کے ساتھ حکومت کی معیشت کو پٹر ی پر ڈالنے کی کوششوں کی تکمیل کرے گا ۔

بہتر معیشت کےلئے مشکل فیصلے کرناپڑتے ہیں ،ایس کے نیازی کی سچی بات میں گفتگو

پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے روزنیوز کے پروگرام ’’ سچی بات ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ حالات اورواقعات کی روشنی میں پیشگوئی کرتا ہوں جو درست ثابت ہوتی ہے، اچھی بات ہے عمران خان قائداعظم کے وژن پر یقین رکھتے ہیں ،عمران خان کو قائد اعظم کے وژن پر عملدرآمد بھی کر کے دکھانا ہوگا،ملکی معاملات اور معیشت کی بہتری کے لیے مشکل فیصلے کرنا پڑتے ہیں ،پاکستان کی افواج وہ کام کر سکتی ہیں جو کوئی اور نہیں کر سکتا،50لاکھ گھر بنانے کا منصوبے کا اعلان کیا گیا، کیا ، ایک بھی گھر شروع نہیں ہوا،حکومت نے جہاں گھر بنانے کا اعلان کیا تھا وہ متنازع زمین ہے ،حکومت کو ایک سال گزر چکا ہے، سٹاک مارکیٹ گر چکی ہے ،ملک میں کاروبار چلے گا تو روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے ، ڈیل کے حوالے بات چل رہی ہے لیکن پردہ پوشی کی جا رہی ہے،الیکشن کمیشن کے فیصلے سے ہی لوگ سمجھ رہے ہیں کہ ڈیل ہو گئی ہے،صحت ، تعلیم کا برا حال ہے، شہروں میں گندگی کے ڈھیر لگے ہیں ،کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں ایک پیج پر ہیں ،بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے پر بھی بھارتی حکومت عمل نہیں کر رہی ۔

Google Analytics Alternative