Home » Author Archives: Admin (page 4462)

Author Archives: Admin

شاندار پرفارمنس پربحریہ ٹاون نے احمد شہزاد کو انعام کے طور پر گھر دے دیا

آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع۔۔۔؟

لاہور: پاکستان پیپلزپارٹی نے پنجاب اسمبلی میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے قرارداد جمع کرادی ۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی میں قرارداد پیپلزپارٹی کے رکن خرم وٹو کی جانب سے جمع کرائی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جنرل راحیل شریف کی خدمات قابل تحسین ہیں، اس لئے قومی مفاد اورملکی سلامتی کی خاطرجنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع کی جائے۔

خرم وٹو نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جنرل راحیل شریف تمام حالات کا دلیری سے مقابلہ کررہےہیں،وقت کا تقاضا ہےکہ راحیل شریف اپنے فیصلے پر دوبارہ غورکریں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی جانب سے جمع کرائی گئی یہ قرارداد آصف علی زرداری کے بیان کی توثیق کےساتھ ساتھ عوام کےدل کی بھی آوازہے۔

واضح رہے کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نومبر2016میں اپنے عہدے سے ریٹائرہورہے ہیں اورملازمت میں توسیع کے حوالے سے گردش کرتی اطلاعات کو بےبنیاد بھی قراردے چکے ہیں۔

PSL کا پہلا ایڈیشن 100فیصد کامیاب ہوگیا “نجم سیٹھی “

دبئی :پاکستان کر کٹ بورڈ(PCB) ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ پاکستان سپر لیگ کا پہلا ایڈیشن ہی 100فیصد کامیاب ہوگیا ہے،اس کے انعقاد سے ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی راہ ہموار ہوگی،پی ایس ایل کے انعقاد سے پی سی بی کو کوئی نقصان نہیں ہوا تاہم فرنچائز بھی خوش ہیں۔دوبئی میں میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پی ایس ایل کو دوبئی اور شارجہ کے تماشائیوں نے کامیاب بنایا اور دنیا بھر سے لوگ اسے دیکھنے کے لئے آئے۔انہوں نے کہاکہ ہماری پوری کوشش ہے کہ اگلے سال پی ایس ایل کے کچھ میچز پاکستان میں کروائے جائیں۔انہوں نے کہاکہ پی ایس ایل کی کامیابی پر وزیر اعظم محمد نواز شریف نے بھی مبارکباد دی ہے۔نجم سیٹھی نے کہاکہ پی ایس ایل کے انعقاد سے پی سی بی کو کوئی نقصان نہیں ہوا تاہم فرنچائز بھی خوش ہیں۔اپریل تک بتادیں گے کہ پی ایس ایل کے انعقاد سے فرنچائز کے کتنے اخراجات ہوئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پی ایس ایل نے پوری دنیا میں پاکستان کا سوفٹ امیج پیش کیا ہے اور اب غیرملکی ٹیمیں بھی پاکستان آنا شروع ہوجائیں گی۔

پاکستان سے ‘باہمی احترام پر مبنی تعلقات’ چاہتے ہیں”پرناب مکھرجی”

نئی دہلی: ہندوستان کے صدر پرناب مکھرجی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی پاکستان سے ‘باہمی احترام پر مبنی تعلقات’ چاہتے ہیں۔

صدر پرناب مکھرجی نے ہندوستان کے مشترکہ پارلیمانی اجلاس سے خطاب کے دوران مذکورہ پالیسی بیان جاری کیا۔

ہندوستان کی حکومت نے پٹھان کوٹ حملے کی تحقیقات میں پاکستان کی جانب سے ہونے والی پیش رفت کی رپورٹس پر بظاہر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

واضح رہے کہ مذکورہ بیان کو آئندہ ماہ واشنگٹن میں ہونے والے جوہری سیکیورٹی سربراہی اجلاس کے موقع پر پاک-ہند وزرائے اعظم کی ممکنہ ملاقات کے تناظر میں دیکھا جارہا ہے.

ہندوستانی صدر نے کہا کہ ان کی حکومت پاکستان کے ساتھ “باہمی احترام پر مبنی تعلقات” قائم کرنے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون کے لیے مشترکہ ماحول پیدا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

پرناب مکھرجی نے اراکین پارلیمنٹ پر باہمی تعاون اور جذبے سے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے پر بھی زور دیا۔

ہندوستانی حکومت کی جانب سے ملک کی سلامتی سے متعلق تمام چیلنجوں سے نمٹنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے صدر پرناب مکھرجی نے کہا کہ دہشت گردی ایک عالمی خطرہ ہے اور اس کے خاتمے کے لیے دنیا کو انسداد دہشت گردی کے اقدامات اٹھانا ضروری ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ‘میں پٹھان کوٹ حملہ ناکام بنانے کے لیے سیکیورٹی فورسز کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور سرحد پار دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے پر قسم کے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں گے’۔

امریکا، خونریز ڈرون حملوں کی شفافیت ظاہر کرنے میں ناکام

واشنگٹن: امریکا پاکستان، افغانستان، لیبیا، صومالیہ اور یمن کے علاوہ عراق اور شام میں ڈرون حملوں کا جواز مہیا کرنے میں نا کام ہو گیا،امریکی عوام سمیت عا لمی برا دری اوباما انتظامیہ کے ڈرون پروگرام کی بنیادی شفافیت اور اسکی قانونی حیثیت سے ابھی تک لا علم ہیں ،واشنگٹن میں قائم تھِنک ٹینک اسٹمسن سنٹرکے مطابق امریکایہ بات ثابت کرنے میں تقریبا ناکام رہا ہے کہ خونریز ڈرون حملے کیوں ضروری ہیں۔لیکن اس کے باوجود دنیا بھر میں امریکی بغیر پائلٹ طیاروں سے کیے جانے والے حملوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اسٹمسن سنٹرکے مطابق صدر باراک اوباما کی انتظامیہ اپنے ڈرون پروگرام کے بارے میں بنیادی شفافیت ظاہر کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ڈرون حملے امریکا کی انسداد دہشت گردی کوششوں میں بنیادی حیثیت حاصل کر چکے ہیں۔اس اسٹڈی کی مصنفہ راچل اسٹوہل نے فرا نسیسی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’اس پروگرام کا جواز اور قانونی حیثیت ابھی تک امریکی عوام کی پہنچ سے دور ہیں۔‘‘ تازہ رپورٹ میں ایک اسکول کے رپورٹ کارڈ کی طرح مختلف گریڈز دیے گئے ہیں۔ یہ گریڈز اسٹمسن سنٹر کی طرف سے جون 2014ئمیں ڈرون حملوں کی مذمت کے بارے میں جاری کردہ رپورٹ کے بعد حکومت کی طرف سے ڈرون پروگرام کے حوالے سے پیشرفت پر دیے گئے ہیں۔اس رپورٹ کارڈ میں اوباما انتظامیہ کو تین مختلف حوالوں سے ناکامی کا یعنی “F” گریڈ دیا گیا ہے۔ ان میں ڈرون حملوں کے بارے میں معلومات جاری کرنا، شفافیت کے لیے بہتر طریقہ کار ترتیب دینا اور امریکا کے خطرناک ڈرون پرگرام کے بارے میں قانونی جواز مہیا کرنا شامل ہیں۔عسکریت پسندی کے خلاف عالمی سطح پر مسلسل پھیلتی ہوئی جنگ میں امریکا ڈرونز پر کافی زیادہ انحصار کرتا ہے۔ بغیر پائلٹ اڑنے والے طیاروں کے ذریعے نہ صرف خطرناک زمینی علاقوں کی نگرانی کی جاتی ہے بلکہ مشتبہ شدت پسندوں کے خلاف میزائل حملے بھی کیے جاتے ہیں۔امریکی صدر باراک اوباما نے اپنی مدت کے دوران ڈرون پروگرام کو کافی زیادہ وسعت دی ہے، تاہم ان کی انتظامیہ کی طرف سے ڈرون حملوں کے بارے میں بہت ہی محدود معلومات فراہم کی جاتی ہے۔اسٹمسن سنٹر کے مطابق اب کم از کم ایک درجن ممالک ایسے ہیں جہاں امریکی ڈرون طیاروں کے اڈے موجود ہیں۔ناقدین کا کہنا ہے کہ زیادہ تر ڈرون حملوں میں عام شہری ہلاک ہوتے ہیں اور یہ حملے دراصل مقامی آبادی کو زیادہ بنیاد پرستی اور شدت پسندی کی طرف دھکیلنے کا باعث بن رہے ہیں۔جون 2014ء4 کے بعد سے امریکا افغانستان، لیبیا، پاکستان، صومالیہ اور یمن کے علاوہ عراق اور شام میں داعش کے خلاف ڈرون حملے کرتا رہا ہے۔ اسٹمسن سنٹر کے مطابق اب کم از کم ایک درجن ممالک ایسے ہیں جہاں امریکی ڈرون طیاروں کے اڈے موجود ہیں۔ ان میں ایتھوپیا اور یمن بھی شامل ہیں۔دوسری طرف امریکی سی آئی اے کے سابق سربراہ مائیکل ہیڈن کہتے ہیں، ’’ہدف بنا کر قتل کیے جانے کا پروگرام مسلح تنازعات کی تاریخ میں فائر پاور کا سب سے زیادہ درست اور مؤثر استعمال ہے۔‘‘ نیویارک ٹائمز میں چھپنے والے اپنے ایک مضمون میں ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈرونز نے دراصل القاعدہ کی اعلیٰ قیادت کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔تاہم اسٹمسن سنٹر کا کہنا ہے کہ اس طرح کے دعوے اس وقت تک بے معنی ہیں جب تک عوامی سطح پر وہ ایسے اعدادوشمار جاری نہیں کیے جاتے جو ان دعووں کی تائید کریں۔ ڈرون حملوں اور ان سے ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں محدود اعداد وشمار صحافیوں، مانیٹر گروپوں اور خفیہ معلومات عام کرنے والوں کی طرف سے جمع کیے گئے ہیں۔

جب تک بشارالاسد اقتدار پر قابض ہیں لڑائی بند ہونے کا کوئی امکان نہیں”امریکہ”

دبئی: امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ اگر شام میں فائر بندی کی کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں تو ان کا ملک اس حوالے سے دیگر آپشن استعمال کرنے پر غور کرے گا، جب تک بشارالاسد اقتدار پر قابض ہیں لڑائی بند ہونے کا کوئی امکان نہیں ۔ امریکی ایوان نمائندگان میں سالانہ وزارتی بجٹ اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے جان کیری کا کہنا تھا کہ شام میں جنگ بندی کے لیے کوششیں کرنے والے ممالک پر جلد ہی واضح ہو جائے گا کہ آیا ان کی فائر بندی کی مساعی کامیاب ہوتی ہیں یا نہیں۔ایک سوال کے جواب میں جان کیری نے کہا کہ جب تک بشارالاسد شام میں اقتدار پر قابض ہیں اس وقت تک امن کے قیام اور جنگ کے خاتمے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر شام میں خون خرابہ طویل عرصے تک جاری رہتا ہے تو شام کو متحد رکھنا اور بھی مشکل ہو جائے گا۔ جان کیری نے کہا کہ ’’لگ رہا ہے کہ شام کو متحد رکھنے کے لیے وقت تیزی کے ساتھ ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے۔ اگر لڑائی زیادہ عرصہ طول پکڑتی ہے تو شام ٹکڑے ٹکڑے ہو سکتا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ روس کی فوجی معاونت سے بشارالاسد کی فوجیں حلب کا کنٹرول سنبھالتی ہیں تو شام کی سرزمین مزید غیر محفوظ ہو جائے گی۔

امریکی صدارتی انتخابات کا ابتدائی مرحلہ،ڈونلڈ ٹرمپ نے کامیابی حاصل کرلی

واشنگٹن:امریکی صدارتی انتخابات کے ابتدائی مرحلے میں ری پبلیکن جماعت کے ڈونلڈ ٹرمپ نے کامیابی حاصل کرلی۔

امریکی میڈیا کےمطابق ڈونلڈ ٹرمپ کو 46 فیصد ووٹ ملے جب کہ ان کے قریبی حریف فلوریڈا کے سینیٹر مارکیو روبیو اور ٹیکساس کے ٹیڈ کروس تقریبا 20 پوائنٹس پیچھے رہے۔

اپنی جیت کے بعد تقریر میں ڈونلڈ کا کہنا تھا کہ اس کامیابی کا جشن منایاجائے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ تیسری کامیابی ہے۔ اس سے قبل ٹرمپ نیو ہیمشائر اور جنوبی کیرولینا میں بھی جیت چکے ہیں۔ ریاست آئیوا میں ٹرمپ دوسرے نمبر پر رہے تھے۔

امریکی صدارتی انتخابات سے پہلے سیاسی جماعتوں کے اندرصدارتی امیدوار بننے کے لیے بھی چناؤ ہوتا ہے جس کے لیے کسی بھی حتمی ٹیم کویہ مراحل طے کرنا ہوتے ہیں۔

ہمالیہ کے پہاڑوں میں نیپال کا مسافر طیارہ گرکر تباہ ہوگیا

کھٹمنڈو: ہمالیہ کے پہاڑوں میں لاپتہ ہونیوالانیپال کا مسافر طیارہ گرکر تباہ ہوگیا جس میں عملے سمیت 23افراد سوار تھے جن میں دو بچے اور کئی غیر ملکی سوار تھے جبکہ ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیاجارہاہے۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق طیارے کے لاپتہ ہونے کے بعد سرچ آپریشن شروع کردیاگیاتھا جبکہ طیارے میں سوار افراد کی زندگی یا موت کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوسکا۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق سینئر پولیس افسر مہندرا پوکھارے نے تصدیق کی ہے کہ طیارہ ضلع میگادی کے علاقے میں گرا جبکہ ایمرجنسی ٹیمیں جائے حادثہ کی طرف رواں دواں ہیں۔ ایئرلائن حکام کاکہناتھاکہ طیارہ نیا نیا خریدا تھاجس نے ستمبر 2015ءمیں آپریشن شروع کیاجبکہ سینئر پائلٹ روشن مناندھر اور ساتھی پائلٹ ڈی نمکل طیارہ آپریٹ کررہے تھے ، مسافروں میں ایک چینی اور ایک کویتی باشندہ بھی شامل ہے۔ رپورٹ میں بتایاگیاکہ بدقسمت طیارے نے مقامی وقت کے مطابق صبح سات بج کر پچاس منٹ پر پوکھارا ایئرپورٹ سے اڑان بھری تھی اور ایک گھنٹے بعد ہی کنٹرول ٹاور سے رابطہ منقطع ہوگیا، نیپال نے آرمی کے دوہیلی کاپٹر تعینات کردیئے تاہم اس حادثے کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہوسکی۔

Google Analytics Alternative