Home » Author Archives: Admin (page 5)

Author Archives: Admin

دن کا آغاز اس مشروب سے کرنا صحت کے لیے نقصان دہ

چائے نوشی پاکستانی عوام کی پسندیدہ ترین عادات میں سے ایک ہے بلکہ متعدد افراد تو صبح کا آغاز بھی اس گرم مشروب سے کرتے ہیں۔

یقیناً چائے ایک مزیدار اور صحت کے لیے فائدہ مند مشروب ہے جس کا استعمال مختلف فوائد پہنچاتا ہے۔

تاہم دن کے ایک خاص وقت اس گرم مشروب سے لطف اندوز صحت کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

درحقیقت چائے ہو یا کافی نہار منہ یا خالی پیٹ ان گرم مشروبات کا استعمال کوئی اچھا خیال نہیں کیونکہ یہ صحت کو متعدد طریقوں سے متاثر کرسکتا ہے۔

دن کا آغاز کیفین (چائے یا کافی میں موجود جز) سے کرنا معدے میں تیزابیت بڑھانے اور دن بھر کے لیے ہاضمے کے افعال کو متاثر کرسکتا ہے، چائے یا کافی کا استعمال ہمیشہ ناشتے کے بعد کرنا ہی بہتر ہوتا ہے۔

اس عادت کے نقصانات درج ذیل ہیں۔

میٹابولک سرگرمیاں متاثر

نہار منہ چائے یا کافی کا استعمال میٹابولک نظام کو مٹاثر کرسکتا ہے کیونکہ یہ مشروبات تیزابیت کو بڑھاتے ہیں، جس سے میٹابولزم کے افعال متاثر ہوتے ہیں اور جسم کے لیے کیلوریز کو جلانے میں مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

ڈی ہائیڈریشن

ماہرین کے مطابق چائے پینے سے لووں کو پیشاب زیادہ آتا ہے جس سے جسم سے پانی کا اخراج ہوتا ہے، ہمارا جسم پہلے ہی 8 گھنٹے کی نیند کے باعث کسی حد تک پانی کی کمی کا شکار ہورہا ہوتا ہے، تو پانی یا ناشتے کی بجائے چائے کا استعمال ڈی ہائیڈریشن کو مزید بڑھا دیتا ہے، خیال رہے کہ بہت زیادہ ڈی ہائیڈریشن کے نتیجے میں مسلز اکڑنے یا دیگر مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔

منہ کی صحت متاثر کرے

نہار منہ چائے یا کافی پینے سے منہ میں موجود بیکٹریا ان مشروبات میں موجود شکر یا چینی کو بریک ڈاﺅن کرتے ہیں، جس سے منہ میں تیزابیت کی سطح بڑھتی ہے اور دانتوں کی سطح متاثر ہوسکتی ہے، اس عادت سے مسوڑوں کے امراض کا سامنا بھی ہوسکتا ہے جبکہ سانس کی بو بھی اکثر سامنے آسکتی ہے۔

دل متلانا

کیفین جسم کو فوری توانائی فراہم کرنے والا جز ہے، مگر خالی پیٹ کیفین کے استعمال سے دیگر اثرات جیسے قے، سر چکرانا، دل متلانا اور دیگر ناخوشگوار کیفیات کا خطرہ ہوتا ہے۔

پیٹ پھولنا

چائے میں موجود دودھ کے باعث متعدد افراد کو پیٹ پھولنے کا احساس ہوتا ہے جس کی وجہ دودھ میں لیکٹوز (دودھ میں موجود شکر) کی موجودگی ہے جو خالی پیٹ ہونے پر زیادہ اثرانداز ہوتی ہے، جس سے پیٹ میں گیس بڑھنے کے ساتھ قبض کا خطرہ بھی پیدا ہوتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

کلبھوشن کیس میں بھارتی درخواست مسترد ہونے پر مودی سرکار کی عیاریاں

نئی دلی: عالمی عدالت برائے انصف نے کلبھوشن یادیو کیس کے فیصلے میں بھارت کی درخواست مسترد ہونے پر بوکھلاہٹ کی شکار مودی سرکار اپنی عوام کو فیصلے کا غلط رخ دکھا کر خوش کرنے کی ناکام کوششوں میں جُت گئی۔

عالمی عدالت برائے انصاف نے کلبھوشن یادیو کیس میں بھارت کی جانب سے جاسوس کو بری کر کے بھارت کے حوالے کرنے کی درخواست کو مسترد کر دیا اور بھارتی جاسوس کو پھانسی کی سزا پر پاکستان کو ریویو کا بھی موقع دے دیا گیا جس پر بھارتی میڈیا اور مودی سرکار روایتی عیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی قوم کو جھوٹے بہلاوے دینے لگے۔

فیصلے سے قبل ہی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر سابق بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے عالمی عدالت برائے انصاف کے فیصلے کو اپنے حق میں تصور کرتے ہوئے وزیراعظم نریندرا مودی کو مبارک باد بھی دے بیٹھیں۔ صارفین نے حیرت کا اظہار کیا اور فیصلے کے اقتباسات کے اسکین شاٹ لگائے جب کہ کچھ نے کہا کہ میڈم آپ کی آسانی کے لیے انگریزی فیصلے کا ترجمہ کردیں؟

بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس نے بھی فیصلہ سنے بغیر ہی اپنے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ سے ٹویٹ داغ دی کہ ’ عالمی عدالت برائے انصاف کے فیصلے کو خوش آمدید کہتے ہیں، یہ بھارت کی بہت بڑی جیت ہے اور ہم کلبھوشن کی جلد از جلد واپسی کے لیے دعا گو ہیں

حقیت تو یہ ہے کہ عالمی عدالت نے نہ تو کلبھوشن کی سزائے موت ختم کی ہے اور نہ ہی اسے بھارت کے حوالے کرنے کو کہا ہے البتہ فیصلے میں کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی کا حق دے دیا گیا ہے جسے بھارتی میڈیا اور رہنما توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے جاسوس کلبھوشن یادیوکومارچ 2016 میں بلوچستان سے گرفتارکیا گیا تھا۔ بھارتی بحریہ کے حاضر سروس افسر نے پاکستان میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں کا اعتراف کیا تھا جس پرفوجی عدالت نے کلبھوشن کو سزائے موت سنائی تھی جس کے خلاف بھارت نے مئی 2017 کو عالمی عدالت سے رجوع کیا تھا۔

ٹرمپ حافظ سعید کی گرفتاری پر اپنی منفی اور نفرت آمیز سوچ نہیں چھپا سکے

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حافظ سعید احمد کی گرفتاری پر پاکستان کے کردار کی تعریف کرنے کے بجائے اپنی روایت کو برقرار کرتے ہوئے طنز کے تیر چلائے اور میں نہ مانو کی رٹ برقرار رکھی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا کہ 10 برس کی تلاش بسیار کے بعد آخر کار ممبئی حملے کے نام نہاد ماسٹر مائنڈ کو پاکستان میں گرفتار کرلیا گیا ہے، 2 برسوں سے اس کی گرفتاری کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا تھا۔ ڈو مور کی رٹ لگائے رکھنے والے صدر ٹرمپ کو پاکستان کی قربانیاں نظر نہیں آتیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی متنازع ٹویٹ میں کسی کا نام نہیں لیا تاہم واضح اشارہ حافظ سعید احمد کی گرفتاری کی جانب ہے حالانکہ پاکستان جو خود دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار رہا ہے نے اپنی قانونی ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے ہمیشہ حافظ سعید کی گرفتاری کے لیے ہر ضروری اقدام کو بروئے کار لایا ہے۔

قبل ازیں پاکستان حافظ سعید کے زیر انتظام چلنے والے فلاحی ادارے کو بھی اپنے تحویل میں لے چکا ہے اور بین الاقوامی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے مشتبہ افراد کے اکاؤنٹس کو بھی ضبط کر چکا ہے تاہم ضدی اور خود پرست ٹرمپ کو یہ کاوشیں نظر نہیں آتیں۔  صدر ٹرمپ دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو سراہنے کے بجائے مودی سرکار کی گود میں جا بیٹھتے ہیں۔

سابق حکمرانوں کی شاہ خرچیاں ، بے نامی جائیدادیں ، احتساب جاری

ماضی میں یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ قومی خزانے کو ہر آنے والے حکمران نے اپنا ذاتی خزانہ سمجھا اور وہاں سے مال نکال کر خوب گلچھرے اڑائے اس میں چاہے علاج معالجے کیلئے رقم درکار ہو ، بیرون ممالک کے دوروں کیلئے رقم درکار ہو، خریدوفروخت کیلئے رقم درکار ہو یا دیگر ذاتی اخراجات کیلئے رقم درکار ہو، سرکاری خزانے کے دروازے ان کیلئے ہمیشہ ’’وا ‘‘رہے ۔ یوں عوام کے خون پسینے کی کمائی سابقہ حکمران اللے تللوں میں اڑاتے رہے اور عوام مہنگائی کی چکی میں پستی رہی ۔ اب حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ گزشتہ دس سالوں کے دوران جن حکمرانوں نے قومی خزانے کو اپنا ذاتی خزانہ سمجھ کر اڑایا ان سے اس کاحساب کتاب لیا جائے گا ۔ ملک کی کمزور ترین معیشت قرضوں میں ڈوبی رہی اور یہ ظالم حکمران عوام کے حقوق پر ڈاکے ڈالتے رہے اپنی طرز زندگی شاہانہ گزاری، عوام کسمپرسی کی زندگی گزارتی رہی ۔ جس کے ہاتھ جتنا چڑھا اسی نے اس کو اپنے لئے حلال اور جائز سمجھا اب چونکہ حکومت پاکستان کو فری کرپشن کرنے کی خواہاں ہے اسی وجہ سے وہ تمام حساب کتاب لے رہی ہے ۔ معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیاکوبریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ کابینہ نے گزشتہ 10 سال کے دوران سابق صدور آصف زرداری، ممنون حسین، سابق وزراء اعظم نواز شریف ،یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف اور شاہد خاقان عباسی کی سکیورٹی، انٹرٹینمنٹ اور کیمپ آفسز پر عوام کے پیسے کو بےدردی سے خرچ کرنے کی روش پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ ان سابقہ حکمرانوں سے ذاتی اخراجات وصول کئے جائیں گے وفاقی کابینہ نے ریکوڈک معاملہ پر عالمی عدالت کے فیصلہ کے جائزہ اور ذمہ داران کے تعین کیلئے وزیر قانون کی سربراہی میں خصوصی کمیٹی کے قیام، 14 اگست سے پلاسٹک بیگز پر پابندی کے قانون، اسلام آباد ہیلتھ کیئر فیسیلیٹیز مینجمنٹ ایکٹ، خوردنی تیل پر عائد ٹیکس سات فیصد کو کم کرکے 2 فیصد کرنے، ای کامرس پالیسی فریم ورک، سکوک بانڈ اور یورو بانڈ کے اجراکیلئے لیگل ایڈوائزر کی تعیناتی، توصیف ایچ فاروق کو چیئرمین نیپرا محمد شہباز جمیل کو صدر زرعی ترقیاتی بینک اورڈاکٹر ناصر خان کو نیوٹیک کا ایگزیکٹو ڈائریکٹر مقررکرنے کی منظوری دےدی وزیراعظم عمران خان نے آٹے اور روٹی کی قیمتوں میں اضافہ کا نوٹس لیتے ہوئے وزرا اعلی اور چیف سیکرٹریز سے مہنگائی پر وضاحت طلب کرلی ہے، وزیراعظم عمران خان نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ حکومت تاجروں سمیت تمام اسٹیک ہولڈروں سے ان کے مسائل اور مشکلات بارے بات چیت کیلئے تیار ہے لیکن رجسٹریشن کے معاملہ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ۔ کابینہ کو برطانوی اخبار میں شاءع ہونے والی رپورٹ کے بارے میں تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا ۔ کابینہ نے اس بات کا سخت نوٹس لیا کہ بعض عناصر کی جانب سے ضروری اعداد و شمار کی تفصیلات فراہم کرنے میں لیت و لعل سے کام لیا جا رہا ہے ۔ کابینہ نے اس امر کا اعادہ کیا کہ ایسے عناصر کے خلاف آئندہ سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔ ادھر معاون خصوصی وزیراعظم شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ حسن نواز، حسین نواز، سلیمان شہباز اور علی عمران اشتہاری ملزم ہیں ان کی جائیدادیں ضبط کی جائیں گی وہ وزیر بحری امور علی زیدی اور حماد اظہر کے ہمراہ پریس کانفرنس کررہے تھے ۔ شہزاد اکبر نے بتایا کہ جے آئی ٹی نے بے نامی جائیدادیں سیل کرنے کی سفارش کی تھی اور اب تک کارروائی کے دوران 32 کمپنیوں کے اثاثے سیل کردئیے گئے ہیں ۔ ان کمپنیوں میں شوگر ملز اور سیمنٹ فیکٹریاں شامل ہیں ، اومنی گروپ کیس میں بہت سی جائیدادوں کو منجمد کیا گیا ۔ ٹھٹھہ سیمنٹ سمیت مختلف کمپنیوں کے بے نامی شیئرز بھی فریز کردئیے گئے ۔ زرداری کی بے نامی کمپنیوں کی تعداد 32 ہے جن میں شوگرملز، اور سیمنٹ فیکٹریاں شامل ہیں ۔ 60دن میں جائیدادوں کی ملکیت کے ثبوت پیش نہ ہوئے تو ضبط کرلی جائیں گی اور ان بے نامی جائیدادوں کوفروخت کردیا جائے گا ان سے حاصل ہونے والا پیسہ سرکاری خزانے میں جمع کرایا جائے گا ۔ ہم نے اربوں روپے کی بے نامی جائیدادیں پکڑی ہیں ، پاکستان میں ایک بے نامی بینک بنایا گیا ، عارف بینک اور اٹلس بینک کوضم کرکے سمٹ بینک بنایا گیا، سمٹ بینک کے شیئرز کو بھی سیل کردیا گیا ہے اب اگلی باری حدیبیہ کی ہے وہ بھی بے نامی ہے ۔ حکومت کے یہ اقدام بہترین ہیں صرف ان کو یہاں تک ہی محدود نہیں رہنا چاہیے ہر جانب اور بلا تفریق تحقیقات ہونی چاہیے جس کی بھی بے نامی جائیداد ہو 60 دن کے اندر اندر ضبط کرکے نیلام کردی جائیں ۔

شرح سود میں ایک فیصد اضافہ،مہنگائی کی نوید

اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے ساتھ ہی گورنر اسٹیٹ بینک نے کہہ دیا کہ مہنگائی میں اضافہ ہوگا صرف مہنگائی میں ہی نہیں اس سے معیشت اور صنعتیں بھی تباہ حال ہوں گی کیونکہ اس خطے میں سب سے زیادہ شرح سود ہمارے ملک میں ہے جس سے معیشت مضبوط نہیں ہوسکتی ۔ اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں ایک فیصد کا اضافہ کردیا جس کے باعث قرضوں پر چلنے والی صنعتوں کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور ان کی پیداواری لاگت میں بھی اضافہ ہوجائے گا، اس بات کا اعلان گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے اسٹیٹ بینک ہیڈ آفس میں پریس کانفرنس میں کیا، ان کا کہناہے کہ مہنگائی اندازے سے زیادہ ہے، اگلے سال نیچے آئے گی، شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کردیا جو 13;46;25فیصد ہوگئی، پالیسی ریٹ 100بی پی ایس بڑھ گیا،رواں مالی سال مہنگائی میں 12فیصد تک اضافے کا خدشہ ہے،آئندہ 2، 3ماہ میں گیس، بجلی اور دیگر کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر اضافے کا امکان ہے،مالی سال 19 میں مہنگائی بڑھ کر 7;46;3 فیصد ہوگئی ۔ دوسری طرف حکومت نے اسٹیٹ بینک سے قرض لینے کا سلسلہ بھی ختم کرنے کا عزم کیا ہے جس سے مہنگائی کے منظرنامے میں معیاری بہتری آئے گی ۔ دوم، آئی ایم ایف کی توسیعی فنڈ سہولت کے تحت پہلی قسط کی موصولی، تیل کی سعودی سہولت کے بروئے کار آنے اور کثیر طرفہ و دوطرفہ شراکت داروں کی جانب سے امداد کے دیگر وعدوں کے نتیجے میں بیرونی مالکاری کا منظر نامہ مزید مضبوط ہوا ہے ۔ جاری کھاتے کا خسارہ مسلسل گھٹ رہاہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بیرونی دباءو میں کمی آتی جارہی ہے ۔

ملک کو معاشی مسائل درپیش

پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوزکے چیئرمین ایس کے نیازی نے پروگرام’ ’سچی بات‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو اس وقت معاشی مسائل بھی درپیش ہیں ،حالات کی بہتری میں موجودہ حکومت کو بھی کریڈٹ جاتا ہے، یہاں تو نہ سزا ہے اور نہ جزا ہے اس ملک کے اندراندھیر نگری ہے، غریب آدمی تو مر رہا ہے ،عمران خان بھی چاہتے ہیں کہ ملک ترقی کرے، شرح سود میں اضافہ سے کاروبارپر اثرپڑے گا،اس وقت معاشی مسائل درپیش ہیں ،کسی کی بھی ویڈیو ریکارڈ کرنا زیادتی ہے،اگر شہباز شریف سچے ہیں تو انہیں قانونی چارہ جوئی کرنی چائیے، تاجر تو ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں ،تاجر کرپٹ نہیں ادارے کرپٹ کرتے ہیں ،ہم کہتے ہیں مدینہ کی ریاست ہوگی ،مدینہ کی ریاست میں سود کانظام تو نہیں ہوتا ۔

جنگلی حیات کا تحفظ اولین ترجیح

ہمار وطن عزیز پاکستان اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے چار موسموں سے نوازا ہے ۔ یوں تو سال میں دو مرتبہ خزاں اور بہار کے شروع میں شجر کاری کا موسم آتا ہے جس میں بڑے اہتمام سے شجرکاری مہم کا آغاز کیا جا تا ہے ۔ لاکھوں پودے لگانے کے وعدے کئے جاتے ہیں ۔ سینکڑوں پودے بھی لگائے جاتے ہیں لیکن ان پودوں کی حفاظت کا خاطر خواہ انتظام نہ ہونے کے سبب وہ تناور درخت بننے قبل پہلے سال ہی ختم ہوجاتے ہیں ۔ اسی وجہ سے پاکستان میں کل رقبے کا صرف4 فیصد حصہ پر جنگلات ہیں جو انتہائی کم اور قابل تشویش ہے ۔ ماہرین کے مطابق کسی بھی ملک کے کل رقبے کا 25 فیصد حصہ پر جنگلات کا ہونا بیحد ضروری ہے کیونکہ ایک تو درخت صدقہ جاریہ ہیں ۔ دوسرا درخت نہ صرف سایہ فراہم کرتے ہیں بلکہ یہ ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے میں بھی ممدومعاون ثابت ہوتے ہیں ۔ اس کے علاوہ درخت سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچاوَ اور زمین کے کٹاوَ کو روکنے کا اہم ذریعہ ہیں ۔ مزیدار شیریں پھل ان سے ہی حاصل کیے جاتے ہیں ۔ درختوں کی لکڑی فرنیچر ،مکانوں کے شہتیراور دیگر مقاصد کیلئے استعمال میں لائی جاتی ہے درختوں ہی کی بدولت بارش کا موجب بننے والے بادل وجود میں آتے ہیں ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے شجر کاری مہم کا آغاز کرتے ہوئے ہدایت کی کہ پنجاب کو سر سبز و شاداب بنانے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی ۔ وزیر اعلی پنجاب کے اس ویژن کو آگے بڑھانے کے لئے محکمہ زراعت مکمل اور بھر پور حصہ لے رہا ہے ۔ اس موسم بہار میں راولپنڈی میں صاف ،سر سبز و شاداب اور تجاوزات سے پاک پنجاب کی آگاہی مہم کے حوالے سے واک اور تقریب کا انعقاد کیا گیا جس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت پر قابو پانے کے لیے درخت لگانا انتہائی ضروری ہے ۔ درخت لگانا صدقہ جاریہ ہے ۔ ہم سب کو شجر کاری مہم میں انفرادی طور پر حصہ لینا چاہیئے ۔ پنجاب کی مختلف تفریح گاہوں اور جنگلات میں 25 ہزار پودے لگائے جا چکے ہیں ۔ شجر کاری مہم میں ہرمحکمہ کو بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیئے ۔ اس مہم میں ہر فرد حصہ لے اور اپنے حصے کا ایک ایک پودا ضرور لگائے ۔ وزیر اعظم پاکستان کے وژن کے مطابق پا کستان بھر میں پانچ سال کے دوران 10ارب پودے لگائیں جائیں گے ۔ اپریل تک جاری رہنے والی شجرکاری مہم کے دوران پنجاب میں 1کروڑ20لاکھ پودے لگائے گئے ۔ عوام کو صحت مند انہ ماحول کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے ۔ شجر کاری مہم کو کامیاب بنانے کیلئے عوام کا تعاون کلیدی حیثیت رکھتا ہے ۔ حکومتی اداروں کیساتھ ساتھ سول سوساءٹی کو بھی مشترکہ طور پر اس نیشنل کاذکیلئے کام کرنا ہوگا ۔ ماحولیاتی آلودگی روکنے کا کام انسانیت کی خدمت ہے ۔ بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کیلئے درخت لگانا نہایت ضروری ہے ۔ ہر علاقے میں زمین اور موسم کی مناسبت سے درخت لگائے جائیں ۔ صاف ستھرا و سر سبز پنجاب کے نعرے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مہم میں سرکاری اداروں کے ساتھ ساتھ عوام کی شرکت کو بھی یقینی بنایا جائے تا کہ اجتماعی کوششوں سے جلد مطلوبہ نتاءج کو حاصل کیا جا سکے ۔ اس منصوبے کی کامیابی آنیوالی نسلوں کیلئے اچھے ماحول کی ضمانت ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا ۔ روایتی پودوں کو ترجیح دی جائے لیکن آرائشی پودے بھی لگانے کے بعد ان کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے تا کہ وہ پروان چڑھ سکیں ۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات پنجاب کی سست روی کی وجہ سے سالانہ ڈیڑھ کروڑ روپے کی لاگت سے شکار کے لیے بننے والے ہزاروں لائسنسوں کے باوجود غیرقانونی شکار کا سلسلہ صوبہ بھر میں جاری ہے ۔ محکمہ تحفظ جنگلی حیات کے زیر اہتمام فیزنٹ، تلور، تیتر، مرغابی، چنکارہ ہرن کے شکار کے لائسنس جاری ہوتے ہیں جس میں ملکی سمیت غیر ملکی شکاری بھی بڑی تعداد میں حصہ لیتے ہیں ۔ محکمہ جنگلی حیات پنجاب کی تیار کردہ ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ غیر قانونی شکار بھی جنگلی حیات کیلئے بڑا چیلنج ہے ۔ اس سے نمٹنے کیلئے محکمہ جنگلی حیات پنجاب نے سزاؤں اور جرمانوں میں نمایاں اضافہ کرنے کیلئے قانون تیارکیا ہے ۔ مجوزہ قانون میں ‘‘پنجا ب و ائلڈ لاءف ایکٹ 2007 ’’ کے سیکشن 21 میں ترمیم کرتے ہوئے قید بامشقت کی سزا کی زیادہ سے زیادہ مدت 2 سال سے بڑھا کر 5 سال اور کم سے کم سزا کی مدت 3 سال مقرر کرنے اور جرمانہ کی کم سے کم رقم 10 ہزار سے بڑھا کر 50 ہزار روپے اور زیادہ سے زیادہ جرمانہ کی حد 1 لاکھ روپے مقرر کرنے کی سفارش کی ہے جبکہ غیر قانونی شکار میں استعمال ہونے والے اسلحہ کا لائسنس 10 سال کیلئے معطل کیا جائے گا ۔ صبح سویرے درختوں پر چہچہانے والی چڑیاں بھی ماحول اور کسان دوست پرندوں میں شمار ہوتی ہیں ، جو فصلوں کو نقصان پہنچانے والے کیڑے مکوڑے کھا کر نیچرل کلینر کے طور پر کام کرتی ہیں ، مگر گزشتہ کچھ عرصے سے ان کاشکار کرکے ان کو مختلف مقاصد کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے ۔ پنجاب بھر میں پرندوں اور جانوروں کے شکار کے خلاف کریک ڈاوَن اور سزاؤں میں اضافہ کی تجویز دی گئی ہے جس سے شہریوں میں آگاہی آئے گی ۔

وےڈ ےو اسکےنڈلز ،درست سمت پےش رفت

وےڈےو لےکس نے ملکی سےاست مےں بھونچال پےدا کر دےاہے ۔ وےڈ ےو کے بارے مےں مرےم نواز نے جو پرےس کانفرنس کی اس کی تفصےل ٹےلی وےژنوں اور اخبارات مےں چھپ چکی ہے اور اس پر ہنوز تبصرہ آرائی ہو رہی ہے ۔ نواز شرےف کو جج محمد ارشد نے تقرےباً آٹھ ماہ پہلے ساڑھے سات سال قےد اور بھاری جرمانہ کی سزا سنائی تھی ۔ مرےم نواز کے مطابق اس کے کچھ عرصہ بعد جج نے مبےنہ طور پر دےرےنہ شناسا ناصر بٹ کو گھر بلا کر اپنے فےصلے پر دکھ اور پچھتاوے کا اظہار کےا تھا ۔ وےڈےو کے بارے مےں کانفرنس مےں ن لےگ کے منتخب صدر شہباز شرےف ،خواجہ آصف ،پروےز رشےد اور پارٹی کے دوسرے مرکزی رہنما بھی موجود تھے لےکن خاموش تھے ۔ پارٹی کے صدر شہباز شرےف کی خاص انداز مےں خاموشی اور چہرے کی ناگوار کےفےت ان کی مصلحت پسندی کے راستے پر سےاست کو ترجےح دےنے کی غمازی کر رہی تھی جبکہ مرےم نواز نے جارحانہ سےاست کا راستہ اختےار کرنا مقصد قرار دےا ہے ۔ احتساب عدالت نمبر 2کے جج محمد بشےر نے مرےم نواز کو جعلی ٹرسٹ ڈےڈ کے بارے مےں 19جولائی کو عدالت طلب کےا ہے ۔ عدالت کی طلبی پر مرےم نواز نے طےش مےں آ کر کہا کہ اپنے رسک پر مجھے بلاءو ،تم مےری باتےں نہ سن سکو گے ،نہ سہہ سکو گے ،سر پےٹتے رہ جاءو گے ۔ ذراءع کے مطابق مرےم نواز نے فوری طور پر ن لےگ کے اہم رہنماءوں کا اجلاس طلب کےا اور بتاےا کہ وہ عدالت کا بائےکاٹ کرےں گی اور اگر گئی تو باقاعدہ بڑے لشکر کے ساتھ جائےں گی ۔ اطلاعات کے مطابق ن لےگ کے اکثر رہنماءوں نے اس طرز عمل کی مخالفت کی اور سمجھاےا کہ اس سے حالات بہت خراب ہو سکتے ہےں اور جمہورےت بھی ختم ہو سکتی ہے ۔ اس پر مرےم نواز غصے مےں آ گئےں اور کہا کہ آپ خاموش رہےں مےں وہ کچھ کر رہی ہوں جس کا مجھے نواز شرےف نے حکم دےا ہے ۔ ےہ کچھ کر کے رہوں گی ۔ اجلاس مےں تمام لوگ چپ ہو گئے ۔ اس مےں کوئی دورائے نہےں کہ مبےنہ وےڈ ےو لےک جس کی اگلی اقساط بھی آنے کا عندےہ دےا گےا ہے ےہ ہتھےار ماضی مےں بھی اعلیٰ شخصےات کی کردار کشی کےلئے استعمال ہوتے رہے ہےں اور آج کے جدےد دور مےں بھی ٹوٹے جوڑ کر فلمےں بنانا کوئی مشکل کام نہےں ۔ ماضی مےں بھی ن لےگ کی طرف سے عدلےہ پر دباءو ڈالا گےا اور ملک کی سب سے بڑی عدالت پر حملہ بھی ہوا ۔ اس بات سے قطع نظر کہ اس وےڈ ےو کا نواز شرےف کو کوئی فائدہ ہو سکتا ہے ےا نہےں لےکن نےب کے چےئر مےن کی مبےنہ وےڈےو کے بعد احتساب عدالت کے جج کی وےڈےو لےک ہونا بہت سے سوالات کو جنم دے رہا ہے ۔ سوال ےہ ہے کہ احتساب عدالت کے جج کی وےڈےو سے حکومت کےوں پرےشان ہے ۔ مرےم نواز نے خان صا حب پر تو کوئی الزام نہےں لگاےا کہ انہوں نے جج پر دباءو ڈالا کہ نوازشرےف کے خلاف فےصلہ دےں ۔ پوری حکومتی مشےنری اچانک حرکت مےں دکھائی دی ۔ پرےس کانفرنس اور جواب در جواب مےں حکومت کی طرف سے کہا گےا کہ وےڈےو جھوٹی ہے ۔ حکومت نے جوش جذبات مےں اس کا فرانزک آ ڈٹ کرانے کا اعلان کےا اور چند گھنٹوں بعد ہی ’’ےو ٹرن‘‘ لے کر معاملہ عدلےہ پر ڈال دےا ۔ وےڈ ےو سامنے لانے والی مرےم نواز تو کہہ رہی ہےں کہ حکومت پہلے ہی وےڈ ےو فرانزک کرا چکی ہے جس کی رپورٹ کے مطابق وےڈ ےو بالکل درست ہے ۔ بعض شاءع شدہ اندرونی حقائق کے مطابق مرےم نواز اور نواز شرےف کے کار خاص ناصر بٹ نے جےل مےں دو بار نواز شرےف سے ملاقات کر کے اس منصوبے کے بارے مےں نواز شرےف سے ہداےات لےکر ےہ وےڈےو اور کچھ اضافی وےڈےوز تےار کی گئےں ۔ پرےس کانفرنس سے دو دن پہلے ناصر بٹ کو ملک سے باہر بھےج دےا گےا ۔ وہ برطانوی شہری ہے اور برطانےہ مےں نواز شرےف کی املاک اور کاروبار سنبھالتا ہے ۔ اس کے خلاف پاکستان مےں قتل وغےرہ کے 14مقدمات بتائے گئے ہےں ۔ لندن مےں وہ اےک کےس مےں پولےس کی تحوےل مےں رہ چکا ہے ۔ وفاقی وزےر قانون و انصاف فروغ نسےم اور وزےر اعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر خان نے اےک مےڈےا کانفرنس سے خطاب مےں کہا کہ جج ارشد ملک نے اپنے بےان خلفی مےں کہا ہے کہ 16سال پرانی وےڈےو دکھا کر کہا گےا کہ وارن کرتے ہےں کہ تعاون کرےں ۔ جج ارشد ملک کا کہنا ہے کہ سماعت کے دوران ان کی ٹون دھمکی آمےز ہو گئی ۔ مجھے جاتی عمرہ بھی لے جاےا گےا اور نواز شرےف سے ملاقات کرائی گئی ۔ نواز شرےف نے کہا کہ جو ےہ لوگ کہہ رہے ہےں اس پر تعاون کرےں مالا مال کر دوں گا ۔ جج کا کہنا ہے کہ ناصر بٹ اور اےک دےگر شخص مسلسل رابطے مےں رہے ۔ فےملی کو بھی بتاےاشدےد دباءو مےں ہوں ۔ دھمکےاں دی جا رہی ہےں ۔ فےصلے کے بعد بھی مجھے دھمکےاں دی گئےں ۔ عمرے کےلئے گےا تو حسےن نواز سے ملاقات کرائی گئی ۔ حسےن نواز نے کہا ےہاں ےا کسی اور ملک مےں سےٹ کر دےں گے ۔ حسےن نواز نے پہلے 25کروڑ اور پھر 50کروڑ کی پےشکش کی ۔ حسےن نواز نے کہا ےہاں ےا کسی اور ملک رہنا چاہےں ،دستاوےز بنا دےں گے ۔ بےان خلفی مےں جج ارشد ملک کا کہنا ہے کہ اظہر بٹ کی خفےہ ملاقات کی رےکارڈنگ کی جاتی رہےں ۔ کہا جاتا تھا کہ چار پانچ قتل کر چکا ہوں مزےد بھی کر سکتا ہوں ۔ بچوں سے متعلق بھی دھمکےاں دی گئےں ۔ پرےس کانفرنس کے چھ روز بعد اسلام آباد ہائےکورٹ کے قائم مقام چےف جسٹس عامر فاروق نے وزارت قانون و انصاف کو اےک مراسلہ بھجواےا جس مےں جج ارشد ملک کو عہدے سے ہٹا کر اس کی خدمات وزارت کے سپرد کر دےں ۔ ہائےکورٹ نے ےہ فےصلہ درست اور حالات کے تناظر مےں بروقت کےا ۔ سپرےم کورٹ کا اےک تےن رکنی بنچ 16جولائی کو اس اس کےس کی سماعت شروع کر رہا ہے ۔ جہاں تک کسی فےصلے پر اثر انداز ہونے کےلئے رشوت کی پےشکش ےا دباءو کا معاملہ ہے تو اکثر جج ان مراحل سے گزرتے ہےں ےہ ان کی زندگی کا معمول ہے ۔ اسی طرح وکلاء کو بھی با اثر ملزمان کی طرف سے دھمکےاں ملتی ہےں لےکن وہ اس کی پرواہ نہےں کرتے لےکن اگر اےک جج متنازعہ ہو جائے تو اس سے ساری عدلےہ کی ساکھ داءو پر لگ جاتی ہے ۔ وےڈےو نشر ہونے کے آغاز مےں جج ارشد ملک نے صرف ےہ تسلےم کےا تھا کہ وہ اس وےڈےو کے مرکزی کردار ناصر بٹ سے ملتا رہا ہے لےکن جب مےڈےا پر طرح طرح کے سوال اٹھنے لگے تو موصوف نے اےک طوےل بےان مےں اےک نےا پنڈورا باکس کھول دےاتاہم جج ارشد ملک نے اپنے بےان خلفی مےں جو الزامات لگائے ہےں وہ تحقےقات کے متقاضی ضرور ہےں لےکن ان کے بطور جج فراءض کے حوالے سے ان پر بھی کچھ سوالات اٹھتے ہےں کہ آےا جج صاحب ججوں کے ضابطہ اخلاق سے لاعلم تھے;238; وہ نہےں جانتے تھے کہ اےسی باتوں کے منظر عام پر آنے سے ان کی عدالتی زندگی اور پوری عدلےہ پر کےا ناگوار اثرات مرتب ہو سکتے ہےں ۔ جج ارشد ملک نے اےک کےس کے ملزم نواز شرےف سے جاتی امراء مےں جا کر کےوں ملاقات کی;238; اےک مقدمہ کے ملزم سے جج کا ملاقات کرنا بجائے خود جرم نہےں ۔ انہوں نے سعودی عرب جا کر اےک مقدمہ کے سزا ےافتہ مجرم کے بےٹے سے ملاقات کےوں کی;238;جج اتنا عرصہ خاموش اور پر سکون کےوں رہے اور اطمےنان کے ساتھ عدالتی امور انجام دےتے رہے ۔ جج ارشد ملک نے اس بارے مےں اسلام آباد ہائےکورٹ کے چےف جسٹس سے شکاےت کےوں نہ کی اور سپرےم کورٹ کے مقرر کردہ نگران جج کو رشوت اور دھمکےوں کے بارے مےں آگاہ کےوں نہ کےا ۔ اسلام آباد ہائےکورٹ کے قائم مقام چےف جسٹس کی طرف سے لئے گئے اقدام کے بعد رد عمل مےں ن لےگ کی نائب صدر مرےم نواز کا کہنا ہے کہ جج کو فارغ کرنے کا مطلب ہے کہ اعلیٰ عدلےہ نے حقائق کو تسلےم کر لےا ہے اور ےہ کہ نواز شرےف کے خلاف فےصلہ واپس لےا جائے ۔ شہباز شرےف نے بھی مطالبہ کےا ہے کہ جج کے تحرےری بےان سے ثابت ہو گےا ہے کہ نواز شرےف کو سزا دےنے کا فےصلہ غلط تھا ۔ اس لئے نواز شرےف کو فوری طور پر جےل سے رہا کےا جائے حالانکہ کسی عدالت کے کسی بھی جج کا فےصلہ اس کا ذاتی نہےں ہوتا ۔ ےہ فےصلے ججوں کے نام سے دیے جاتے ہےں اور نہ کسی کی ذات اور کردار کے حوالے سے بلکہ انہےں قانون کے حوالے سے پرکھا جاتا ہے ۔ اگر ن لےگ کی قےادت کی ےہ خواہش ہے کہ اس پر مزےد کارروائی کی جائے تو اس کےلئے انہےں قانونی راستہ اختےار کرنا ہو گا ۔ فےصلے اےسے بےانات سے واپس نہےں ہوتے ۔ ملک کی عدالتی تارےخ مےں ہائی کورٹوں کے تےن جسٹس اخلاق احمد ، جسٹس شوکت علی اور جسٹس صدےقی بر طرف کئے گئے مگر ان کے سابق کئے گئے فےصلے تبدےل نہےں ہوئے بدستور برقرار اور موثر ہےں ان کے خلاف اگلی عدالت مےں اپےل کی جا سکتی ہے ۔

خواہشات کا سیراب !

شاعر پیر مغاں غالب نے کہا تھا

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

کہاں مے خانے کا دروازہ غالب! اور کہاں واعظ

پر اِتنا جانتے ہیں ، کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے

کے مصداق انسان کی خواہشیں لامحدود ہیں اگر کسی شخص کی ایک خواہش پوری ہوتی ہے تو اسکی جگہ نئی خواہش آ جاتی ہے اور خواہشات کا یہ لامتناہی سلسلہ چلتا رہتا ہے حتیٰ کہ اکثر انسانوں کو جائز یا ناجائز طریقوں کے ذریعے دولت، اقتدار، طاقت، شہرت سبھی کچھ حاصل ہو جاتا ہے مگر پھر بھی ان کا احساس کمتری دور نہیں ہوتا ہے ۔ لوگ پیسے کے پیچھے بھاگ رہے ہیں اور اس بھاگ دوڑ میں حرام اور حلال کی تمیز ختم ہوگئی ہے ۔ ہمارے سیاست دان، بیورو کریٹس اور منظور نظر فرنٹ مین تاجر اور صنعتکار، لینڈ مافیا، سٹاک ایکسچینج بروکرز، حتیٰ کہ ڈرگ ڈیلرز جن کے اباءو اجداد قیام پاکستان کے وقت انتہائی کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہے تھے آج اربوں اور کھربوں کے اثاثے اور جائیدادوں کے مالک بننے کے باوجود انکی بھوک کیوں نہیں مٹتی ۔ خواہشات کے سیراب کے پیچھے دوڑنے والے ھل من مذید کی تمنا میں بے چین اور بے قرار پھر رہے ہیں اور ایک دوسرے سے سبقت حاصلکر رہے ہیں جب بھی احتساب کی بات کی جاتی ہے تو ہر طرف سے واویلا شروع ہوجاتا ہے ۔ ننانوے فیصد عوام محرومیوں اور بھوک کا شکار ہیں غذاور ، دوا ور تعلیم سے محروم ہیں اور ان محرومیوں اور نسلوں کی بھوک ہے جس نے انہیں عدم تحفظ کا شکار کیا ہوا ہے ۔ اورآج کا نام نہاد طبقہ اشرافیہ جن کے آباءو اجداد کی اکثریت یا تو بے حد مفلس اور غربت کا شکار تھی یا جاگیر دارانہ پس منظر کی وجہ سے انگریزوں کیلئے گھوڑیوں اور شکاری کتوں کے پالنے والے غداران ملت تھے جنہیں ننگِ وطن اور ننگِ دین ہونے پر انگریزوں نے اپنی وفاداریوں اور خدمات کے صلے میں لاکھوں ایکڑ زمینیں عنایت کیں ۔ ہمارے ملک کے امراء اپنا موازنہ امریکہ، یورپ اور مشرق وسطیٰ کے حکمرانوں کی دولت اور انداز حکمرانی بلکہ فرعونیت سے کرتے ہیں تو تب وہ پاکستان کے امیر ترین انسان ہونے پراللہ کا شکر ادا کرنے کے بجائے مزید احساس کمتری میں مبتلا ہو جاتے ہیں ، وہ سوچتے ہیں کہ ہمارے اثاثے تو اتنے نہیں ہیں جتنے کویت، برونائی، سعودی عرب کے شہنشاہوں کے پاس ہیں ان مقابلے میں تو وہاپنے آپ کو فقیر سمجھتے ہیں ، اور یہ بھی ایک المیہ ہ کہ ہمارے ہاں کے امیر عرب شیخوں کے شکاری باز اور کتوں کی زنجیریں پکڑ کر انہیں پاکستان کے صحراءوں میں نایاب نسل کے پرندوں اور جانوروں کا شکار اسی طرح کرواتے ہیں جس طرح قیام پاکستان سے پہلے میر جعفر اور میرصادق غدار کے اولاد انگریزوں حکمرانوں کے گھوڑوں کی نکیل پکڑ کر یا کتوں کی زنجیریں ہاتھ میں پکڑ کر انگریز بہادر کے آگے آگے بھاگا کرتے تھے اور اس خدمت کے عوض انہیں القاب و آداب اور زمینوں کے مربعے اور بڑی بڑی جاگیریں انعام کے طور پر حاصل ہوتی تھیں آج بھی ان کے حقیقی اور روحانی اولاد اسی ڈڈگر پہ ہیں ۔ رحیم یار خان اور ملک کے دیگر صحراءوں سے نایاب پرندوں کا خاتمہ کیا جارہا ہے ہمارے حکمران عرب شیخوں کو خوش کرنے کیلئے نہ صرف سہولتیں فراہم کرتے ہیں بلکہ رنگ وخوشبو، راگ وسرور، رقص اور اودھم ، دلربائی اوردل آرائی کا خوب اہتمام کرتے ہے ۔ جتنی عیاشیاں یہ خود کرتے ہیں اور یا بچوں کو اونٹوں سے باندھ کر مزے لینے والے کو خوش کرنے کیلئے سامان ہوس و کباب کا اہتمام کرتے ہیں اس سرمایہ سے بھوک مٹانے کیلئے کرتے تو افلاس کا خاتمہ کیا جاسکتا تھا ۔ اور اگریہ مال کے پجاری اربوں روپے رقومات ناجائز ذراءع سے پاکستان سے باہر منتقل نہ کرتے تو آج پاکستان کے غریب عوام کو بے تحاشہ بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ برداشت نہ کرنا پڑتا اور پاکستان کے ننانوے فیصد عوام کی کسمپرسی اتنی ذیادہ نہ ہوتی ۔ عوام کی کمر غربت نے توڑ دی ہے اور ایک فیصد طبقہ کے اثاثے بڑھ رہے ہیں اورمسلسل ان کے اثاثوں میں دن دوگنا اور رات چوگنا اضافہ ہورہا ہے ۔ ملک میں کرپشن عروج پر ہے اور اگر معاشی ضرب عضب اور احتساب کی بات کی جاتی ہے تو سب ایک جان دو قالب ہوجاتے ہیں ِ، آج سیاست کاروبار بن چکی ہے، بدعنوانی کا ناسْور ہمارے سماج، معیشت اور سرکاری اداروں کی رگ و پے میں سرایت کر چکا ہے ۔ احتکار و اکتناز کا دور دورہ ہے اور دولت کا ارتکاز چند ہاتھوں میں ہے امیر اور غریب کے درمیان فاصلے بڑھتے جارہے ہیں ۔ کرپشن مزید کرپشن کو جنم دیتا ہے ۔ دیکھا دیکھے غریب اور متوسط طبقے کے افراد بھی رشوت اور بے ایمانی پر مجبور ہو جاتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کیوں نہ ہم بھی اپنی ضروریات کرپشن سے پورے کریں کیوں کہ اشیائے صرف مہنگے ہونے کی وجہ سے اپنا اور اپنے خاندان کا معاشی بوجھ اٹھانے سے قاصر ہو جاتے ہیں لہٰذا وہ بھی رشوت کا بازار گرم کرتے ہیں اور عوام کو اپنے جائز کاموں کیلئے بھی رشوت دینا پڑتی ہے ۔ وگرنہ ان کی فائلیں سرخ فیتے کا شکار ہو جاتی ہیں اور جب تک انہیں روپوں کے پہیے نہ لگائے جائیں وہ جمود کا شکار ہوتی ہیں اس لئے عام آدمی رشوت لیتا بھی ہے اور دیتا بھی ہے ۔ لوگ ہیں کہ خواہشات کے سیراب کے پیچھے بھاگ رہے ہیں ۔ آخر انجام گلستاں کیا ہوگا;238;! ۔

اسلامی سزاءوں میں انسانیت کافائدہ

بد قسمتی سے مسلم دنیا اور بالخصوص پاکستان کا روشن خیال طبقہ جس کو اسلام اور مذہب کا دور دور سے واسطہ نہیں وہ بھی اسلامی سزاءوں تعزیرات اور قوانین کو جا ہلانہ اور ظالمانہ قرار دیتے ہیں ۔ اور اب یہی خا ص گروہ ناموس رسالت کے قانون اور اسلامی سزاءوں کوختم کرنے پر تُلا ہوا ہے ۔ وہ یہ بات سمجھنے سے قطعاً عاری ہے کہ وہ نام نہاد اور ترقی یافتہ ممالک جو اسلامی قوانین اور نظام کی مخا لفت کرتے ہیں وہاں اُنکی اپنی حالت کو نسی اچھی ہے ۔ اسلام ایک انتہائی دور اندیش مذہب ہے اور نغوذ باللہ اکیسویں صدی میں جب انسان چاند، مریخ اور دوسرے سیاروں پر قدم رکھ چکا ہے ، جدید سائنس اور ٹیکنالوجی ۴۱ سوسال پہلے قُر آن کی ایک آیت غلط ثابت نہ کر سکی ۔ جوں جوں سائنس اور ٹیکنالوجی ترقی کر تی جائی گی اسلام مزید نکھر تا جائے گا ۔ اگر ہم مختلف ممالک کے مجموعی جرائم کی تعداد دیکھیں تو اس میں 2کروڑ جر ائم کے ساتھ امریکہ سر فہرست، جبکہ دوسرے نمبر پر اُنکا حلیف بر طانیہ، تیسرے نمبر پر جرمنی اور دسویں نمبر پر دنیا میں دوسری بڑی جمہوری حکومت کا دعوہ کر نے والا ملک بھارت ہے ۔ یہاں یہ بات خوش آئند ہے کہ 50 ممالک کی اس فہرست میں کوئی مسلم ملک شامل نہیں ۔ اسی طر ح امریکہ میں عصمت دری کے سالانہ ایک لاکھ، کینیڈا میں 30 ہزار جبکہ اسکے برعکس اسلامی ممالک سعودی عرب اور قطر میں عصمت دری کے 12 اور30اقعات ہو تے ہیں ۔ اگر ہم کار چو رممالک کے 10 ٹاپ ممالک کی لسٹ کا تجزیہ کریں تو اس میں ایک بھی مسلم ملک نہیں ۔ اگرہم بین لاقوامی سطح پر طلاق کی شرح دیکھیں تو ٹاپ ٹین میں کوئی بھی مسلمان ملک شامل نہیں ۔ امریکہ جہاں پرطلاق کی شر ح یعنی 5 فی ہزار سالانہ، بر طانیہ میں 4فی ہزار جبکہ اسلامی ممالک میں سعودی عرب0;46;10 فی ہزار ہے جو نہ ہونے کے برابر ہے ۔ اس طر ح اگر ہم دنیا میں قتل کی شرح دیکھیں تو قتل کی شرح امریکہ میں پانچ ہزار فی لاکھ ، بر طانیہ میں چار ہزارفی لاکھ جبکہ سعو دی عرب میں قتل کی شرح فقط ایک فی لاکھ ہے ۔ با وجودیہ کہ جہاں پر اسلامی قوانین اور شریعت سختی سے لاگو بھی نہیں ۔ اگر ہم مندرجہ بالا تناظر میں دیکھیں تو اس سے ایک بات واضح ہو جاتی ہے کہ اسلامی ممالک میں مختلف جرائم کی شرح وہاں پر راءج کسی حد تک اسلامی نظام اور اسلامی نطام کی وجہ سے اخلاقی، معاشی ، سماجی اور ثقافتی حدود کی وجہ سے ہے ۔ اگر ان اسلامی تعلیمات اورقدروں کو ختم کیا جائے تو مسلمان ممالک کی حالت ان کافروں سے بر تر ہو گی ۔ اور یہی وجہ ہے کہ اسلام میں سزاءوں کا جو نُقطہ نظر ہے وہ نہ صرف استدلالی بلکہ عقلی ہے ۔ اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے ۔ بعض روشن خیال لبرل قصاص اور دیت کو فر سودہ اور غیر اسلامی سزا گر دانتے ہیں ، مگر سورۃ البقرہ 178 میں ارشاد خداوندی ہے اور اے اہل عقل قصاص میں تمھاری زندگانی ہے کہ تم خو نریزی سے بچو ۔ اگر مسلمان معاشرے میں قصاص اور دیت کا نُقطہ نظر نہ ہوتا تو آج امریکہ اور بر طانئے کی طرح مسلمان ممالک میں قتل کی شرح میں نمایاں اضافہ ہو تا ۔ مگر ہماری خوش قسمتی یہ ہے کہ ہ میں ایک ایسا مذہب ملا ہے جو دنیا میں امن ، رواداری اور بھائی چارے کو فروع دینے والا ہے ۔ سورۃ بنی اسرائیل (33) میں ارشاد خداوندی ہے اور جو شخص ظلم سے قتل کیاجا ئے ہم نے ان کے وارث کو اختیار دیا ہے کہ ظالم قاتل سے بد لہ لے تو اسکو چاہئے کہ قتل کے قصاص میں زیادتی نہ کرے ۔ پروفیسر محمد قطب کہتے ہیں کہ 400 سال کے بڑے عر صے میں صرف 6 لوگوں کے ہاتھ چوری کے جرم میں کاٹے گئے ۔ اگر اسکے بر عکس ہم یو رپ اور بالخصوص امریکہ اور انکے اتحادیوں کو دیکھیں تو انہوں نے بنی نوع انسانوں کو مارنے اور قتل کر نے کے لئے کیا کیا خو ف ناک اور خطر ناک ہتھیار نہیں بنائے ۔ کیا ناگاساکی ، ہیرو شیما ، افغانستان اور عراق میں اسلامی نظام یعنی قصاص، دیت اور چوری کی سزا کی وجہ سے لاکھوں لوگ لُقمہ اجل بن گئے ۔ کیا عراق میں لاکھوں بچے قصاص دیت اور چو ری کی سزا کی وجہ سے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ جہاں تک اسلام کی سخت سزاءوں کا تعلق ہے اس سے تو جرائم میں انتہائی حد تک کمی ہوئی ہے ۔ اقوام متحدہ کے نیشنل کمیشن فار نار کا ٹکس کنٹرول کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں اور بالخصوص امریکہ میں ببچوں کے ساتھ بد فعلی،گا ڑیوں کے ایکسیڈنٹ ، قتل اور جنسی جرائم کی سب سے بڑی وجہ شراب نو شی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسلام نے شراب نو شی کی سخت سزا مقرر کی ہے ۔ سورۃ البقرہ (218) میں ار شاد خداوندی ہے اے پیغبر لوگ تُم سے شراب اور جوئے کے بارے میں پو چھتے ہیں کہہ دو کہ ان میں نُقصانات بڑے ہیں ۔ حضور ﷺ کے دور میں جب اسلامی حکومت پورے عروج پر تھا ایک معزز خاندان کی عورت چوری کے الزام پکڑی گئی ۔ چو ری کا یہ مقدمہ حضور ﷺ کی خدمت میں پیش ہوا ،کئی لوگوں نے سفارش کی کہ اس معزز خاندان کی عورت کو چوری کی سزا نہ دی جائے ،آقائے نامدار ﷺ نے فر مایاکہ آپ سے پہلی قو میں اسی وجہ سے تباہ ہوئی تھیں کیونکہ وہ عام لوگوں سزاتو دیتے تھے اور خواص کو کھلا چھوڑ دیتے ۔ خداکی قسم ۔ کہ اگر محمدﷺ کی بیٹی حضرت فا طمہ;230; پر بھی چوری کا جرم ثابت ہو جاتا تو اُسکا بھی ہاتھ کا ٹ دیا جاتا ۔ ا سطرح حضرت عمر ;230; کے دور خلافت میں سخت قحط تھا اور ایک آدمی نے چوری کی مگر حضرت عمر ;230; نے بھوک افلاس اور قحط کی وجہ سے چور کا ہاتھ کاٹنے کی سزا معاف کر دی ۔ اس طر ح اسلام میں زنا کی جو سزا رکھی گئی ہے وہ بھی غیر عقلی اور استد لالی مبہم نہیں ۔ خدارا ان سزاءوں کا مذاق نہ اُڑایا جائے بلکہ انہی سزاءوں اور اسلامی تہذیب و تمدن کی روایات کی وجہ سے دنیا کے اکثر اسلامی ممالک جرائم کی شرح کسی حد تک کم ہے ۔ حالانکہ انہی اسلامی ممالک میں کوئی آئیڈیل اسلامی نظام نہیں ۔

Google Analytics Alternative