Home » Author Archives: Admin (page 6)

Author Archives: Admin

مہوش حیات نے شادی سے متعلق خاموشی توڑ دی

کراچی: معروف اداکارہ  مہوش حیات نے بالآخر شادی سے متعلق خاموشی توڑ دی اور کہا ہے کہ جو بھی میرا شوہر ہو اسے میرے خودمختار ہونے پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

اداکارہ نے ایک نجی چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں اپنی شادی سے متعلق لب کشائی کرتے ہوئے کہا کہ ’ میں اپنے کام سے شادی کر چکی ہوں کیوں کہ ابھی بہت کام ہیں جوکہ میں کرنا چاہتی ہوں اور کچھ حاصل کرنا چاہتی ہوں، میں ایک خود کفیل شخصیت ہوں اور اپنی مالی مدد خود کر سکتی ہوں‘۔

اداکارہ نے یہ بھی کہا کہ اگر مجھے شادی کے لائق میری پسند کا کوئی لڑکا ملتا ہے تو وہ غیر معمولی صلاحیتیوں کا مالک ہو اور اسے میرے خود مختار ہونے پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

مہوش حیات نے اپنے ڈریم پراجیکٹ کے حوالے سے بھی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں ایکشن سے بھرپور فلم میں کام کرنا پسند کروں گی جو کہ خواتین سپر ہیرو کے حوالے سے ہو، دراصل ہالی ووڈ کے پاس بہت سی سپر ہیرو خواتین ہیں اس لیے ہمارے پاس بھی ایک تو ہونی چاہیے۔

سائنسدان پہلی بار تھری ڈی پرنٹر سے دل پرنٹ کرنے میں کامیاب

سائنسدانوں نے پہلی بار تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے انسانی ٹشوز اور خون کی شریانوں سے دل بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

اگرچہ اس دل کا حجم ایک چیری جتنا ہے اور خون پمپ نہیں کرسکتا مگر طبی ماہرین کے مطابق یہ اہم طبی پیشرفت ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ خلیات، شریانوں اور چیمبر کے ساتھ تھری ڈی پرنٹر کی مدد سے دل کو پرنٹ کیا گیا ہے۔

سائنسدانوں کو توقع ہے کہ اس دل کے ٹیسٹ ایک سال کے اندر شروع کیے جاسکتے ہیں۔

تل ابیب یونیورسٹی کے محققین نے اس تھری ڈی پرنٹڈ دل کو متعارف کرایا اور یہ بتایا کہ انہوں نے انسانی خلیات کی مدد سے اسے بنانے میں کیسے کامیابی حاصل کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں دل جیسے اسٹرکچر تھری پرنٹ ہوچکے ہیں مگر خلیات یا خون کی شریانوں کو پہلی بار اس طرح کے عضو کاحصہ بنایا گیا ہے۔

اے ایف پی فوٹو
اے ایف پی فوٹو

اس دل کا حجم خرگوش کے دل جتنا ہے اور مسل کی طرح سکڑ سکتا ہے مگر یہ مکمل پمپ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

اس دل کو بنانے کے لیے ایک انسانی مریض کے فیٹی ٹشوز کے نمونے سے خلیات حاصل کیے گئے، جن کی تعداد بڑھا کر دل کے ٹشوز کا حصول ممکن بنایا گیا اور بتدریج پورا دل بنانے میں کامیابی حاصل کی گئی۔

مگر سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ابھی سب سے بڑا چیلنج خلیات کی مدد سے ایک مکمل انسانی دل بنانا ہے۔

اس تیکنیک کی بدولت مستقبل میں دل کے مریض اپنے جسم کے ری سائیکل خلیات کو استعمال کرکے نیا ڈل حاصل کرسکیں گے، جس کا جسم کی جانب سے مسترد کیے جانے کا خطرہ بھی بہت کم ہوگا۔

رائٹرز فوٹو
رائٹرز فوٹو

محققین کا کہنا تھا کہ 10 برسوں میں اعضا پرنٹ کرنے والے پرنٹر دنیا بھر کے ہسپتالوں میں ہوں گے اور یہ عمل معمول بن جائے گا۔

اب سائنسدان اگلے مرحلے میں تھری ڈی پرنٹڈ دل کو انسانی دل کی طرح دھڑکنا سیکھانے کی کوشش کریں گے، جس کے بعد ان کا ٹرانسپلانٹ جانوروں میں کیا جائے گا۔

صدارتی نظام کے حق میں نہیں ہم اس کو روکیں گے، آصف زرداری

اسلام آباد: سابق صدر آصف زرداری کا کہنا ہے کہ صدارتی نظام کے حق میں نہیں تاہم انھیں کوشش کرنے دیں ہم اس کو روکیں گے۔

اسلام آباد احتساب عدالت میں پیشی کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں سابق صدر اور شریک چیئرمین پیپلزپارٹی آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ یہ روز پاکستان میں نیا تجربہ کرنے کے موڈ میں ہیں تاہم صورتحال دن بدن بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔

صحافی کے سوال پر کہ صدارتی نظام کی باتیں ہو رہی ہیں کیا کہیں گے، آصف زرداری نے کہا کہ صدارتی نظام کے حق میں نہیں، انھیں کوشش کرنے دیں تاہم ہم اس کو روکیں گے۔

واضح رہے کہ سابق صدر آصف زرداری اور فریال تالپور اسلام آباد کی احتساب عدالت عدالت میں پیش ہوئے جہاں دونوں حاضری لگوانے کے بعد واپس روانہ ہوگئے، دوران سماعت نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ 2 خواتین ملزمان نورین اور کرن کی وعدہ معاف گواہ بننے کی درخواست نیب کو ملی ہے۔

چین نے سی پیک پر بھارتی اعتراض کو مسترد کردیا

بیجنگ: چین نے بھارت کے سی پیک پر اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مودی حکومت بیلٹ اینڈ روڈ فورم کے اجلاس کے بائیکاٹ کے فیصلے پر جلد بازی کا مظاہرہ نہ کرے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق بیجنگ  نے  بھارت کے پاک چین اقتصادی راہداری پر اعتراضات کو بہانہ بنا کر ’بیلٹ اینڈ روڈ فورم‘ کے ہونے والی دوسرے اجلاس میں شرکت سے انکار کے عمل کو بلا جواز قرار دیتے ہوئے بھارت کو جلد بازی میں فیصلہ کرنے سے باز رہنے کا کہا ہے۔ بھارت نے 2017 میں بیلٹ اینڈ روڈ فورم کے پہلے اجلاس کا بائیکاٹ بھی کیا تھا۔

چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان لو کنگ کا میڈیا بریفنگ میں کہنا تھا کہ بی آر آئی ایک معاشی پروجیکٹ ہے جس میں جنوب ایشیائی، خلیجی ممالک اور یورپی ممالک ایک دوسرے سے منسلک ہوجائیں گے اور تجارتی فوائد حاصل کریں گے۔ اس پروجیکٹ کا کسی بھی زمینی تنازع یا ملکیت سے کچھ لینا دینا نہیں ہے اس لیے بھارت اپنی بے جا ضد چھوڑ دے۔

واضح رہے کہ چین میں 25 اپریل سے 27 اپریل کے درمیان بیلٹ اینڈ روڈ فورم کا دوسرا اجلاس ہونے جا رہا ہے جس میں پاکستان، ترکی اور روس کے سربراہان سمیت 40 ممالک کے اعلیٰ حکام شرکت کریں گے تاہم بھارت نے روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سی پیک پر بلا جواز اعتراض کی آڑ میں اجلاس میں شرکت سے انکار کردیا۔

ایمانداروں کی حکومت

میاں نواز شریف۔شہباز شریف ان کے اہل خانہ اور آصف علی زرداری نے ملک کو لوٹا ہے۔ خزانہ خالی ہے۔ملک میں اس وقت مہنگائی کا سونامی ہے۔جس میں ہر عام آدمی ڈوبتا جا رہا ہے۔سابق وزیر خزانہ نے مصنوعی طریقہ سے گیس۔بجلی اور پٹرول کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھا ہوا تھاڈالر جو آج اڑتا جا رہا ہے اور کسی طرح پکڑائی میں نہیں آتا۔یہ بھی اسحاق ڈار کی وجہ سے ہے۔کیونکہ اسی نے ڈالر کی قدر کو مصنوئی طریقہ سے اوپر نہیں جانے دیا تھا۔غرض آج کل جہاں جہاں اور جو بھی خرابی نظر آتی ہے یہ سب ان سابقہ ادوار کے حکمرانوں کی وجہ سے ہے۔وہ چور۔ڈاکو اور لٹیرے تھے اور موجودہ خرابیوں اور مہنگائی کو ذمہ دار وہی ہیں۔یہ باتیں موجودہ حکومت کے وزراء تسلسل کے ساتھ ہر روز کرتے نظر آتے ہیں۔اس کے علاوہ حکومت کے پاس نہ تو کوئی معاشی پالیسی ہے نہ عوام کو مہنگائی اور بے روزگاری سے نجات دلانا حکومت کی ترجیح ہے۔شاید حکومت گیس ۔بجلی۔پٹرول۔اور اشیائے ضرورت کی قیمتیں کنٹرول کرنے اور ڈالر کی قدر میں اضافے کو روکنے کا طریقہ یہی بے سرو پا باتیں ہیں۔حکومت شاید سمجھتی ہے کہ بجائے عوام کے مسائل حل کرنے کے سیاسی مخالفین کو برا بھلا کہنے سے قوم کی توجہ ناقابل برداشت مہنگائی اور بے روزگاری سے ہٹ جاتی ہے۔دوسری طرف نیب کی کارروائیوں سے کاروبار مملکت جمود کا شکار ہو گیا ہے۔حکومت مخالف سیاستدان۔بیوروکریسی اور صنعتکار خوف و ہراس کا شکار ہیں۔حکومتی مشینری جام ہے لیکن وزراء چور چور کے نعرے لگا کر واپس اپنے ائیر کنڈیشنڈ دفتروں اور گھروں میں آرام فرما ہو جاتے ہیں۔کرنے کے لیئے کوئی کام بھی تو نہیں ہے۔بس روم جل رہا ہے اورنیرو بانسری بجا رہا ہے۔وزیرخزانہ ملک کے عنقریب ملک کے دیوالیہ ہونے کی خبریں سنا کر معیشت بحال کر رہے ہیں۔جبکہ وزیراعظم اٹھارویں ترمیم کو ملک کے دیوالیہ ہونے کے قریب کی اہم وجہ بتاتے ہیں۔کسی کو کچھ سمجھ نہیں آرہا۔عوام کو سمجھ نہیں آرہا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا اور کیوں ہوا۔حکومت کو سمجھ نہیں آرہا کہ معیشت کی ڈوبتی کشتی کو کنارے کیسے پہنچایا جائے۔اس لیئے انھوں نے ملک و قوم کو وقت کے سہارے چھوڑ دیا ہے۔خارجہ پالیسی کا یہ حال ہے کہ امریکہ نے پاکستان کو امریکہ ۔طالبان مذاکرات سے باہر کر دیا ہے۔پاکستانی وزیر خزانہ کے ساتھ امریکی وزیر خزانہ نے ملنا تک گوارہ نہ کیا۔متحدہ عرب امارات کے قرض دینے والی ایک ارب ڈالر کی دوسری قسط روک لی ہے۔سعودی عرب سے ادھار تیل ملنا بھی تعطل کا شکار ہو گیا ہے۔دوسری طرف ایک وفاقی وزیر چار ہفتوں میں نوکریوں کی بارش کی نوید ایک ہفتہ قبل سنا چکے ہیں۔ جس میں اب تین ہفتے رہ گئے ہیں۔معلوم نہیں کہ وزیر با تدبیر کے سٹیلایٹ پر یکدم ملکی ترقی کے وہ بادل کہاں سے اور کیسے نظر آگئے جن سے نوکریوں کی برسات ہونیوالی ہے۔خزانہ خالی۔ معیشت تباہ حال اور نوکریوں کی بارش؟ جیب میں نہیں دھیلہ کر دی میلہ میلہ ۔کوئی کیا کہے۔وہی خود فریبی۔وہی کنٹینر والا لب و لہجہ،وہی الزام تراشیاں۔جو ثابت ایک بھی نہ ہو سکا۔وہی نعرے،وہی وعدے،وہی خواب جن کی تعبیر ہی ممکن نہیں۔موجودہ حکمرانوں کو آئے ہوئے آٹھ ماہ ہو گئے۔کوئی ایک کام ملک و قوم کے مفاد میں اور بہتری کے لیئے ان کے ریکارڈ پر نہیں ہے۔ایسا لگتا ہے کہ ملک دیہاڑی پر چل رہا ہے۔لیکن کیا کیا جائے یہ ایمانداروں کی حکومت ہے۔ڈاکوؤں اور چوروں کی حکومتوں میں پٹرول کی قیمت 66 روپے لیٹر تھی۔اب یہ قیمت 100روپے فی لیٹر ہے۔میٹرو میں سابقہ حکومت نے بے حساب کرپشن کی اس لیئے وہ 30 ارب روپے میں بنا دی۔اب ایمانداروں کی اکلوتی میٹرو جو پشاور میں بن رہی ہے اس کے اخراجات 100 ارب تک پہنچ گئے اور تاحال زیر تعمیر ہے۔خامیاں اس میں اتنی کہ بناتے ہیں پھر اکھاڑتے ہیں پھر بناتے ہیں پھر اکھاڑتے ہیں۔خدا جانے یہ کون سے انجینئرز ہیں۔کون سی کمپنی ہے اور کیسی حکومت ہے۔لیکن ٹھہریے وہ جو پہلے ذکر کیا گیا وہ میٹرو چوروں نے بنائی تھی اور صرف لاہور میں نہیں ملتان اور راولپنڈی میں بھی بنائی گئی لیکن اب جو اکیلی وکیلی میٹرو پشاور کی زیر تعمیر ہے یہ ایمانداروں کی حکومت بنا رہی ہے تو فرق تو ہوگا۔ بھائی اسی کو تو تبدیلی نہیں تبدیلیاں کہتے ہیں۔
عمران خان کا وہ نعرہ سچ ثابت ہو گیا کہ تبدیلی آ نہیں رہی تبدیلی آگئی ہے۔ایمانداروں کی حکمرانی میں لوگ بے روزگار اور انصاف نا پید ہو گیا ہے۔مہنگائی میں مزید اضافہ کی اطلاعات ہیں۔اوروں نے تو سارے کام مصنوئی طریقے سے کیئے تھے۔مصنوئی طریقہ سے لوڈ شیڈنگ ختم کی۔مصنوئی طریقہ سے لوگوں کو روزگار دیئے۔ لیکن اب یہ نیا پاکستان اور ایمانداروں کی حکومت ہے اس میں روزگار۔ مہنگائی۔بجلی۔ گیس۔ پٹرول اور ڈالر کے نرخ اسے طرح رہیں گے بلکہ جوں جوں ایمانداری برھتی جائے گی۔مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ ہوتا جائے گا۔نیب کی کاروائیاں مزید تیز ہوتی جائیں گی۔حکومتی مشینری مزید جام ہوتی جائے گی۔قوم کی خوشحالی اور بہتری کی امیدیں ختم ہوتی جائیں گی جو تقریباً ہو چکی ہیں۔انصاف نام کا رہ گیا ہے۔اور اس طرح نئے پاکستان کی تکمیل ہو جائے گی جس میں قوم ہنسی خوشی اور باہمی اتفاق و سکون کی زندگی گزار دے گی۔غریب بلکل ختم ہو جائے گا ۔سب امیر اور سرمایہ دار ہونگے۔سوچیں کہ جس نئے پاکستان کی ابتداء ہو چکی ہے یہ جب مکمل ہو جائے گا تو کیسا منظر ہوگا۔
***

ٹک ٹاک پر ویڈیو بنانے کے دوران گولی لگنے سے نوجوان ہلاک

سوشل ویڈیو کریئیٹنگ اور شیئرنگ ایپلی کیشن ’ٹک ٹاک‘ پر ویڈیو بنانے کے دوران دوست کی جانب سے چلائی گئی گولی لگنے سے 19 سالہ بھارتی نوجوان ہلاک ہوگیا۔

ٹک ٹاک کے لیے ویڈیو بنانے کے دوران نوجوان کی ہلاکت ایک ایسے موقع پر ہوئی ہے جب کہ بھارت کی وفاقی حکومت نے ایپل اور گوگل کو اس ایپلی کیشن کو انڈیا میں اپنے اسٹور سے ہٹانے کا حکم دیا۔

بھارتی حکومت نے ایپل اور گوگل کو یہ حکم سپریم کورٹ کی جانب سے دیے گئے ایک فیصلے کے بعد دیا۔

سپریم کورٹ نے ٹک ٹاک کی بھارت میں پابندی سے متعلق ایک کیس کی سماعت کرتے ہوئے مدراس ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا اور کہا کہ اس ایپلی کیشن پر ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رہے گا۔

مدراس ہائی کورٹ نے رواں ماہ کے آغاز میں ہی حکومت کو ہدایت کی تھی کہ ملک میں ٹک ٹاک کی ڈاؤن لوڈنگ پر پابندی لگائی جائے۔

مدراس ہائی کورٹ کے مطابق جو افراد اپریل سے قبل ٹک ٹاک اپنے موبائل میں ڈاؤن لوڈ کرچکے ہیں تو انہیں کچھ نہ کیا جائے، مگر اس ایپلی کیشن کی مزید ڈاؤن لوڈنگ پر پابندی عائد کی جائے۔

عدالت نے اپنے ریمارکس میں یہ بھی کہا تھا کہ ٹک ٹاک سے بھارت کی قومی سلامتی اور غیرت کو خطرہ ہے، اس سے نئی نسل تیزی سے گمراہی کی جانب بڑھ رہی ہے۔

عدالت کا کہنا تھا ٹک ٹاک کے ذریعے نوجوان نسل اور خصوصی طور پر نابالغ اور بلوغت کی عمر کو پہنچنے والے بچے غیر اخلاقی ویڈیوز بنا رہے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق بھارت میں ٹک ٹاک کے ایک کروڑ 10 لاکھ کے قریب صارفین موجود ہیں، جن میں سے زیادہ تر کم عمر نوجوان ہیں۔

ہندوستان ٹائمز کے مطابق دارالحکومت نئی دہلی کے معروف انڈیا گیٹ کے قریب ٹک ٹاک پر ویڈیو بنانے کے دوران دوست کی جانب سے چلائی گئی گولی سے 19 سالہ لڑکا سلمان ہلاک ہوگیا۔

رپورٹ کے مطابق نوجوان کی ہلاکت کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب مقتول اپنے دوستوں سہیل اورعامرملک کے ساتھ کار پر رنجیت سنگھ فلائی اوور کے قریب پہنچا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ سلمان گاڑی چلا رہے تھے جب کہ سہیل اور عامر پچھلی سیٹ پر بیٹھے تھے کہ اچانک سہیل نے پسٹول نکالی اور سلمان پر فائرنگ کرنے کی اداکاری کی، تاہم اس دوران پسٹول حقیقی طور پر چل گئی اور سلمان کو چہرے پر گولی لگی۔

رپورٹ میں پولیس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ واقعے کے بعد عامر اور سہیل ملک نے قریبی رشتہ داروں کے گھر جا کر سلمان کے خون آلود کپڑے بدلے اور پسٹول کو چھپا کر زخمی دوست کو ہسپتال لے گئے، تاہم وہ ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ چکے تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہسپتال انتطامیہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے سہیل اور عامر ملک کو گرفتار کرکے واقعے کی تفتیش شروع کردی۔

پولیس کے مطابق یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ نوجوان کی ہلاکت اتفاقی طور پر ہوئی یا اسے جان بوجھ کر قتل کیا گیا۔

ٹک ٹاک پر ویڈیو بنانے کے دوران بھارت میں یہ پہلی ہلاکت نہیں ہے، اس سے قبل بھی رواں برس جنوری میں بھارتی ریاست پنجاب کے دوران ایک نوجوان کی ہلاکت ہوئی تھی۔

ریاست پنجاب میں ویڈیو بنانے کے دوران ہلاک ہونے والا نوجوان ٹریکٹر کے نیچے آکر ہلاک ہوا تھا۔

نوجوان اس وقت ٹریکٹر کے نیچے آکر ہلاک ہوا جب وہ چلتے ٹریکٹر پر چڑھنے کی کوشش کر رہا تھا۔

اس سے قبل بھی 2018 کے آخر میں ٹک ٹاک پر ویڈیو بنانے کے دوران بھارت میں ایک نوجوان کی ہلاکت ہوئی تھی۔

علاوہ ازیں بھارت سے آئے دن ٹک ٹاک کے نامناسب ویڈیوز بنانے کی خبریں آتی رہتی ہیں۔

بھارت میں عام افراد تو اپنی جگہ بولی وڈ اسٹارز، اسپورٹس شخصیات اور سیاستدان بھی ٹک ٹاک پر ویڈیو بناتے دکھائی دیتے ہیں۔

حال ہی میں ادکارہ سنی لیونی کی ٹک ٹاک پر بنائی گئی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں انہوں نے بھارتی ڈانسر سپنا چوہدری کے گانے ’اکھیاں کا یو کاجل‘ پر پرفارمنس کرتی دکھائی دیں تھیں۔

سنی لیونی کی یہ ویڈیو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہوگئی تھی۔

پاکستان سے جذباتی تعلق کی وجہ سے فلم ’کلنک‘ سائن کی، سنجے دت

ممبئی: نامور بالی ووڈ اداکار سنجے دت نے فلم ’کلنک‘ سائن کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی وجہ سے انہوں نے اس فلم میں کام کرنے کی ہامی بھری۔

کرن جوہر کی پروڈکشن میں بننے والی فلم ’کلنک‘ کا پاکستان کے ساتھ گہرا تعلق بتایا جارہا ہے۔ پہلے فلم کی مرکزی اداکارہ عالیہ بھٹ نے یہ بیان دے کر پاکستانی اوربھارتی میڈیا میں خوب توجہ حاصل کی کہ انہوں نے فلم میں اپنے کردار روپ کو بہترین انداز میں اداکرنے کے لیے پاکستانی ڈراما سیریل ’زندگی گلزار‘ ہے کے کردار کشف سے رہنمائی لی جسے اداکارہ صنم سعید نے ادا کیاتھا اور اب فلم ’کلنک‘ میں پاتریاچ بلراج چوہدری کا اہم کردار ادا کر رہے بالی ووڈ کے سنجو بابا کا کہنا ہے کہ انہوں نے فلم ’کلنک‘ پاکستان کے ساتھ جذباتی تعلق کی وجہ سے سائن کی۔

سنجے دت نے حال ہی میں ایک بھارتی ویب سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ 1993 میں جب وہ فلم ’گمراہ‘ میں کام کررہے تھے اس وقت پروڈیوسریش جوہر(کرن جوہر کے والد)نے انہیں فلم ’کلنک‘ کی کہانی سے متعلق بتایا۔ یش اور کرن جوہر کی پروڈکشن کمپنی ’دھرما پروڈکشن‘ بالکل میری فیملی کی طرح ہے لہٰذا گزشتہ برس کرن جوہر نے جب دوبارہ  مجھ سے اس فلم کے حوالے سے بات کی تو میں نے فلم میں کام کرنے کی ہامی بھرلی۔

سنجے دت نے فلم میں کام کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ’کلنک‘ میں میرے کردار کانام بلراج ہے جو کہ میرے والد سنیل دت کا اصل نام ہے۔ برصغیر کی تقسیم کے وقت میرے والد پاکستان سے بھارت آئے تھے لہٰذا اس سے میرا جذباتی تعلق ہے۔

اس سے قبل یہ خبر بھی سامنے آچکی ہے کہ یش جوہر نے فلم ’کلنک‘ کے سیٹ کی تیاری کے لیے 15 سال قبل پاکستان کے شہر لاہور کا دورہ کیا تھا تاہم وہ یہ فلم مکمل نہ کرسکے اور اب ان کے بیٹے کرن جوہر نے اپنے والد کا خواب پورا کرنے کے لیے فلم ’کلنک‘ بنائی ہے۔ فلم میں عالیہ بھٹ، ورون دھون، سوناکشی سنہا، آدیتیہ رائے کپور کے علاوہ تقریباً دو دہائیوں بعد سنجے دت اور مادھوری ڈکشٹ ایک ساتھ نظر آئیں گے۔

ایساقدم نہیں اٹھائیں گے جس سے معیشت کو نقصان ہو، چیئرمین نیب

 لاہور: قومی احتساب بیورو کے سربراہ جاوید اقبال نے کہا ہے کہ ایساقدم نہیں اٹھائیں گےجس سےملکی معیشت کونقصان ہو۔

چیئرمین نیب جاوید اقبال نے پنجاب سول سیکریٹریٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی معاملات چلانےکیلیےبیوروکریسی کا کردار اہم ہے، نیب نے جن بیوروکریٹس کےخلاف کارروائی کی، ان کے خلاف ٹھوس شواہدموجودہیں، ایساقدم نہیں اٹھائیں گےجس سےملکی معیشت کونقصان ہو۔

جاوید اقبال نے کہا کہ گزشتہ برس پنجاب میں میگا کرپشن کیسزسامنےآئے، حکومت پالیسی بناتی ہے،عملدرآمد بیوروکریسی کاکام ہے جو ملک کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، وہ فیصلے نہیں کرےگی توہم آگےکیسےبڑھیں گے، شواہدسےثابت کروں گا،نیب جو کام کررہا ہے وہ درست ہے۔

چیرمین نیب کا کہنا تھا کہ میگاکرپشن مقدمات کومنطقی انجام تک پہنچانااولین ترجیح ہے، نیب احتساب سب کیلئے کی پالیسی پر بلاتفریق عمل پیرا ہے، بدعنوانی تمام برائیوں کی جڑ ہے جس کے خاتمہ کو قومی فریضہ سمجھ کر فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

Google Analytics Alternative