- الإعلانات -

قربان اس بوتل پر، صدقے اس شلوار کے

ASIF-MEHMOOD

سانحہ قصور پر زندہ اورپائندہ قوم کا رد عمل دیکھیے اور سر پیٹ لیجیے۔
مولوی حضرات خوش ہیں کہ چلو اس دفعہ کوئی اور پکڑا گیا، ساتھ ہی طعنہ بھی دے رہے ہیں کہ ہم پکڑے جاتے تو پھر تو سول سوسائٹی پھدک پھدک کر بڑا احتجاج کرتی،نئے پاکستان کے وہ ٹائیگرز، گزشتہ سال اگست میں جن کا عمران خاں دے جلسے اچ نچنے نوں دل کرتا تھا، بغلیں بجا رہے ہیں کہ یہ کام کے پی کے میں ہوتا تو بڑا شور ہوتا اب نون غنوں کی بولتی کیوں بند ہو گئی ہے۔نون غنے مونچھوں کو تاؤ دے کر کہتے ہیں یہ معمولی سا واقعہ ہے ایسا ہوتا رہتا ہے۔وہ بھی خاموش ہیں جو لہرا کے بل کھا کے گرہ لگاتے تھے’’ ریاست ہو گی ماں کے جیسی‘‘ جنہیں لُو لگ جائے تو بار میں ہڑتال ہو جاتی تھی۔
اس عالم ہُو میں ، وہ بوتل یاد آتی ہے جو عتیقہ اوڈھو کے پرس سے نکلی تو سو موٹو حرکت میں آ گیا،پریشانی کے عالم میں وہ شلوار بھی بہت یاد آئی دھرنے کے ایام میں جسے دھو کر کسی نے سپریم کورٹ کے جنگلے پر ڈال دیا تو قانون حرکت میں آ گیا۔مجھے معصوم بچوں اور بچیوں کے ساتھ ہونے والی درندگی پر کویہ نوحہ نہیں پڑنا، میں تو صرف یہ عرض کرنا چاہتا ہوں، قربان اس بوتل پر ، صدقے اس شلوار کے۔