- الإعلانات -

حمید گل۔۔۔۔حق مغفرت کرے

Asimullah

جنرل حمید گل صاحب کے لیے محتاط سے محتاط سٹیٹمنٹ بھی کچھ یوں ہو گی "حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا !”
یعنی وہ کم سے کم بھی %51 پر کھڑے تھے. اس ستمگر، کمر توڑ اور چکر باز امتحان جسے ہم "زندگی” کہتے ہیں کے حساب سے یہ خاصی قابلِ قدر کارکردگی ہے. خاص کر اس صورت جبکہ ان کے نقطہ نظر کے شدید مخالف بھی ان کے شخصی اوصاف کی گواہی میں پیش پیش ہیں.
اس بارے مزید انشراح صدر کا نسخہ یہ ہے کہ ہم اپنی آج تک کی زندگی اور اس میں استقامت کے لمحات (اگر کوئی ہیں) اور اس دوران دل و جگر کو جھلسا دینے والی لو کا ایک جائزہ لینے پر آمادہ ہوں. یہ بھی کہ جب کوئی ہماری مخالفت کرتا ہے تو ہمارا رویہ کیا رہتا ہے.
استقامت خود میں ایک وصف ہے، موضوع اور وضع سے قطع نظر.
جنرل صاحب سے اندازے کی کوتاہیاں ہوئی، نیت کی نہیں. یہاں تک کہ آئی جے آئی والے معاملے میں بھی انہوں نے محترمہ بینظیر بھٹو اور ملک دونوں کا بھلا کیا. وگرنہ مغربی ممالک کی سپورٹ سے ملک واپس آنے اور وزیراعظم بننے والی نوجوان بینظیر بھٹو شاید اٹیمی پروگرام کے حوالے سے پریشر میں آ جاتیں. تاہم اسٹیبلشمنٹ اور آئی جے آئی کی مخالفت کے کارڈ نے ان کو خاصا Cushion فراہم کیا.
بہرحال یہ سب تاریخ ہے اور اس پر دو آرا بھی ہو سکتی ہیں اور بحث بھی جاری رہے گی. آئیے ان سب سے قطع نظر اپنے لوگوں کے لیے باوقار الوداع کی روایت کو مضبوط بنائیں.