- الإعلانات -

جب ایچی سن کالج میں میرٹ تھا ،تب کون سی توپ چلائی تھی؟

نیوز کاسٹر کے لہجے میں ایک جہاں کا دکھ سمٹ آ یا تھا۔ کیا اب ایچی سن کالج جیسے ادارے میں بھی میرٹ پر عمل نہیں ہو گا؟ کیا یہ ظلم نہیں کہ ایچی سن کالج کے پرنسپل کو اس لیے عہدے سے ہٹا دیا گیا کہ اس نے اشرافیہ کے نالائق بچوں کو میرٹ سے ہٹ کر داخلہ دینے سے انکار کر دیا تھا؟
متعفن اشرافیہ کے خلاف ایک لمحے کو میری ’ غیرت ایمانی‘ بھی جوش میں آئی لیکن فورا ہی ایک اور خیال آیا۔ جب ایچی سن کالج میں میرٹ پامال نہیں ہوا تھا تب اس ادارے نے کون سی توپ چلا لی تھی۔اس سماج میں کتنے رجال کار ایسے ہیں جو ایچی سن سے پڑھ کر آئے ہوں؟کوئی بڑا دانشور،کوئی سائنسدان، کوئی باکمال آدمی؟سماج میں حقیقی معنوں میں کوئی ایک صاحب قدرو منزلت جس کی فکری اٹھان اس ادارے سے ہوئی ہو؟وڈیروں ، نوابوں ، سرداروں، سیٹھوں، جاگیرداروں اور نودولتیوں کے فرزندوں کے علاوہ یہاں کون داخلہ لے سکتا ہے؟کیا یہ درست نہیں کہ اس ادارے کی بنیاد ہی میرٹ کی پامالی پر رکھی گئی ہے؟کیا یہ غلط ہے کہ یہاں داخلے کے لیے قابلیت نہیں، با پ کی تجوری کا سائز شرط اول ہے؟ یہاں پاکستانی بچوں کو قابلیت پر نہیں، حسب نسب کی بنیاد پر داخلہ ملتا ہے اور اس ادارے کا مقصد حکمران خانوادوں کی آبیاری کرنا ہے۔ میاں منشا، ایاز صادق اور یوسف رضا گیلانی کی اولاد کو یہاں داخلہ نہ مل سکا تو کیاقیامت آ گئی۔کیا داخلہ لینے والوں میں سے کسی خیر دین، نور دین یا اللہ رکھے کا کوئی لائق اور قابل بیٹا بھی تھا؟
چنانچہ پورے ادب سے عرض کی: بی بی میری بلا سے ،مجھے اشرافیہ کے معاملات سے کچھ لینا دینا نہیں۔ برہمنوں کے معاملات پر جگالی کرنا بند کرو، کبھی ٹیلی ویژن سکرین پر بیٹھ کر شودروں کی بات بھی کیا کرو۔ایچی سن اور اس کا میرٹ، میری طرف سے جائے بھاڑ میں۔۔۔ مجھ سے کسی ٹاٹ سکول کا دکھ پوچھو ،جہاں چاردیواری ہوتی ہے نہ گیٹ، بجلی ہوتی ہے اور نہ چھت۔ ایچی سن کالج کا میرٹ جائے بھاڑ میں ۔۔۔ ہمارے شیخوپورہ کے بیٹے نے پھلوں کی ریڑھی پر بیٹھ کے خربوزے اور امرود بیچتے ہوئے بورڈ میں دوسری پوزیشن حاصل کی ہے۔ ایچی سن کالج کے معاملات، مائی فٹ۔۔۔