- الإعلانات -

کٹنگ کی اقسام

uzairahmedkhanکٹنگ بھی کیا بھلا لفظ ہے لگتا یوں ہے کہ اس نے اپنے اندر ایک پورا سمندر سمو رکھا ہے ۔مہینہ نہیں ہوپاتا کہ انسان جب آئینے کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو کہتا ہے کہ یار بڑے دن ہوگئے ہیں کٹنگ کرانی چاہیے ۔اب یہ کٹنگ کی پہلی قسم ہے اس کو کہتے ہیں بال ترشوانا ۔سر سے مونڈھے مانڈھے بال دامن میں ہی آکر گرتے ہیں اور پھر پتہ چل جاتا ہے کہ آخر سر پر کتنے بال تھے ۔پھر ذرا کوئی ڈریسنگ پرانی ہوجائے تو درزی کے پاس انسان پہنچ جاتا ہے اوراس کو کپڑوں کا ناپ دیتا ہے اور کہتا ہے کہ یار ذرا کٹنگ نفیس ہونی چاہیے ۔وہ درزی بھی بڑا کوئی مخولیا سا تھا کہنے لگا صاحب جیب کاٹوں یا گلا کاٹنے سے سوٹ کا آغاز کروں ۔دونوں ہی الفاظ بڑے ذومعانی ہیں حالانکہ یہ باتیں درزی کو نہیں زیب دیتیں ۔اس کے تو کچھ اور لوگ بھی حقدار ہیں ۔بات درزی کی کٹنگ تک نہیں ختم ہوتی ۔اس وقت ایک نئی کٹنگ کی بھی تاریخ آن پہنچی ہے جو کراچی سے متعارف ہوئی ۔اس کو چائنا کٹنگ کہا گیا ۔اب ہم یہاں ایک اور کٹنگ متعارف کرانا چاہتے ہیں اس نئی قسم کو اگر ”ٹنڈکٹنگ “کہا جائے تو غلط نہ ہوگا ۔کیونکہ یہاں تو سارا کچھ ہی ”کھوپ کھاپ “کے ہضم کرلیا جاتا ہے ۔چونکہ وفاقی دارالحکومت کی زمین اربوں کھربوں کی ہے اور یہاں پر بھی بہت سارے کٹنگ کے ایسے معاملات ہیں جن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔یہ آخری جو کٹنگ کی قسم ہے بہت ہی خطرناک ہے جب اس حوالے سے تحقیقات ہوں گی تو بڑوں بڑوں کی ”ٹنڈکٹنگ “ ہوجائے گی ۔