- الإعلانات -

کیا فرانس سے اظہارِ یک جہتی غیرت کے منافی ہے؟

asif-blog

شام ڈھلے ایک دوست کا فون موصول ہوا، صاحب تعلیم یافتہ اور کلچرڈ انسان ہیں، اعلی تعلیمی ادارے سے پی ایچ ڈی کر رکھی ہے، ” آصف صاحب یہ بتائیںکشمیر سے فلسطین تک ہمارے لاکھوں مر گئے کوئی نہیں بولا، فرانس میں اب چند”۔۔۔زادے“مر گے تو ہنگامہ برپا ہے۔کیاہم اتنے بے غیرت ہو گئے ہیں کہ فرانس کے جھنڈے کی ڈی پی بنا لیں“۔۔پروفیسر صاحب جب دل کا کا بوجھ ہلکا کر چکے تو فون تو بند ہو گیا لیکن میں کتنی ہی دیر سکتے ہیں بیٹھا رہا۔
سوشل میڈیا پر بھی یہی سوال زیرِ بحث ہے۔اب اس ملک میں سوشل میڈیا پر وہ طبقہ موجود ہے جو قدرے تعلیم یافتہ ہے اور گلوبل بیانیے سے آگہی رکھتا ہے۔سوچتا ہوں اگر اس طبقے کے جذبات کا عالم یہ ہے تو کم تعلیم یافتہ اور نا خواندہ لوگوں کے جذبات کیا ہوں گے۔کیا یہ ایک صحت مند معاشرے کی علامات ہیں ؟
میری رائے میں دو چیزیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔
اول: کیا فرانس بطور ریاست ایک مسلم دشمن ریاست ہے؟
دوم: کیا مغرب کا معاشرہ ہمارا دشمن ہے یا اس میں انسانیت اور خیر موجود ہے جسے مخاطب بنایا جا سکتا ہے؟
فلسطین کی بات تواتر سے کی جا رہی ہے اس لیے اسی سے آغاز کر لیتے ہیں۔فرانس مغربی معاشروں میں فلسطین کا سب سے بڑا حامی ہے۔بائیس نومبر 1974 کو اس نے اقوام متحدہ میںفلسطین کے حق میں ووٹ دیا۔2010 میں فرانس نے فلسطینی سفارتی سٹیٹس کو مزید توقیر دے کر اس کا باقاعدہ سفیر اپنے ہاں تعینات کروایا۔فرانس دنیا کا واحد ملک ہے جس کے سربراہ نے اسرائیل کی پارلیمنٹ میں کھڑے ہو فلسطینی ریاست کے حق میں آواز بلند کی۔ہمیں یاد ہو گا اسرائیل نے حال ہی میں فرانس کو دھمکی دی کہ فلسطین کا ساتھ دیا تو بھاری قیمت دینا ہو گی۔فرانس گزشتہ چھ سا لوں میں غزہ کو 400 ملین ڈالر امداد دے چکا ہے۔2012 میں فرانس نے نان ممبر آبرور سٹیٹ کے لیے اقوام متحدہ میں فلسطین کے حق میں ووٹ دیا۔اسرائیل مسلسل فلسطینیوں کی زمین پر ناجائز کالونیاں بنائے جا رہا ہے، فرانس نے ہمیشہ اس اقدام کو ظالمانہ قرار دیا اور اس کی مخالفت کی۔اگر چہ ایک وقت میں امن ِ عامہ کے خدشے کے پیش نظر فرانس میں فلسطین کے حق میں ہونے والے مطاہروں پر پابندی لگا دی گئی لیکن مجموعی طور پر فرانس فلسطینیوں کا ہمدرد ہی رہا۔اور دشمن تو ہر گز قرار نہیں دیا جا سکتا۔اگر فلسطین کا دکھ ہے تو پہلے یہ تو جان لیجیے کہ اس دکھ میں فرانس کہاں کھڑا ہے؟ اگر کسی کے دکھ میں شریک ہونے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ اس نے ہمارے دکھ میں کتنا ساتھ دیا تو جناب فرانس کے معاملے میں تو ہم فلسطین کو یاد کر رہے ہیں ذرا کشمیر کے معاملے میں بھی دیکھ لیں کہ مسلم دنیا کا رویہ کیا رہا ہے۔ہم تو فلسطین کاز سے اتنے مخلص ہیں کہ اسرائیل کو بطور ریاست آج تک تسلیم نہیں کیا۔لیکن عرب دنیا نے کشمیر پر کیا کیا؟اور اس کے بھارت سے کیسے تعلقات ہیں ؟
تیسری بات جو ہمیں سمجھنی چاہیے یہ ہے کہ مغرب کی حکومتوں اور مغرب کے معاشروں میں فرق ہے۔ان کی حکومتوں نے جہاں دنیا کو عذاب میں ڈالے رکھا وہیں ان کے معاشروں میں خیر کی غیر معمولی قوت موجود ہے۔عراق پر حملے کے خلاف سب سے توانا آواز مغربی معاشروں میں اٹھی۔فلسطین کے حق میں سب سے زیادہ آوازیں انہی مغربی معاشروںسے بلند ہوئیںمغربی معاشروں میں خیر کی یہ قوت ہمیں جگہ جگہ دکھائی دیتی ہے۔امریکہ کی حکومت مسلمان معاشروں کو روندنے میں سب سے آ گے ہے لیکن اس کے سماج میں بھی خیر کی قوت موجود ہے۔کیا ہمیں معلوم ہے کہ نائن الیون میں مارے جانے والوں کے لواحقین نے امریکہ کے انتقام پر مبنی پالیسی کے خلاف کس شدت سے آواز اٹھائی ہے۔انہوں نے ایک تنظیم بنا رکھی ہے جس کا نام September 11 Families for Peaceful Tomorrow ہے۔لوئر مین ہٹن میں گراﺅنڈ زیرو مسجد کی تعمیر کے حق میں اس تنظیم نے سب سے زیادہ آواز بلند کی ہے۔اس تنظیم کے رہنما اصولوں میں سے ایک یہ ہے کہ :” مسلمانوں کو ان کے حقوق سے محروم کرنا امریکی کلچر نہیں ہے“۔نائن الیون میں مارے جانے والوں کے لواحقین نے ایک تنظیم بنا رکھی ہے جس کا نام Not in Our nameہے۔سابق امریکی اٹارنی جنرل رمزے کلارک اس کے ممبر رہ چکے ہیں۔اس کا کہنا ہے ہمارے پیاروں کے انتقام کے نام پر امریکہ نے مسلمان ممالک کے خلاف جو جنگ شروع کر رکھی ہے ہمیں وہ قبول نہیں۔عراق جنگ میں مارے جانے والے فوجیوں کے لواحقین نے  GSFP یعنی (گولڈ سٹارٹ فیملیز فار پیس)کے نام سے ایک تنظیم وجود میں آ چکی ہے جو مسلمانوں کے خلاف جنگ کی مخالف ہے۔مسلمانوں کے خلاف نفرت کے رویوں کے خلاف بننے والی ایک تنظیم کا نام ANSWER ہے۔یہ تنظیم واشنگٹن شہر میں فلسطینیوں کے حق میں ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں کا مظاہرہ کروا چکی ہے۔جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں طلباءنے ’ اینٹی وار نیٹ ورک‘ کے نام سے ایک تنظیم بنا رکھی ہے جو عربوں اور مسلمانوں سے نفرت کے رویے کے خلاف کام کر رہی ہے۔امریکی حکومت کے جنگی جرائم کے خلاف کام کرنے والی امریکی تنظیم کانام WCW( ورلڈ کانٹ ویٹ ) ہے۔واشنگٹن کے اپر سینٹ پارک میں گونتا نا مو بے کے قیدیوں کے کپڑے پہن کر مظاہرہ اسی تنظیم نے کیا تھا۔۔۔۔۔یہ سارے مظاہر یہ خبر دے رہے ہیں کہ مغربی سماج میں خیر کی ایک غیر معمولی قوت موجود ہے۔
خود فرانس میں شمالی فرانس میں وینلاس کے میئر رابرٹ کارڈن نے جب یہ کہا کہ اسلام پر فرانس میں پابندی عائد کر دی جانی چاہیے تو اس کی جماعت نے اس کو معطل کر دیا۔ہمیں خیر کی اس قوت کو اپنا مخاطب بنانا ہے،ہمیںمکالمے کی طرف بڑھنا ہے اور تصادم سے اجتناب کرنا ہے۔